پرایوت چان او چا
| پرایوت چان او چا | |||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|
| (تھائی میں: ประยุทธ์ จันทร์โอชา) | |||||||
| مناصب | |||||||
| |
|||||||
| برسر عہدہ 24 اگست 2014 – 22 اگست 2023 |
|||||||
| |||||||
| معلومات شخصیت | |||||||
| پیدائش | 21 مارچ 1954ء (72 سال)[3][4][5] موئانگ ناکھون راتچاسیما ضلع |
||||||
| شہریت | |||||||
| آنکھوں کا رنگ | سیاہ | ||||||
| بالوں کا رنگ | سیاہ | ||||||
| استعمال ہاتھ | دایاں | ||||||
| تعداد اولاد | 2 | ||||||
| عملی زندگی | |||||||
| پیشہ | سیاست دان ، فوجی افسر ، نغمہ نگار ، آمر | ||||||
| مادری زبان | تھائی زبان | ||||||
| پیشہ ورانہ زبان | تھائی زبان | ||||||
| شعبۂ عمل | حکومت ، انفنٹری | ||||||
| عسکری خدمات | |||||||
| وفاداری | تھائی لینڈ | ||||||
| عہدہ | جرنیل | ||||||
| دستخط | |||||||
| ویب سائٹ | |||||||
| ویب سائٹ | باضابطہ ویب سائٹ | ||||||
| IMDB پر صفحات | |||||||
| درستی - ترمیم | |||||||
پرایوت چان او چا (سابقہ ہجے پرایوتھ چان اوچا؛ تھائی: ประยุทธ์ จันทร์โอชา؛ پیدائش 21 مارچ 1954ء) ایک تھائی سیاست دان، رائل تھائی آرمی کے سبکدوش شدہ جرنیل افسر،[6] نیشنل کونسل فار پیس اینڈ آرڈر (این سی پی او) کے سربراہ اور موجودہ وزیر اعظم تھائی لینڈ ہیں۔ کونسل جس کے ذریعے انھوں نے خود اور دوسرے جُنتا اراکین کو مقرر کیا، کے پاس وزیر اعظم کو نامزد کرنے اور وزارت عظمیٰ کے عہدوں کو کنٹرول کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔
پرایوت رائل تھائی آرمی کے سابق کمانڈر ان چیف ہیں، اس عہدے پر وہ اکتوبر 2010ء سے اکتوبر 2014ء تک فائز رہے۔[7][8] بطور سربراہ تھائی فوج تقرری کے بعد پرایوت کو ایک مضبوط حامیِ بادشاہ اور سابق وزیر اعظم تھاکسن شیناواترا کا مخالف بتایا گیا تھا۔[9] ان کو فوج میں سخت سمجھا جاتا تھا، وہ ریڈ شرٹس کے اپریل 2009ء اور اپریل-مئی 2010ء کے مظاہرین کے خلاف فوجی کریک ڈاؤن کے مرکزی محرکین میں سے ایک تھے۔[10][11] بعد میں انھوں نے مظاہرین جو خونریز تصادم میں ہلاک ہو گئے تھے، کے رشتہ داروں سے بات[12] اور ینگلک شنواترا جو جولائی 2011ء کے پارلیمانی انتخابات جیتی تھیں، کی حکومت کے ساتھ تعاون[13] کرتے ہوئے اپنے چہرے کی یک رُخی تصویر کو اعتدال پسند کرنے کی کوشش کی۔
نومبر 2013ء میں شروع ہونے والے سیاسی بحران جس میں ینگلک شنواترا کی نگران حکومت کے خلاف مظاہرے ہوئے، کے دوران میں پرایوت نے دعویٰ کیا کہ فوج غیر جانبدار تھی،[14] اور فوجی بغاوت کا ارادہ نہیں تھا۔ مئی 2014ء تک وہ اس نہج پر پہنچ گئے کہ انھوں نے حکومت کو معزول کر دیا اور پھر نیشل کونسل فار پیس اینڈ آرڈر لیڈر کے طور پر ملک کا کنٹرول سنبھال لیا۔[15] انھوں نے عبوری آئین جاری کیا جس میں خود کو تمام طاقتیں دینے اور فوجی بغاوت کے لیے خود کو عفوِ عام کرنے کا اعلان تھا۔[16] اگست 2014ء میں قومی اسمبلی پر قابض فوجی افسران کی جانب سے غیر جمہوری طور پر پرایوت کو رائے شماری کے بعد وزیر اعظم منتخب کر لیا گیا۔[17][18]
اقتدار پر گرفت مضبوط کرنے کے بعد پرایوت نے مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیے۔[19] انھوں نے اپنے "بارہ اصول" تیار کیے[20][21] اور ان اصولوں کو اسکول کے بچوں کو پڑھانے کا حکم دیا[22] انھوں نے عوامی مراکز پر جمہوریت کے متعلق بحث اور اپنی حکومت پر تنقید کرنے پر پابندی عائد کی اور تھائی لینڈ میں آزادیِ اظہار پر سخت پابندیاں لگائیں۔[23]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ عنوان : The International Directory of Government 2022 — : اشاعت 19 — صفحہ: 636 — بنام: Gen. Prayuth Chanocha — مذکور بطور: Prime Minister
- ↑ بنام: Prayut Chan-o-cha — مذکور بطور: Prime Minister — اخذ شدہ بتاریخ: 10 دسمبر 2022
- ↑ عنوان : Encyclopædia Britannica — دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Prayuth-Chan-ocha — بنام: Prayuth Chan-ocha — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
- ↑ Brockhaus Enzyklopädie online ID: https://brockhaus.de/ecs/enzy/article/prayuth-chan-ocha — بنام: Prayuth Chan-ocha
- ↑ بنام: Prayuth Chan-ocha — Munzinger person ID: https://www.munzinger.de/search/go/document.jsp?id=00000030127 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
- ↑ "Army chief retires after four turbulent years"۔ دی نیشن۔ 30 ستمبر 2014۔ 2018-12-26 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-11-22
- ↑ ٹیری فریڈرکسن (1 اکتوبر 2010)۔ "Gen. Prayut takes command"۔ بینکاک پوسٹ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-03-19
- ↑ رون کوربن (1 اکتوبر 2010)۔ "Thailand's new army chief takes office"۔ ڈوئچے ویلے۔ 22 مئی 2014 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 مارچ 2012
{{حوالہ خبر}}: نامعلوم پیرامیٹر|deadurl=رد کیا گیا (معاونت) - ↑ چیکو ہیرلین (7 جون 2014)۔ "Behind Thailand's coup is a fight over the king and his successor. But it's hush-hush"۔ The Washington Post۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-06-24
- ↑ "Thai king appoints hardliner as next army chief"۔ دی ہندو۔ 2 ستمبر 2010۔ 13 اپریل 2014 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اپریل 2014
{{حوالہ خبر}}: نامعلوم پیرامیٹر|deadurl=رد کیا گیا (معاونت) - ↑ "Q+A: Are Thailand's "red shirts" regrouping?"۔ روئٹرز۔ 19 نومبر 2013۔ 2 مئی 2014 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 مئی 2014
{{حوالہ خبر}}: نامعلوم پیرامیٹر|deadurl=رد کیا گیا (معاونت) - ↑ "Gen Prayut takes command"۔ بینکاک پوسٹ۔ 1 اکتوبر 2010۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-05-02
- ↑ "No coup, Prayut tells Yingluck"۔ بینکاک پوسٹ۔ 27 مئی 2013
- ↑ "Prayut says army neutral"۔ بینکاک پوسٹ۔ 30 نومبر 2013
- ↑ "'ประยุทธ์-เหล่าทัพ'แถลง'ควบคุมอำนาจรัฐ'" [پرایوت اور فوجی سربراہان نے اقتدار سنبھال لیا]. کومچادلویک (بزبان تھائی). 22 مئی 2014. Archived from the original on 22 مئی 2014. Retrieved 22 مئی 2014.
{{حوالہ ویب}}: نامعلوم پیرامیٹر|deadurl=رد کیا گیا (help) - ↑ "Military dominates new Thailand legislature"۔ بی بی سی۔ 1 اگست 2014۔ 2 اگست 2014 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 اگست 2014
{{حوالہ خبر}}: نامعلوم پیرامیٹر|deadurl=رد کیا گیا (معاونت) - ↑ "Prayut elected as 29th PM"۔ دی نیشن۔ 21 اگست 2014۔ 23 اگست 2014 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 اگست 2014
{{حوالہ ویب}}: نامعلوم پیرامیٹر|deadurl=رد کیا گیا (معاونت) - ↑ "Thailand's Junta Chief Chosen as Prime Minister"۔ وی او اے۔ 21 اگست 2014۔ 2018-12-26 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-09-23
- ↑ "The Thai junta's latest crackdown on dissent is a bogus Facebook login button"۔ کوارٹز۔ 26 جون 2014۔ 2018-12-26 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-08-25
- ↑ "Loved and Hated, Former Premier of Thailand Is Erased From Textbook"۔ نیو یارک ٹائمز۔ 15 ستمبر 2014۔ 2018-12-26 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-09-16
- ↑ "'ประยุทธ์' เตรียมปรับ 'ค่านิยม 12 ประการ' ให้คล้องจองท่องแทน 'เด็กเอ๋ยเด็กดี' แย้มมีสอบด้วย". پراچتائی (بزبان تھائی). 15 Sep 2014. Retrieved 2014-09-16.
- ↑ پرایوت چان او چا۔ "National Broadcast, 2014-07-11" (PDF)۔ رائل تھائی سفارت خانہ، اسلام آباد۔ 2020-08-06 کو اصل (PDF) سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-11-12
- ↑ ""นายกฯ"ยัน"ห้ามพูดเรื่องปชต" [وزیر اعظم: بات کرنا ممنوع]. پوسٹ ٹوڈے (بزبان تھائی). 19 Sep 2014. Archived from the original on 2018-12-26. Retrieved 2014-09-19.


