پرایوت چان او چا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پرایوت چان او چا
(تائی لو میں: พลเอก ประยุทธ์ จันทร์โอชา خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Vladimir Putin meeting Prayut Chan-o-cha (2016-05-19)-02 cropped1.jpg 

مناصب
Flag of the Prime Minister of Thailand.svg وزیر اعظم تھائی لینڈ (29 )   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
آغاز منصب
24 اگست 2014 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png نیوتمرونگ بونسونگ پیسان 
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 21 مارچ 1954 (65 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ناکھون راتچاسیما صوبہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Thailand.svg تھائی لینڈ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ فوجی افسر،  سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
عہدہ جرنیل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں عسکری رتبہ (P410) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
Signature of Prayut Chan-o-cha.svg 
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر

پرایوت چان او چا (سابقہ ہجے پرایوتھ چان اوچا؛ تھائی: ประยุทธ์ จันทร์โอชา؛ پیدائش 21 مارچ 1954ء) ایک تھائی سیاست دان، رائل تھائی آرمی کے سبکدوش شدہ جرنیل افسر،[2] نیشنل کونسل فار پیس اینڈ آرڈر (این سی پی او) کے سربراہ اور موجودہ وزیر اعظم تھائی لینڈ ہیں۔ کونسل جس کے ذریعے انہوں نے خود اور دوسرے جُنتا اراکین کو مقرر کیا، کے پاس وزیر اعظم کو نامزد کرنے اور وزارت عظمیٰ کے عہدوں کو کنٹرول کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔

پرایوت رائل تھائی آرمی کے سابق کمانڈر ان چیف ہیں، اس عہدے پر وہ اکتوبر 2010ء سے اکتوبر 2014ء تک فائز رہے۔[3][4] بطور سربراہ تھائی فوج تقرری کے بعد پرایوت کو ایک مضبوط حامیِ بادشاہ اور سابق وزیر اعظم تھاکسن شیناواترا کا مخالف بتایا گیا تھا۔[5] ان کو فوج میں سخت سمجھا جاتا تھا، وہ ریڈ شرٹس کے اپریل 2009ء اور اپریل-مئی 2010ء کے مظاہرین کے خلاف فوجی کریک ڈاؤن کے مرکزی محرکین میں سے ایک تھے۔[6][7] بعد میں انہوں نے مظاہرین جو خونریز تصادم میں ہلاک ہو گئے تھے، کے رشتہ داروں سے بات[8] اور ینگلک شنواترا جو جولائی 2011ء کے پارلیمانی انتخابات جیتی تھیں، کی حکومت کے ساتھ تعاون[9] کرتے ہوئے اپنے چہرے کی یک رُخی تصویر کو اعتدال پسند کرنے کی کوشش کی۔

نومبر 2013ء میں شروع ہونے والے سیاسی بحران جس میں ینگلک شنواترا کی نگران حکومت کے خلاف مظاہرے ہوئے، کے دوران میں پرایوت نے دعویٰ کیا کہ فوج غیر جانبدار تھی،[10] اور فوجی بغاوت کا ارادہ نہیں تھا۔ مئی 2014ء تک وہ اس نہج پر پہنچ گئے کہ انہوں نے حکومت کو معزول کر دیا اور پھر نیشل کونسل فار پیس اینڈ آرڈر لیڈر کے طور پر ملک کا کنٹرول سنبھال لیا۔[11] انہوں نے عبوری آئین جاری کیا جس میں خود کو تمام طاقتیں دینے اور فوجی بغاوت کے لیے خود کو عفوِ عام کرنے کا اعلان تھا۔[12] اگست 2014ء میں قومی اسمبلی پر قابض فوجی افسران کی جانب سے غیر جمہوری طور پر پرایوت کو رائے شماری کے بعد وزیر اعظم منتخب کر لیا گیا۔[13][14]

اقتدار پر گرفت مضبوط کرنے کے بعد پرایوت نے مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیے۔[15] انہوں نے اپنے "بارہ اصول" تیار کیے[16][17] اور ان اصولوں کو اسکول کے بچوں کو پڑھانے کا حکم دیا[18] انہوں نے عوامی مراکز پر جمہوریت کے متعلق بحث اور اپنی حکومت پر تنقید کرنے پر پابندی عائد کی اور تھائی لینڈ میں آزادیِ اظہار پر سخت پابندیاں لگائیں۔[19]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Prayuth-Chan-ocha — بنام: Prayuth Chan-ocha — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  2. "Army chief retires after four turbulent years"۔ دی نیشن۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 نومبر 2014۔
  3. ٹیری فریڈرکسن۔ "Gen. Prayut takes command"۔ بینکاک پوسٹ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 مارچ 2012۔
  4. رون کوربن۔ "Thailand's new army chief takes office"۔ ڈوئچے ویلے۔ مورخہ 22 مئی 2014 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 مارچ 2012۔
  5. چیکو ہیرلین۔ "Behind Thailand's coup is a fight over the king and his successor. But it's hush-hush"۔ The Washington Post۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 جون 2014۔
  6. "Thai king appoints hardliner as next army chief"۔ دی ہندو۔ مورخہ 13 اپریل 2014 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اپریل 2014۔
  7. "Q+A: Are Thailand's "red shirts" regrouping?"۔ مورخہ 2 مئی 2014 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 مئی 2014۔
  8. "Gen Prayut takes command"۔ بینکاک پوسٹ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 مئی 2014۔
  9. "No coup, Prayut tells Yingluck"۔ بینکاک پوسٹ۔
  10. "Prayut says army neutral"۔ بینکاک پوسٹ۔
  11. "'ประยุทธ์-เหล่าทัพ'แถลง'ควบคุมอำนาจรัฐ'"۔ کومچادلویک (تھائی زبان میں)۔ مورخہ 22 مئی 2014 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 مئی 2014۔
  12. "Military dominates new Thailand legislature"۔ بی بی سی۔ مورخہ 2 اگست 2014 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 اگست 2014۔
  13. "Prayut elected as 29th PM"۔ دی نیشن۔ مورخہ 23 اگست 2014 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 اگست 2014۔
  14. "Thailand's Junta Chief Chosen as Prime Minister"۔ وی او اے۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 ستمبر 2014۔
  15. "The Thai junta's latest crackdown on dissent is a bogus Facebook login button"۔ کوارٹز۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 اگست 2014۔
  16. "Loved and Hated, Former Premier of Thailand Is Erased From Textbook"۔ نیو یارک ٹائمز۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 ستمبر 2014۔
  17. "'ประยุทธ์' เตรียมปรับ 'ค่านิยม 12 ประการ' ให้คล้องจองท่องแทน 'เด็กเอ๋ยเด็กดี' แย้มมีสอบด้วย"۔ پراچتائی (تھائی زبان میں)۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 ستمبر 2014۔
  18. پرایوت چان او چا۔ "National Broadcast, 2014-07-11" (پی‌ڈی‌ایف)۔ رائل تھائی سفارت خانہ، اسلام آباد۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 نومبر 2014۔
  19. ""นายกฯ"ยัน"ห้ามพูดเรื่องปชต"۔ پوسٹ ٹوڈے (تھائی زبان میں)۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 ستمبر 2014۔ |archiveurl= اور |archive-url= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت); |archivedate= اور |archive-date= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت)