آنگ سان سو چی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
آنگ سان سوچی
အောင်ဆန်းစုကြည်
(برمی میں: အောင်ဆန်းစုကြည် ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آنگ سان سو چی

معلومات شخصیت
پیدائش 19 جون 1945ء (عمر 74 سال)
یانگون[1]  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش رنگون ، برما
قومیت برمی
مذہب بدھ مت
والدین آنگ سان ، کھِن چی
عملی زندگی
مادر علمی سینٹ ہیوز کالج ، آکسفورڈ (بی اے)
ایس او اے ایس (پی ایچ ڈی)
تخصص تعلیم سیاسیات، وفلوسفی، پولیٹکس اینڈ اکنامکس،Burmese literature  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد بیچلر  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان، مصنفہ، کارکن انسانی حقوق  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان برمی  ویکی ڈیٹا پر مادری زبان (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان برمی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نوکریاں اقوام متحدہ  ویکی ڈیٹا پر نوکری (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
رافٹو انعام (1990ء)
امن کا نوبل انعام (1991ء)
جواہر لعل نہرو انعام (1992ء)
اولوف پالمے انعام (2005ء)
دستخط
Aung San Suu Kyi signature 2013.svg 
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

برما کی آزادی کے ہیرو جنرل آنگ سن کی بیٹی۔ برما میں آمریت کے خلاف سب سے بڑی آواز۔ 19 جون 1945ء کو پیدا ہوئیں۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

ان کے والد نے برما کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔ مگر ن انیس سو سینتالیس میں ملک کو اقتدار اعلیٰ کی منتقلی کے دوران قتل کر دیا گیا۔ باپ کے قتل کے وقت آنگ سان سو چی کی عمر صرف دو برس تھی۔ آنگ سان سو چی 1960ء میں پہلی بار بھارت گئیں جہاں ان کی ماں کو برما کا سفیر مقرر کیا گیا۔ انیس سو چونسٹھ میں آنگ سان سو چی پہلی آکسفورڈ یونیورسٹی پہنچیں جہاں انہوں نے فلسفے، سیاست اور اکنامکس کی تعلیم حاصل کی۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران ہی آنگ سان سو چی کی اپنے شریک حیات مائیکل ایرس سے ملاقات ہوئی۔ کچھ عرصہ تک جاپان اور بھوٹان میں رہنے کے بعد آنگ سان سو چی نے برطانیہ میں مستقل سکونت کا فیصلہ اور ایک گھریلو ماں کی طرح اپنے دو بچوں، الیگزینڈر اور کم کی پرورش شروع کی۔

برما واپسی[ترمیم]

برطانیہ میں رہائش کے دوران آنگ سان سو چی برما کو اپنے خیالات سے نہ نکال سکیں اور انیس سو اٹھاسی میں اپنی علیل ماں کی تیمارداری کے لیے واپس برما پہنچ گئیں۔ انہوں نے برما میں پہنچ کر تقریر کے دوران کہا کہ برما میں جو کچھ ہو رہا ہے میں اس سے لاتعلق نہیں رہ سکتی۔

جدوجہد[ترمیم]

برما واپس پہنچنے کے بعد آنگ سان سو چی نے ملک میں جمہوریت کے لیے کوششیں شروع کیں۔ آنگ سان سو چی نے مارٹن لوتھر اور مہاتما گاندھی کے عدم تشدد کے فلسفلے پر عمل کرتے ہوئے ملک بھر میں پرامن ریلیوں کا انعقاد کیا اور ملک میں جمہوریت کے کوششیں جاری رکھیں لیکن فوجی حکمرانوں نے طاقت کا بے دریغ استعمال سے ان کی پرامن جدوجہد کو کچل کر رکھ دیا۔ انیس سو نوے میں ہونے والے انتخابات میں آنگ سان سو چی کو نااہل قرار دیے جانے اور حراست کے باوجود ان کی سیاسی جماعت نے انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کی۔

گرفتاری[ترمیم]

برما کے فوجی حکمرانوں نے 1991ء میں ان کی جماعت نیشل لیگ فار ڈیموکریسی کی کامیابی کو ماننے سے انکار کر دیا اور آنگ سان سو چی کو حراست میں لے لیا۔ دوران حراست ہی آنگ سان سو چی کو امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ نوبل انعام کمیٹی میں شامل فرانسس سیجسٹیڈ نے آنگ سان سو چی کو ’کمزورں کی طاقت‘ قرار دیا تھا۔ دو عشروں میں پہلی بار انتخابات میں آنگ سان سو چی کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں تھی لیکن اس کے باوجود آج بھی وہ برما کے لوگوں کے لیے امید کی نشانی ہیں۔ آنگ سان سو چی کو 1995ء میں رہا کر دیا گیا لیکن ان کی نقل و حرکت پر پابندیاں برقرار رکھی گئیں۔ دو ہزار نو میں آنگ سان سو چی کو دو ہزار نو میں حراست کی خلاف ورزی کے الزام میں اٹھارہ ماہ کی سزا سنا دی گئی۔

رہائی[ترمیم]

نومبر 2010ء میں برما کی فوجی حکومت نے ان کی رہائی کا اعلان کیا جس کا پوری دنیا میں خیر مقدم کیا گیا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Aung San Suu Kyi - Facts — اخذ شدہ بتاریخ: 2 اپریل 2016 — اقتباس: Born: 19 June 1945, Rangoon (now Yangon), Burma (now Myanmar)

بیرونی روابط[ترمیم]