ہنری کسنگر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ہنری کسنگر
Henry Kissinger Shankbone Metropolitan Opera 2009.jpg
Kissinger in 2009
56th وزیر خارجہ ریاستہائے متحدہ امریکہ
عہدہ سنبھالا
September 22, 1973 – January 20, 1977
صدر رچرڈ نکسن
جیرالڈ فورڈ
ڈپٹی Kenneth Rush
Robert Ingersoll
Charles Robinson
پیشرو William Rogers
جانشین Cyrus Vance
United States National Security Advisor
عہدہ سنبھالا
January 20, 1969 – November 3, 1975
صدر رچرڈ نکسن
جیرالڈ فورڈ
ڈپٹی Richard V. Allen
Alexander Haig
Brent Scowcroft
پیشرو Walt Rostow
جانشین Brent Scowcroft
ذاتی تفصیلات
پیدائش Heinz Alfred Kissinger
27 مئی 1923ء (عمر 94سال)
Fürth, بواریا, Germany
سیاسی جماعت Republican
شریک حیات Ann Fleischer (1949–1964)
Nancy Maginnes (1974–present)
مادر علمی جامعہ ہارورڈ
(A.B., A.M., Ph.D.)
اعزازات Bronze Star Medal ribbon.svg Bronze Star
1973 نوبل امن انعام
دستخط
فوجی خدمات
تابعداری  United States of America
سروس/شاخ امریکی فوج
عہدہ US Army WWII SGT.svg Sergeant
لڑائیاں/جنگیں دوسری جنگ عظیم

ہنری کسنگر(1923ء تا حال) امریکہ کے ایک یہودی سفارت کار اور سماجی سائنسدان ہیں جنکی امن کی خدمات کو دیکھ کر1973ء میں انھیں نوبل امن انعام کا حقدار قرار دیا گیا۔

بھٹو کو دھمکی[ترمیم]

1976ء میں ہینری کسنگر نے بطور امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ پاکستان کا دورہ کیا اور امریکی احکامات سے آگاہ کیا۔ بھٹو کے انکار پر کسنگر نے بھٹو کو دھمکی دی کہ پھر ہم تمہیں دھشتناک مثال بنا دیں گے۔
4 اپریل 1979ء کو بھٹو کو راولپنڈی جیل میں پھانسی دے دی گئی۔

In the game of diplomacy and power, nobody is any one else's friend.......we will make a horrible example of you! (Henry Kissinger) [1]

تیسری جنگ عظیم کا منتظر[ترمیم]

"آنے والی جنگ اس قدر بھیانک ہو گی کہ صرف ایک سپر پاور جیت سکتی ہے اور وہ ہم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یورپیئن یونین اس قدر جلدی میں ہے کہ یورپ کو ایک بڑی مملیکت میں تبدیل کر دے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کیا ہونے والا ہے اور اپنی بقا کے لئے یورپ کو ایک متحدہ مملیکت بننا پڑے گا۔ ان کی جلدبازی مجھے بتاتی ہے کہ وہ اچھی طرح آگاہ ہیں کہ ان پر کیا قیامت آنے والی ہے۔ اوہ، میں ان خوبصورت لمحات کا کب سے منتظر تھا"
"The coming war will will be so severe that only one superpower can win, and that's us folks. This is why the EU is in such a hurry to form a complete superstate because they know what is coming, and to survive, Europe will have to be one whole cohesive state. Their urgency tells me that they know full well that the big showdown is upon us. O how I have dreamed of this delightful moment."[2]

مزید دیکھئے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]