بارک اوباما

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(بارک اوبامہ سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
بارک اوباما
(انگریزی میں: Barack Obama خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
President Barack Obama.jpg 

مناصب
ریاست ہائے متحدہ سینیٹر[1]   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
رکن مدت
3 جنوری 2005  – 16 نومبر 2008 
حلقہ انتخاب الینوائے 
Flag of the President of the United States.svg صدر ریاستہائے متحدہ امریکا[2][3] (44 )   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
20 جنوری 2009  – 20 جنوری 2017 
منتخب در امریکی صدارتی انتخابات ۲۰۱۲ 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png جارج ڈبلیو بش 
ڈونلڈ ٹرمپ  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائشی نام (انگریزی میں: Barack Hussein Obama II)[4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیدائشی نام (P1477) ویکی ڈیٹا پر
پیدائش 4 اگست 1961 (57 سال)[5][4][6][7][8][9][10][11][12]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
رہائش وائٹ ہاؤس (20 جنوری 2009–20 جنوری 2017)
ہونولولو (1971–1979)
لاس اینجلس (1979–1981)
شکاگو (1985–20 جنوری 2009)
نیویارک شہر (1981–1985)
جکارتا
کیلوراما، واشنگٹن ڈی سی (20 جنوری 2017–)[13]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ امریکا[4][14][15][16]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
نسل امریکی افریقی [17]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نسل (P172) ویکی ڈیٹا پر
قد 1.85 میٹر[18]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں قد (P2048) ویکی ڈیٹا پر
وزن 180 پونڈ[18]،80 کلو گرام[18]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وزن (P2067) ویکی ڈیٹا پر
استعمال ہاتھ بائیاں ہاتھ[19]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استعمالِ ہاتھ (P552) ویکی ڈیٹا پر
جماعت ڈیموکریٹک پارٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
رکن امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن (P463) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ مشیل اوباما (3 اکتوبر 1992–)[20][21]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد مالیا اوباما،ساشا اوباما  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
تعداد اولاد 2   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعداد اولاد (P1971) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی آکسیڈینٹل کالج (1979–1981)
جامعہ کولمبیا (1981–1983)
ہارورڈ لا اسکول (1988–1991)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
تخصص تعلیم سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
تعلیمی اسناد فاضل الفنیات،Juris Doctor  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان[22][23]،وکیل[24]،سیاسی مصنف[25]،ریاست کار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
مادری زبان انگریزی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[26]،انڈونیشیائی زبان[27]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت یونیورسٹی آف شکاگو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
عہدہ کمانڈر ان چیف (2009–2017)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں عسکری رتبہ (P410) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
Spange des König-Abdulaziz-Ordens.png آرڈر آف عبد العزیز السعود
نوبل انعام   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
Barack Obama signature.svg 
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ،باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی  بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

بارک اوبامہ (انگریزی: Barack Obama)،امریکی ریاست ہوائی میں 1961ء میں پیدا ہوئے۔ اوبامہ نے 2 فروری، 1961ء کو شادی کی۔[28] والد کا تعلق کینیا سے جبکہ والدہ کا ہوائی سے تھا۔ والدین کی ملاقات دوران طالب علمی ہوائی یونیورسٹی میں ہوئی جہاں پر والد وظیفہ پر پڑھنے آیا ہوا تھا۔ اوبامہ کی عمر دو سال تھی جب والدین میں علیحدگی ہو گئی۔ طلاق کے بعد اوباما اپنی والدہ کے ساتھ امریکہ اور کچھ عرصے کے لیے انڈونیشیا میں بھی رہے کیونکہ ان کے سوتیلے باپ کا تعلق انڈونیشیا سے تھا۔ انھوں نے کولمبیا یونیورسٹی اور جامع ہارورڈ کے قانون مدرسہ سے تعلیم حاصل کی اور ہارورڈ میں وہ ہارورڈ قانون مجلے کے پہلے سیاہ فام امریکی صدر بنے۔ انھوں نے شکاگو میں پہلے سماجی پرورگراموں میں اور پھر بطور وکیل کام کیا۔ وہ آٹھ سال تک ریاست الینوائے کی سیاست میں سرگرم رہے اور سنہ دو ہزار چار میں وہ امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہوئے۔

خاندان[ترمیم]

اوباما کی اہلیہ مشیل اوباما بھی وکیل ہے اور پرنسٹن اور ہارورڈ کی پڑھی ہوئی۔ ان کی دو بیٹیاں ہیں جن کی عمریں نو اور چھ سال ہیں۔

آؤما اوبامہ اس کی سوتيلی بہن ہے۔ . وہ 1960ء میں کینیا میں پيدا ہوئی۔ اس نے جرمنی کی ہايڈل يونيوسٹی سے پرھنے کے بعد، 1996ء میں جرمنی ہی کی بيريوتھ يونيوسٹی سے ڈاکٹريٹ کی ڈگری لی۔ اس نے ايان مينرز نامی ايک انگريز تاجر سے لندن ميں شادی کی جو زيادہ عرصہ تک نہيں چل سکی۔ اس شادی سے اس کی ايک بيٹی ہے جس کا نام ا کينی ای ہے۔ اس وقت آؤما اوبام کینیا میں ترقياتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

سیاست[ترمیم]

باراک اوباما نے پچھلے سال فروری میں امریکی صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں شامل ہونے کا اعلان کیا تھا۔ انھوں نے عراق سے فوج واپس بلانے کا وعدہ کيا ہے اور بش کے خلاف عراق پر فوج کشی اور عراق کے جنگ کے خلاف ايک امريکی جلوس ميں شامل ہوئے اور وعدہ کيا کے اگر وہ صدر منتخب ہوئے تو وہ ايران سے بھی جنگ نہیں لڑیں گے بلکہ کسی بھی ملک سے نہیں لڑیں گے۔

باراک اوبامہ نے ہيلری کلنٹن کو شکست دی اور اپنی کاميابی کا اعلان کر ديا اور وہ امريکہ کے پہلے سياہ فام[29] صدر ہیں۔ 4 نومبر، 2008ء کو صدرارتی اليکشن میں کامياب ہو گئے ليکن ان کی نانی یہ خوشی نہیں ديکھ سکی کيونکہ وہ ايک دن پہلے انتقال کر گئی تھی۔

گوتانمو عقوبت خانہ کو بند کرنے کے وعدہ سے مکر گیا اور مارچ 2011ء میں گوتانامو میں فوجی عدالتیں دوبارہ قائم کا اعلان کیا۔[30] اپریل 2011ء میں اوبامہ نے اپنا سندِ پدائش جاری کی یہ بتانے کے لیے کہ وہ واقعی امریکا میں پیدا ہوا اور اس لیے امریکی صدارت کا اہل ہے۔[31] مئی 2011ء میں اوبامہ نے اسامہ بن لادن کے قتل کا سہرا اپنے سر سجایا۔[32]

کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ صدارت سے پہلے اوبامہ جدت پسند تھا مگر صدارت میں قدامتی ہو گیا۔[33]

جنگیں[ترمیم]

2011ء تک اوبامہ امریکا کو چار جنگوں میں ملوث رکھ رہا تھا، افغانستان، عراق، لیبیا اور یمن، جس میں سے آخری دو اس نے خود شروع کیں۔ ابھی تک کسی جنگ کو نھی جیت سکا[34]

ڈرون حملے[ترمیم]

اوبامہ پاکستان پر ڈرون حملے بھی شدت سے کرتا رہا۔[35] جنگی جرائم کے الزام سے بچنے کے لیے اس نے سرکاری وکیلوں کی ایک مجلس قائم کی جو بذریعہ ڈرون قتل کی اجازت دیتی ہے۔[36] نیویارک ٹائمز کے مطابق اوبامہ ہر ہفتہ قتل کے لیے افراد خود چنتا ہے۔[37][38] اپنے نشانوں پر مشتمل مصفوفہ انجامیہ تشکیل دیتا ہے۔[39]

معیشت[ترمیم]

چین سے قرض لے کر اپنی ہتھیار بنانے والی کمپنیوں اور فوج پر جنگی اخراجات سے امریکا کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی۔ اوباما کو امریکی کانگریس سے قرضہ چھت بڑھانے کی اجازت بڑی مشکل سے ملی۔ سود خور قرض خواہوں نے پھر امریکا کے قرض شرح سود بڑھا دی۔[40]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مصنف: بارک اوباما — اجازت نامہ: Copyright status of work by the U.S. government
  2. اجازت نامہ: Open Data Commons
  3. Barack Obama — اخذ شدہ بتاریخ: 9 مئی 2018
  4. ^ ا ب پ عنوان : birth certificate of Barack Obama نقص حوالہ: نادرست <ref> ٹیگ؛ نام "e91a853ea4e0b372b26f82a616b87eb645b0aff3" مختلف مواد کے ساتھ کئی بار استعمال ہوا ہے۔ نقص حوالہ: نادرست <ref> ٹیگ؛ نام "e91a853ea4e0b372b26f82a616b87eb645b0aff3" مختلف مواد کے ساتھ کئی بار استعمال ہوا ہے۔
  5. کتب خانہ کانگریس اتھارٹی آئی ڈی: https://id.loc.gov/authorities/n94112934
  6. کتب خانہ کانگریس اتھارٹی آئی ڈی: https://id.loc.gov/authorities/n94112934 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اپریل 2014 — اجازت نامہ: CC0
  7. http://www.imdb.com/name/nm1682433/ — اخذ شدہ بتاریخ: 28 دسمبر 2015
  8. http://www.nobelprize.org/nobel_prizes/peace/laureates/2009/obama-facts.html — اخذ شدہ بتاریخ: 28 دسمبر 2015
  9. RKDartists ID: https://rkd.nl/explore/artists/424232 — بنام: Barack Obama — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  10. The Peerage person ID: https://tools.wmflabs.org/wikidata-externalid-url/?p=4638&url_prefix=http://www.thepeerage.com/&id=p69249.htm#i692484 — بنام: Barack Obama, Jr. — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  11. Discogs artist ID: https://www.discogs.com/artist/1252891 — بنام: Barack Obama — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  12. Babelio author ID: https://www.babelio.com/auteur/wd/46341 — بنام: Barack Obama — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  13. https://www.nytimes.com/2016/05/26/us/politics/obama-kalorama-washington-house.html
  14. http://www.nytimes.com/2009/12/15/business/economy/15obama.html
  15. http://www.nytimes.com/2012/03/28/world/asia/president-obama-talks-missile-defense-at-nuclear-summit-in-south-korea.html?pagewanted=all
  16. http://www.nytimes.com/aponline/2014/11/19/us/politics/ap-us-obama-education.html
  17. Asked to Declare His Race, Obama Checks ‘Black’ — اخذ شدہ بتاریخ: 15 مارچ 2014 — ناشر: The New York Times Company اور A.G. Sulzberger — شائع شدہ از: 2 اپریل 2010 — اقتباس: A White House spokesman confirmed that Mr. Obama, the son of a black father from Kenya and a white mother from Kansas, checked African-American on the 2010 census questionnaire.
  18. ^ ا ب پ http://www.cnn.com/2016/03/08/politics/obama-medical-exam-loses-weight/
  19. On First Day, Obama Quickly Sets a New Tone — اخذ شدہ بتاریخ: 25 نومبر 2014 — ناشر: نیو یارک ٹائمز — شائع شدہ از: 21 جنوری 2009
  20. The Obamas’ Marriage — اخذ شدہ بتاریخ: 25 نومبر 2014 — مصنف: Jodi Kantor — ناشر: نیو یارک ٹائمز — شائع شدہ از: 26 اکتوبر 2009
  21. Barack Obama's Marriage License : President Barack Obama - Fact And Fiction
  22. http://www.whoswho.de/templ/te_bio.php?RID=1&PID=2973
  23. http://www.whoswho.de/templ/te_bio.php?RID=1&PID=2973 — اخذ شدہ بتاریخ: 24 جون 2015 — اجازت نامہ: CC0
  24. https://www.theguardian.com/world/2007/may/09/barackobama.uselections20081
  25. http://www.nytimes.com/2008/05/18/us/politics/18memoirs.html?pagewanted=all
  26. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb15591663c — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  27. http://www.thejakartapost.com/news/2009/01/24/obama-speaks-indonesian-wishes-return-menteng.html
  28. اوبامہ کی ماں کی کہانی۔ اخبار ٹائمز
  29. اوبامہ کی ماں گوری جبکہ باپ کالا تھا۔
  30. "Obama lifts suspension on military terror trials at Guantánamo Bay"۔ دی گارجین۔ 7 دسمبر 2011ء۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 March 2011۔ 
  31. "How the Media Falsify Obama's Origins Story"۔ امریکی تھنکر۔ اخذ کردہ بتاریخ 10 May 2011۔ 
  32. "Obama on “60 Minutes:” A political assessment"۔ عالمی اشتراکی موقع۔ اخذ کردہ بتاریخ 10 May 2011۔ 
  33. "Drone wars and state secrecy – how Barack Obama became a hardliner"۔ گارجین۔ 2 جون 2012ء۔ 
  34. "U.S. Is Intensifying a Secret Campaign of Yemen Airstrikes"۔ 8 جون 2011ء۔ اخذ کردہ بتاریخ 9 June 2011۔ 
  35. "پاکستان میں ڈرون حملے کر رہے ہیں: اوباما"۔ بی بی سی اردو موقع۔ 31 جنورہ 2012ء۔ 
  36. "ڈرون حملے پر خاموشی"۔ بی بی سی موقع۔ 13 اکتوبر 2011ء۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 October 2011۔ 
  37. "Obama’s role in the selection of drone missile targets"۔ عالمی اشتراکی موقع۔ 1 جون 2012ء۔ 
  38. "Secret ‘Kill List’ Proves a Test of Obama’s Principles and Will"۔ نیو یارک ٹائمز۔ 29 مئی 2012ء۔ 
  39. "Obama's secret kill list – the disposition matrix"۔ گارجین۔ 14 جوالائی 2013ء۔ 
  40. "Debt crisis: the key questions"۔ گارجین۔ 7 اگست 2011ء۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 August 2011۔ 

بیرونی روابط[ترمیم]