بارک اوباما

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(بارک اوبامہ سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
بارک اوباما
Barack Obama
President Barack Obama.jpg
44th صدر ریاستہائے متحدہ امریکہ
دفتر سنبھالا
20 جنوری 2009ء
نائب صدر Joe Biden
پیشرو جارج ڈبلیو بش
United States Senator
from الینوائے
عہدہ سنبھالا
3 جنوری 2005 – 16 نومبر 2008
پیشرو Peter Fitzgerald
جانشین Roland Burris
Member of the Illinois Senate
from the 13واں district
عہدہ سنبھالا
8 جنوری 1997ء – 4 نومبر 2004ء
پیشرو Alice Palmer
جانشین Kwame Raoul
ذاتی تفصیلات
پیدائش باراک حسین اوبامہ II
4 اگست 1961 (1961-08-04) ‏(54)
ہونولولو، ہوائی، ہوائی، امریکہ۔
قومیت امریکی
سیاسی جماعت Democratic
شریک حیات Michelle Robinson (شادی ایرر: غلط وقت۔–تا حال) «Not recognized as a date. Years must have 4 digits (use leading zeros for years < 1000).»"Marriage: Michelle Robinson to بارک اوباما" Location: (linkback://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DA%A9_%D8%A7%D9%88%D8%A8%D8%A7%D9%85%D8%A7)
اولاد مالیا
Sasha
رہائش قصر سفید
تعلیم Punahou School
مادر علمی
مذہب پروٹسٹنٹ (تفصیل دیکھیں)[1]
دستخط
ویب سائٹ barackobama.com

بارک اوبامہ (انگریزی: Barack Obama)،امریکی ریاست ہوائی میں 1961ء میں پیدا ہوئے۔ اوبامہ نے 2 فروری، 1961ء کو شادی کی۔[2]والد کا تعلق کینیا سے جبکہ والدہ کا ہوائی سے تھا۔والدین کی ملاقات دوران طالب علمی ہوائی یونیورسٹی میں ہوئی جہاں پر والد وظیفہ پر پڑھنے آیا ہوا تھا۔ اوبامہ کی عمر دو سال تھی جب والدین میں علیحدگی ہو گئی۔ طلاق کے بعد اوباما اپنی والدہ کے ساتھ امریکہ اور کچھ عرصے کے لیے انڈونیشیا میں بھی رہے کیونکہ ان کے سوتیلے باپ کا تعلق انڈونیشیا سے تھا۔ انھوں نے کولمبیا یونیورسٹی اور جامع ہارورڈ کے قانون مدرسہ سے تعلیم حاصل کی اور ہارورڈ میں وہ ہارورڈ قانون مجلے کے پہلے سیاہ فام امریکی صدر بنے۔ انھوں نے شکاگو میں پہلے سماجی پرورگراموں میں اور پھر بطور وکیل کام کیا۔ وہ آٹھ سال تک ریاست الینوائے کی سیاست میں سرگرم رہے اور سنہ دو ہزار چار میں وہ امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہوئے۔

خاندان[ترمیم]

اوباما کی اہلیہ میشیل رابنسن بھی وکیل ہے اور پرنسٹن اور ہارورڈ کی پڑھی ہوئی۔ ان کی دو بیٹیاں ہیں جن کی عمریں نو اور چھ سال ہیں۔

آؤما اوبامہ اس کی سوتيلی بہن ہے۔. وہ 1960ء میں کینیا میں پيدا ہوئی۔ اس نے جرمنی کی ہايڈل يونيوسٹی سے پرھنے کے بعد، 1996ء میں جرمنی ہی کی بيريوتھ يونيوسٹی سے ڈاکٹريٹ کی ڈگری لی۔اس نے ايان مينرز نامی ايک انگريز تاجر سے لندن ميں شادی کی جو زيادہ عرصہ تک نہيں چل سکی۔ اس شادی سے اسکی ايک بيٹی ہے جس کا نام ا کينی ای ہے۔ اس وقت آؤما اوبام کینیا میں ترقياتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

سیاست[ترمیم]

باراک اوباما نے پچھلے سال فروری میں امریکی صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں شامل ہونے کا اعلان کیا تھا۔ انھوں نے عراق سے فوج واپس بلانے کا وعدہ کيا ہے اور بش کے خلاف عراق پر فوج کشی اور عراق کے جنگ کے خلاف ايک امريکی جلوس ميں شامل ہوئے اور وعدہ کيا کے اگر وہ صدر منتخب ہوے تو وہ ايران سے بھی جنگ نہیں لڑیں گے بلکہ کسی بھی ملک سے نہیں لڑیں گے۔

باراک اوبامہ نے ہيلری کلنٹن کو شکست دی اور اپنی کاميابی کا اعلان کر ديا اور وہ امريکہ کے پہلے سياہ فام[3] صدر ہیں۔ 4 نومبر، 2008ء کو صدرارتی اليکشن میں کامياب ہو گئے ليکن ان کی نانی یہ خوشی نہیں ديکھ سکی کيونکہ وہ ايک دن پہلے انتقال کر گئی تھی۔

گوتانمو عقوبت خانہ کو بند کرنے کے وعدہ سے مکر گیا اور مارچ 2011ء میں گوتانامو میں فوجی عدالتیں دوبارہ قائم کا اعلان کیا۔[4] اپریل 2011ء میں اوبامہ نے اپنا سندِ پدائش جاری کی یہ بتانے کے لیے کہ وہ واقعی امریکہ میں پیدا ہوا اور اس لیے امریکی صدارت کا اہل ہے۔ [5] مئی 2011ء میں اوبامہ نے اسامہ بن لادن کے قتل کا سہرا اپنے سر سجایا۔ [6]

کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ صدارت سے پہلے اوبامہ جدت پسند تھا مگر صدارت میں قدامتی ہو گیا۔[7]

جنگیں[ترمیم]

2011ء تک اوبامہ امریکہ کو چار جنگوں میں ملوث رکھ رہا تھا، افغانستان، عراق، لیبیا، اور یمن، جس میں سے آخری دو اس نے خود شروع کیں۔ابھی تک کسی جنگ کو نھی جیت سکا[8]

ڈرون حملے[ترمیم]

اوبامہ پاکستان پر ڈرون حملے بھی شدت سے کرتا رہا۔[9] جنگی جرائم کے الزام سے بچنے کے لیے اس نے سرکاری وکیلوں کی ایک مجلس قائم کی جو بذریعہ ڈرون قتل کی اجازت دیتی ہے۔[10] نیویارک ٹائمز کے مطابق اوبامہ ہر ہفتہ قتل کے لیے افراد خود چنتا ہے۔[11][12] اپنے نشانوں پر مشتمل مصفوفہ انجامیہ تشکیل دیتا ہے۔[13]

معیشت[ترمیم]

چین سے قرض لے کر اپنی ہتھیار بنانے والی کمپنیوں اور فوج پر جنگی اخراجات سے امریکہ کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی۔ اوباما کو امریکی کانگریس سے قرضہ چھت بڑھانے کی اجازت بڑی مشکل سے ملی۔ سود خور قرض خواہوں نے پھر امریکہ کے قرض شرح سود بڑھا دی۔[14]


حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Pew Forum on Religion & Public Life» Blog Archive  » Barack Obama". pewforum.org. Retrieved August 23, 2015.  line feed character in |title= at position 50 (help)
  2. اوبامہ کی ماں کی کہانی۔ اخبار ٹائمز
  3. اوبامہ کی ماں گوری جبکہ باپ کالا تھا۔
  4. ایڈ پلکنگٹن (7 دسمبر 2011ء). "Obama lifts suspension on military terror trials at Guantánamo Bay". دی گارجین. http://www.guardian.co.uk/world/2011/mar/07/guantanamo-military-terrorism-trials-resume۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 March 2011. 
  5. جیک کیسہل. "How the Media Falsify Obama's Origins Story". امریکی تھنکر. http://www.americanthinker.com/2011/05/how_the_media_falsify_obamas_o.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 10 May 2011. 
  6. "Obama on “60 Minutes:” A political assessment". عالمی اشتراکی موقع. http://wsws.org/articles/2011/may2011/obam-m10.shtml۔ اخذ کردہ بتاریخ 10 May 2011. 
  7. پال حارث (2 جون 2012ء). "Drone wars and state secrecy – how Barack Obama became a hardliner". گارجین. http://www.guardian.co.uk/world/2012/jun/02/drone-wars-secrecy-barack-obama. 
  8. "U.S. Is Intensifying a Secret Campaign of Yemen Airstrikes". 8 جون 2011ء. Retrieved 9 June 2011.  Check date values in: |date= (help)
  9. "پاکستان میں ڈرون حملے کر رہے ہیں: اوباما". بی بی سی اردو موقع. 31 جنورہ 2012ء. http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2012/01/120131_obama_confirms_rwa.shtml. 
  10. ہارون رشید (13 اکتوبر 2011ء). "ڈرون حملے پر خاموشی". بی بی سی موقع. http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/10/111013_drone_protest_gel_fz.shtml۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 October 2011. 
  11. "Obama’s role in the selection of drone missile targets". عالمی اشتراکی موقع. 1 جون 2012ء. http://wsws.org/articles/2012/jun2012/pers-j01.shtml. 
  12. "Secret ‘Kill List’ Proves a Test of Obama’s Principles and Will". نیو یارک ٹائمز. 29 مئی 2012ء. http://www.nytimes.com/2012/05/29/world/obamas-leadership-in-war-on-al-qaeda.html?_r=1&hp&pagewanted=all. 
  13. آئیں کوبین (14 جوالائی 2013ء). "Obama's secret kill list – the disposition matrix". گارجین. http://www.guardian.co.uk/world/2013/jul/14/obama-secret-kill-list-disposition-matrix. 
  14. "Debt crisis: the key questions". گارجین. 7 اگست 2011ء. http://www.guardian.co.uk/business/2011/aug/07/debt-crisis-the-key-questions۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 August 2011. 

بیرونی روابط[ترمیم]