ڈونلڈ ٹرمپ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ڈونلڈ ٹرمپ
Donald Trump
Donald Trump August 19, 2015 (cropped).jpg
صدر ریاستہائے متحدہ امریکا
منتخب
عہدہ سنبھالا
جنوری 20، 2017
نائب صدر Mike Pence (منتخب)
پیشرو بارک اوباما
ذاتی تفصیلات
پیدائش جون 1946 (عمر 70)
نیویارک شہر، نیویارک، ریاستہائے متحدہ
سیاسی جماعت ریپبلکن پارٹی (1987–1999, 2009–2011, 2012–تاحال)
دیگر سیاسی
وابستگیاں
ڈیموکریٹک پارٹی (قبل 1987, 2001–2009)
ریفارم (1999–2001)
آزاد (سیاستدان) (2011–2012)[1][2]
شریک حیات
اولاد
مادر علمی Fordham University
University of Pennsylvania (BS)
دستخط Donald J Trump stylized autograph, in ink

ڈونلڈ ٹرمپ (پیدائش 14 جون، 1946ء) امریکا کی ایک کاروباری شخصیت جو سنہ 2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات کے نتیجہ میں ریاستہائے متحدہ کے پینتالیسویں صدر منتخب ہوئے۔ ٹرمپ کو سب سے زیادہ شہرت امریکی صدارتی امیدوار کے طور پر ملی اور اپنی انتخابی مہم میں ٹرمپ ایک مسلم دشمن سیاستدان کے روپ میں سامنے آئے۔

ڈونلڈ ٹرمپ 14 جون 1946ء نیویارک کے علاقے کوئنز میں پیدا ہوئے۔ 13 سال کی عمر میں انہیں نیویارک ملٹری اکیڈمی بھیجا گیا جہاں وہ نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سیاسیات طلبہ کا حصہ بھی بنے۔ ٹرمپ نے 1968ء میں یونیورسٹی آف پینسلوینیا سے معاشیات میں گریجوایشن کی۔ بزنس ٹائیکون فریڈ ٹرمپ کے بیٹے ڈونلڈ نے والد کے قرض سے ذاتی کاروبار شروع کیا۔ 1971ء میں خاندانی کمپنی کا کنٹرول حاصل کیا اور اُس کا نام بدل کر ٹرمپ آرگنائزیشن رکھا۔ انہوں نے اپنے ہوٹلوں، کسینو اور تعمیراتی منصوبوں کے ذریعے ملک گیر شہرت حاصل کی۔ 70 سالہ ٹرمپ کے مطابق، ان کے اثاثے 10 بلین ڈالر سے زائد ہیں۔ ٹرمپ کی پہلی دو شادیاں ناکام رہیں۔ سابق ماڈل میلانیا کناوس سے ٹرمپ نے 2005ء میں تیسری شادی کی۔ ٹرمپ شوبز انڈسٹری اور ذرائع ابلاغ سے بھی خاصے متعلق رہے۔ انہوں نے مشہور ٹی وی سیریز دی اپرنٹس کے 14 موسموں کی میزبانی کی اور متعدد کتابیں بھی لکھیں۔

1987ء میں پہلی بار ٹرمپ نے صدارتی انتخاب لڑنے میں دلچسپی ظاہر کی۔ 2000ء میں انہوں نے ریفارم پارٹی کا صدارتی امیدوار بننے کی کوشش کی۔ 2008ء میں ٹرمپ ایک بار پھر اس وقت توجہ کا مرکز بنے جب انہوں نے صدارتی امیدوار باراک اوباما کی جائے پیدائش امریکا کے بجائے کینیا کو قرار دیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے جون 2015ء میں ریپبلکن پارٹی کے ٹکٹ پر صدارتی انتخابات لڑنے کا اعلان کیا اور حریفوں کو مات دیتے ہوئے پارٹی کی نامزدگی حاصل کر لی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پے در پے اسکینڈلوں، متنازع اور نفرت انگیز بیانات ٹرمپ کی انتخابی مہم پر پوری طرح چھائے رہے۔ [3] 2016ء کے امریکی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے امیداوار ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے 45 ویں صدر منتخب ہوگئے ہیں ۔ [4]

حالاتِ زندگی[ترمیم]

متنازع ترین ہونے کے باوجود امریکہ کے صدارتی انتخاب جیتنے والے ڈونلڈ ٹرمپ 14 جون 1946ء کو نیویارک میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1968ء میں یونیورسٹی آف پینسلوانیا سے اکنامکس میں گریجویشن کیا۔ ٹرمپ ’جمائکا اسٹیٹس‘ کے امیر ترین مضافات میں پلے بڑھے، وہ ریئل اسٹیٹ کی تعمیر و ترقی سے وابستہ رہے۔ اُن کا انداز حاکمانہ رہا ہے، جو اُنھوں نے اپنے بیٹے کو بھی منتقل کیا ہے۔اُن کے والد بروکلن اور کوئینز میں تعمیراتی منصوبوں سے منسلک رہے، جب کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے مین ہٹن میں بلند و بالا عمارات کھڑی کیں۔1970ء کی دہائی میں، محکمہٴ انصاف نے ’ٹرمپ آرگنائزیشن‘ پر ’فیئر ہاؤزنگ ایکٹ‘ کی خلاف ورزی کا الزام لگایا، جس کے ذریعے اقلیت کو اُن کی عمارتیں کرائے پر لینے سے روکا گیا۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے اس مقدمے کا فیصلہ عدالت سے باہر طے کیا۔بعد میں، ایک اہم قدم کے طور پر، ٹرمپ نے ’گرینڈ سینٹرل اسٹیشن‘ کے ساتھ والا ایک ہوٹل خریدا، جو دیوالیہ قرار دیا جا چکا تھا۔ اُنھوں نے سات کروڑ ڈالر ادھار لیے اور نیو یارک سٹی سے ٹیکس کی مراعات مانگیں، اور تعمیر نو کے بعد اُنھوں نے اسے ’گرینڈ ہائٹ ہوٹل‘ کا نام دیا۔1971ء میں انہوں نے اپنے والد فریڈ ٹرمپ کی رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن کمپنی کا کنٹرول سنبھالا جس کا نام بعد میں بدل کر دی ٹرمپ آرگنائزیشن رکھا۔ڈونلڈ ٹرمپ “دی ٹرمپ آرگنائزیشن ” کے صدر اور چئیرمین ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کی ذاتی دولت کا اندازا 4ارب ڈالرز تک لگایا گیا ہے۔دیگر کمپنیوں کے تعمیراتی منصوبوں کی اشتہاری مہم میں اپنا نام بطور فرنچائز استعمال کرنے کا معاوضہ بھی لیتے رہے ہیں۔ ٹرمپ ٹاور بھی ان کی پہچا ن بنا جو بیس کروڑ ڈالر مالیت کے اپارٹمنٹ اور آڑھت کے کاروبار پر مشتمل ایک تنصیب ہے، جس کی تعمیر میں گلابی رنگ کا سنگ مرمر استعمال ہوا، جس کی 58 منزلیں ہیں، جب کہ آبشار 18 میٹر بلند ہے۔نیو جرسی میں ’ایٹلانٹک سٹی‘ میں ’کیسینوز‘ کی تعمیر کی وجہ سے بھی، ٹرمپ کو شہرت ملی۔ پہلے ’ٹرمپ پلازا، پھر ’ٹرمپ کیسل‘ اور پھر، ’تاج محل‘ تعمیر کیا جس پر ایک ارب ڈالر خرچ آئے۔ لیکن، بعد میں دیوالیہ پن کا شکار ہوئے۔ 1990 میں جب جائداد کی مارکیٹ ’کریش‘ ہوئی، تو اُن کی ملکیت 1.7 ارب ڈالر سے گِر کر 50 کروڑ ڈالر رہ گئی۔قرقی سے بچنے کے لیے، اُنھوں نے رقوم ادھار لیں، اور نئے سرمایہ کار تلاش کیے۔لیکن گھر کے محاذ پر، طلاق کے معاملے سے نہ بچ سکے اور ذرائع ابلاغ میں اُنہیں "دی ڈونالڈ" سے پہچانا جانے لگا۔ اُنھوں نے اپنی پہلی بیوی، اوانا کو طلاق دی، جن سے اُن کے تین بچے ہیں۔ بعد میں اُنھوں نے مارلہ میپلز سے شادی کی، اور طلاق دی۔ ٹرمپ نے سنہ 2005 میں اپنی موجودہ بیوی، سلووینا سے تعلق رکھنے والی ماڈل، ملانیا سے شادی کی۔ اُن کے ریئلٹی ٹی وی شو ’دِی اپرنٹس‘ نے ٹرمپ کو ایک اداکار کا درجہ دیا۔ ٹرمپ کی املاک کے منتظم بننے کی خواہش رکھنے والے سخت مقابلے کی دوڑ میں شامل ہوئے۔ ناکام ہونے والوں کی فائل پر ٹرمپ ’یو آر فائرڈ‘ تحریر کیا کرتے تھے۔اس شو کی وجہ سے ٹرمپ کو 20 کروڑ ڈالر سے زائد کی کمائی ہوئی انہوں نے 1988، 2004 اور 2012 میں صدارتی دوڑ میں حصہ لینے کا عندیہ دیا۔ 2006 اور 2014 میں نیویارک اسٹیٹ کی گورنر شپ کی دوڑ میں بھی کودتے کودتے رہ گئے۔ ٹرمپ ماڈل مینجمنٹ کے تحت 1995سے مس یونیورس اور مس یو ایس اے مقابلے بھی منعقد کروا رہے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ خواتین سے متعلق نازیبا گفتگو کی وجہ سے خبروں میں رہے۔ انتخابی مہم میں ٹرمپ اسلام دشمن اور نسل پرست کے روپ میں سامنے آئے۔ [5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Gillin، Joshua (اگست 24, 2015). "Bush says Trump was a Democrat longer than a Republican `in the last decade’". PolitiFact. http://www.politifact.com/florida/statements/2015/aug/24/jeb-bush/bush-says-trump-was-democrat-longer-republican-las/. 
  2. Sargent، Hilary (جنوری 22, 2014). "The Man Responsible for Donald Trump’s Never-Ending Presidential Campaign". Boston.com. "A New Hampshire Republican activist named Mike Dunbar dreamed up the idea of a Donald Trump presidency [in] early summer of 1987.۔. Dunbar launched a ‘Draft Trump’ campaign.۔. Stories about a possible Trump presidency ran in newspapers across the country.۔. (Trump was registered as a Democrat at the time.۔.)" 
  3. [1]
  4. [2]
  5. [3]

بیرونی روابط[ترمیم]