نیویارک شہر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
نیویارک شہر
Top of Rock Cropped.jpg
{{کنارا|کا دفتری پرچم نیویارک شہر}}
کی دفتری مہر نیویارک شہر
پرچم مہر
عرف: "Big Apple", "Gotham" اور "NYC""
Map of New York Highlighting New York City.svg
محل وقوع: 40 درجے 43 منٹ شمال 74 درجے 00 منٹ مغرب
ملک ریاستہائے متحدہ امریکا
ریاست نیویارک
قیام 1613ء
میئر مائیکل بلوم برگ
رقبہ  
 - شہر 1,214.4 مربع کلومیٹر  (468.9 مربع میل)
 - اراضی 785.5 مربع کلومیٹر  (303.3 مربع میل)
 - پانی 428.9 مربع کلومیٹر  (165.6 مربع میل)
 - شہری 8683.2 مربع کلومیٹر (3352.6 مربع میل)
 - میٹرو 17405 مربع کلومیٹر (6720 مربع میل)
بلندی 10 میٹر  (33 فٹ)
آبادی  
 - شہر (2005) 8143197
 - کثافت 10316/مربع کلومیٹر (26720/مربع میل)
 - شہری 18498000
 - میٹرو 18709802
منطقۂ وقت EST (یو۔ ٹی۔ سی۔5-)
 - گرما (ڈی۔ ایس۔ ٹی) EDT (یو۔ ٹی۔ سی۔4-)
ویب سائیٹ: www.nyc.gov

نیویارک ریاستہائے متحدہ امریکا کا سب سے بڑا شہر ہے اور دنیا کے عظیم ترین شہروں میں سے شمار ہوتا ہے۔ اس کو بگ ایپل (big apple) بھی کہا جاتا ہے۔ ریاست نیویارک کے اس شہر کی آبادی 8.2 ملین ہے جبکہ شہر 321 مربع میل (تقریباًً 830 مربع کلومیٹر) پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ براعظم شمالی امریکا کا سب سے گنجان آباد شہر ہے۔ مضافاتی علاقوں کی آبادی سمیت 18.7 ملین کی آبادی کے ساتھ نیویارک دنیا کے بڑ ے شہری علاقوں میں سے ایک ہے۔

نیویارک کاروبار، تجارت، فیشن، طب، تفریح، ذرائع ابلاغ اور ثقافت کا عالمی مرکز ہے جہاں کئی اعلیٰ نوعیت کےعجائب گھر، آرٹ گیلریاں، تھیٹر، بین الاقوامی ادارےاور کاروباری مارکیٹیں ہیں ۔ اقوام متحدہ کاصدر دفتر بھی اسی شہر میں ہے جبکہ دنیا کی کئی معروف بلند عمارات بھی اسی شہر کی زینت ہیں۔

یہ شہر دنیا بھر کے سیاحوں کے لئے پر کشش حیثیت کا حامل ہے اور وہ نیویارک کے اقتصادی مواقع، ثقافت اور طرز زندگی سے فائدہ اٹھانے کے لئے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ نیویارک شہر میں امریکا کے دیگر شہروں کے مقابلے میں جرائم کی شرح سب سے کم ہے۔

اس وقت نیویارک شہر کے میئر مائیکل بلوم برگ ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

نیویارک شہر کو اطالوی باشندے گیووانی ڈی ویرازانو کی جانب سے دریافت کے وقت مقامی امریکی باشندوں نے آباد کیا تھا۔ ویرازانو نیویارک کی بندرگاہ تک داخل نہیں ہوسکا تھا اور اس کا جہاز واپس بحر اوقیانوس میں داخل ہوگیا تھا۔ پہلی بار انگلستان کے ہنری ہڈسن نےعلاقے کا نقشہ ترتیب دیا۔ ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیے کام کرنے والے ہڈسن نے 11 ستمبر 1609ء کو مین ہٹن کو دریافت کیا۔ وہ اس دریا میں سفر کرتے ہوئے، جو اب ان کے نام پر دریائے ہڈسن کہلاتا ہے، اس مقام تک پہنچے جہاں ریاست نیویارک کا دارالحکومت البانی واقع ہے۔ ولندیزیوں نے 1613ء میں اس شہر کی جگہ نیو ایمسٹرڈیم کی بنیاد رکھی جس نے 1652ء میں خود مختاری حاصل کرلی۔ برطانیہ نے ستمبر 1664ء میں شہر پر قبضہ کر کے اسے ڈیوک آف یارک اور البانی کے نام پر ”نیویارک“ کا نام دیا ۔ ولندیزیوں نے اگست 1673ء میں شہر کو دوبارہ حاصل کرلیا اور اسے”نیو اورنج“ کا نام دیا لیکن نومبر 1674ء میں شہر سے ہمیشہ کےلئے ہاتھ دھو بیٹھے۔

برطانیہ کےدور حکومت میں نیویارک مسلسل ترقی کی منازل طے کرتا رہا۔ وسیع تر سیاسی آزادی کے لیے بڑھتے ہوئے احساسات کے پیش نظر امریکا کی انقلابی جنگ کے دوران شہر کو مختلف حصوں میں تقسیم کرلیا گیا۔ شہر جنگ کے خاتمے تک برطانیہ کے قبضے میں رہا اور 1783ء میں یہ آخری بندرگاہ تھی جسے برطانوی جہازوں نے چھوڑا۔

نیویارک وفاق کے مسودات کے تحت 1785ء سے 1788ء تک اور بعد ازاں 1788ء سے 1790ء تک نو تشکیل شدہ ریاستہائے متحدہ امریکا کا دارالحکومت رہا۔ انیسویں صدی میں نہر ایری کی تعمیر کے بعد نیویارک نے بوسٹن اور فلاڈیلفیا کے مقابلے میں اقتصادی اہمیت حاصل کرلی۔ یہ عرصہ شہر کی اقتصادی ترقی کا عہد سمجھا جاتا ہے۔

ذرائع نقل و حمل کے نئے روابط خصوصاً 1904ء میں شہر میں زمین دوز ریلوے کے قیام نے شہر کو مزید پھیلنے میں مدد دی۔ 1925ء میں شہر نے لندن کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے شہر کا اعزاز حاصل کرلیا۔ دوسری جنگ عظیم میں بندرگاہ اور تجارت و صنعت کے مرکز کی حیثیت سے نیویارک کا کردار انتہائی اہم رہا۔ جنگ کے نتیجے میں نیویارک دنیا کا ابھرتا ہوا شہر بن گیا جس کی وال اسٹریٹ نےعالمی اقتصادیات پر امریکا کی برتری قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1952ء میں اقوام متحدہ کے دفاتر کے قیام نےاسے دنیا بھر کے شہروں پر سیاسی برتری دلائی اور تجریدی عمارات نے اسے پیرس کی جگہ ثقافتی دنیا کا مرکز بنا دیا۔

11ستمبر 2001ء کے حملوں سے قبل مین ہٹن کی بلند عمارات کا دلکش منظر، ورلڈ ٹریڈ سینٹر نمایاں ہے

جنگ عظیم کے بعد مضافات میں آبادیوں کے قیام کے باعث شہر کی آبادی میں کمی واقع ہوئی اور 1970ء کی دہائی میں پیداوار میں کمی، جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح اور سفید فاموں کی بڑے شہروں سے ہجرت نے نیویارک کو سماجی و اقتصادی بحران سے دوچار کر دیا جس سے شہر 1990ء کی دہائی تک دوچار رہا۔ اس عرصے میں نسلی تناؤ میں کمی واقع ہوئی، جرائم کی شرح میں ڈرامائی کمی، معیار زندگی میں بہتری، اقتصادی نمو اور تارکین وطن کے لئے نئے قوانین نےاس شہر کو ایک نئی زندگی عطا کی۔

شہر 11 ستمبر 2001ء کے حملوں کا نشانہ بنا جب شہر کی بلند ترین عمارت ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے تباہ ہونے کے نتیجے میں تقریباًً تین ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی جگہ تعمیر ہونے والا ایک ہزار 776 فٹ بلند فریڈم ٹاور 2012ء میں مکمل ہوگا۔

جغرافیہ[ترمیم]

نیویارک کے 5 علاقے، 1: مین ہٹن، 2: بروکلن،
3: کوئینز، 4: برونکس، 5: اسٹیٹن جزیرہ

نیویارک امریکا کے شمال مشرق اور ریاست نیویارک کے جنوب مشرق میں دریائے ہڈسن کے کنارے واقع ہے۔ شہر کا کل رقبہ 468.9 مربع میل (ایک ہزار 214.4 مربع کلومیٹر) ہے جس میں سے 35.31 فیصد پانی پر مشتمل ہے۔ شہر تین اہم جزیروں مین ہٹن، اسٹیٹن اور ویسٹرن لونگ جزیرے پر مشتمل ہے۔ برونکس شہر کا واحد علاقہ ہے جو برعظیم امریکا سے منسلک ہے۔

شہر کی قدرتی بندرگاہ بالائی خلیج نیویارک میں ہے۔ مینہیٹن، بروکلن، اسٹیٹن جزیرہ اور نیو جرسی کے ساحل اس کا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔

نیویارک شہر پانچ علاقوں پر مشتمل ہے: مینہیٹن، بروکلن، کوئینز، برونکس، اسٹیٹن جزیرہ۔ یہ پانچوں علاقے انتہائی گنجان آباد ہیں جس کا اندازہ اس بات سےلگایا جا سکتا ہے کہ اگر انہیں الگ شہر بھی سمجھا جائے تو یہ تمام دنیا کے 50 گنجان آباد ترین علاقوں میں شامل ہوں گے۔

مین ہٹن (آبادی 15لاکھ 93ہزار200) شہر کا کاروباری مرکز ہے۔ نیویارک شہر کی بلند ترین اور امتیازی عمارات اسی علاقے میں واقع ہیں۔

شہر کا نظارہ[ترمیم]

فلیٹرون بلڈنگ

نیویارک کی بلند عمارتیں دنیا بھر میں شہرت رکھتی ہیں۔ نیویارک میں مختلف انداز کی عمارتیں قائم ہیں جن میں فرنچ سیکنڈ امپائر انداز کی کنگز کاؤنٹی سیونگز بینک بلڈنگ، گوتھک ریوائیول انداز کی وول ورتھ بلڈنگ، آرٹ ڈیکو انداز کی امپائر اسٹیٹ بلڈنگ اور کریسلر بلڈنگ، بین الاقوامی انداز کی نیو اسکول، سی گرام بلڈنگ اور لیور ہاؤس اور انتہائی جدید انداز کی اےٹی اینڈ ٹی بلڈنگ شامل ہیں۔ کونڈے ناسٹ بلڈنگ سبز انداز کی اہم ترین مثال سمجھی جاتی ہے۔

شہر کی معروف اور بلند ترین عمارت بلاشبہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر تھی جو 11ستمبر 2001ء کو دہشت گرد حملوں میں تباہ ہوگئی۔

سیاحت[ترمیم]

ہر سال 40 ملین غیرملکی اور امریکی سیاح نیویارک کا دورہ کرتے ہیں۔ امپائر اسٹیٹ بلڈنگ، مجسمہ آزادی، بروڈوے پروڈکشنز، ال میوسیو ڈیل بیریو اور انٹریپڈ بحری، فضائی و خلائی عجائب گھر، برونکس کا چڑیا گھر اور نیویارک کا نباتیاتی باغ، ففتھ اور میڈیسن ایونیو کے شاپنگ مالز اور ہیلووین پریڈ اور ٹرائی بیکا فلم فیسٹیول سیاحوں کے لئے خصوصی کشش رکھتے ہیں۔

کھیل[ترمیم]

نیویارک امریکا میں کھیلوں کا بھی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں کی بیس بال، باسکٹ بال، امریکی فٹ بال اور آئس ہاکی کی ٹیمیں امریکا میں اعلیٰ مقام رکھتی ہیں۔ ایک عالمی شہر کی حیثیت سے نیویارک امریکا کےان 4 بڑے کھیلوں کے علاوہ دیگر ایونٹس کی میزبانی کرتا ہے جن میں یو ایس ٹینس اوپن اور نیویارک سٹی میراتھن خصوصاً مشہور ہیں۔

ذرائع ابلاغ[ترمیم]

ٹائمز اسکوائر، شہر میں ذرائع ابلاغ کے اداروں کامرکز

نیویارک کو دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کا دارالحکومت بھی کہلاتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی دنیا میں عالمی معروف ادارے مثلاً ٹائم وارنر، نیوز کارپوریشن، ہیرسٹ کارپوریشن اور وایا کوم اسی شہر سے تعلق رکھتے ہیں۔ دنیا بھر کی آزاد فلموں میں سے ایک تہائی نیویارک میں پیش کی جاتی ہیں۔ 200 سے زائد اخبارات اور 350 جرائد کے دفاتر شہر میں موجود ہیں۔ صرف کتب کی طباعت و اشاعت کی صنعت سے ہی 13 ہزار افراد وابستہ ہیں۔

شہر سے امریکا کے تین معروف قومی روزناموں میں سے دو دی نیویارک ٹائمز (اشاعت 1.1ملین) اور دی وال اسٹریٹ جرنل (اشاعت 2.1 ملین) نیویارک سے شائع ہوتے ہیں۔ ٹائمز کے علاوہ شہر کے دیگر بڑے اخبارات میں نیویارک ڈیلی نیوز (اشاعت 7 لاکھ 30 ہزار) نیویارک پوسٹ (اشاعت 6ل اکھ 50 ہزار) اور نیوز ڈے (اشاعت ایک ملین) شامل ہیں۔

شہر امریکا کے 4 بڑے نشریاتی ٹیلی وژن اداروں اےبی سی، سی بی ایس، فوکس اور این بی سی اور دیگر کئی معروف کیبل ٹیلی وژن چینلوں بشمول ایم ٹی وی، فوکس نیوز، ایچ بی او اور کامیڈی سینٹرل کا ہیڈکوارٹر ہے۔

انگریزی کے علاوہ اردو کے کئی ہفتہ وار اخبار بھی نیو یارک سے شائع ہوتے ہیں۔ ان میں سے اردو ٹائمز اور پاکستان پوسٹ قابل ذکر ہیں۔ اردو ٹائمز 28 سال اور پاکستان پوسٹ 15 سال سے شائع ہو رہا ہے۔

اقتصادیات[ترمیم]

مین ہٹن امریکا کا سب سے بڑا کاروباری علاقہ ہے

نیویارک شہر بین الاقوامی کاروبار اور تجارت کا عالمی مرکز سمجھا جاتا ہےاور اسےعالمی اقتصادیات کے تین مراکز (نیویارک، لندن اور ٹوکیو) میں سے ایک قرار دیا جاتاہے۔ تجارت، انشورنس، ریئل اسٹیٹ، ذرائع ابلاغ اور آرٹس کے علاوہ شہر کے دیگر اہم شعبہ جات میں ٹیلی وژن اور فلم انڈسٹری، طبی تحقیق اور ٹیکنالوجی، غیرمنافع بخش ادارے اور جامعات اور فیشن شامل ہیں۔

نیویارک اسٹاک ایکسچینج حجم کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا بازار حصص ہے جبکہ نیس ڈیک فہرست کے اعتبار سے دنیا میں سب سے بڑا ہے۔ دنیا کے کئی بڑے اداروں کے دفاتر نیویارک میں قائم ہیں۔

پیداوار کے ضمن میں شہر میں گارمنٹس، کیمیکل، دھاتی پیداوار، غذائی مصنوعات اور فرنیچر اہم ہیں۔

اعداد و شمار[ترمیم]

شہر کی آبادی سال بہ سال

  • 1790 ء 33,131
  • 1900 ء 3,437,202
  • 1950 ء 7,891,957
  • 1970 ء 7,894,862
  • 1980 ء 7,071,639
  • 1990 ء 7,322,564
  • 2004 ء 8,168,338

تعلیم[ترمیم]

فورڈہیم یونیورسٹی

امریکا میں سالانہ سب سے زیادہ پوسٹ گریجویٹ ڈگریاں نیویارک میں حاصل کی جاتی ہیں۔ 40 ہزار سند یافتہ طبیب اور 127 نوبل انعام یافتہ افراد نے اسی شہر کے تعلیمی اداروں سےتعلیم حاصل کی۔

نیویارک کی سٹی یونیورسٹی امریکا کی تیسری سب سے بڑی سرکاری جامعہ ہے۔ 1754ء میں قائم ہونے والی کولمبیا یونیورسٹی ریاست کا سب سے قدیم تعلیمی ادارہ ہے جبکہ نیویارک یونیورسٹی امریکا کی سب سے بڑی نجی اور غیرمنافع بخش جامعہ ہے۔

نیویارک پبلک لائبریری امریکا کی سب سے بڑی سرکاری لائبریری ہے۔

ذرائع نقل و حمل[ترمیم]

بروکلن برج

نیویارک شہر کا نظام امریکا کا سب سے پیچیدہ اور وسیع ٹرانسپورٹ نظام ہے جس میں تقریبا 13 ہزار ٹیکسیاں، ایک لاکھ 20 ہزار سائیکلوں کےعلاوہ زمین دوز ریلوی، بسوں اور ریلوے کا نظام، ہوائی اڈہ، پل اور سرنگیں، فیری سروس اور ٹرام وے شامل ہے۔ اس شاندار نظام کی بدولت نیویارک کے شہریوں کی اکثریت ذاتی گاڑی کی مالک نہیں۔ 2000ء کے اعداد و شمار کے مطابق نیویارک امریکا کا واحد شہر ہے جہاں نصف سے زائد افراد ذاتی گاڑی نہیں رکھتے۔

نیویارک کا زمین دوز ریلوے نظام دنیا کا سب سے بڑا نظام ہے جس کی پٹریوں کی لمبائی 656 میل یعنی ایک ہزار 56 کلومیٹر ہے جبکہ سالانہ مسافروں کی تعداد کے حساب سے یہ دنیا کا پانچواں بڑا نظام ہے جسے سالانہ 1.4 ارب مسافر استعمال کرتے ہیں۔ نیویارک کی سرکاری بسوں اور ریل کا نظام شمالی امریکا کا سب سے بڑا نظام ہے۔

شہر اور اس کے گرد و نواح میں تین بڑے ہوائی اڈے ہیں جن میں جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ (جے ایف کی) اور لاگارڈیا ایئرپورٹ (ایل جی ای) کوئینز میں جبکہ نیوارک لبرٹی انٹرنیشنل ایئرپورٹ (ای ڈبلیو آر) قریبی نیوارک، نیو جرسی میں واقع ہے۔ 2005ء میں تقریباًً 100 ملین مسافروں نے ان ہوائی اڈوں کو استعمال کیا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

جڑواں شہر[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

New York City from South

حوالہ جات[ترمیم]