کارل فان اوسیتزکی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
کارل فان اوسیتزکی
کارل فان اوسیتزکی
Bundesarchiv Bild 183-93516-0010, Carl von Ossietzky.jpg
ایستر ویگن (Esterwegen) کے حراستی کیمپ میں
پیدائش 3 اکتوبر 1889ء
ہیمبرگ, جرمنی
وفات 4 مئی 1938ء
برلن، جرمنی
قومیت جرمن
وجہِ شہرت امن پسندی
اعزازات

کارل فان اوسیتزکی ایک جرمن امن پسند تھا، وہ 3 اکتوبر 1889ء کو جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں پیدا ہوئے۔ انھیں جرمنی کی پوشیدہ ہتھیار بندی کا راز فاش کرنے پر 1935ء میں نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔ اوسیتزکی پر جرمنی کے معاہدۂ ورسائے کی خلاف ورزی کرنے کی تفصیلات شائع کرنے پر مقدمہ چلایا گیا۔ اوسیتزکی کی بیٹی نے 1990ء میں دوبارہ مقدمہ کھلوانا چاہا، لیکن عدالت نے پرانا فیصلہ بحال رکھا۔

حالات زندگی[ترمیم]

کارل فان اوسیتزکی ہیمبرگ شہر کے ایک اسٹینوگرافر کے ہاں پیدا ہوئے جو ایک وکیل کے دفتر میں نوکری کرتا تھا۔ کارل کا باپ انھیں ایک پادری بنانا چاہتا تھا۔ لیکن کارل کی عمر ابھی دو سال تھی کہ ، باپ کا انتقال ہو گیا۔ کارل نے ایک صحافی کے طور پر اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ تحریک نسواں، تھیٹر اور معاشرے میں بڑھتے ہوئے مشینی آلات ان کے پسندیدہ موضوع تھے۔ ولیم دوم کے دور حکومت میں جرمنی کی فوجی تیاریوں اور بڑھتی ہوئی ہتھیار بندی نے کارل کو امن پسند بنا دیا۔ اسی دوران کارل نے بادشاہت کی بجائے جمہوریت کے پر جوش داعی کے طور پر شہرت پائی۔

1921ء میں جرمن حکومت نے ایک خفیہ گروہ کی تشکیل کی جس کا مقصد جرمن فوجوں کی تعداد میں اضافہ اور مزید ہتھیار بندی کرنا تھا جو سراسر معاہدۂ ورسائے کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا تھا۔ اسی خفیہ گروہ کے ذمہ تھا کہ وہ ہر اس فرد کو قتل کر دیں جس پر اتحادی کنٹرول کمیشن کے مخبر ہونے کا شک ہے۔

قید و بند[ترمیم]

1929ء میں والٹر کرائسر نامی صحافی نے ایک مضمون شائع کیا جس میں جرمنی کی ہوائی فوج کی تیاریوں کو بے نقاب کیا گیا، جس وجہ سے کرائسر اور کارل فان اوسیتزکی پر غداری کا مقدمہ درج کر لیا گیا کیونکہ کارل اس اخبار کا مدیر تھا۔ گو ان کے دفاع میں یہ کہا گیا کہ یہ ان کی شایع کردہ خبر نہ صرف سچ ہے بلکہ ایک کمیشن میں پہلے سے آ چکی ہے، لیکن پھر بھی دونوں کو ڈیڑھ ڈیڑھ سال کی قید سنا دی گئی۔

کارل بدستور جرمنی کی ہتھیار بندی کے خلاف لکھتا رہا، اور جب ایڈولف ہٹلر کی نازی جماعت بر سر اقتدار آئی تو اس نے اس جماعت کی فسطائیت اور جنگ پسند پالیسیوں کی مخالفت کی جس کے نتیجے میں کارل کو دوبارہ گرفتار کر کے ایستر ویگن (Esterwegen) کے حراستی کیمپ میں نظر بند کر دیا گیا۔

نوبل امن انعام[ترمیم]

کارل کو قید کے دوران تپ دق کا مرض لاحق ہوا تو انھیں علاج معالجہ کی سہولتیں مہیا نہ کرنے کی وجہ سے ان کا معاملہ پوری دنیا میں توجہ کا مرکز بن گیا۔ 1935ء میں کارل کے لیے نوبل امن انعام کا اعلان ہوا تو انھیں اس انعام کے حصول کےلیے اوسلو جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ کارل کے نوبل انعام کے قصوں کو نہ صرف اخبارات کی زینت بننے سے روک دیا گیا بلکہ ایک حکمنامے کے تحت مستقبل میں جرمن باشندوں پر نوبل امن انعام وصول کرنے پر پابندی لگا دی گئی۔

موت اور اعزازات[ترمیم]

عالمی دباؤ کے تحت 1936ء میں گسٹاپو کی زیر نگرانی علاج کی خاطر کارل کو ہسپتال بھیج دیا گیا لیکن وہ اس موذی مرض سے جانبر نہ ہو سکے اور 4 مئی 1938ء کو ہسپتال کے اندر ان کی موت واقع ہوئی۔ 1990ء میں کارل کی بیٹی نے اپنے باپ کا مقدمہ پھر اٹھایا تاکہ موت کے بعد اسے انصاف مل سکے لیکن عدالت نے اس بنیاد پر پرانا فیصلہ بحال رکھا کہ کسی بھی حالت میں شہریوں کو مادر وطن کے ساتھ وفاداری کرتے ہوئے حساس نوعیت کی معلومات افشا نہیں کرنی چاہیے۔

کارل کی موت کے بعد انھیں انٹرنیشنل لیگ فار ہیومن رائٹس کا اعزاز دیا گیا۔ اس کے علاوہ ایک یونیورسٹی کا نام ان کے نام پر کر دیا گیا۔ پین انٹرنیشنل کی نارویجن شاخ کا آزادی گفتار کا انعام بھی کارل کے نام پر اوسیتزکی رکھ دیا گیا۔