نادیہ مراد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نادیہ مراد
(عربی میں: allllojduijvuy خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Nadia Murad, 2015 (cropped).jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1993 (عمر 24–25 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
کوجو (گاؤں)[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Iraq.svg عراق[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب یزیدیت
مناصب
سفیر حسن نیت[3]   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
آغاز منصب
16 ستمبر 2016 
عملی زندگی
پیشہ کارکن انسانی حقوق[4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
کارہائے نمایاں آخری لڑکی: میری اسیری اور دولت اسلامیہ سے جنگ کی کہانی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کارہائے نمایاں (P800) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
نوبل امن انعام  (2018)[5]
سخاروف انعام  (2016)[6]
واکلیو انسانی حقوق انعام (2016)[7]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ (انگریزی)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر

نادیہ مراد باسی طہ (سورانی کردی: نادیە موراد باسی تەھا، عربی: نادية مراد باسي طه؛ پیدائش، 1993ء) ایک عراقی یزیدی کرد انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی خاتون ہے جس کو 2018ء کا نوبل امن انعام دیا گیا۔[8][9][10][11] اسے تین ماہ تک داعش نے اغوا کیے رکھا۔[12][13][14] 2018ء میں اس کو ڈینس مکویگے کے ساتھ مشترکہ طور پر جنگ اور مسلح جھڑپوں کے ہتھیار کے طور پر جنسی تشدد کے استعمال کو ختم کرنے کی کوششوں پر نوبل انعام برائے امن دیا گیا۔ [15] وہ پہلی عراقی ہے جسے نوبل انعام ملا۔[16]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

نادیہ مراد کی پیدائش عراقی ضلع سنجار کے گاؤں یزیدی آبادی کے گاؤں کوجو میں ہوئی۔ ان کا خاندان، یزیدی اقلیت سے تعلق رکھتا ہے اور زراعت پیشہ ہے۔[17]

اغوا[ترمیم]

جب اس کی عمر 19 سال تھی، اس کے گاں پر داعش نے حملہ کیا اور 600 افراد ک وہلاک کر دیا جن میں نادیہ کی ماں اور چھ بھائی بھی شامل تھے، جب کہ گاؤں کی بہت سی غیر شادی شدہ لڑکیوں کو کنیزیں بنا کر جنگجوؤں میں تقسیم کر دیا گیا۔ اس سال داعش نے 6,700 یزیدی خواتین کو اغوا کیا، جن میں نادیہ بھی شامل تھی۔[18] اسے موصل شہر میں لونڈی کے طور پر رکھا گیا مارا پیٹا گیا، سگریٹ کے ساتھ جلایا گیا اور بھاگنے کی کوشش پر اجتماعی جنسی تشدد کیا گیا۔ نادیہ کو قیدی بنانے والے شخص نے جب اسے گھر میں آزاد چھوڑا تو یہ وہاں سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئی۔[19]

ذاتی زندگی[ترمیم]

اگست 2018ء میں نادیہ نے یزیدی کارکن عابد شمدين سے منگنی کی۔ نادیہ مراد نے اپنی داستان آخری لڑکی: میری اسیری اور دولت اسلامیہ سے جنگ کی کہانی نامی کتاب میں بیان کی جو 2017ء میں شائع ہوئی تھی۔

اعزازات[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Nadia Murad i tårar efter beskedet: ”Är överraskade” — اخذ شدہ بتاریخ: 5 اکتوبر 2018
  2. ^ ا ب Who is the Nobel Peace Prize 2018 winner Nadia Murad? — اخذ شدہ بتاریخ: 5 اکتوبر 2018
  3. Human trafficking survivor Nadia Murad named UNODC Goodwill Ambassador — اخذ شدہ بتاریخ: 5 اکتوبر 2018
  4. Human rights activist Nadia Murad writing memoir — اخذ شدہ بتاریخ: 5 اکتوبر 2018
  5. https://old.nobelprize.org/pea-press.pdf — اخذ شدہ بتاریخ: 5 اکتوبر 2018
  6. Yazidi women win EU Parliament's Sakharov Prize — اخذ شدہ بتاریخ: 5 اکتوبر 2018
  7. Yazidi Activist Wins Vaclav Havel Rights Award — اخذ شدہ بتاریخ: 23 اکتوبر 2018
  8. "نادية مراد حكاية ضحية ام خطة مخفية"۔ وكالة سكاي برس۔ 29 دسمبر 2015۔ 
  9. Ahmed Khudida (18 اگست 2016)۔ "A Statement by Nadia Murad and Yazda`s Communication Team on Nadia and Yazda Visit to Australia"۔ Yazda: A Global Yazidi Organization۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 ستمبر 2016۔ 
  10. "Iraq nominates Islamic State Yazidi victim Nadia Murad for Nobel prize"۔ Ekurd Daily (Baghdad)۔ 6 جنوری 2016۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 ستمبر 2016۔ 
  11. Priyanka Mogul۔ "Yazidi woman Nadia Murad: Former Isis sex slave could اگلا نوبل امن انعام"۔ International Business Timesdate=8 جنوری 2016۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 ستمبر 2016۔ 
  12. Lucy Westcott (19 مارچ 2016)۔ "ISIS sex slavery survivor on a mission to save Yazidi women and girls"۔ نیوزویک۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 ستمبر 2016۔ 
  13. "Ex-captive of ISIL sheds tears on return to Iraq"۔ Al Jazeera۔ 2 جون 2017۔ 
  14. "Overcome with grief, Nadia Murad, ISIS survivor, returns to hometown"۔ Rudaw۔ 1 جون 2017۔ 
  15. "Announcement"۔ The نوبل امن انعام۔ 
  16. "Nobel Peace Prize winner Nadia Murad"۔ بی بی سی۔ 5 اکتوبر 2018۔ 
  17. Nadia Murad Basee Taha (16 دسمبر 2015)۔ "Nadia Murad Basee Taha (ISIL victim) on Trafficking of persons in situations of conflict – Security Council, 7585th meeting" (Video)۔ United Nations Television (UNTV)۔ اخذ کردہ بتاریخ 21 ستمبر 2016۔ 
  18. ^ ا ب "Appointment Ceremony of Ms. Nadia Murad Basee Taha As UNODC Goodwill Ambassador for the Dignity of Survivors of Human Trafficking on the Occasion of the International Day of Peace" (Video)۔ United Nations Television (UNTV)۔ 16 ستمبر 2016۔ اخذ کردہ بتاریخ 21 ستمبر 2016۔ 
  19. Charlotte Alter (20 Dec 2015)۔ "A Yezidi Woman Who Escaped ISIS Slavery Tells Her Story"۔ Time Magazine۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 دسمبر 2016۔ 
  20. Simone Monasebian (14 ستمبر 2016)۔ "Nadia Murad Basee Taha to be appointed Goodwill Ambassador by United Nations Office on Drugs and Crime on 16th ستمبر"۔ United Nations Office on Drugs and Crime (UNODC)|۔ اخذ کردہ بتاریخ 21 ستمبر 2016۔ 
  21. "Václav Havel Human Rights Prize 2016 awarded to Nadia Murad"۔ PACE News۔ اخذ کردہ بتاریخ 2018-10-05۔ 
  22. "Why I am nominating Nadia Murad for Sakharov Prize"۔ Beatriz Becerra۔ 12 ستمبر 2016۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 اکتوبر 2016۔ 
  23. Beatriz Becerra Basterrechea (20 جولائی 2016)۔ "Yazidi genocide victims deserve European Parliament prize"۔ EurActiv۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 اکتوبر 2016۔ 
  24. "EU Parliament awards Sakharov prize to Yazidi women"۔ 27 اکتوبر 2016۔ 
  25. Rukmini Callimachi؛ Jeffrey Gettleman؛ Nicholas Kulish؛ Benjamin Mueller (2018-10-05)۔ "Nobel Peace Prize Awarded to Denis Mukwege and Nadia Murad for Fighting Sexual Violence"۔ The New York Times (en زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 2018-10-05۔