تسلیمہ نسرین
| تسلیمہ نسرین | |
|---|---|
| (بنگالی میں: তসলিমা নাসরিন) | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | 25 اگست 1962ء (64 سال)[1][2][3][4][5] میمن سنگھ |
| رہائش | نئی دہلی |
| شہریت | |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | مصنف ، طبیبہ، حقوق نسوان کی کارکن ، شاعر [6]، ناول نگار ، کالم نگار |
| مادری زبان | بنگلہ |
| پیشہ ورانہ زبان | بنگلہ [7] |
| شعبۂ عمل | شاعری ، مضمون |
| تحریک | الحاد ، نسائیت ، فعالیت پسندی |
| اعزازات | |
| دستخط | |
| ویب سائٹ | |
| ویب سائٹ | باضابطہ ویب سائٹ |
| IMDB پر صفحہ | |
| درستی - ترمیم | |
تسلیمہ نسرین (انگریزی: Taslima Nasrin; بنگالی: তসলিমা নাসরিন) ایک بنگلہ دیشی مصنفہ، شاعرہ اور سابقہ ڈاکٹر ہیں، جو انسانی حقوق، خواتین کے حقوق اور آزادیٔ اظہار کے لیے مشہور ہیں۔ وہ 1994ء سے جلاوطنی میں زندگی گزار رہی ہیں، جب ان کی کچھ تحریروں پر مذہبی شدت پسندوں کی طرف سے تشدد اور جان کے خطرات کے پیش نظر انھیں ملک چھوڑنا پڑا۔ نسرین نے اپنے ادبی کیریئر کی شروعات بنگلہ دیش میں کی تھی اور ان کی تحریریں اکثر خواتین کی آزادی، سماجی انصاف، مذہبی انتہا پسندی اور انسانی حقوق کے مسائل پر مرکوز ہوتی ہیں۔
تسلیمہ نسرین نے متعدد ناول، مضامین اور نثر کے مجموعے لکھے ہیں، جن میں لڈڈو نثر, امر میییبیلا (میرے بچپن کی یادیں) اور شودھ (تحقیق) شامل ہیں۔ ان کے کام کا مقصد معاشرتی اصلاح اور عورتوں کی آزادی کو فروغ دینا رہا ہے، جس کی وجہ سے انھیں کئی بار دھمکیوں اور قانونی معاملات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی کتابیں کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور وہ عالمی سطح پر ادبی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں معتبر مقام رکھتی ہیں۔
نسرین کو کئی بین الاقوامی ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا گیا ہے، جن میں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ کے لیے نامزدگی اور دیگر عالمی انسانی حقوق کے ایوارڈز شامل ہیں۔ ان کی زندگی اور کام نہ صرف جنوبی ایشیا میں بلکہ عالمی سطح پر بھی خواتین کی آواز اور آزادیٔ اظہار کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔[9]
نگالی زبان کی عالمی شہرت یافتہ (اور متنازع) مصنفہ تسلیمہ نسرین نے اپنی خودنوشت میں اپنے ذاتی تعلقات کا بے باک ذکر کیا، جس میں مشہور شاعرشمس الرحمٰن بھی شامل تھے۔ انھوں نے اپنے رویے میں ندامت ظاہر کیے بغیر اسے عورت کی خود مختاری اور اظہارِ سچ کے حق کے طور پر پیش کیا۔ نسرین نے اپنے جسم، احساسات اور تجربات پر مکمل اختیار کا اعلان کیا اور اس جرات کو نسوانی آزادی کی علامت کے طور پر دیکھا گیا۔ ان کی بے باک بیان بازی کی وجہ سے بعض حلقوں میں تنازع پیدا ہوا، جن میں شمس الرحمان بھی شامل تھے، جو اپنی نجی زندگی پر اثر پڑنے کی وجہ سے پریشان تھے۔ نسرین کا موقف تھا کہ جو کچھ بھی ان کے اور شمس الرحمان کے درمیان ہوا وہ دو طرفہ تھا اور انھیں اپنے حصے کے بیانیے کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہے۔[10]
یہ تنازع اس بات کی مثال بھی ہے کہ معاشرے میں عورتوں کی بے باکی کو اکثر نسوانی آزادی یا بغاوت کے طور پر سراہا جاتا ہے، جبکہ مردوں کی اسی نوعیت کی بیان بازی کو اخلاقی غلطی یا بے ادبی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ نسرین کا زیادہ تنازع ان کے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں خیالات کی بنیاد پر پیدا ہوا، نہ کہ ان کی ذاتی زندگی کی وجہ سے۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ عنوان : Encyclopædia Britannica — دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Taslima-Nasrin — بنام: Taslima Nasrin — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
- ↑ بنام: Taslima Nasreen — FemBio ID: https://www.fembio.org/biographie.php/frau/frauendatenbank?fem_id=20486 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
- ↑ عنوان : Brockhaus Enzyklopädie — Brockhaus Enzyklopädie online ID: https://brockhaus.de/ecs/enzy/article/nasrin-taslima — بنام: Taslima Nasrin
- ↑ Printemps des poètes poet ID: https://www.printempsdespoetes.com/Taslima-Nasreen — بنام: Taslima Nasreen
- ↑ Munzinger person ID: https://www.munzinger.de/search/go/document.jsp?id=00000021186 — بنام: Taslima Nasrin — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
- ^ ا ب https://balestier.com/books/literature/arise-out-of-the-lock/
- ↑ مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb124379943 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015
- ↑ Prix Simone de Beauvoir pour la liberté des femmes — اخذ شدہ بتاریخ: 28 دسمبر 2025
- ↑ [http://openthemagazine.com/article/books/i-am-a-bengali-writer-i-need-to-live-in-bengal "I am a Bengali writer, I need to live in Bengal]" Open the Magazine, 2011-June-1
- ↑ "Taslima Nasrin bares herself & others with her latest autobiography 'Ka'"۔ Google Groups۔ soc.culture.bangladesh۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-10-15
بیرونی روابط
[ترمیم]| ویکی ذخائر پر تسلیمہ نسرین سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |
* تسلیمہ نسرین فیس بک پر
- Women's untold stories: Michael Deibert interviews with Taslima Nasrin
- For freedom of expression by Taslima Nasrin
- Bangladeshi Writer Wins UNESCO Madanjeet Singh Prizeآرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ ifex.org (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل) – IFEX
کتابیات
[ترمیم]شاعری
[ترمیم]- Shikore Bipul Khudha (جڑوں میں شدید بھوک)، 1982ء
- Nirbashito Bahire Ontore (باہر اور اندر سے بے دخل)،1989ء
- Amar Kichu Jay Ashe Ne (مجھے کوئی پروا نہیں)، 1990ء
- Atole Ontorin (تہ در تہ اسیر)، 1991ء
- Balikar Gollachut (لڑکیوں کا کھیل)ِِ ، 1992'ء
- Behula Eka Bhashiyechilo Bhela (بہولا نے اکیلے بیڑا تیرایا تھا)، 1993ء
- Ay Kosto Jhepe, Jibon Debo Mepe (اے درد، زور سے آ، میں تمھارے لیے اپنی زندگی ناپ کر دوں گی)، 1994ء
- Nirbashito Narir Kobita (جلاوطن عورت کی نظمیں)، 1996ء
- Jolpodyo (آبی سوسن)، 2000ء
- Khali Khali Lage (خالی خالی محسوس ہوتا ہے)، 2004ء
- Kicchukhan Thako (کچھ دیر ٹھہرو)ِ، 2005ء
- Bhalobaso? Cchai baso (یہ تمھاری محبت ہے! یا راکھ کا ڈھیر!)، 2007ء
- Bondini (قیدی)، 2008ء
- Golpo (کہانیاں)، 2018ء
مضامین کے مجموعے / انشائیے
[ترمیم]- Nirbachito Column (منتخب کالم)، 1990ء
- Jabo na keno? jabo (میں جاؤں گی؛ کیوں نہیں جاؤں گی؟)، 1991ء
- Noshto meyer noshto goddo (ایک گمراہ لڑکی کا گمراہ نثر)، 1992ء
- ChoTo choTo dukkho kotha (معمولی غموں کی داستان، 1994ء
- Narir Kono Desh Nei (عورتوں کا کوئی ملک نہیں)، 2007ء
- Nishiddho (ممنوع)، 2014ء
- Taslima Nasreener Godyo Podyo (تسلیمہ نسرین کا نثر اور شاعری)، 2015ء
- Amar protibader bhasha (میرے احتجاج کی زبان)، 2016ء
- Sakal Griho Haralo Jar (وہ شاعرہ جس نے سب کچھ کھو دیا)،2017ء
- Bhabnaguli (میرے خیالات یا جذباتی گلی)، 2018ء
- Bhinnomot (مختلف آراء)، 2019ء
ناول
[ترمیم]- Oporpokkho (مخالف)، 1992ء
- Shodh (تحقیق)، 1992ء ISBN 978-81-88575-05-3. انگریزی میں ترجمہ: Getting Even (حساب برابر کرنا).
- Nimontron (دعوت)، 1993ء.
- Phera (واپسی)، 1993.
- لجا (شرم)، 1993. ISBN 978-0-14-024051-1. انگریزی میں ترجمہ: Shame (شرم).
- Bhromor Koio Gia (جا کر اسے راز بتا دو)، 1994ء
- Forashi Premik (فرانسیسی عاشق)، 2002ء.
- Brahmaputrer pare (دریائے برہم پترا کے کنارے)، 2013ء
- Beshorom (بے شرم)، 2019ء
افسانے (Short stories)
[ترمیم]- Dukkhoboty Meye (غمگین لڑکیاں), 1994
- Minu, 2007
خودنوشت (Autobiography)
[ترمیم]- Amar Meyebela (میرا بچپن), 1997
- Utal Hawa (تیز ہوا), 2002
- Ka (بولو), 2003؛ مغربی بنگال میں اس نام سے شائع ہوا: Dwikhandito (دو حصوں میں تقسیم), 2003
- 1962ء کی پیدائشیں
- 25 اگست کی پیدائشیں
- اسلام کے نقاد
- اکیسویں صدی کی بنگلہ دیشی مصنفات
- اکیسویں صدی کی مصنفات
- اکیسویں صدی کے بنگالی شعرا
- اکیسویں صدی کے بنگلہ دیشی شعرا
- اکیسویں صدی کے مضمون نگار
- اکیسویں صدی کے ملحدین
- ایشیا میں اسلام مخالفت
- بقید حیات شخصیات
- بنگالی شاعرات
- بنگالی شخصیات
- بنگالی مصنفین
- بنگلہ دیشی انسان دوست
- بنگلہ دیشی اطباء
- بنگلہ دیشی جلاوطن
- بنگلہ دیشی خواتین مضمون نگار
- بنگلہ دیشی خواتین ناول نگار
- بنگلہ دیشی شاعرات
- بنگلہ دیشی مصنفات
- بنگلہ دیشی مضمون نگار
- بنگلہ دیشی ملحدین
- بیسویں صدی کی بنگلہ دیشی مصنفات
- بیسویں صدی کی مصنفات
- بیسویں صدی کے بنگالی شعرا
- بیسویں صدی کے بنگلہ دیشی شعرا
- بیسویں صدی کے مصنفین
- بیسویں صدی کے مضمون نگار
- بیسویں صدی کے ملحدین
- تخلیق پرستی کے نقاد
- ضلع میمن سنگھ کی شخصیات
- فتاویٰ
- نسائیت پسند بنگلہ دیشی
- نسائيت پسند ملحدین
- بنگلہ دیشی مصنفین
- نسائیت کے نقاد
- سابقہ مسلم جو لاادری یا ملحد ہو گئے
- نسائیت کی نقاد خواتین
- سنی اسلام کے نقاد
- فعالیت پسند خواتین بلحاظ قومیت
- خواتین یاداشت نگار
- مخالف خدا پرستی
- جلاوطن
- اسلام سے منسوب دہشت گردی
- بنگلہ دیشی فعالیت پسند برائے انسانی حقوق
- بنگلہ دیشی سیاست
- پناہ گزین
- فعالیت پسند برائے حقوق نسواں
- ادب
- فعالیت پسند
- مضمون نگار
- ماہرین امراض نسواں
- یاداشت نگار
- خواتین ناول نگار
- انگریزی زبان کے مصنفین


