مدر ٹریسا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
خیر کی مبلغہ مقدس ماں ٹریسا کولکاتی
MotherTeresa 094.jpg
مقدس ٹریسا کولکاتی کا سینٹ توما ماؤیٹ، ہندوستان میں مجسمہ
مذہبی مقدس، نن
پیدائش Anjezë Gonxhe Bojaxhiu
26 اگست 1910(1910-08-26)
اسکوپیہ، ولایت قوصوہ، سلطنت عثمانیہ
وفات 5 ستمبر 1997(1997-90-50) (عمر  87 سال)
کولکاتہ، مغربی بنگال، بھارت
احترام در رومن کیتھولک (بھارت)
سعادت ابدی 19 اکتوبر 2003ء, میدان سینٹ پطرس، ویٹیکن سٹی بذریعہ بطریق اعظم یوحنا پولس دوم
قداست 4 ستمبر 2016ء, میدان سینٹ پطرس، ویٹیکن سٹی بذریعہ بطریق اعظم یوحنا پولس دوم
اہم روضہ مدر ہاؤس آف دی مشنریز آف چیرٹی، کولکتا، مغربی بنگال، ہندوستان
تہوار 5 ستمبر
منسوب خصوصیات
سرپرستی
مقدس ٹریسا کولکاتی ، ایم ۔سی۔
مذہب رومن کیتھولک
تعلیمی ادارہ Sisters of Loreto
(1928–1948)
Missionaries of Charity
(1950–1997)
ذاتی تفصیل
قومیت عثمانی رعیت (1910–1912)
سربیائی رعیت (1912–1915)
بلغاروی رعیت (1915–1918)
یوگوسلاوی رعیت (1918–1943)
یوگوسلاویہ شہری (1943–1948)
بھارتی رعیت (1948–1950)
بھارتی citizen[1][2] (1948–1997)
پیدائش Anjezë Gonxhe Bojaxhiu
26 اگست 1910(1910-08-26)
اسکوپیہ، Kosovo Vilayet، سلطنت عثمانیہ
(modern اسکوپیہ، مقدونیہ)
وفات 5 ستمبر 1997(1997-90-50) (عمر  87 سال)
کولکاتہ، مغربی بنگال، بھارت
بلند مرتبہ
خطاب Superior General
دور 1950–1997
جانشین سسٹر نرملا جوشی، ایم۔سی۔
دستخط Signature of Mother Teresa

خود کو خدمت خلق کے لئے وقف کر دینے والی مسیحی راہبہ۔ بلقان میں پیدا ہونے والی راہبہ نے اپنی زندگی غریبوں اور بے کسوں کی خدمت کے لئے وقف کر دی تھی اور وہ کلکتہ میں ساٹھ برس تک غریبوں و نادار بیماروں کی دیکھ بھال کرتی رہیں۔ مدر ٹریسا مقدونیہ کے شہر سکوپئے میں سن انیس سو دس میں پیدا ہوئیں تھیں۔ تاہم ان پر البانوی اور مقدونیائی باشندوں کا یکساں دعویٰ ہے کیونکہ اس وقت مقدونیہ کے نام سے کسی ملک کا وجود نہیں تھا بلکہ یہ شہر سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا۔

فلاحی کام[ترمیم]

انہوں نے اپنے ادارے کی بنیاد انیس سو پچاس میں محض بارہ راہباؤں کے ہمراہ رکھی تھی جن کی تعداد بعد میں بڑھ کر ساڑھے چار سو تک اور دائرہ کار ایک سو تینتیس ممالک تک جاپہنچا ۔

اعزازات[ترمیم]

مدر ٹریسا کو غریبوں اور ناداروں کے لئے کئی دہائیوں پر مشتمل ان کی خدمات کے صلہ میں انیس سو اناسی میں نوبل انعام دیا گیا ۔ اس کے علاوہ پاپائے روم نے مدر ٹریسا کو ’ بابرکت‘ شخصیت قرار دیا ہے۔ یہ سعادت ’سینٹ‘ قرار دیے جانے یا مسیحیت کے تحت ’ولایت‘ (ولی بن جانے) کا مرتبہ حاصل کرنے کے مراحل میں سے آخری مرحلہ ہے۔

وفات[ترمیم]

5 ستمبر 1997ء کو بھارتی معیاری وقت کے مطابق رات 9 بجکر 30 منٹ پر مدر ٹریسا کلکتہ میں انتقال کرگئیں۔[5]

مزید دیکھئے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Mother Teresa said "By blood, I am Albanian. By citizenship, an Indian."
  2. ^ 2.0 2.1 Mother Teresa of Calcutta (1910–1997)Vatican news services retrieved 30 اپریل 2012
  3. "Albania calls on India to return Mother Teresa's remains". The Daily Telegraph (London). 14 اکتوبر 2009. http://www.telegraph.co.uk/news/worldnews/europe/albania/6322727/Albania-calls-on-India-to-return-Mother-Teresas-remains.html. 
  4. "India rejects Mother Teresa claim". BBC News. 14 اکتوبر 2009. http://news.bbc.co.uk/2/hi/8306423.stm. 
  5. http://www.washingtonpost.com/wp-srv/inatl/longterm/teresa/stories/teresa0906.htm