ایلی ویزل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(ایلائ وائسل سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
ایلی ویزل
Elie Wiesel 2012 Shankbone.JPG 

معلومات شخصیت
پیدائش 30 ستمبر 1928[1][2][3][4][5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات 2 جولا‎ئی 2016 (88 سال)[6][3][4][5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
نیویارک شہر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مقام نظر بندی آوشویتز حراستی کیمپ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامِ نظر بند (P2632) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Israel.svg اسرائیل
Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ امریکا (1963–)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
رکن امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن (P463) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ مصنف[7]،سیاسی کارکن،ناول نگار،آپ بیتی نگار،استاد جامعہ،مترجم،صحافی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[8]،یدیش زبان،عبرانی،رومانیانی زبان،مجارستانی زبان،فرانسیسی[9]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت بوسٹن یونیورسٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
Legion Honneur GC ribbon.svg گرینڈ کراس آف دی لیگون آف ہانر (2001)
Presidential Medal of Freedom (ribbon).png صدارتی تمغا آزادی (1992)
Legion Honneur GO ribbon.svg گرینڈ آفیسر آف دی لیجن آف آنر (1990)
نوبل امن انعام  (1986)
Order BritEmp (civil) rib.PNG نائٹ کمانڈر آف دی آرڈر آف دی برٹش امپائر
فور فریڈم ایوارڈ
فریڈم اعزاز  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی  بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

ایلی ویزل (عبرانی زبان אֱלִיעֶזֶר וִיזֶל‎، الیعزر ویزل)[10][11] رومن نژاد ایک یہودی لکھاری، پروفیسر اور سیاسی کارکن تھے ان کی امن کی خدمات کو دیکھ کر 1986ء میں انھیں نوبل امن انعام کا حقدار قرار دیا گیا۔وہ مرگ انبوہ میں زندہ بچ گئے تھے۔ انہوں نے 57 کتابیں تصنیف کی ہیں، ان میں زیادہ انگریزی اور فرانسیسی میں ہیں۔ [12]

ایک لکھاری ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بوسٹن یونیورسٹی میں علوم انسانیات کے پروفیسر بھی تھے، جہاں ان کو یہودیت پر مطالعہ کی ترغیب ملی۔ وہ یہودی معاملات میں دلچسپی رکھتے تھے اور انہوں نے واشنگٹن ڈی سی میں یونائٹید اسٹیٹز ہولوکاسٹ میموریل میوزیم کے قیام میں کافی تعاون دیا ہے۔ اپنے سیاسی اثر و سروخ کی بنیاد پر انہوں نے جنوبی افریقا، نکاراگوا، کوسووہ]] اور سوڈان میں ہو رہے ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھائی اور متاثرین و مظلومین کے مہم چلائی۔ انہوں 1915ء ارمنی قتل عام کی علی الاعلان مذمت کی اور اپنی پوری زندگی میں وہ حقوق انسانی کے دفاع میں کھڑے رہے۔ لاس اینجلس ٹائمز نے ان کو “امریکا میں سب سے اچھا یہودی‘‘ کا خطاب دیا ہے۔ [13]

سنہ 1986ء میں ان کو نوبل امن انعام سے نوازا گیا، جہاں نارویجن نوبل کمیٹی ان کو “ انسانیت کا پیغامبر ‘‘ کہا۔ وہ نیو یارک حقوق انسانی تنظیم کے بانیاں میں سے ہیں اور تا دم حیات اس کے رکن رہے۔ [14][15]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

ان کی ولادت رومانیہ کے ماراموریش کاؤنٹی میں ہوئی۔ [16] ان کے والدین کا نام سارہ فیگ اور شلومو ویشل ہے۔ گھر پر ان کے اہل خانہ زیادہ تر یدیش زبان بولتے ہیں مگر جرمن زبان، مجارستانی زبان اور رومانیائی زبان بھی بول لیتے ہیں۔ [17][18] ان کو انسان دوستی کی تعلیم والد سے ملی جنہوں نے ان کو عبرانی زبان سیکھنے کی ترغیب دی اور ادب کا مطالعہ کرنے پر ابھارا۔ ان کی والدہ نے ان کو تورات کے مطالعہ پر ابھارا۔ ان کی والدہ ایک حسیدی یہودی کی بیٹی تھی۔ ویزل کہتے ہیں کہ ان کے والد نے وجوہات کی وکالت کی جب کہ والدہ نے ایمان کی طرف توجہ دلائی۔ [19]

مرگ انبوہ کے دوران یتیمی اور جیل[ترمیم]

بچینوالڈ کانسینٹریشن کیمپاپریل 16, 1945ء میں یہ تصویر کیمپ سے آزاد ہونے کے پانچ دن قبل لی گئی تھی۔ نیچے سے دوسری صف میں ویزل درمیان میں ہیں۔ بائیں طرف سے ساتویں، بنک پاسٹ کے بعد اگلے وہیں ہیں۔ ۔[20]

سنہ 1944ء میں جرمنی نے ہنگری پر قبضہ کر لیا اور یہیں سے اس ملک میں مرگ انبوہ کا آغاز ہو گیا۔ اس وقت ویزل کی عمر 15 سال تھی اور ان کو دیگر اہل قصبہ سے ساتھ اسی قصبہ کے کی ایکیہودی بستی میں ڈال دیا گیا، یہ وہی جگہ تھی جہاں وہ پیدا ہوئے تھے اور پلے بڑھے تھے۔ 1944ء میں ان کو آؤشوِٹس حراستی کیمپ میں بھیجا گیا جہاں ان کی والدہ اور چھوٹی بہن کا قتل ہو گیا۔ [21] کیمپ سے آزاد ہونے سے قبل ان کے والد بھی چل بسے۔ [21] اپنی ناول “نائٹ“ میں اپنی شرمندگی کے ایام کو یاد کرتے ہیں جب ان کے والد کو پیٹا جا رہا تھا اور وہ بے بس و ناچار تھے جو اپنے باپ کی مدد بھی نہیں کر سکا۔ [21][22]

جنگ کے بعد[ترمیم]

فرانس[ترمیم]

دوسری عالمی جنگ کے اختتام کے بعد ویزل کو آزاد کر دیا گیا اور وہ فرانس آگئے جہاں نے انہوں نے ایک بحالی مرلز کا افتتاح کی۔ بعد ازاں وہ 90 سے 100 راسخ الاعتقاد افراد کے ایک گروپ میں شامل ہو گئے جو کشروت پر عمل کرنے کے خواہاں تھے اور مذہب پر مکمل عمل کی ازادی چاہتے تھے۔ پھت ویزل پیرس گئے اور فرانسیسی زبان سیکھی اور مارٹن بوبر اور ژاں پال سارتر کے لکچر سنے۔ انہوں نے اپنے ایام فیودر دوستوئیفسکی، فرانز کافکا اور تھامس مین کی کتابیں پڑھتے ہوئے بسر کیے۔ [23] 19 سال کی عمر میں صحافی بن گئے اور عبرانی کی تعلیم بھی دینے لگے۔ انہوں نے اسرائیلی اور فرانسیسی اخبارات میں لکھنا شروع کر دیا۔ ۔[23] جنگ کے دس برسوں انہوں نے مرگ انبوہ کے بارے میں بات کرنا یا کچھ لکھنا بند کر دیا۔ 1952ء میں نوبل انعام برائے ادب پانے والے فرانسیوس ماؤریک ویزل کے دوست بن گئے ۔ وہ مسیحی تھے۔ انہوں نے ویزل کو بیت عیناہ کا لعزر سے تشبیہ دی ۔ [24][25] انہوں نے ہی ویزل کو اپنے ڈراونے تجربے کو قلم زد کرنے کی صلاح دی۔ [23] انہوں نے یدیش زبان میں 900 صفحات کی ایک کتاب (اور جب دنیا خاموش رہی) لکھی۔[26] اس کے بعد 1955ء میں فرانسیسی زبان میں (لا نیوٹ) لکھی جس کا انگریزی میں نائٹ کے نام سے ترجمہ ہوا۔ [27]

ریاستہائے متحدہ امریکا[ترمیم]

Wiesel in 1987.

1955ء میں ویزل نیو یارک چلے گئےجہاں ان کو متعدد ادبی اعزازات سے نوازا گیا اور ان کی کئی کتابوں کا ترجمہ ہوا۔ انہوں نے ماریئر سے شادی کی جس نے ان کی کتابوں کا ترجمہ کیا تھا۔ [28][28] امریکا میں انہوں نے 40 سے زیادہ تصنیف کیں ان میں زیادہ غیر افسانوی ادب تھا اور مرگ انبوہ کے واقعات پر مبنی تھیں۔ اسی وجہ نے کئی مؤرخوں نے ان کو مرگ انبوہ کے واقعات کو تازہ کردینے والا بتایا۔ [29]

سیاسی سرگرمیاں[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اجازت نامہ: CC0
  2. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w62b96wf — بنام: Elie Wiesel — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. ^ ا ب انٹرنیٹ بروڈوے ڈیٹا بیس پرسن آئی ڈی: https://www.ibdb.com/person.php?id=5346 — بنام: Elie Wiesel — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. ^ ا ب فائنڈ اے گریو میموریل شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/cgi-bin/fg.cgi?page=gr&GRid=166354255 — بنام: Elie Wiesel — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. ^ ا ب ISFDB author ID: http://www.isfdb.org/cgi-bin/ea.cgi?98597 — بنام: Elie Wiesel — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  6. http://www.haaretz.com/israel-news/1.575072
  7. اجازت نامہ: CC0
  8. http://www.pbs.org/eliewiesel/life/index.html — اخذ شدہ بتاریخ: 2 اپریل 2016 — ناشر: PBS — اقتباس: Wiesel thinks in Yiddish, writes in French, and, with his wife Marion and his son Elisha, lives his life in English
  9. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11929172k — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  10. Recording of Elie Wiesel saying his name at TeachingBooks.net
  11. National Library Service
  12. "Winfrey selects Wiesel's 'Night' for book club"۔ Associated Press۔ جنوری 16, 2006۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 مئی، 2011۔ 
  13. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ dss نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  14. "Elie Wiesl"۔ Human Rights Foundation۔ اخذ کردہ بتاریخ جولائی 3, 2016۔ 
  15. "Human Rights Foundation Lauds OAS Discussion on Venezuela"۔ Latin American Herald Tribune۔ اخذ کردہ بتاریخ جولائی 3, 2016۔ 
  16. Petri Liukkonen۔ "Elie Wiesel"۔ Books and Writers (kirjasto.sci.fi)۔ Finland: Kuusankoski Public Library۔ اصل سے جمع شدہ جنوری 7, 2010 کو۔ 
  17. "The Life and Work of Wiesel"۔ Public Broadcasting Service۔ 2002۔ اخذ کردہ بتاریخ اگست 15, 2010۔ 
  18. "Elie Wiesel Biography"۔ Academy of Achievement۔ اکتوبر 22, 2010۔ اصل سے جمع شدہ اکتوبر 5, 2010 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ اگست 15, 2010۔ 
  19. Fine 1982:4.
  20. "Elie Wiesel — Photograph"۔ United States Holocaust Memorial Museum۔ اصل سے جمع شدہ جولائی 19, 2013 کو۔ 
  21. ^ ا ب پ "Elie Wiesel, Holocaust Survivor And Nobel Laureate, Dead At 87"، Huffington Post، جولائی 2, 2016
  22. Rachel Donadio (جنوری 20, 2008)۔ "The Story of ‘Night'"۔ نیو یارک ٹائمز۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 مئی، 2011۔ 
  23. ^ ا ب پ Snodgrass, Mary Ellen. Beating the Odds: A Teen Guide to 75 Superstars Who Overcame Adversity، ABC CLIO (2008) pp. 154–156
  24. Fine, Ellen S. Legacy of Night: The Literary Universe of Elie Wiesel، State Univ. of New York Press (1982) p. 28
  25. Wiesel, Elie. Night، Hill and Wang (2006) p. ix
  26. Naomi Seidman (Fall 1996). "Elie Wiesel and the Scandal of Jewish Rage". Jewish Social Studies 3:1: 5. 
  27. "Elie Wiesel and the Holocaust"۔ Beneath The Cover۔ فروری 25, 2008۔ اصل سے جمع شدہ اپریل 30, 2008 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ اگست 29, 2012۔ 
  28. ^ ا ب نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Virtual نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  29. Wiesel:1999, 18.