چودہواں دلائی لاما

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(14ویں دلائی لاما سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
Tenzin Gyatso
چودہواں دلائی لاما
Dalailama1 20121014 4639.jpg
دور 17 نومبر 1950ء – تاحال
پیشرو Thubten Gyatso
وزرائے اعظم
تبتی བསྟན་འཛིན་རྒྱ་མཚོ་
ویلی bstan 'dzin rgya mtsho
تلفظ [tɛ̃ ́tsĩ càtsʰo]
تبتی آسان صوتی نقل حرفی Tendzin Gyatso
والد Choekyong Tsering the 9th
والدہ Diki Tsering
پیدائش 6 جولائی 1935ء (عمر سال)
Taktser, چنگھائی
دستخط چودہواں دلائی لاما کے دستخط

چودہواں دلائی لاما تنزن گیاتسو یا تنزن گستاؤ (6 جولائی 1935ء ۔ تا حال) موجودہ تبت کے سربراہ اور بدھ مت کے پیروکاروں کے موجودہ روحانی پیشوا ہیں۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

چودہواں دلائی لامہ کی پیدائش 6 جولائی 1935ء کو شمال مشرقی تبت کے ایک چھوٹے سے گاؤں تکستر امدو میں ایک کسان گھرانے میں ہوئی تھی۔ ان کا خاندانی نام لهامو تھونڈپ کے نام رکھا گیا، بدھ مت کے مطابق وہ 13ویں دلائی لامہ کا دوسرا جنم ہے۔ جب کوئی لاما فوت ہونے لگتا ہے تو وہ اپنی وفات سے قبل یہ ظاہر کر دیتا ہے کہ وہ اپنے آئندہ جنم میں کس گھرانے میں پیدا ہوگا۔ ان ہدایات کے پیش نظر اہل تبت بیان کر دہ خاندان کے نوزائدہ فرد کو دلائی لاما کی مسند اقتدار پر بٹھاتے ہیں۔ چنانچہ 1937ء میں دو سال کی عمر میں اس بچے لهامو تھونڈپ کی شناخت 13 ویں دلائی لامہ تھبٹین گياتسو کے اوتار کے طور پر کی گئی۔ 22 فروری 1940ء میں ننھے لھامو تھونڈپ کو لاہسہ لایا گیا جہاں اس کو دلائی لامہ کے مسند پر بٹھایا گیا۔

دلائی لامہ[ترمیم]

دلائی لامہ ایک منگولی عہدہ ہے جس کا مطلب ہوتا ہے علم کا سمندر اور دلائی لامہ کو رحمت و شفقت کے بدھا اولوكیتیشور کی خصوصیات رکھنے والے بدھا کے طور مانا جاتا ہے. بودھی ستوا ایسے صاحبِ علم لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے نروان کو ٹال دیا ہو اور انسانیت کی حفاظت کے لئے دوبارہ جنم لینے کا فیصلہ کیا ہو. ان کو احتراماً پرم پاون (پاکیزگی والا) بھی کہا جاتا ہے.

تعلیم و تربیت[ترمیم]

6سال کی عمر میں ان کی روحانی تعلیم و تربیت کا آغاز ہوا اور 1959ء کو 23 برس کی عمر میں انہوں نے اس تعلیم کا اعلیٰ تعلیمی امتحان پاس کیا۔ انہوں نے بدھ مت ازم میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کی ۔

سیاسی زندگی[ترمیم]

سال 1949ء میں تبت پر چین کے حملے کے بعد 1950ء میں چودہویں دلائی لامہ نے چین سے مکمل سیاسی خود مختاری کا مطالبہ کر دیا، 1954ء میں وہ ماؤزے تنگ ، ڈینگ جیوپنگ اور دیگر چینی قیادت سے بات چیت کرنے بیجنگ گئے، لیکن سال 1959ء میں لہاسا میں چینی فوج کی طرف سے تبتی قومی تحریک کو بے رحمی سے کچلے جانے کے بعد وہ جلاوطنی میں جانے پر مجبور ہو گئے. بعد ازاں انہوں نے شمالی ہندوستان کے شہر دھرم شالہ میں سیاسی پناہ حاصل کر لی جو اب مرکزی تبتی انتظامیہ کا ہیڈکوارٹر ہے. یہاں رہ کر انہوں نے چین سے سیاسی حقوق کی جد و جہد کا آغاز کر دیا اور اقوام متحدہ سے تبت مسئلے کو حل کرنے کی اپیل کی ہے. قوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی طرف سے اس سلسلے میں 1959ء، 1961ء اور 1965ء میں تین قرارداد منظور کی جاچکی ہیں. تبت کے انتظامی امور کے لیے انہوں نے ایک جمہوری ڈھانچہ تشکیل دیا اور تبت کے دستور میں اصلاحات کیں تبت کی مکمل آزادیوں کے لیے انہوں نے دنیا بھر کا دورہ کیا اور عالمی کی حمایت حاصل کرنے کی بھر پور کوشش کرتے رہے ہیں۔

اعزازات[ترمیم]

وہ اس عہدے پر اب تک سب سے لمبے عرصے رہنے والے پیشوا ہیں، وہ دنیا بھر میں تبتیوں کے وکالت کے سبب اور جدید سائنس سے محبت کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ وہ تبت کی آزادی نہیں چاہتے بلکہ چین میں موجود تبتی علاقوں کو مزید با اختیاری دلانا چاہتے ہیں۔ وہ ان امور کے ساتھ ساتھ سائنس کے مختلف موضوعات پر بھی گفتگو کرتے ہیں۔ 14 ویں دلائی لامہ نے احسان کے لیے بے شمار خدمات انجام دیں ہیں اور انہیں 100کے قریب بین الاقوامی ایوارڈ مل چکے ہیں، انھوں نے 1989ء میں نوبل امن انعام حاصل کیا۔ وہ 72 کتابوں کے منصف ہیں ان دنوں وہ آسٹریلیا میں مقام پزیر ہیں اور جلد وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

اقوال[ترمیم]

  • تمام بڑے مذاہب کی تعلیمات بنیادی طور پر ایک ہی پیغام دیتی ہیں- محبت، رحمت، اور معذرت، اہم بات یہ ہے کہ یہ ہماری روز مرہ زندگی کا حصہ ہونی چاہئیں۔
  • جب کبھی ممکن ہو مہربان بنے رہیے. اور یہ ہمیشہ ممکن ہے۔
  • خوشی پہلے سے موجود کوئی چیز نہیں ہے (جسے تلاش کیا جائے)، یہ آپ ہی کے اعمال سے آتی ہے۔
  • اگر آپ دوسروں کی مدد کر سکتے ہیں، تو ضرور کریں۔ اور اگر نہیں کر سکتے ہیں تو کم سے کم انہیں نقصان نہیں پہنچائیں۔
  • اگر آپ دوسروں کو خوش دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمدردی کا احساس رکھیں. اگر آپ خود خوش رہنا چاہتے ہیں تو بھی ہمدردی کا احساس رکھیں.
  • رواداری کے امتحان میں، آپ دشمن ہی آپ کا سب سے بہترین اور اچھا استاد ہوتا ہے.
  • یہ ضروری ہے کہ ہم اپنا نقطۂ نظر اور دل جتنا ممکن ہو اچھا کریں. اسی سے ہماری اور دوسرے لوگوں کی زندگی میں، جلد یا بدیر خوشیاں آئیں گی.
  • محبت اور ہمدردی ضروریات ہیں، عیش و آرام نہیں۔ کیونکہ محبت اور ہمدردی کے بغیر انسانیت زندہ نہیں رہ سکتی.
  • میرا مذہب بہت آسان ہے، میرا مذہب احسان کرنا ہے۔
  • پرانے دوست چھوٹتے ہیں، نئے دوست بنتے ہیں. اس طرح دنوں میں ایک پرانا دن جاتا ہے، ایک نیا دن آتا ہے۔ ضروری یہ ہے کہ ہم اسے قابل قدر بنائیں: ایک بامعنی دوست یا ایک بامعنی دن۔
  • كبھی کبھی لوگ کچھ کہہ کر اپنا ایک شاندار تاثر بنا دیتے ہیں، اور کبھی کبھی لوگ خاموش رہ کر ہی اپنا ایک متاثر کن تاثر بنا دیتے ہیں.
  • اپنی صلاحیتوں کو جان کر اور اس پریقین کر کے ہی ہم نے ایک بہتر دنیا کی تعمیر کر سکتے ہیں.
  • مندروں کی ضرورت نہیں ہے، نہ ہی پیچیدہ علوم کی. میرا دماغ اور میرا دل ہی میرے مندر ہیں؛ میرا فلسفہ احسان ہے.
  • ہم باہری دنیا میں کبھی امن نہیں پا سکتے ہیں، جب تک ہم اندر سے پرسکون نہ ہوں.
  • ہماری زندگی کا مقصد خوش رہنا ہے۔
  • جب آپ کچھ گنوا بیٹھتے ہے تو اس سے حاصل ہونے والے سبق کو نہ گوائیں۔
  • اگر آپ یہ سوچتے ہے آپ بہت چھوٹے ہے تو ایک مچھر کے ساتھ سوکر دیکھئے.
  • جب تک ہم اپنے آپ سے صلح نہیں کر لیتے تب تک ہم دنیا سے بھی صلح نہیں کر سکتے.
  • نیند غوروفکر کرنے کا بہترین طریقہ ہے
  • ایک چھوٹے سے تنازعہ سے ایک عظیم رشتے کو زخمی مت ہونے دینا.
  • مذہب اور مراقبہ کے بغیر رہا جاسکتا ہے، لیکن ہم انسانی پیار کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے.
  • اگر آپ کا کوئی خاص مکتبہ فکر یا مذہب ہے، تو اچھا ہے۔ لیکن آپ اس کے بغیر بھی جی سکتے ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]