چودہواں دلائی لاما

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
چودہواں دلائی لاما
Tenzin Gyatso - 14th Dalai Lama (2012).jpg 

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (تبتی میں: ལྷ་མོ་དོན་འགྲུབ་ خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیدائشی نام (P1477) ویکی ڈیٹا پر
پیدائش 6 جولا‎ئی 1935 (83 سال)[1][2][3][4][5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
رہائش دھرم شالہ (1960–)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Tibet.svg تبت
Flag of the People's Republic of China.svg چین (1 اکتوبر 1949–)
Flag of the Republic of China.svg جمہوریہ چین (6 جولا‎ئی 1935–)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مناصب
دلائی لاما (14 )   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
آغاز منصب
22 فروری 1940 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png تیرہواں دلائی لاما 
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ ملبورن
برٹش کولمبیا یونیورسٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ بھکشو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان انگریزی،  تبتی زبان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
کینیڈا کی اعزازی شہریت (2006)
نوبل امن انعام  (1989)[6][7]
رامن میگ سیسے انعام  (1959)
فلاڈلفیا لبرٹی میڈل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
Dalai Lama's Signature.svg 
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ (انگریزی)،  باضابطہ ویب سائٹ (روسی زبان)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

چودہواں دلائی لاما تنزن گیاتسو یا تنزن گستاؤ (6 جولائی 1935ء۔ تا حال) موجودہ تبت کے سربراہ اور بدھ مت کے پیروکاروں کے موجودہ روحانی پیشوا ہیں۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

چودہواں دلائی لامہ کی پیدائش 6 جولائی 1935ء کو شمال مشرقی تبت کے ایک چھوٹے سے گاؤں تکستر امدو میں ایک کسان گھرانے میں ہوئی تھی۔ ان کا خاندانی نام لهامو تھونڈپ کے نام رکھا گیا، بدھ مت کے مطابق وہ 13ویں دلائی لامہ کا دوسرا جنم ہے۔ جب کوئی لاما فوت ہونے لگتا ہے تو وہ اپنی وفات سے قبل یہ ظاہر کر دیتا ہے کہ وہ اپنے آئندہ جنم میں کس گھرانے میں پیدا ہوگا۔ ان ہدایات کے پیش نظر اہل تبت بیان کر دہ خاندان کے نوزائدہ فرد کو دلائی لاما کی مسند اقتدار پر بٹھاتے ہیں۔ چنانچہ 1937ء میں دو سال کی عمر میں اس بچے لهامو تھونڈپ کی شناخت 13 ویں دلائی لامہ تھبٹین گياتسو کے اوتار کے طور پر کی گئی۔ 22 فروری 1940ء میں ننھے لھامو تھونڈپ کو لاہسہ لایا گیا جہاں اس کو دلائی لامہ کے مسند پر بٹھایا گیا۔

دلائی لامہ[ترمیم]

دلائی لامہ ایک منگولی عہدہ ہے جس کا مطلب ہوتا ہے علم کا سمندر اور دلائی لامہ کو رحمت و شفقت کے بدھا اولوكیتیشور کی خصوصیات رکھنے والے بدھا کے طور مانا جاتا ہے۔ بودھی ستوا ایسے صاحبِ علم لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے نروان کو ٹال دیا ہو اور انسانیت کی حفاظت کے لیے دوبارہ جنم لینے کا فیصلہ کیا ہو۔ ان کو احتراماً پرم پاون (پاکیزگی والا) بھی کہا جاتا ہے۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

6سال کی عمر میں ان کی روحانی تعلیم و تربیت کا آغاز ہوا اور 1959ء کو 23 برس کی عمر میں انہوں نے اس تعلیم کا اعلیٰ تعلیمی امتحان پاس کیا۔ انہوں نے بدھ مت ازم میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کی ۔

سیاسی زندگی[ترمیم]

سال 1949ء میں تبت پر چین کے حملے کے بعد 1950ء میں چودہویں دلائی لامہ نے چین سے مکمل سیاسی خود مختاری کا مطالبہ کر دیا، 1954ء میں وہ ماؤزے تنگ، ڈینگ جیوپنگ اور دیگر چینی قیادت سے بات چیت کرنے بیجنگ گئے، لیکن سال 1959ء میں لہاسا میں چینی فوج کی طرف سے تبتی قومی تحریک کو بے رحمی سے کچلے جانے کے بعد وہ جلاوطنی میں جانے پر مجبور ہو گئے۔ بعد ازاں انہوں نے شمالی ہندوستان کے شہر دھرم شالہ میں سیاسی پناہ حاصل کر لی جو اب مرکزی تبتی انتظامیہ کا ہیڈکوارٹر ہے۔ یہاں رہ کر انہوں نے چین سے سیاسی حقوق کی جد و جہد کا آغاز کر دیا اور اقوام متحدہ سے تبت مسئلے کو حل کرنے کی اپیل کی ہے۔ قوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی طرف سے اس سلسلے میں 1959ء، 1961ء اور 1965ء میں تین قرارداد منظور کی جاچکی ہیں۔ تبت کے انتظامی امور کے لیے انہوں نے ایک جمہوری ڈھانچہ تشکیل دیا اور تبت کے دستور میں اصلاحات کیں تبت کی مکمل آزادیوں کے لیے انہوں نے دنیا بھر کا دورہ کیا اور عالمی کی حمایت حاصل کرنے کی بھر پور کوشش کرتے رہے ہیں۔

اعزازات[ترمیم]

وہ اس عہدے پر اب تک سب سے لمبے عرصے رہنے والے پیشوا ہیں، وہ دنیا بھر میں تبتیوں کے وکالت کے سبب اور جدید سائنس سے محبت کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ وہ تبت کی آزادی نہیں چاہتے بلکہ چین میں موجود تبتی علاقوں کو مزید با اختیاری دلانا چاہتے ہیں۔ وہ ان امور کے ساتھ ساتھ سائنس کے مختلف موضوعات پر بھی گفتگو کرتے ہیں۔ 14 ویں دلائی لامہ نے احسان کے لیے بے شمار خدمات انجام دیں ہیں اور انہیں 100کے قریب بین الاقوامی ایوارڈ مل چکے ہیں، انھوں نے 1989ء میں نوبل امن انعام حاصل کیا۔ وہ 72 کتابوں کے منصف ہیں ان دنوں وہ آسٹریلیا میں مقام پزیر ہیں اور جلد وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اجازت نامہ: CC0
  2. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Dalai-Lama-XIV — بنام: Dalai Lama XIV — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  3. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w6ww8160 — بنام: 14th Dalai Lama — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. بنام: Dalai Lama — فلم پورٹل آئی ڈی: https://www.filmportal.de/df3e8acae2ae43459a1dc579c1373d96 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. http://data.nobelprize.org/page/laureate/551 — اخذ شدہ بتاریخ: 17 اکتوبر 2018
  6. http://www.nobelprize.org/nobel_prizes/peace/laureates/1989/
  7. https://www.nobelprize.org/nobel_prizes/about/amounts/