یزیدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
یزیدی
Yazidi
Êzidîtî
Yezidis of Jabal.jpg
یزیدی کوہ سنجار، عراق/شامی سرحد پر، 1920 کی دہائی
کل آبادی
700,000[1][2][3]
اہم آبادی والے علاقے
 عراق 500,000[4]
 جرمنی 60,000[1][5]
 سوریہ 50,000[6][7]
 روس 40,586[8]
 آرمینیا 35,272[9]
 جارجیا 20,843 (18,000 تبلیسی میں)[10]
 سویڈن 4,000[5]
مذاہب
یزیدیت
کتابیں
یزیدی کتاب مکاشفہ (Kitêba Cilwe)
یزیدی کتاب سیاہ (Mishefa Reş)
زبانیں
عربی اور کردی (لاطینی طرز تحریر )

یزیدی (Yazidi) (ایزدیان، Եզդիներ, Езиды) ایک عربی اور کردی بولنے والا درون ازدواجی (Endogamous) نسلی مذہبی طبقہ ہے، جو زرتشتیت اور ابتدائی بین النہرین کے مذاہب سے تعلق رکھنے والے ایک قدیم امتزاج ضدین (Syncretic) مذہب پر عمل پہیرا ہے۔[11] اس خطے کے دیگر اقلیتی برادریوں، مثلاً علوی اور دروز کی طرح کوئی شخص یزیدی برادری میں باہر سے شامل نہیں ہو سکتا۔ یہ بنیادی طور پر شمالی عراق کے محافظہ نینوی میں آباد ہیں جو قدیم اشوریہ کا حصہ ہے۔ آرمینیا، جارجیا اور شام میں آباد یزیدی برادری میں 1990ء کی دہائی کے بعد خاصی کمی ہوئی ہے، کیونکہ یہ یورپ خاص کر جرمنی میں منتقل ہو گئے ہیں۔[12]

عراقی شہر موصل کے مغرب میں واقع یزیدی برادری کے مرکزی علاقے کوہ سنجار میں اس یزیدیوِں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ ان کے بارے میں کچھ غلط فہمیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ داعش کے شدت پسندوں کے خیال میں اس برادری کا تعلق بنو اُمیہ سے ہے، جب دوسرے اسے انتہائی غیر مقبول حکمران یزید بن معاویہ سے جوڑتے ہیں۔ جدید تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس فرقے کا یزید بن معاویہ یا ایران کے شہر یزد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تاہم جدید فارسی لفظ ایزد سے ہے جس کا مطلب خدا۔ ایزدیز نام کا عام مطلب خدا کے عبادت کرنے والے ہیں اور یزیدی بھی اپنے فرقے کا نام اسی طرح سے بیان کرتے ہیں۔

عقاہد و نظریات[ترمیم]

اس مذہب کے لوگ خدا کو یزدان کہتے ہیں اور اس کا اتنا اعلیٰ مقام مانا جاتا ہے کہ اس کی براہ راست عبادت نہیں کی جا سکتی۔ یزدان کو متحرک طاقت کا مالک سمجھا جاتا ہے اور وہ زمین کا نگہبان نہیں بلکہ خالق سمجھا جاتا ہے۔ اور اس سے سات عظیم روحانی طاقتیں نکلی ہیں جن میں ایک مور فرشتہ ملک طاؤس ہے اور جو خداوندی احکامات پر عمل درآمد کراتا ہے۔ ملک طاؤس کو خدا کا ہمزاد تصور کیا جاتا ہے۔ یزیدی ملک طاؤس کی دن میں پانچ بار عبادت کرتے ہیں۔ یزیدیوں کے نزدیک ملک طاؤس کا دوسرا نام شیطان ہے، جو عربی میں ابلیس کو کہتے ہیں اور اسی وجہ سے یزیدی فرقے کو شیطان کی عبادت کرنے والا کہا جاتا ہے۔

یزیدی قرآن اور بائبل کا احترام کرتے ہیں لیکن ان کی اپنی روایات زبانی ہی ہیں۔ رازداری کی وجہ سے یزیدی فرقے کے بارے میں غلط فہمیاں بھی پائی جاتی ہیں کہ اس فرقے کا تعلق پارسی مذہب سے بھی بیان کیا جاتا ہے، جس میں یہ روشنی اور تاریکی کے علاوہ سورج تک کی پوجا کرتے ہیں۔ یزیدی عقائد کے مطابق روح ایک جسم سے دوسرے میں منتقل ہوتی ہے اور بار بار پیدائش کا عمل روح کو خالص بناتا ہے۔ موجودہ تحقیق کے مطابق اگرچہ ان کے عبادت خانے سورج کی تصاویر سے سجائے جاتے ہیں اور ان کی قبروں کا رخ مشرق کی جانب سے طلوع آفتاب کی طرف ہوتا ہے، تاہم ان کے عقیدے میں اسلام اور مسیحیت کے کئی جز شامل ہیں۔[13]

رسومات[ترمیم]

شادی کی تقریب میں یزیدی راہب روٹی دو حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصہ دولہا اور ایک حصہ دلہن کو دیتا ہے۔ شادی کی تقریب میں دلہن سرخ لباس پہنتی ہے۔ دسمبر میں یزیدی راہب سے سرخ شراب پینے کے بعد تین دن روزہ رکھتے ہیں۔ 15 سے 20 دسمبر کے دوران یہ موصل کے شمال میں واقع وادی لالش میں شیخ عدی بن مسافر کے مزار پر جاتے ہیں اور وہاں دریا میں مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں جس میں جانوروں کی قربانی بھی شامل ہے۔ کسی بھی یزیدی کی بدترین سزا یہی ہو سکتی ہے کہ اسے برادری سے خارج کیا جائے اور اس کا مطلب ہوتا ہے اس کی روح کا خالص ہونے کا عمل رک جاتا ہے۔ اسی وجہ سے یزیدیوں کا کسی دوسرا مذہب اختیار کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

تصاویر[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 Allison، Christine (2004-02-20)۔ "Yazidis i: General"۔ Encyclopædia Iranica۔ اخذ کردہ بتاریخ August 20, 2010۔ "There are probably some 200,000-300,000 Yazidis worldwide." 
  2. "Yezidi"۔ Adherents.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 2008-03-31۔  Cites estimates between 100,000 and 700,000.
  3. "Deadly Iraq sect attacks kill 200"۔ بی بی سی نیوز۔ 2007-08-15۔ اخذ کردہ بتاریخ 2008-03-31۔ 
  4. Iraq Yezidis: A Religious and Ethnic Minority Group Faces Repression and Assimilation By Christian Peacemaker Teams in Iraq (25 September 2005)
  5. ^ 5.0 5.1 Megalommatis، Muhammad Shamsaddin (February 28, 2010)۔ "Dispersion of the Yazidi Nation in Syria, Turkey, Armenia, Georgia and Europe: Call for UN Action"۔ American Chronicle۔ اخذ کردہ بتاریخ August 20, 2010۔ 
  6. "Yazidi in Syria Between acceptance and marginalization"۔ KurdWatch۔ kurdwatch.org۔ صفحہ 4۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 April 2014۔ 
  7. Andrea Glioti (18 October 2013)۔ "Yazidis Benefit From Kurdish Gains in Northeast Syria"۔ al-monitor۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 April 2014۔ 
  8. "Всероссийская перепись населения 2010 г. Национальный состав населения Российской Федерации"۔ Demoscope۔ Demoscope۔ اخذ کردہ بتاریخ 26 October 2013۔ 
  9. 2011 Armenian census
  10. http://upload.wikimedia.org/wikipedia/commons/9/92/Georgia_Census_2002-_Ethnic_group_by_major_administrative-territorial_units.pdf
  11. Palmer، Michael D.؛ Burgess، Stanley M. (2012-03-12)۔ The Wiley-Blackwell Companion to Religion and Social Justice۔ John Wiley & Sons۔ صفحہ 405۔ آئی ایس بی این 9781444355369۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 February 2014۔ 
  12. Reeves، Bob (2007-02-28)۔ "Lincoln Iraqis call for protection from terrorism"۔ Lincoln Journal Star۔ اخذ کردہ بتاریخ 2007-02-28۔ 
  13. http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2014/08/140808_iraq_who_are_yazidi_zz.shtml