یزیدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
یزیدی
ایزدی
Yezidis of Jabal.jpg
یزیدی کوہ سنجار، عراق/شامی سرحد پر، 1920 کی دہائی
کل آبادی
700,000[1][2][3]
اہم آبادی والے علاقے
Flag of Iraq.svg عراق 650,000[4]
Flag of Germany.svg جرمنی 100,000–120,000[5][6][7]
Flag of Syria.svg سوریہ 70,000[8][9]
Flag of Russia.svg روس 40,586 (2010 مردم شماری)[10]
Flag of Armenia.svg آرمینیا 35,272 (2011 مردم شماری)[11]
Flag of Georgia.svg جارجیا 12,174 (2014 مردم شماری)[12]
 سویڈن 7,000[7]
 مجارستان 118 (2011 مردم شماری)[13]
 بیلاروس 45 (2009 مردم شماری)[14]
Flag of Artsakh.svg جمہوریہ نگورنو کاراباخ 16 (2015 مردم شماری)[15]
 آسٹریلیا 15 (2016 مردم شماری)[12]
 لٹویا 4 (2018 باضابطہ شماریات)[16]
 جنوبی اوسیشیا 1 (2015 مردم شماری)[17]
مذاہب
یزیدیت
کتابیں
کتاب جلوہ
مصحف رش
زبانیں
عربی اور کردی (لاطینی طرز تحریر )

یزیدی یا ایزدی بین النہرین کا کرد مذہبی اقلیتی گروہ اور شمالی بین النہرین کے مقامی لوگ ہیں، یہ لوگ قبیلے سے باہر شادی کے سخت خلاف ہیں۔[18] ان کا مذہب یزدیت ایک توحیدی اور دوسرے توحیدی مذاہب زرتشتیت، اسلام، مسیحیت اور یہودیت کا ملاپ ہے۔[19][20][21][22] اگر کوئی یزیدی کسی غیر یزدی سے شادی کر لے تو اس کو دائرہ مذہب سے خارج سمجھا جاتا ہے اور اس شخص کو خود کو یزیدی کہلوانے کی اجازت بھی نہیں ہے۔[23][24] یہ بنیادی طور پر شمالی عراق کے محافظہ نینوی میں آباد ہیں جو قدیم اشوریہ کا حصہ ہے۔ آرمینیا، جارجیا اور شام میں آباد یزیدی برادری میں 1990ء کی دہائی کے بعد خاصی کمی ہوئی ہے، کیونکہ یہ یورپ خاص کر جرمنی میں منتقل ہو گئے ہیں۔[25]

عراقی شہر موصل کے مغرب میں واقع یزیدی برادری کے مرکزی علاقے کوہ سنجار میں اس یزیدیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ ان کے بارے میں کچھ غلط فہمیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ داعش کے شدت پسندوں کے خیال میں اس برادری کا تعلق بنو اُمیہ سے ہے، جب دوسرے اسے انتہائی غیر مقبول حکمران یزید بن معاویہ سے جوڑتے ہیں۔ جدید تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس فرقے کا یزید بن معاویہ یا ایران کے شہر یزد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تاہم جدید فارسی لفظ ایزد سے ہے جس کا مطلب خدا۔ ایزدیز نام کا عام مطلب خدا کے عبادت کرنے والے ہیں اور یزیدی بھی اپنے فرقے کا نام اسی طرح سے بیان کرتے ہیں۔

عقائد و نظریات[ترمیم]

اس مذہب کے لوگ خدا کو یزدان کہتے ہیں اور اس کا اتنا اعلیٰ مقام مانا جاتا ہے کہ اس کی براہ راست عبادت نہیں کی جا سکتی۔ یزدان کو متحرک طاقت کا مالک سمجھا جاتا ہے اور وہ زمین کا نگہبان نہیں بلکہ خالق سمجھا جاتا ہے۔ اور اس سے سات عظیم روحانی طاقتیں نکلی ہیں جن میں ایک مور فرشتہ ملک طاؤس ہے اور جو خداوندی احکامات پر عمل درآمد کراتا ہے۔ ملک طاؤس کو خدا کا ہمزاد تصور کیا جاتا ہے۔ یزیدی ملک طاؤس کی دن میں پانچ بار عبادت کرتے ہیں۔ یزیدیوں کے نزدیک ملک طاؤس کا دوسرا نام شیطان ہے، جو عربی میں ابلیس کو کہتے ہیں اور اسی وجہ سے یزیدی فرقے کو شیطان کی عبادت کرنے والا کہا جاتا ہے۔

یزیدی قرآن اور بائبل کا احترام کرتے ہیں لیکن ان کی اپنی روایات زبانی ہی ہیں۔ رازداری کی وجہ سے یزیدی فرقے کے بارے میں غلط فہمیاں بھی پائی جاتی ہیں کہ اس فرقے کا تعلق پارسی مذہب سے بھی بیان کیا جاتا ہے، جس میں یہ روشنی اور تاریکی کے علاوہ سورج تک کی پوجا کرتے ہیں۔ یزیدی عقائد کے مطابق روح ایک جسم سے دوسرے میں منتقل ہوتی ہے اور بار بار پیدائش کا عمل روح کو خالص بناتا ہے۔ موجودہ تحقیق کے مطابق اگرچہ ان کے عبادت خانے سورج کی تصاویر سے سجائے جاتے ہیں اور ان کی قبروں کا رخ مشرق کی جانب سے طلوع آفتاب کی طرف ہوتا ہے، تاہم ان کے عقیدے میں اسلام اور مسیحیت کے کئی جز شامل ہیں۔[26]

رسومات[ترمیم]

شادی کی تقریب میں یزیدی راہب روٹی دو حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصہ دولہا اور ایک حصہ دلہن کو دیتا ہے۔ شادی کی تقریب میں دلہن سرخ لباس پہنتی ہے۔ دسمبر میں یزیدی راہب سے سرخ شراب پینے کے بعد تین دن روزہ رکھتے ہیں۔ 15 سے 20 دسمبر کے دوران یہ موصل کے شمال میں واقع وادی لالش میں شیخ عدی بن مسافر کے مزار پر جاتے ہیں اور وہاں دریا میں مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں جس میں جانوروں کی قربانی بھی شامل ہے۔ کسی بھی یزیدی کی بدترین سزا یہی ہو سکتی ہے کہ اسے برادری سے خارج کیا جائے اور اس کا مطلب ہوتا ہے اس کی روح کا خالص ہونے کا عمل رک جاتا ہے۔ اسی وجہ سے یزیدیوں کا کسی دوسرا مذہب اختیار کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

تصاویر[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Christine Allison (2004-02-20)۔ "Yazidis i: General"۔ انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا۔ اخذ کردہ بتاریخ اگست 20, 2010۔ "There are probably some 200,000-300,000 Yazidis worldwide." 
  2. "Yezidi"۔ Adherents.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 2008-03-31۔  Cites estimates between 100,000 and 700,000.
  3. "Deadly Iraq sect attacks kill 200"۔ بی بی سی نیوز۔ 2007-08-15۔ اخذ کردہ بتاریخ 2008-03-31۔ 
  4. Iraq Yezidis: A Religious and Ethnic Minority Group Faces Repression and Assimilation وثق شدہ بتاریخ 9 جنوری 2006 در وے بیک مشین، aina.org, 25 ستمبر 2005.
  5. Christian Jakob۔ "Jesiden in Deutschland: Das Trauma der Vorfahren"۔ die Tageszeitung (de زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 10 ستمبر 2014۔ 
  6. Kemal Hür۔ "Die Religion der Yeziden" (de زبان میں)۔ Deutschlandradio Kultur۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 اگست 2014۔ 
  7. ^ ا ب Muhammad Shamsaddin Megalommatis (28 فروری 2010)۔ "Dispersion of the Yazidi Nation in Syria, Turkey, Armenia, Georgia and Europe: Call for UN Action"۔ American Chronicle۔ اصل سے جمع شدہ 6 مارچ 2010 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 اگست 2010۔ 
  8. "Yazidi in Syria Between acceptance and marginalization"۔ KurdWatch۔ kurdwatch.org۔ صفحہ 4۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 اپریل 2014۔ 
  9. "Yazidis Benefit From Kurdish Gains in Northeast Syria"۔ al-monitor۔ 18 اکتوبر 2013۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 اپریل 2014۔ 
  10. "Приложение 2. Hациональный состав населения по субъектам Российской Федерации"۔ Statistics of Russia (Russian زبان میں)۔ Statistics of Russia۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 اگست 2018۔ 
  11. "2011 Armenian census" (PDF)۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-08-18۔ 
  12. ^ ا ب "Population by national and/or ethnic group, sex and urban/rural residence"۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 اگست 2018۔ 
  13. "Detailed tables – National regional data"۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 اگست 2018۔ 
  14. "u:Национальный статистический комитет Республики Беларусь"۔ Statistics of Belarus۔ صفحہ 5۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 اگست 2018۔ 
  15. "Таблица 5.2-1 Население (городское، сельское) по национальности، полу" (Russian زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 اگست 2018۔ 
  16. "Latvijas iedzīvotāju sadalījums pēc nacionālā sastāva un valstiskās piederības (Datums=01.01.2018)" (Latvian زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 11 فروری 2018۔ 
  17. "4.5. Национальности или их самоназвания по самоопределению населения По республике южная осетия" (Russian زبان میں)۔ صفحہ 128۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 اگست 2018۔ 
  18. Fred Attewill (15 اگست 2007)۔ "Background: the Yezidi"۔ دی گارڈین۔ 
  19. Frank Eckardt؛ John Eade (2011-01-01)۔ The Ethnically Diverse City (en زبان میں)۔ BWV Verlag۔ صفحہ 73۔ آئی ایس بی این 978-3-8305-1641-5۔ 
  20. "Yezidism in Europe"۔ اخذ کردہ بتاریخ 2015-12-25۔ 
  21. Michael D. Palmer؛ Stanley M. Burgess (2012-03-12)۔ The Wiley-Blackwell Companion to Religion and Social Justice۔ John Wiley & Sons۔ صفحہ 405۔ آئی ایس بی این 978-1-4443-5536-9۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 فروری 2014۔ 
  22. Diana Darke؛ Robert Leutheuser (8 اگست 2014)۔ "Who, What, Why: Who are the Yazidis?"۔ Magazine Monitor, BBC News۔ 
  23. "Marriage and family – Yezidis"۔ www.everyculture.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 2016-02-07۔ 
  24. Mirren Gidda۔ "Everything You Need to Know About the Yazidis"۔ TIME.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 2016-02-07۔ 
  25. Bob Reeves (2007-02-28)۔ "Lincoln Iraqis call for protection from terrorism"۔ Lincoln Journal Star۔ اخذ کردہ بتاریخ 2007-02-28۔ 
  26. http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2014/08/140808_iraq_who_are_yazidi_zz.shtml