مذہب اور ہم جنس پرستی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سان فرانسسکو میں ہم جنس پرستی کے خلاف مظاہرہ

مذہب اور ہم جنسیت کے درمیان تعلق وقت اور مقام، مذاہب اور ان کے فرقوں اور ہم جنس پرستی اور دونوں جنسوں کے ساتھ رغبت کے حوالے سے بدلتا رہا ہے۔ موجودہ دور میں دنیا کے بڑے مذاہب کا نقطہ نظر اس ضمن میں باہم خاصا مختلف ہے اور یہ بھی کہ مختلف جنسوں کی طرف رغبت رکھنے والوں کو کس طرح دیکھا جاتا ہے۔

ان مذاہب میں ہم جنسیت کے تئیں عموماً منفی رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ بعض مذاہب میں خاموشی سے اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے تو کہیں ہم جنسیت کو واضح طور پر روکا جاتا ہے جبکہ بعض ان کے سماجی مقاطعہ کی ترغیب دیتے ہیں تو کہیں اس کی سزا موت ہے۔ مذہبی بنیاد پرستی براہ راست ہم جنس مخالف رویے سے منسلک ہے۔ مذاہب عموماً ہم جنس پرست رویوں کی مخالفت کرتے ہیں اور اکثر بنیاد پرستی پر تشدد رویہ اختیار کرنے کا سبب بھی بنتی ہے۔ ہم جنس مخالف رویہ محض مذہب کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ مختلف مذاہب کے پیروکار ملکی یا قومی سطح پر اجتماعی رویے کی وجہ سے بھی اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ بہت سوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ جنسِ موافق کی طرف میلان بری بات نہیں مگر ہم جنسی فعل گناہ ہے۔ بہت سی ایسی تنظیمیں بھی موجود ہیں جن کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ گفتگو کے ذریعے ہم جنس رحجان کو ختم کر سکتے ہیں۔

تاہم بہت سے مذاہب کے کچھ ماننے والے دونوں جنسوں کی طرف رحجان کے حوالے سے مثبت سوچ رکھتے ہیں اور بعض ہم جنس شادیوں کو بھی قبول کرتے ہیں اور ایل جی بی ٹی حقوق کا پرچار کرتے ہیں۔ ایسے افراد کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور ترقی یافتہ ممالک کی بہت بڑی تعداد اس کی حامی ہے۔

تاریخی اعتبار سے کچھ مذاہب اور ثقافتوں میں ہم جنس پرستی کو قبول اور کسی حد تک سراہا گیا تھا۔ ایسی دیومالائی روایتیں ہمیں دنیا بھر میں ملتی ہیں۔ مثال کے طور پر ہندو مت میں ہم جنسیت گناہ نہیں۔ 2009 میں ہندو کونسل یو کے نے بیان جاری کیا: "ہندو مت ہم جنسیت کو رد نہیں کرتا"۔ سکھ شادیوں کی تقریبات جنس سے منسلک نہیں اس لیے سکھ مت میں ایک ہی جنس کے افراد باہم شادی کر سکتے ہیں۔ بہت سارے مذہبی افراد اپنے خیالات کو ایک طرف رکھ کر مذہبی متون اور روایات کی مدد سے اس بارے میں رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ تاہم ایسی روایات یا مذہبی متون کے ترجموں یا ان کے اختیار کے بارے میں مسلسل بحث ہوتی رہتی ہے۔

مخصوص مذہبی گروہوں کے نظریات[ترمیم]

ادیانِ ابراہیمی[ترمیم]

ادیانِ ابراہیمی میں روایتی طور پر سدومی کی ممانعت ہے اور اس کو گناہ مانا جاتا ہے۔ تاہم آج ان مذاہب کے کچھ فرقے ہم جنس رویوں اور افراد کو قبول کر رہے ہیں۔ بعض مذہبی ادارے ہم جنس پرست علما اور دیگر مذہبی عہدے داروں کی تقرری بھی کر رہے ہیں۔

یہودیت[ترمیم]

یہودیت میں جنسیت سے متعلق معلومات کا ماخذ توریت ہے۔ اس میں درج ہے: ‘کوئی مرد دوسرے مرد کے ساتھ اس طرح ہم بستری نہ کرے جیسے وہ عورت کے ساتھ کرتا ہے۔ یہ ممنوع ہے‘۔ (کتابِ احبار 18:22)۔ (اس جیسے دوسرے احکامات میں جان بوجھ کر ہم جنس پرستی کی سزا موت ہے، مگر ربیوں کے نزدیک ان کو موت کی سزا دینے کا اختیار باقی نہیں رہا۔)

راسخ العقیدہ یہودیت میں ہم جنسی افعال کو گناہ سمجھا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ توریت میں محض غیر فطری جنسی فعل یعنی لواطت کی ممانعت ہے جبکہ ہم جنس پرست میلان یا دیگر ہم جنسی افعال کو گناہ نہیں کہا گیا۔ بنیاد پرست یہودی علما 1990 کی دہائی سے بہت بڑی تعداد میں موجود قانونی دلائل والے مسودات کے مطالعے میں مشغول ہیں۔ ان کا باضابطہ ماننا ہے کہ ہم جنس پرست یہودی سیناگاگ میں آ سکتے ہیں اور کسی قسم کے امتیازی قوانین اور معاشرے کے رویے کے خلاف احتجاج کر سکتے ہیں مگر عین اسی وقت لواطت کی ممانعت برقرار رہے گی۔

شمالی امریکا کی اصلاحی یہودیت وغیرہ اور برطانیہ میں ہم جنسیت کو عام قبولیت ملچکی ہے۔ ترقی پسند یہودی حکام اب خود کو ہم جنس مخالف قوانین کا پابند نہیں مانتے یا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جنسیت کے بارے نئے علم کے بعد اب ان احکام پر عمل لازم نہیں رہا۔ بعض حکام کا یہ ماننا ہے کہ توریت کی ممانعت دراصل روایتی یا مذہبی طور پر کیے جانے والے ہم جنس افعال پر لاگو ہوتی ہے جیسا کہ مصر، کنعانی یا معبدوں میں کی جاتی تھی۔

عیسائیت[ترمیم]

سان فرانسسکو میں ہم جنس پرستی کے خلاف مطاہرہ

عیسائی فرقوں میں ہم جنسیت کو مختلف انداز سے دیکھا جاتا ہے جن میں قطعاً ممانعت سے لے کر مکمل قبولیت تک سبھی شامل ہیں۔ زیادہ تر عیسائی فرقے ہم جنس میلانات رکھنے والوں کو قبول کیا جاتا ہے مگر ہم جنس افعال کی ترویج گناہ سمجھی جاتی ہے۔ ان میں رومن کیتھولک، ایسٹرن آرتھوڈکس چرچ وغیرہ شامل ہیں۔

کیتھولک چرچ[ترمیم]

کیتھولک چرچ کی تعلیمات یہ ہیں کہ ہم جنس میلان رکھنے والے افراد کو جنسی افعال سے گریز کرنا چاہیے جیسا کہ شادی سے قبل جنسی افعال کی ممانعت کی جاتی ہے۔ کیتھولک کلیسا ہم جنسیت کو نہیں مانتا کہ ان کی تعلیمات کے مطابق مرد اور عورت کے جنسی اعضا ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں اور اس کا مقصد نئی زندگی کو جنم دینا ہے جو ہم جنسیت میں ممکن نہیں۔ مختصراً یہ کہ ہم جنس افراد کو ساری زندگی جنس سے پرہیز کرنا چاہیے۔

کیتھولک چرچ کی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم جنس پرست افراد کو جنسی افعال سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ یہ افعال ان کے لیے نہ صرف گناہ کا موجب ہیں بلکہ ان کے جسم اور ذہن کے لیے بھی نقصان بنتے ہیں۔

مورمن[ترمیم]

چرچ آف جیسس کرائسٹ آف لیٹر ڈے سینٹس کے مطابق جنسی خواہشات صرف شادی کے ذریعے پوری کی جا سکتی ہیں اور ہر غیر شادی شدہ فرد جنسی افعال سے گریز کرے اور محض جنسِ مخالف سے شادی کے بعد ہی اپنے شریکِ حیات سے ہی جنسی تسکین حاصل کرے۔ اس کے علاوہ یہ بھی مانا جاتا ہے کہ ہم جنس میلان ہونا کوئی بری بات نہیں مگر ہم جنس افعال گناہ ہیں۔

اسلام[ترمیم]

ہم جنس پرستی غیر قانونی: الگا کے مطابق سات ممالک اب بھی ہم جنس پرست رویے پر سزائے موت دے رہے ہیں: سعودی عرب، یمن، ایران، افغانستان، موریتانیہ، سوڈان اور شمالی نائیجیریا۔[1]

‘کیا تم خالق کی طرف سے بنائی گئی خواتین کو چھوڑ کر مردوں سے اختلاط کرتے ہو؟ تو ہی حد سے بڑھنے والے ہو۔‘

تمام بڑے اسلامی فقہوں کے مطابق ہم جنس پرستی ممنوع ہے۔ اسلام ایسے تمام رحجانات کو غیر فطری سجھتا ہے اور اسے جنس کے فطری تقاضوں اور مقاصد کی خلاف ورزی گردانتا ہے۔

اسلام میں ہم جنس پرستی کا زیادہ تر زور مردوں کے مابین جنسی تعلق پر ہے مگر خواتین کے ہم جنس پرست رویے کے بارے بھی چند احادیث ملتی ہیں۔ فقہا کا اتفاق ہے کہ خواتین کے مابین جنسی افعال پر حد کا اطلاق نہیں ہوتا کہ یہ زنا نہیں، مگر تعزیر کی سزا ہونی چاہیے کہ یہ گناہ ہے۔ تاریخی اعتبار سے اس کی بہت کم مثالیں ملتی ہیں۔ الطبری نے ایک حوالہ ایسا دیا ہے جس میں خلیفہ وقت نے دو باندیوں کو باہمی جنسی تعلق پر موت کی سزا دی تھی۔

بہائیت[ترمیم]

بہائی قوانین کے مطابق جنسی تعلقات محض مرد اور عورت کے درمیان شادی کے بعد قائم ہو سکتے ہیں۔ پیروکاروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ شادی سے ہٹ کر جنسی تعلقات نہ رکھیں۔ تاہم ان کے قوانین محض بہاؤاللہ کے پیروکاروں پر لاگو ہوتے ہیں۔ بہائی قوانین کے مطابق انسان کو سیدھی راہ پر چلنا چاہیے مگر اس میں انسان کی فطرت اور اس کی کمزوریوں کے حوالے سے برداشت کی بات بھی کی گئی ہے۔ اس حوالے سے بہائی تعلیمات ہم جنس پرستی کو قبول نہیں کرتیں۔

ہندوستانی مذاہب[ترمیم]

ہندوستان میں جنم لینے والے مذاہب بشمول ہندو مت، بدھ مت، جین مت اور سکھ مت کی تعلیمات ادیانِ ابراہیم کی نسبت کم واضح ہیں۔ 2005 میں سکھ مت کے حکام نے ہم جنس شادیوں اور ہم جنس پرستی کی ممانعت کی۔ تاہم سکھ مت کے بہت سارے لوگ ہم جنس شادیوں کی مخالفت نہیں کرتے۔ ہندو مت بہت متنوع ہے اور کوئی مخصوص رہنما نہیں۔ تاہم 2004 کے سروے میں سوامیوں کی بڑی اکثریت نے ہم جنس تعلقات کی ممانعت کی جبکہ اقلیت نے حمایت۔ قدیم وید مخطوطات میں تیسری جنس کا تذکرہ بار بار آیا ہے جسے ہیجڑہ کہا گیا ہے جو نہ مرد ہے اور نہ عورت۔ بعض لوگ اسےموجودہ دور کے مغربی ایل جی بی ٹی کا متبادل سمجھتے ہیں۔

ہندومت[ترمیم]

ہندومت نے اس ضمن میں مختلف موقف قائم کیے ہیں جو مثبت سے لے کر غیر جانبدار اور مخالفت تک سبھی کچھ تھے۔ رگ وید کے مطابق جو غیر فطری دکھائی دیتا ہے وہ بھی فطری ہے۔ ویدک دور سے ہی ہندو مذہب میں تیسری جنس کو الگ مانا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ہندومت کے مختلف فرقوں میں اس بارے میں متفرق رائیں پائی جاتی ہیں اور ہندو مت میں کوئی بنیادی یا مرکزی تنظیم نہیں جو اس طرح کے امور کا فیصلہ کر سکے۔ متعدد ہندو مذہبی قوانین میں ہم جنس پرست افعال کی ممانعت مذکور ہے جبکہ بعض ہندو نظریات کے مطابق خواتین کی ہم جنس پرستی ممنوع نہیں اور بعض کے مطابق تیسری جنس کے لوگ بہت اہمیت رکھتے تھے۔ تاہم اس بارے میں کوئی اتفاقِ رائے نہیں ملتا۔

ہندوستانی کام ستر 150 قبل مسیح میں لکھی گئی تھی جس میں ہیجڑوں کے مردوں کے ساتھ دہنی جماع پر بھی کچھ قطعات موجود ہیں۔ کچھ قدیم ہندو مندروں میں بھی مردانہ اور زنانہ ہم جنس افعال کی تصاویر نقش ہیں۔ بہت سے ہندو پنڈتوں نے ہم جنس شادیاں بھی کرائی ہیں اور دلیل دی ہے کہ یہ پچھلے جنم کی محبت کا نتیجہ ہے یعنی اس جنم میں جسم چاہے مردانہ ہوں یا زنانہ، پچھلے جنم میں میاں بیوی تھے۔ عام طور پر ہندومت کو ہم جنس پرستی کا مخالف نہیں سمجھا جاتا۔

بدھ مت[ترمیم]

بدھ مت میں پانچ اہم اصول ہیں اور ہشت پہلو راستہ ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ پیروکار کو جسمانی راحتوں کا نہ تو عادی ہونا چاہیے اور نہ ہی اس کی خواہش کرنی چاہیے۔ تیسرا اصول یہ کہتا ہے ‘جنسی بے راہ روی سے بچنا چاہیے‘۔ تاہم جنسی بے راہ روی کی کوئی مخصوص تعریف نہیں اور پیروکار اپنی مرضی سے اس کی تشریح کرتے ہیں۔ بہت سارے بدھ مت کے پیروکاروں کے خیال میں ہم جنس تعلق کا مذہب سے کوئی ٹکراؤ نہیں۔

تیسرا اصول یہ کہتا ہے کہ جنسی بے راہ روی سے بچنا چاہیے۔ اس کی تشریح میں بعض اوقات ہم جنس افعال شمار کر لیے جاتے ہیں۔ دلائی لاما کا خیال ہے کہ ہم جنس افعال ممنوع ہیں اور ہر قسم کا جنسی فعل، ماسوائے عضو تناسل اور اندام نہانی (بطور افزائشِ نسل) قطعی ممنوع ہے اور اس میں مشت زنی اور دیگر جنسی افعال کی اجازت بھی نہیں۔

سکھ مت[ترمیم]

سکھ مت میں اس بارے کوئی تحریری احکام موجود نہیں۔ تاہم 2005 میں سکھوں کے مذہبی علما نے ہم جنس پرستی کو سکھ مذہب کی خلاف ورزی اور قوانینِ فطرت کے خلاف قرار دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے سکھوں کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ ہم جنس پرست شادیوں کے خلاف قانون کی حمایت کریں۔ بہت سارے سکھ اس سے متفق نہیں اور سکھ مت کے مذہبی متون میں بھی مساوات کی تعلیم دی جاتی ہے اور ہم جنس پرستی کی مخالفت نہیں کی گئی۔

سکھ مت میں شادی کو روحوں کا ملن سمجھا جاتا ہےاور روح کی کوئی جنس نہیں اور انسانی ظاہری کیفیت (مرد اور عورت) عارضی ہے۔ ہم جنس پرستی کے حامی اسی جانب توجہ مبذول کراتے ہیں۔

سکھ مت کی مقدس کتاب گرو گرنتھ صاحب کو سکھ مت میں سب سے اونچا درجہ دیا جاتا ہے اور اسے گیارہواں اور ابدی گرو مانا جاتا ہے۔ اس کتاب کی مدد سے سکھوں کو مثبت انداز سے زندگی گزارنے اور سکھوں کے عمومی طرزِ حیات کے بارے ہدایات درج ہیں۔ ہم جنس پرستی کے بارے یہ کتاب کچھ نہیں کہتی مگر شادی کے بارے گاہے بگاہے ہدایات ملتی رہتی ہیں۔ جہاں بھی شادی کا تذکرہ ملتا ہے، وہاں ہمیشہ مرد اور عورت کے حوالے سے بات کی گئی ہے۔ کچھ سکھ یہ مانتے ہیں کہ گرو گرنتھ صاحب جی مکمل ضابطہ حیات ہے اور اگر اس میں ہم جنس شادیوں کا تذکرہ نہیں ملتا تو اس کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔

گرو گرنتھ صاحب میں پانچ خواہشات کی بات کی گئی ہے کہ جن کو قابو میں رکھنا چاہیے۔ ان میں سےایک جنسی خواہش شامل ہے۔ بعض سکھ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جنس پرست خواہشات اور رویہ اسی زمرے میں آتا ہے تو بعض کے خیال میں یہ مرد اور عورت کے درمیان بھی لاگو ہوتا ہے۔ سکھوں میں مساوات پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے ہم جنس پرستوں کو بھی دیگر لوگوں کی مانند یکساں حقوق حاصل ہیں اور یکساں حقوق گرو نانک صاحب نے زور دے کر بیان کیے تھے۔ ہم جنس پرستی سے متعلق نظریات بنیادی سکھ عقائد میں شامل نہیں کہ ان کی بنیادی تعلیمات میں کسی بھی انسان سے نسل، ذات، رنگ، صنف یا جنس کی بنیاد پر نفرت کرنا واجب نہیں۔

چونکہ گرو ہم جنس پرستی کے بارے خاموش رہے ہیں، سو اس موضوع پر ابہام پایا جاتا ہے۔

زرتشت[ترمیم]

‘اگر کوئی مرد کسی دوسرے مرد کے ساتھ ایسے ہم بستری کرے جیسے وہ عورت کے ساتھ یا جیسے عورت مرد کے ساتھ کرتی ہے تو ایسا مرد شیطان کا چیلا ہے۔‘

زرتشت مذہب کی بعد میں لکھی جانے والی کتابوں میں سے ایک وندیدادہے جس کے بارے یقین سے کہنا ممکن نہیں کہ کب لکھی گئی ہوگی۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ بعض قوانین کے تصور، ناپاکی، ثنویت اور نجات مختلف مذاہب کے مابین مشترک ہے اور بعد میں ہونے والے واقعات جیسا کہ بابلیوں کی قید سے زرتشت کی مدد سے یہودیوں کی آزادی ، یسوع مسیح کے شیرخوارگی کے دور کے بارے بھی بات کی گئی ہے۔ اس کتاب میں درج ہے: ‘جس مرد کی بیوی ہے، وہ کنوارے سے کہیں بہتر ہے، خاندان والا بندہ چھڑے بندے سے کہیں بہتر ہے، بچے والا بندہ بے اولاد بندے سے کہیں بہتر ہے، امیر بندہ نادار سے کہیں اوپر ہے‘۔اس میں یہ بھی درج ہے کہ کسی کو مجبوری میں سدومیت کرنا پڑے تو اس کو ایک بیل کی قیمت کے برابر جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ تاہم یہ فعل اپنی مرضی سے کرنے والوں کے لیے کسی قسم کی معافی یا توبہ نہیں اور وہ ہمیشہ کے لیے گمراہ ہو گئے۔ تاہم کسی اور مذہب کے پیروکار جب اس مذہب میں داخل ہوں تو ان کے سابقہ افعال معاف ہو جائیں گے۔

تاہم اصلاح پسند زرتشتوں کے مطابق یہ اصل کتاب میں نہیں بلکہ اس کی تحریف شدہ شکل میں ہے۔ یہ اصلاح پسند افراد ہم جنس شادیوں اور ایل جی بی ٹی افراد کے حقوق کے لیے بھی سرگرم ہوتے ہیں۔

مشرقی ایشیائی مذاہب[ترمیم]

مشرقی ایشیا میں تاؤک مذاہب جیسا کہ تاؤ مت میں جذباتی ہم جنس رویے کے اظہار کو عموماً برا سمجھا جاتا ہےاور مانا جاتا ہے کہ یہ انسان کو تسکین نہیں دیتا۔

کنفیوشس ازم[ترمیم]

کنفیوشس ازم سماجی اور سیاسی فلسفہ ہے اس لیے جنسیت پر اتنی توجہ نہیں دیتا چاہے وہ ہم جنس پرست رویہ ہی کیوں نہ ہو۔کنفیوشس کے گلدستہ تحریر میں ہم جنس پرستی کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔

تاؤ مت[ترمیم]

ہم جنس پرستی کے حوالے سے تاؤ مت میں کوئی ایک باضابطہ اصول نہیں بلکہ اسے مختلف مذہبی روایات سے ظاہر کیا گیا ہے۔

بدھ مت کی مانند تاؤ مت کے مکاتبِ فکر میں جنسی بے راہ روی پر بحث ہمیشہ سے چلتی آئی ہے۔عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ شادی سے ہٹ کر جنسی فعل جنسی بے راہ روی کہلائے گا۔ شادی شدہ جوڑے سے مراد چینی زبان میں مرد اور عورت لی جاتی ہے۔ تاہم مذہبی مخطوطات میں ہم جنس تعلقات کے خلاف کچھ نہیں ملتا۔

تاؤ مت کی تاریخ میں ہم جنس پرستی کوئی نئی بات نہیں کہ تانگ دور میں تاؤ مت کی نن آپس میں محبت بھری نظموں کا تبادلہ کرتی تھیں۔

پاگانیت

نئے پاگانی مذاہب[ترمیم]

ویکا[ترمیم]

ویکان چارج آف دی گاڈیس نامی مخطوطہ جو نئے پاگانی مذہب کا سب سے مشہور مخطوطہ ہے، میں دیوی کے الفاظ کچھ اس طرح بیان کیے گئے ہیں: ‘محبت اور سرور کے تمام تر افعال میری عبادت ہیں‘۔روایتی طور پر بڑا پجاری اور پجارن آپس میں جنسی فعل کرتے ہیں اور انہیں دیوی اور دیوتا سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ تاہم اس سے یہ مراد نہیں لی جاتی کہ ہم جنس پرستوں کو الگ کر دیا جائے۔

شیطان پرستی شیطان پرستی میں ہر قسم کی جنسی سرگرمی کی اجازت ہے اور ہم جنس پرستی سے نہیں روکتی۔ توحیدیہ عالمیہ 1969 میں امریکا یا کینیڈا میں کسی بڑے مذہب کے ہم جنس پرست بڑے عالم کا تقرر ہوا جو توحیدیہ عالمیہ کا پیروکار تھا۔ اس مذہب میں 1970 سے دونوں طرح کے جنسی رحجان رکھنے والے افراد کو قبول کیا جاتا ہے۔ اس کےعلاوہ یہ پہلا مذہب ہے جو بین الصنف یعنی ٹرانس جینڈر افراد کو مذہبی عہدوں کے لیے قبول کرتا ہے۔ یہ مذہب شادی کی آزادی کا قائل ہے اور اس کی مخالفت کا مقابلہ غلامی ، خواتین کے حقِ رائے دہی اور مختلف نسلوں کے افراد کی باہمی شادی کی مخالفت سے کرتا ہے۔

انسان دوستی[ترمیم]

انسان دوست گروہ غیر مذہبی اور غیر الوہی ہے اور ایل جی بی ٹی کیو افراد کے یکساں حقوق کا حامی ہے جس میں شادی کے حقوق بھی شامل ہیں۔

کاندومبلیہ[ترمیم]

کاندومبلیہ میں نہ صرف ہم جنس پرستی کی اجازت ہے بلکہ روح کے حوالے سے اس کی وضاحت بھی کی گئی ہے کہ جیسے زنانہ روح والا مرد کسی مرد سے یا مردانہ روح والی عورت کسی عورت سے جنسی تعلق رکھنا چاہے تویہ عام بات ہے۔

متحد کلیسا[ترمیم]

متحد کلیسا کے بانی سن میونگ مون نے ہم جنس پرستی کی مخالفت کرتے ہوئے ہم جنس پرست افرادکو فضلہ کھانے والے کتوں سے تشبیہ دی ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ خدا کے احکام کی روشنی میں ہم جنس پرست افراد کو مٹا دیا جائے گا۔

مذہبی گروہ اور عوامی پالیسی[ترمیم]

ہم جنس شادیوں اور ایل جی بی ٹی کی مخالفت عموماً قدامت پرست نظریات والے کرتے ہیں۔ امریکن فیملی ایسوسی ایشن نے ایسے اداروں کا مقاطعہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے کہ جو ایل جی بی ٹی افراد کے حق میں پالیسیاں بناتے ہوں۔

بنیاد پرست اسلامی ممالک میں ہم جنس پرست رویے کی ممانعت کی جاتی ہے اور شریعہ قوانین کی مدد سے مردانہ ہم جنس پرستی پر حد جاری کر کے موت کی سزا دی جاتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور ایمنسٹی انٹرنیشنل وغیرہ کی جانب سے اس کی مذمت کی جاتی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "7 countries still put people to death for same-sex acts"۔ ILGA۔ مورخہ 2009-10-29 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2010-07-24۔