شنتو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

شنتو چینی زبان کے دو الفاظ شن (神) اور تو (道) کا مرکب ہے۔ ”شن“ جو دراصل خدا کے لیے استعمال ہونے والی چینی اصطلاح ہے، اسی لفظ کو جاپانی میں کامی بھی کہا جاتا ہے، یعنی دونوں ادائیگیوں کے لیے ایک ہی چینی حرف ہے۔ ”تو“ کا مطلب راستہ یا راہ ہے۔

تاریخ[ترمیم]

شنتو مت جاپان کا قومی مذہب ہے اور اسی قوم اور ملک تک محدود ہے۔ ہندومت کی طرح اس کا کوئی بانی نہیں اور اس کا آغاز زمانہ قبل از تاریخ میں ہوا۔ یہ دونوں مذہب خاص قوموں کی فطرت کی عکاسی کرتے ہیں اور سماج اور ثقافت کا ہی ایک حصہ ہیں۔ ان کے دروازے دوسروں پر بند ہیں۔

زمانہ قبل از تاریخ میں جاپان پر جو قبیلہ حکمران تھا وہ سورج کی دیوی کی پرستش کرتا تھا۔ جس کے گرو ہزا رہا دیوی دیوتا اور بھی تھے۔ ان کے علاوہ اسلاف کی بھی پرستش کرتے تھے۔ اسی مظاہر اور اسلاف پرستی نے آگے چل کر اس مذہب کی شکل اختیار کر لی۔ اب جاپان میں یہ مذہب قومی تمدن کی حیثیت بھی اختیار کر گیا ہے۔

بیرونی اثرات[ترمیم]

جاپان کی ثقافت میں چینی اور کوریائی تاجروں اور پروہتوں کے ذریعہ بیرونی اثرات داخل ہوئے۔ 522ء میں چین سے مہایان بدھ مت جاپان میں متعارف ہوا۔ جاپان کے شہنشاہ کو بدھ مجسمہ اور کتب پیش کی گئیں۔ آخر کار آٹھویں صدی کے بعد شنتو مت اور بدھ مت ایک دوسرے میں مدغم ہو گئے اور شنتو مت کی جداگانہ حیثیت ختم ہو گئی۔ توکوگاوا کے عہد سے مذہبی مصلحین نے شنتو مت کو از سر نو زندہ کرنے کی کوشش کی۔ چنانچہ 1868ء میں جاپان میں قومی انقلاب رونما ہوا اور انھوں نے شنتو مت کو بیرونی اثرات سے پاک کر دیا۔ [حوالہ درکار]

خصوصیات[ترمیم]

کثرت پرستی[ترمیم]

شنتو مت کثرت پرستی کا مذہب ہے۔ اس کثرت پرستی کا اندازہ اس کے دیوتاؤں کی تعداد سے ہو سکتا ہے۔ کبھی یہ دعویٰ ہے کہ 80 کروڑ ہیں، تو کبھی ان کی تعداد آٹھ سو کڑوڑ تک جا پہنچتی ہے۔

روحیت[ترمیم]

اہل جاپان روحیت پر زور دیتے ہیں۔ ان کا سب سے بڑا معبود سورج ہے۔ ان کے خیال میں سورج ایک دیوی ہے۔ جس کا نام اماٹراسو ہے۔ اماٹراسو کو وہ کائناتی قوت کا درجہ نہیں دیتے، اس کی حیثیت ایک دیوی کی ہے۔

شنتو مت میں روحیت کا خاصا عمل دخل ہے۔ اس میں کامی کی عبادت کی جاتی ہے، کامی کو عام طور پر لفظ خدا کا ترجمہ سمجھ کر استعمال کیا جاتا ہے لیکن بعض مقامات ایسے بھی ہیں شنتو میں کہ جہاں لفظ کامی کا ترجمہ خدا کرنا غلط ہوجاتا ہے۔ شنتو مت میں روحوں کو بہت اہمیت حاصل ہے اور بطور خاص آبا و اجداد کی خاندانی ارواح کو۔ ان کے علاوہ جاپانی فطرت کو بھی انتہائی مقدس اور قابل عبادت مانتے ہیں اور قدرتی طور پر موجود ہر شے (دریا، پہاڑ، بارش وغیرہ) میں روح کا تصور رکھتے ہیں جو مقدس اور قابل عبادت ہے لہذا شنتو مذہب میں ہر جاندار و بے جان مقدس چیز کامی کا درجہ پاجاتی ہے جو اسلامی یا مسیحی تصور خدا سے بالکل مختلف ہے۔

آبا پرستی[ترمیم]

جاپانی مذہب میں اسلاف پرستی کا عنصر پایا جاتا ہے۔ اسلاف پرستی کا آغاز مردوں کے خوف و ہراس سے ہوا۔ وہ مردوں سے محبت کی وجہ سے پرستش نہیں کرتے تھے، نہ ہی ان کے دل میں اس بات کا احترام ہوتا تھا کہ یہ ان کے خاندان کے افراد ہوا کرتے تھے بلکہ ان کی پرستش محض ان کے شر سے بچنے کے لیے ہوتی تھی۔

وہ نعشوں کو ناپاک سمجھتے تھے، اس وجہ سے جب کوئی آدمی مر جاتا تو اس کی لاش سے جلد از جلد چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ جس مکان میں کسی کی وفات ہوجاتی تو اس کے عزیز و اقارب اس مکان کو چھوڑ کر کسی دوسرے مکان میں چلے جاتے تھے۔

شاہ پرستی[ترمیم]

جاپان میں بادشاہوں نے سورج دیوی (اماٹراسو) کی اولاد ہونے کا دعویٰ کیا۔ یہ دعویٰ سب سے پہلے جیموٹینو نے کیا۔ اہل جاپان کے نزدیک جس طرح یہ سورج دیوی تمام معبودوں کی آقا ہے، اسی طرح بادشاہ بھی تمام جاپانیوں کا مخدوم اور سردار ہے۔ اس طرح شاہی محل مذہب کا مرکز بن گیا اور جاپان میں مذہب اور سیاست لازم و ملزوم ہو گئے۔ بادشاہ آہستہ آہستہ خدائی درجہ پر فائز ہو گیا۔ اس عقیدہ نے جاپانی سیاسیت کو استحکام بخشا۔ ایک خاندان اڑھائی ہزار سال سے کچھ زیادہ عرصے تک بر سر اقتدار رہا۔ جاپانی بادشاہت کا بانی اور سورج دیوی کی اولاد ہونے کا دعویدار جیموٹینو کی حکومت کا آغاز 660 ق م میں ہوا۔ جنگ دوم کے زمانہ میں بادشاہ ہیروہیتو ایک سو چوبیسواں بادشاہ تھا۔ شنتو مذہب شہنشاه پرست ہے اور ان کے نزدیک کامی کی رضا شہنشاہ کی رضا میں ہے۔[1]

ہیرو پرستی[ترمیم]

جاپانی صرف بادشاہوں کی پرستش نہیں کرتے تھے، بلکہ ہر اس آدمی کو قابل پرستش قرار دیتے جو قوم اور سلطنت کے لیے نمایاں کارنامہ انجام دیتا تھا۔

طریقۂ عبادت[ترمیم]

شنتو عبادت میں آدمی دو مرتبہ پہلے اور بعد میں جھکتا ہے۔ گھٹنوں کے بل بیٹھ جانا اور بعض اوقات تالیاں بجانا بھی عبادت میں شامل سمجھا جاتا ہے۔ دیوتاؤں کے پرساد کا طریقہ بھی رائج ہے۔ مندروں میں ناچ کا طریقہ بھی ہے، یہاں تک کہ بعض اہم معابد میں اسٹیج اور ناچنے والیاں بھی موجود ہوتی ہیں۔[2]

نظریۂ تخلیق کائنات[ترمیم]

تخلیق کائنات کے متعلق ان کا یہ نظریہ ہے کہ آسمان کے تیرتے ہوئے پل پر ایک جوڑا رہا کرتا تھا۔ نر کا نام ازاناگی (Izanagi) اور مادہ کا نام ازانامی (Izanami) تھا۔ جوڑا زمین کے ایک جزیرے پر اترا جہاں انھوں نے ایک مکان بنایا، اس میں ایک بڑا ستون تھا۔ وہ دونوں اس ستون کے گرد گھومتے اور جب ایک دوسرے سے آمنا سامنا ہوا تو پہلے مادہ بولی، اس سے نر کو غصہ آگیا۔ اور اس نے دوبارہ گھومنے کے لیے کہا۔ جب پھر وہ ایک دوسرے سامنے ہوئے تو پہلے نر بولا اور اس نے مادہ کی خوبصورتی کا اظہار کیا۔ اس سے دونوں میں میاں بیوی کے تعلقات پیدا ہو گئے۔ اس تعلق کے نتیجہ سے جاپان کے مختلف جزیرے اور بہت سے دیوی دیوتا پیدا ہوئے۔ اس جوڑے سے آگ کی دیوی کی پیدائش کے وقت ازانامی (Izanami) کا انتقال ہو گیا۔ اس پر نر (ازاناگی) کو غصہ آیا اور اس نے نومولود (آگ کی دیوی) کو ٹکڑے ٹکڑے کردیے۔ جس سے اور بہت سے دیوی دیوتا نمودار ہو گئے۔ اب یہ نر اپنی بیوی کے ییچھے ”مردوں کی سرزمین“ یومی میں گیا۔ وہاں سے واپسی پر سمندر میں غوطہ لگایا تو اس کی پلکوں سے پانی کے جو قطرے ٹپکے اس سے سورج اور ناک کے قطروں سے چاند وغیرہ پیدا ہوئے۔ [حوالہ درکار]

کتابیں[ترمیم]

دیوتاؤں کی وہ کہانیاں جو جاپان میں سینہ بسینہ چلی آ رہی تھیں، آٹھویں صدی مسیحی کے آغاز میں ایک مقدس مؤلف یاسومارو نے دو ضخیم جلدوں میں ان کو جمع کیا، ایک کتاب کا نام ہے کوجی کی یعنی قدیم حالات کی کہانی اور دوسری کا نام نی ہوں گی یعنی تاریخ جاپان ہے۔ ان میں قدیم دیوتاؤں کے محیر القول کارنامے اور قصے مذکور ہیں۔ ان دو کتابوں کے علاوہ بھی شنتو مذہب کے کئی دوسرے مقدس متون ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Encyclopaedia of Religion and Ethics Vol II Pg 462
  2. مذاہب عالم : ایک معاشرتی و سیاسی جائزہ از احمد عبد اللہ المسدوسی ص 132