خان عبدالغفار خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
خان عبدالغفار خان
Khan Abdul Ghaffar Khan.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 6 فروری 1890[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات 20 جنوری 1988 (98 سال)[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
پشاور[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن جلال آباد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
اولاد خان عبد الولی خان،خان عبدالغنی خان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ علی گڑھ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان[4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
تحریک خدائی خدمتگار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تحریک (P135) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
IND Bharat Ratna BAR.png بھارت رتن  (1987)
جواہر لعل نہرو ایوارڈ (1967)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر

خان عبد الغفار خان پختونوں کے سیاسی راہنما کے طور پر مشہور شخصیت ہیں، جنھوں نے برطانوی دور میں عدم تشدد کے فلسفے کا پرچار کیا۔ خان عبد الغفار خان زندگی بھر عدم تشدد کے حامی رہے اور مہاتما گاندھی کے بڑے مداحوں میں سے ایک تھے۔ آپ کے مداحوں میں آپ کو باچا خان اور سرحدی گاندھی کے طور پر پکارا جاتا ہے۔

خان عبدالغفار خان مہاتما گاندھی کے ساتھ

آپ پہلے اپنے خاندان کے افراد کے دباؤ پر برطانوی فوج میں شامل ہوئے، لیکن ایک برطانوی افسر کے پشتونوں کے ساتھ ناروا رویے اور نسل پرستی کی وجہ سے فوج کی نوکری چھوڑ دی۔ بعد میں انگلستان میں تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ اپنی والدہ کے کہنے پر موخر کیا۔ برطانوی راج کے خلاف کئی بار جب تحاریک کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو خان عبد الغفار خان نے عمرانی تحریک چلانے اور پختون قبائل میں اصلاحات کو اپنا مقصد حیات بنا لیا۔ اس سوچ نے انھیں جنوبی ایشیاء کی ایک نہایت قابل ذکر تحریک خدائی خدمتگار تحریک شروع کرنے پر مجبور کیا۔ اس تحریک کی کامیابی نے انھیں اور ان کے ساتھیوں کو کئی بار تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پابند سلاسل کیا گیا۔ 1920ء کے اواخر میں بدترین ہوتے حالات میں انھوں نے مہاتما گاندھی اور انڈین نیشنل کانگریس کے ساتھ الحاق کر دیا، جو اس وقت عدم تشدد کی سب سے بڑی حامی جماعت تصور کی جاتی تھی۔ یہ الحاق 1947ء میں آزادی تک قائم رہا۔ جنوبی ایشیا کی آزادی کے بعد خان عبد الغفار خان کو امن کے نوبل انعام کے لیے بھی نامزد کیا گیا۔ 1960ء اور 1970ء کا درمیانی عرصہ خان عبد الغفار خان نے جیلوں اور جلاوطنی میں گزارا۔ 1987ء میں آپ پہلے شخص تھے جن کو بھارتی شہری نہ ہونے کے باوجود “بھارت رتنا ایوارڈ“ سے نوازا گیا جو سب سے عظیم بھارتی سول ایوارڈ ہے۔ 1988ء میں آپ کا انتقال ہوا اور آپ کو وصیت کے مطابق جلال آباد افغانستان میں دفن کیا گیا۔ افغانستان میں اس وقت گھمسان کی جنگ جاری تھی لیکن آپ کی تدفین کے موقع پر دونوں اطراف سے جنگ بندی کا فیصلہ آپ کی شخصیت کے علاقائی اثر رسوخ کو ظاہر کرتی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  • Habib، Irfan (ستمبر – اکتوبر 1997). "Civil Disobedience 1930–31". Social Scientist 25 (9–10): 43. doi:10.2307/3517680. 
  • Johansen، Robert C. (1997). "Radical Islam and Nonviolence: A Case Study of Religious Empowerment and Constraint Among Pashtuns". Journal of Peace Research 34 (1): pp. 53–71. doi:10.1177/0022343397034001005. 
  • Caroe، Olaf۔ 1984. The Pathans: 500 B.C.-A.D. 1957 (Oxford in Asia Historical Reprints)۔" Oxford University Press. ISBN 0-19-577221-0
  1. جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/119269244 — اخذ شدہ بتاریخ: 12 اگست 2015 — اجازت نامہ: CC0
  2. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Khan-Abdul-Ghaffar-Khan — بنام: Abdul Ghaffar Khan — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  3. http://www.nytimes.com/1988/01/21/obituaries/abdul-ghaffar-khan-98-a-follower-of-gandhi.html
  4. http://www.dawn.com/news/1017693

بیرونی روابط[ترمیم]

تصاویر