خان عبد الولی خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
خان عبد الولی خان
تفصیل= خان عبد الولی خان مع کبیر ستوری

قائد حزب اختلاف
مدت منصب
2 دسمبر 1988 – 6 اگست 1990
Fleche-defaut-droite-gris-32.png فخر امام
بینظیر بھٹو Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
مدت منصب
14 اپریل 1972 – 17 اگست 1975
Fleche-defaut-droite-gris-32.png نور الامین
شیرباز خان مزاری Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 11 جنوری 1917  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
چارسدہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 26 جنوری 2006 (89 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
اسلام آباد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات دورۂ قلب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات طبعی موت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
جماعت انڈین نیشنل کانگریس (–1947)
نیشنل عوامی پارٹی (1957–1968)
عوامی نیشنل پارٹی (1986–26 جنوری 2006)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
اولاد سنگین خان ولی،  اسفند یار ولی خان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد خان عبدالغفار خان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

وفات:2006ء

ولی خان، خان عبدالغفار خان کے بیٹے تھے۔ ضلع چارسدہ میں اتمانزئی کے مقام پر پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز تقریباً ساٹھ برس قبل خدائی خدمتگار تحریک میں شمولیت سے کیا تھا۔

اس کے علاوہ وہ نیپ اور اے این پی کے بھی صدر منتخب ہوئے۔ اپنی سیاسی زندگی کے دوران میں وہ کئی مرتبہ پابند سلاسل بھی ہوئے۔ قید کے دوران میں ایک کتاب ’فیکٹس آر فیکٹس‘ بھی لکھی تھی۔ ان پر ان کی تمام سیاسی زندگی کے دوران میں پاکستان مخالف ہونے کا الزام لگتا رہا جس کی وجہ سے کئی مبصرین کے مطابق وہ ملک کی سطح پر عوامی رہنما کی حثیت حاصل نہیں کر سکے۔

لیکن اس بات پر آج سب لوگ متفق نظر آتے ہیں کہ وہ ایک نڈر اور اصول پسند سیاست دان رہے۔ ولی خان نے 1990 میں مولانا حسن جان کے ہاتھوں عام انتخابات میں شکست کے بعد عملی سیاست کو خیرآباد کہہ دیا ۔

طویل علالت کے بعد کومہ میں ان کا انتقال ہوا۔ اور ان کی وصیت کے مطابق ان کو ان کے آبائی گھر ولی باغ میں دفنایا گیا۔ پشتون سیاست پرانھوں نے انمٹ نقوش چھوڑے اور قوم پرستی کا ثبوت دیتے ہوئے۔ اپنی قوم کے مفادات پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

سیاسی عہدے
ماقبل 
نور الامین
قائد حزب اختلاف
1972–1975
مابعد 
شیرباز خان مزاری
ماقبل 
فخر امام
قائد حزب اختلاف
1988–1990
مابعد 
بینظیر بھٹو