عمران خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عزت مآب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سابقہ شرف دہندہ (P511) ویکی ڈیٹا پر
عمران خان
تفصیل=

وزیر اعظم پاکستان (22)
آغاز منصب
18 اگست 2018ء
صدر عارف علوی
ممنون حسین
Fleche-defaut-droite-gris-32.png ناصر الملک (نگران)
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
وفاقی وزیر داخلہ اور انسداد منشیات
آغاز منصب
18 اگست 2018ء
Fleche-defaut-droite-gris-32.png محمد اعظم خان (قائم مقام)
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
وفاقی وزیر مواصلات
آغاز منصب
11 ستمبر 2018ء
Fleche-defaut-droite-gris-32.png حافظ عبد الکریم
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
وفاقی وزیر پاور
مدت منصب
18 اگست 2018ء – 11 ستمبر 2018ء
Fleche-defaut-droite-gris-32.png سید علی طفر (قائم مقام)
عمر ایوب خان Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف
آغاز منصب
25 اپریل 1996ء
نائب شاہ محمود قریشی
رکن قومی اسمبلی
آغاز منصب
13 اگست 2018
Fleche-defaut-droite-gris-32.png عبید اللہ شادی خیل
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
ووٹ 113,523 (44.89%)
مدت منصب
19 جون 2013ء – 31 مئی 2018ء
Fleche-defaut-droite-gris-32.png حنیف عباسی
خالی، کوئی نہیں Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
ووٹ 13,268 (8.28%)
مدت منصب
10 اکتوبر 2002ء – 3 نومبر 2007ء
Fleche-defaut-droite-gris-32.png حلقہ قائم ہوا
نوابزادہ ملک عماد خان Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
ووٹ 6,204 (4.49%)
چانسلر بریڈفورڈ یونیورسٹی
مدت منصب
7 دسمبر 2005ء – 7 دسمبر 2014ء
Fleche-defaut-droite-gris-32.png بیرونس لاک ووڈ
کیٹ سوان Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 5 اکتوبر 1952 (66 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
رہائش اسلام آباد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
جماعت پاکستان تحریک انصاف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ جمائما گولڈ سمتھ (1995–2004)
ریحام خان (2015–2015)
بشریٰ بی بی (18 فروری 2018–)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
ساتھی ایما سارجنٹ (1982–1986)
سیتا وائٹ (1987–1991)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ساتھی (P451) ویکی ڈیٹا پر
اولاد ٹیریان (الزام)[2]
سلیمان
قاسم
تعداد اولاد 3   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعداد اولاد (P1971) ویکی ڈیٹا پر
والد اکرام اللہ خان نيازى  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ شوکت خانم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
تعليم کیبل کالج، اوکسفرڈ
(فلسفہ، سیاست اور معاشیات میں بی اے اونرز)
مادر علمی کیبل کالج
ایچی سن کالج
رائل گرائمر اسکول ووسٹر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان،  کرکٹ کھلاڑی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
کھیل کرکٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کھیل (P641) ویکی ڈیٹا پر
کھیل کا ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ملک برائے کھیل (P1532) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
وزڈن کرکٹر آف دی ایئر 
Hilal-i-Imtiaz Pakistan.svg ہلال امتیاز 
Pride of Performance (ribbon).gif تمغائے حسن کارکردگی   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
عمران خان
ویب سائٹ
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

عمران احمد خان نیازی پاکستانی سیاست دان اور سابقہ کرکٹ کھلاڑی جو پاکستان کے بائیسویں اور موجودہ وزیر اعظم ہیں اور ساتھ ہی وہ پاکستان کے موجودہ وزیر داخلہ[5] اور وزیر مواصلات بھی ہیں۔ وہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ بھی ہیں۔ اس سے پہلے وہ 2002ء تا 2007ء اور 2008ء تا 2013ء تک پاکستان قومی اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ سیاست میں قدم رکھنے سے قبل عمران خان ایک کرکٹر اور مخیر تھے۔ انہوں نے دو دہائیوں تک بین الاقوامی کرکٹ کھیلی اور بعد میں خدمت خلق کے منصوبے بنائے جیسے کہ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سینٹر اور نمل کالج وغیرہ۔[6][7] عمران خان کی پیدائش لاہور میں اونچے درمیانے طبقے کے نیازی پشتون خاندان میں ہوئی، انہوں نے ابتدائی تعلیم ایچیسن کالج لاہور پھر رائل گرائمر اسکول ویلسٹڑ انگلینڈ اور بعد میں کیبل  کالج آکسفورڈ سے حاصل کی۔ انہوں نے 13 سال کی عمر میں کرکٹ کھیلنا شروع کر دی تھی۔[8]

ابتدائی طور پر اپنے کالج کے لیے کھیلا اور بعد میں ویلکیسشائر کے لیے، عمران خان نے 18 سال کی عمر میں پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم میں شمولیت اختیار کی اور اسی سال انٹرنیشنل کرکٹ کا آغاز برمنگھم میں انگلینڈ کے خلاف 1971ء سیریز سے کیا۔ آکسفورڈ سے گریجویشن کے بعد، انہوں نے 1976ء میں پاکستان میں کرکٹ کھیلنے کا آغاز کیا اور 1992ء تک کھیلا۔ انہوں نے 1982 اور 1992 کے درمیان ٹیم کے کپتان کے فرائض بھی سر انجام دیے۔[9] خاص طور پر ان کی قیادت میں 1992ء میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے 1992ء کے ورلڈ کپ میں فتح یاب رہی۔[10]

ابتدائی زندگی و تعلیم[ترمیم]

عمران کی پیدائش 25 نومبر، 1952ء کو لاہور پاکستان میں ہوئی۔[11] وہ پشتونوں کے مشہور قبیلے نیازی سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن ان کی والدہ شوکت خانم صاحبہ زیادہ تر میانوالی میں سکونت پذیر رہیں۔ وہ اکرام اللہ خان نیازی کے اکلوتے بیٹے ہیں۔[12] سولہویں صدی میں ان کے  آباؤ اجداد میں ہیبت خان نیازی، شیر شاہ سوری کے معزز جنرل اور پنجاب کے گورنر رہے۔[13] ان کی والدہ پشتون قبیلے برکی سے تعلق رکھتی ہیں[14] اس قبیلے  نے پاکستان کی تاریخ میں جاوید برکی اور ماجد خان جیسے کامیاب کرکٹ کھلاڑیوں کو پیدا کیا۔[15] 

جوانی میں عمران خان ایک خاموش طبیعت اور شرمیلے انسان تھے،[16] ابتدائی تعلیم لاہور میں کیتھیڈرل اسکول اور ایچیسن کالج، لاہور سے حاصل کی، اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے۔[17] وہاں رائل گرائمر اسکول میں تعلیم حاصل کی اور پھر اوکسفرڈ یونیورسٹی سے سیاسیات، فلسفہ اور معاشیات کے مضامین کے ساتھ گریجویشن کی۔ وہ 1974ء میں اوکسفرڈ یونیورسٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی رہے۔[18]

کرکٹ[ترمیم]

عمران خان
Mohammad Mosaddak Ali met with cricketer and Chairman of country’s political party Tehreek-e-Insaf Imran Khan at Prime Minister's Office in Dhaka.jpg
کرکٹ کی معلومات
بلے بازی دائیں ہاتھ سے بلے بازی (RHB)
گیند بازی دائیں باوو سے تیز گیند بازی
حیثیت آل راؤنڈر
بین الاقوامی کرکٹ
قومی ٹیم
پہلا ٹیسٹ (کیپ 88) 3 جون 1971  بمقابلہ  انگلینڈ
آخری ٹیسٹ 2 جنوری 1992  بمقابلہ  سری لنکا
ایک روزہ پہلا (کیپ 175) 31 اگست 1974  بمقابلہ  انگلینڈ
آخری ایک روزہ 25 مارچ 1992  بمقابلہ  انگلینڈ
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ ایک روزہ ایف سی لسٹ اے
میچ 88 175 382 425
رنز بنائے 3807 3709 17771 10100
بیٹنگ اوسط 37.69 33.41 36.79 33.22
100s/50s 6/18 1/19 30/93 5/66
ٹاپ اسکور 136 102* 170 114*
گیندیں کرائیں 19458 7461 65224 19122
وکٹ 362 182 1287 507
بالنگ اوسط 22.81 26.61 22.32 22.31
اننگز میں 5 وکٹ 23 1 70 6
میچ میں 10 وکٹ 6 0 13 0
بہترین بولنگ 8/58 8/58 8/34 6/14
کیچ/سٹمپ 28/0 36/0 117/0 84/0
ماخذ: ای ایس پی این کرکٹ انفو, 5 نومبر 2014

عمران خان نے کرکٹ کے جہان میں بھی اپنا ایک اعلیٰ مقام بنایا ہے اور بین الاقوامی سطح پر ماضی میں وہ سیاست کی بجائے کرکٹ کے حوالے سے زیادہ مشہور رہے ہیں۔ ان ہی کی قیادت میں پاکستان نے 1992 کرکٹ عالمی کپ جیتا تھا۔ فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز 1969ء - 1970ء میں لاہور کی طرف سے سرگودھا کے خلاف کھیلتے ہوئے کیا۔ 1971ء میں انگلستان کے خلاف پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔

کرکٹ ریکارڈ[ترمیم]

ٹیسٹ ریکارڈ[ترمیم]

انہوں نے 88 ٹیسٹ میچ کھیل کر 362 وکٹیں 22.81 کی اوسط سے حاصل کیں۔ 1981ء-1982ء میں لاہور میں سری لنکا کے 8 کھلاڑی صرف 58 رنز دے کر آؤٹ کیے۔ اور 23 مرتبہ ایک اننگز میں 5 وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے 36.69 کی اوسط سے 3807 رنز بنائے جن میں سے 5 سنچریاں بھی شامل ہیں۔ ان کا زیادہ سے زیادہ سکور ایڈی لینڈ میں 1991ء میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلتے ہوئے 132 رنز رہا۔ ان کا شمار پاکستان کرکٹ کے کامیاب ترین کپتانوں میں ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے وہ پاکستان کے پہلے کپتان تھے جن کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے بھارت کو بھارت اور انگلستان کو انگریزی سرزمیں میں ہرایا۔ بطور کپتان انہوں نے 48 ٹیسٹ میچ کھیلے جن میں سے 14 جیتے اور 8 ہارے اور 26 برابر یا بغیر کسی نتیجے سے ختم ہوئے۔

ون ڈے ریکارڈ[ترمیم]

پاکستانی کرکٹ ٹیم نے 1992ء میں ان کی قیادت میں کھیلتے ہوئے پانچواں کرکٹ عالمی کپ جیتا۔ یہ اعزاز ابھی تک پاکستان صرف ایک دفعہ ہی حاصل کر سکا ہے۔ انھوں نے 175 ایک روزہ میچوں میں حصہ لیا۔ اور 182 وکٹیں حاصل کیں۔ 3709 رنز 33.41 کی اوسط سے بنائے۔ ان کا زیادہ سے زیادہ سکور 102 ناٹ آؤٹ تھا جو انھوں نے سری لنکا کے خلاف 1983ء میں کھیلتے ہوئے بنائے۔ ان کی قیادت میں 139 ایک روزہ میچ کھیلے گئے جن میں سے 77 جیتے 57 ہارے، چار بے نتیجہ رہے جبکہ 1 میچ برابر رہا۔

  • انہوں نے مجموعی طور پر 5 عالمی کرکٹ کپ میں حصہ لیا جو 1975ء، 1979ء، 1983ء، 1987ء اور 1992ء میں منعقد ہوئے۔

کرکٹ سے ریٹائرمنٹ[ترمیم]

کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد عمران خان مختلف برطانوی اور ایشیائی اخباروں میں خاص طور پر پاکستان کی قومی ٹیم کے بارے میں آرٹیکل تحریر کرتے رہے ہیں۔[19] بی بی سی اردو  اور اسٹار ٹی وی نیٹ ورک سمیت ایشیائی اور برطانوی کھیلوں کے نیٹ ورک پر کرکٹ مبصر کے طور پر بھی خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں۔[20] 2004ء میں جب بھارتی کرکٹ ٹیم نے 14 سال کے بعد پاکستان کا دورہ کیا تو، وہ ٹین اسپورٹس چینل کے خصوصی براہ راست پروگرام میں مبصر تھے،[21] 1992ء کے بعد ہر کرکٹ ورلڈ کپ کے دوران وہ مختلف چینلوں پر ٹیم کارکردگی اور میچز کے حوالے سے اپنا تجزیہ پیش کرتے رہے ہیں۔[22]ان کو بطور کپتان ْسب سے زیادہ وکٹیں لینے کا ریکارڈ ٹیسٹ میچ میں بہترین بولنگ اوسط اور بہترین گیند باز ریکارڈ بنانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔[23][24]

نومبر 2005ء کو عمران خان کو بیرونس لاک ووڈ کے بعد بریڈفورڈ یونیورسٹی کا چانسلر مقرر کیا گیا تھا،[25] 26 فروری کو یونیورسٹی یونین نے ہر گریجویشن تقریب سے ان کی عدم موجودگی کی وجہ سے انہیں عہدے سے ہٹانے کے لیے قرارداد پیش کی تھی [26] تاہم خان صاحب نے اعلان کیا کہ بوجہ سیاسی مصروفیات اس عہدے کی ذمہ داریاں سر انجام دینے سے قاصر ہیں لہذا وہ 30 نومبر 2014ء کو یہ عہدہ چھوڑ دیں گے۔[27] یونیورسٹی کے وائس چانسلر برائن کینٹرن نے عمران خان کو طالب علموں کے لیے ایک شاندار رول ماڈل قرار دیا۔[28]

ذاتی زندگی اور سماجی کام[ترمیم]

1990ء کی دہائی کے دوران عمران خان نے کھیلوں کے لیے یونیسیف کے خاص نمائندہ کے طور پر  بنگلہ دیش، پاکستان، سری لنکا اور تھائی لینڈ میں صحت اور امیجریشن پروگراموں کو فروغ دیا۔[29] لندن میں کرکٹ کے فلاحی ادارے لارڈ ٹیورنرز کے لیے بھی کام کر چکے ہیں۔[30] عالمی کرکٹ کپ منعقدہ 1992ء کے بعد کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی، اس کے بعد سماجی کاموں میں حصہ لینا شروع کیا۔ اپنی والدہ کے نام پر شوکت خانم میوریل ٹرسٹ کی بنیاد رکھی، ٹرسٹ کی پہلی کوشش کے طور پر پاکستان کے پہلے اور واحد کینسر ہسپتال کی بنیاد رکھی۔[31] اس کی تعمیر کے لیے پوری دنیا سے 25 ملین ڈالر سے زائد عطیہ اور فنڈز کا استعمال کرتے ہوئی جبکہ ہسپتال کی زمین اس وقت کے وزیر اعلیٰ میاں نواز شریف نے عطیہ کی تھی۔

27 اپریل 2008ء کو عمران خان نے ضلع میانوالی میں نمل کالج نامی تکنیکی کالج کا قیام کیا۔[32] یہ کالج میانوالی ترقیاتی ٹرسٹ کی جانب سے کیا گیا اور دسمبر 2005ء سے اسے بریڈ فورڈ یونیورسٹی کے ایسو سی ایٹ کالج کا درجہ حاصل ہے۔ ان کی ایک اور فلاحی تنظیم عمران خان فاؤنڈیشن ہے جس کا مقصد پاکستان بھر میں محتاج لوگوں کی مدد کرنا ہے۔ اس تنظیم نے پاکستان میں سیلاب متاثرین کو مدد فراہم کی ہے۔ بخش فاؤنڈیشن نے عمران خان فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر ڈیرہ غازی خان، میانوالی اور ڈیرہ اسماعیل خان میں روشن گاؤں کی مہم چلائی ہے، اس مہم کے ذریعے منتخب کردہ گاؤں میں شمسی توانائی کے کئی اسٹیشنوں کا قیام کیا جائے گا اور گاؤں والوں کو شمسی توانائی سے چلنے والی لالٹین فراہم کی جائے گی۔[33]

قومی اور بین الااقوامی اعزازات[ترمیم]

انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے صدراتی ایوارڈ بھی ملا۔ علاوہ ازیں 1992ء میں انسانی حقوق کا ایشیا ایوارڈ اور ہلال امتیاز (1992ء) میں عطا ہوئے۔ آپ بریڈفورڈ یونیورسٹی، برطانیہ کے چانسلر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

جمائما خان سے شادی[ترمیم]

جمائما خان عمران خان کے ساتھ ایک سیاسی جلسہ میں شریک ہیں

1995ء میں عمران خان نے مرحوم برطانوی ارب پتی تاجر سر جیمز گولڈ سمتھ کی بیٹی، جمائما گولڈ سمتھ سے شادی کی۔ جمائما گولڈ سمتھ نے شادی سے پہلے اسلام قبول کر لیا اور ان کا اسلامی نام جمائما خان ہے۔ اس شادی کا شہرہ پوری دنیا میں ہوا اور عالمی میڈیا نے اس کو خصوصی اہمیت دی۔ 22 جون، 2004ء کو انہوں نے طلاق کا اعلان کیا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی مصروف زندگی کی وجہ سے انہیں وقت نہیں دے پاتے تھے۔

ریحام خان سے شادی[ترمیم]

عمران خان نے دوسری شادی اینکر پرسن ریحام خان سے سنہ 2014 میں کی تھی تاہم یہ شادی ناکام ثابت ہوئی۔

8 جنوری، 2015ء کو عمران خان برطانوی و پاکستانی صحافی ریحام خان کے ساتھ رشتہِ ازدواج میں بندھ گئے۔ 30 اکتوبر، 2015ء کو دونوں نے طلاق کی کارروائی شروع کرنے کی تصدیق کر دی۔[34] اور عمران خان کی یہ شادی بھی ناکام رہی۔

بشریٰ بی بی سے شادی[ترمیم]

عمران خان اور بشریٰ خان، تقریب حلف برداری میں

2017ء کے اواخر اور 2018ء کے آغاز میں کئی خبریں آئیں کہ عمران خان نے اپنی روحانی پیشوا بشری بی بی سے شادی کر لی ہے۔ تاہم عمران خان[35][36] تحریک انصاف کے دیگر افراد[37][38][39] اور مانیکا خاندان نے اس افواہ کی نفی کی۔[40][41][42] 7 جنوری 2018ء کو پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹریٹ نے ایک بیان جاری کیا کہ عمران خان نے بشری بی بی کو شادی کے لیے پیغام دیا ہے تاہم ابھی اسے قبول نہیں کیا گیا۔[43] 18 فروری 2018ء کو، پی ٹی آئی نے تصدیق کی کہ عمران خان نے بشری بی بی سے شادی کر لی ہے۔[44][45]

سیاسی زندگی[ترمیم]

کرکٹ کیریئر کے دوران عمران خان کو کئی مرتبہ سیاسی عہدوں کی پیش کش کی گئی۔ 1987ء میں صدرپاکستان محمد ضیاء الحق نے انہیں مسلم لیگ میں سیاسی عہدے کی پیش کش کی جسے انہوں نے انکار کر دیا۔[46] نواز شریف نے بھی اپنی سیاسی جماعت میں شامل ہونے کے لیے مدعو کیا تھا۔[47] ضیاء الحق کے ساتھ عمران خان کے اچھے تعلقات تھے، انہوں نے کرکٹ چھوڑ دی تھی لیکن جنرل ضیاء ان کو دوبارہ کرکٹ میں واپس لے کر آئے  1992ء کا ورلڈ کپ بھی جنرل ضیاءکے کہنے پر کھیلا۔[48]

1994ء کے آخر میں انہوں نے انٹیلی اجنسی (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ حمید گل اور محمد علی درانی کی قیادت میں پاسبان نامی گروپ میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور اسی انہوں نے سیاست میں باقاعدہ شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی۔[49]۔

25 اپریل 1996ء کو تحریک انصاف قائم کر کے سیاسی میدان میں قدم رکھا۔ ابتدائی طور پر انہیں کامیابی نہ مل سکی۔ لیکن حالیہ دنوں میں وہ اپنی جدوجہد اور اصول پرستی کی بدولت پاکستانی عوام، خصوصاً نوجوانوں میں تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔ اس وقت ان کی سیاسی جماعت کو پاکستان پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں 32، ایوان بالا میں 7، صوبائی اسمبلی سندھ میں 4، صوبائی سمبلی پنجاب میں 30 اور صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا میں 59 نشستیں حاصل ہیں۔

1999ء میں جنرل پرویز مشرف  کے نعرے ْ کرپشن  اور سیاسی مافیا کا خاتمےٗ کی وجہ سے مشرف کی فوجی آمریت کی حمایت کی۔ عمران خان کے مطابق مشرف انہیں 2002ء میں وزیر اعظم بننے کی پیشکش کی لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔[50] 2002ء کے ریفرنڈم میں عمران خان نے فوجی آمر کے ریفرنڈم کی حمایت کا اعلان کیا جبکہ تمام بڑی جماعتوں نے اس ریفرنڈم کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مخالفت کی۔[51] 2002ء میں عام انتخابات میں وہ میانوالی کی سیٹ سے قومی اسمبلی کے ارکان منتخب ہوئے۔انہوں نےقومی اسمبلی کی  کشمیر اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹیوں میں بھی خدمات سر انجام دیں ہیں۔[52]

2 اکتوبر، 2007 کو جنرل مشرف نے آرمی چیف کے عہدے سے استعفٰی دیے بغیر صدارتی انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا، اس فیصلے کے خلاف  آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کے پلیٹ فارم سے دیگر 85 اسمبلی ارکان کے ساتھ مل کر عمران خان نے تحریک چلائی۔[53] 3 نومبر، 2007ء کو فوجی آمر پرویز مشرف کے ہنگامی حالت کے اعلان کے بعد آپ کو نظربند کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔[54] 14 نومبر کو پنجاب یونیورسٹی میں ہنگامی حالت کے خلاف طلبہ احتجاج کے دوران عمران خان عوامی حلقوں میں نظر آئے۔ اس ریلی کے دوران اسلامی جمعیت طلبہ نے عمران خان کو زد و کوب کیا۔[55] اس احتجاج کے بعد ان کو گرفتار کر کے ڈیرہ غازی خان کی جیل میں بھجوا دیا گیا جہاں یہ چند دن قید رہے۔[56] انتظامیہ کے مطابق ان پر "دہشت گردی" قانون کے تحت مقدمہ بنایا جائے گا۔دنیا بھر کی اخبارات نے عمران کی فوجی آمر پرویز مشرف کے خلاف جدوجہد کو سراہا ہے۔ لیکن یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ پرویز مشرف سے وزارت عظمی کا منصب طلب کر رہے تھے اور جب اُنہیں انکار کر دیا گیا تو وہ پرویز مشرف کے خلاف ہو گئے۔[57] 18 نومبر کو عمران خان نے ڈیرہ غازی خان جیل میں بھوک ہڑتال شروع کی۔[58] 22 نومبر کو اچانک رہا کر دیا گیا۔

عمران نے کہا ہے کہ ان کی زندگی اور کراچی میں تحریک انصاف کے کارکنوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے کیونکہ برطانوی حکومت نے متحدہ قومی موومنٹ کے لندن میں مقیم سربراہ الطاف حسین کے خلاف کوئی قدم نہیں اُٹھایا جس سے یہ لوگ شیر ہو کر تشدد کی کارروائی کر سکتے ہیں۔ عمران خان متحدہ قومی موومنٹ اور اس کے قائد الطاف حسین کے خلاف الزامات تو لگاتے رہے اور یہ دعویٰ کرتے رہے کہ وہ الطاف حسین کے خلاف ثبوت لیکر لندن جائیں گے۔ وہ گئے بھی لیکن اپنے الزامات کو کسی عدالت میں کبھی ثابت نہ کر سکے۔


30 اکتوبر 2011ء کو عمران  خان نے لاہور میں 100،000 سے زائد حامیوں کو خطاب کیا، حکومت کی پالیسیوں کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ نئی تبدیلیاں حکمران جماعتوں کے خلاف "سونامی" ہیں۔25 دسمبر 2011 ءکو کراچی میں ہزاروں حامیوں پر مشتمل کامیاب عوامی تقریب کا انعقاد  کیا ۔ اس وقت سے عمران خان حکمران جماعتوں اور پاکستان میں مستقبل کے سیاسی امکانات کا حقیقی خطرہ بن گیا۔. بین الاقوامی ریپبلکن انسٹی ٹیوٹ کے سروے کے مطابق،  پاکستان تحریک انصاف دونوں قومی اور صوبائی سطح پر پاکستان میں مقبول جماعتوں کی فہرست میں سب سے اوپر ہے۔ 6 اکتوبر 2012 کو عمران خان ​​نے پاکستان کے جنوبی وزیرستان کے علاقے میں کوٹائی کے گاؤں پر ڈرون حملے کے خلاف مظاہرین کے ایک کاروان میں شامل ہوئے ،23 مارچ 2013 کو،خان نے اپنے انتخابی مہم کے آغاز پرنیا پاکستان  قرارداد متعارف کروائی۔ 29 اپریل کو آبزور جریدے نے عمران خان اور ان کی جماعت کو حکمران مسلم لیگ کے لیے اہم اپوزیشن قرار دیا۔ 2011ء اور 2013 کے درمیان، عمران  خان اور نواز شریف کے مابین تلخ جملوں اور الزامات کی بوچھاڑ کا سلسلہ رہا۔  اپریل 2013 سے انتخابی مہم میں مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی نے ایک دوسرے پر تنقید کی۔اس انتخابی مہم کے دوران عمران خان نے اعلان کیا کہ وہ پاکستان کو امریکا کی جنگ سے باہر نکالتے ہوئے قبائلی علاقوں میں امن لے کر آئے گا۔  انہوں نے خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں اور ملک کے دوسرے حصوں میں مختلف عوامی اجلاسوں کو خطاب کیا جہاں انہوں نے اعلان کیا کہ تحریک انصاف یکساںتعلیمی نظام متعارف کروائے گی  جس میں امیر اور غریب بچوں کو مساوات ملے گی۔ انتخابات سے صرف چار دن قبل 7 مئی، 2013ء کو ایک فورک لفٹ سے گرنے کے بعد عمران خان کو لاہور میں شوکت خانم ہسپتال لے جایا گیا۔ طبی معائنے کے بعد بتایا گیا کہ عمران خان بخیریت ہیں کوئی تشویش ناک بات نہیں۔ اس سانحے کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کے جلسے منسوخ کر دیے گئے۔[59] عمران خان نے لاہور کے ہسپتال میں لیٹ کر ویڈیو لنک کے ذریعے نے اسلام آباد میں حامیوں کی ایک ریلی سے خطاب کر کے مہم کا اختتام کیا۔

2018ء کے عام انتخابات میں ان کی جماعت پی ٹی آئی نے کامیابی حاصل کی۔

وزیر اعظم پاکستان[ترمیم]

17 اگست 2018ء کو عمران خان 176 ووٹ حاصل کر کے بائیسویں وزیر اعظم پاکستان بن گئے جبکہ ان کے مد مقابل اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے 96 ووٹ حاصل کیے۔[60] انہوں نے 18 اگست 2018ء کو حلف لیا۔[61] 18 اگست، کو انہوں نے بیس رکنی کابینہ کا اعلان کیا اور وزیر داخلہ اور وزیر پاور کا قلمدان خود کے لیے منتخب کیا۔[62] بعد ازاں کابینہ میں توسیع کی گئی اور انہوں نے وزیر پاور کا قلمدان عمر ایوب خان کو سونپ دیا۔

کابینہ[ترمیم]

عمران خان نے حلف لینے کے بعد اپنی کابینہ کا اعلان کر دیا تھا۔ ان کے زیادہ تر مقرر کردہ وزرا پہلے بھی مشرف کے دور میں اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے دور میں خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔[63][64]

فلم[ترمیم]

عمران خان کی جدو جہد پر 2013ء میں ایک فلم کپتان ریلیز ہوئی، جس میں عمران خان کے 1992ء سے لے کر 2013ء تک کے عوامی تبدیلی تک کے ادوار کو دکھایا گیا۔ پاکستان تحریکِ انصاف کی طرف سے واضح کیا گیا کہ مذکورہ فلم کی سرمایہ کاری و پیش کاری کا عمران خان اور اس کی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں اور یہ ایک قطعی غیر وابستہ منصوبہ ہے جو فلم اور میڈيا سے تعلق رکھنے والوں کی طرف سے بنائی گئی ہے۔

تصانیف[ترمیم]

عمران خان نے مندرجہ ذیل کتابیں لکھیں:

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اجازت نامہ: CC0
  2. "The tragedy of Sita, heiress entangled in a murky business"۔ 
  3. "Kaptaan Khan's slog from sports icon to Pakistan's likely new leader"، دنیا نیوز۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 اگست 2018
  4. "Imran Khan: Forever the Kaptaan"، دی ہندو۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 اگست 2018
  5. "وزیر اعظم عمران خان کے متوقع وزرا کے نام سامنے آگئے"۔ 24newshd.tv۔ اخذ کردہ بتاریخ 2018-08-18۔ 
  6. "عمران خان"۔ Sports Around the World: History, Culture, and Practice۔ ABC-CLIO۔ 6 اپریل 2012۔ صفحہ 231۔ آئی ایس بی این 978-1-59884-300-2۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ12 ستمبر 2017 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 30 اگست 2013۔ 
  7. "خان"۔ The Oxford Companion to Pakistani History (پاکستان انگریزی زبان میں)۔ کراچی: مینہ سید، اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس۔ 2012۔ صفحہ 282۔ آئی ایس بی این 978-0-19-547578-4۔ 
  8. Pakistan Test Captaincy record وثق شدہ بتاریخ 1 March 2017 در وے بیک مشین. ای ایس پی این کرک انفو. Retrieved 18 December 2012.
  9. Pakistan Test Captaincy record وثق شدہ بتاریخ 1 March 2017 در وے بیک مشین. Cricinfo. Retrieved 18 December 2012.
  10. "Imran Khan"۔ ای ایس پی این کرک انفو۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ7 February 2014 کو۔ 
  11. "#HappyBirthdayIK: PTI Chairman Imran Khan turns 62"۔ DAWN.COM (Dawn)۔ 5 October 2014۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ7 April 2017 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 October 2016۔ 
  12. Imran Khan (1993)۔ Warrior Race۔ London: Butler & Tanner Ltd۔ آئی ایس بی این 0-7011-3890-4۔ 
  13. Catriona Luke (03 August 2018), "The enigma inside a paradox wrapped in a conundrum", دی فرائیڈے ٹائمز. Retrieved 03 August 2018.
  14. Imran Khan (1993)۔ Warrior Race۔ London: Butler & Tanner Ltd۔ آئی ایس بی این 0-7011-3890-4۔ 
  15. Tim Adams (2 July 2006)۔ "The path of Khan"۔ Guardian (UK)۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ30 August 2013 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 November 2007۔ 
  16. Syed Hamad Ali (23 July 2008)۔ "Pakistan's Dreamer"۔ New Statesman (UK)۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ2 August 2008 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 August 2008۔ 
  17. "Imran Khan ─ from flamboyant cricketer to prime minister"۔ Dawn۔ 18 August 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 September 2018۔ 
  18. "The Interview: Anything he Khan't do?"۔ The Oxford Student۔ 1999۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 November 2007۔ [مردہ ربط]
  19. "Sports: opinion"۔ Outlook magazine۔ اصل سے جمع شدہ 4 January 2013 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 21 July 2008۔ 
  20. Imran Khan (25 February 2003)۔ "Another poor batting display"۔ BBC۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ13 January 2009 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 21 July 2008۔ 
  21. "Big Time cricket on small screen"۔ The Financial Express۔ 3 March 2004۔ 
  22. John Goodbody (10 May 1999)۔ "Sky and BBC join forces for coverage"۔ The Times (UK)۔ 
  23. "All-round records | Cricinfo Statsguru"۔ ESPNcricinfo۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ2 March 2014 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 31 March 2013۔ 
  24. "All-round records | Cricinfo Statsguru"۔ ESPNcricinfo۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ2 March 2014 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 31 March 2013۔ 
  25. "Imran Khan appointed Bradford chancellor"۔ The Guardian (en-GB زبان میں)۔ 2005-11-23۔ آئی ایس ایس این 0261-3077۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ24 December 2016 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 2016-12-23۔ 
  26. "Students want Imran Khan sacked as vice-chancellor of University of Bradford – Times of India"۔ The Times of India۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ21 August 2017 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 2016-12-23۔ 
  27. "Imran made to quit as chancellor of UK University"۔ www.thenews.com.pk۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ24 December 2016 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 2016-12-23۔ 
  28. "Imran Khan resigns as University of Bradford chancellor"۔ BBC News (en-GB زبان میں)۔ 2014-06-02۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ24 December 2016 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 2016-12-23۔ 
  29. "Mr Imran Khan's Statement"۔ عالمی ادارہ صحت۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ24 January 2008 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 November 2007۔ 
  30. Alison Kervin (6 August 2006)۔ "Imran Khan: 'What I do now fulfils me like never before'"۔ The Sunday Times (UK)۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ23 October 2016 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 November 2007۔ 
  31. Alison Kervin (6 August 2006)۔ "Imran Khan: 'What I do now fulfils me like never before'"۔ The Sunday Times (UK)۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ23 October 2016 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 November 2007۔ 
  32. "University delegation goes east to establish new College"۔ بریڈفورڈ یونیورسٹی۔ 22 February 2006۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 November 2007۔ 
  33. "Buksh Foundation partners with Imran Khan Foundation in 'Lighting a Million Lives' project"۔ پاکستان ٹوڈے۔ 19 March 2013۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ23 March 2013 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 19 March 2013۔ 
  34. سچ ٹی وی، 30 اکتوبر 2015، "عمران خان اور ریحام میں طلاق ہو گئی، عمران خان نے تصدیق کر دی"
  35. "Putting to rest: Rumours of third marriage are baseless, says Imran Khan – The Express Tribune"۔ دی ایکسپریس ٹریبیون (امریکی انگریزی زبان میں)۔ 2016-07-13۔ اخذ کردہ بتاریخ 2018-01-06۔ 
  36. "Will celebrate publicly when I get married: Imran Khan – The Express Tribune"۔ دی ایکسپریس ٹریبیون (امریکی انگریزی زبان میں)۔ 2016-07-12۔ اخذ کردہ بتاریخ 2018-01-06۔ 
  37. "Imran Khan marries again?"۔ www.thenews.com.pk (انگریزی زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 جنوری 2018۔ 
  38. "Did Imran Khan secretly get married again? Aides deny media report"۔ ہندوستان ٹائمز (انگریزی زبان میں)۔ 6 جنوری 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 جنوری 2018۔ 
  39. "Imran Khan ties the knot again: report"۔ پاکستان ٹو ڈے۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 جنوری 2018۔ 
  40. شفیق بٹ (3 اگست 2017)۔ "What brings PTI chief to a remote town?"۔ ڈان۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 جنوری 2018۔ 
  41. "PTI denies Imran Khan marriage claims – The Express Tribune"۔ دی ایکسپریس ٹریبیون (امریکی انگریزی زبان میں)۔ 2016-07-13۔ اخذ کردہ بتاریخ 2018-01-06۔ 
  42. "Manika family clears the air on Imran’s third marriage – The Express Tribune"۔ دی ایکسپریس ٹریبیون (امریکی انگریزی زبان میں)۔ 2016-07-14۔ اخذ کردہ بتاریخ 2018-01-06۔ 
  43. "Imran Khan has proposed marriage to Bushra Maneka: PTI"۔ جیو ٹی وی۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 جنوری 2018۔ 
  44. "PTI confirms Imran Khan's marriage with Bushra Maneka"۔ www.geo.tv۔ 18 فروری 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 فروری 2018۔ 
  45. "PTI confirms Imran Khan's marriage to Bushra Manika"۔ ڈان۔ 18 فروری 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 فروری 2018۔ 
  46. "Imran Khan ─ from flamboyant cricketer to prime minister"۔ 17 August 2018۔ 
  47. "Imran Khan ─ from flamboyant cricketer to prime minister"۔ 17 August 2018۔ 
  48. "عمران خان نے 1992ء کا ورلڈ کپ ضیاالحق کے کہنے پر کھیلا | خبریں گروپ Pakistan"۔ dailykhabrain.com.pk (امریکی انگریزی زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 2018-09-17۔ 
  49. "Imran Khan ─ from flamboyant cricketer to prime minister"۔ 17 August 2018۔ 
  50. Tim Adams (2 July 2006)۔ "The path of Khan"۔ The Guardian (London)۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ30 August 2013 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 November 2011۔ 
  51. "Opposition parties may boycott referendum"۔ DAWN.COM (en-US زبان میں)۔ 2002-03-22۔ اخذ کردہ بتاریخ 2018-08-19۔ 
  52. "Candidate details: Imran Khan"۔ Pakistan Elections۔ اصل سے جمع شدہ 26 October 2007 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 November 2007۔ 
  53. "Pakistan MPs in election boycott"۔ BBC۔ 2 October 2007۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ12 January 2009 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 November 2007۔ 
  54. "Imran Khan escapes from house arrest"۔ The Times of India (India)۔ 5 November 2007۔ اصل سے جمع شدہ 6 November 2007 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 November 2007۔ 
  55. "Khan arrested under terror laws as Musharraf defends crackdown" وثق شدہ بتاریخ 1 March 2017 در وے بیک مشین. Walsh, Declan. The Guardian. Published 14 November 2007. Accessed 25 August 2015.
  56. Isambard Wilkinson, Pakistan Correspondent, and Matthew Moore (21 November 2007)۔ "Imran Khan released from prison in Pakistan" – بذریعہ www.telegraph.co.uk۔ (ضرورت رکنیت)۔ 
  57. سڈنی مورننگ ہیرالڈ، 15 نومبر 2007ء، "Always more to Khan than playboy image revealed"
  58. AFP، "Pakistan's Imran Khan on hunger strike: spokesman"
  59. رابرٹ میکی (7 مئی 2013)۔ "Video of Imran Khan' s Fall at Election Rally in Pakistan"۔ نیو یارک ٹائمز۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 مئی 2013۔ 
  60. "PTI chief Imran Khan elected prime minister of Pakistan"۔ جیو نیوز۔ 17 اگست 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 اگست 2018۔ 
  61. نادر گرامانی (18 اگست 2018)۔ "Prime Minister Imran Khan: PTI chairman sworn in as 22nd premier of Pakistan"۔ dawn.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 اگست 2018۔ 
  62. "عمران خان کی وفاقی کابینہ کل حلف اٹھائے گی، اسد عمر"۔ Dailypakistan.com.pk۔ 18 اگست 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 2018-08-18۔ 
  63. "PM Imran Khan’s first cabinet anything but ‘Naya Pakistan’ - Pakistan Today"۔ www.pakistantoday.com.pk۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 اگست 2018۔ 
  64. "PM Imran Khan finalises names of 21-member cabinet"۔ dawn.com۔ 18 اگست 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 اگست 2018۔ 

بیرونی روابط[ترمیم]

کھیلوں کے عہدے
ماقبل 
ظہیر عباس
کپتان پاکستان قومی کرکٹ ٹیم
1982–1983
مابعد 
سرفراز نواز
کپتان پاکستان قومی کرکٹ ٹیم
1985–1987
مابعد 
عبد القادر
ماقبل 
عبد القادر
کپتان پاکستان قومی کرکٹ ٹیم
1989–1992
مابعد 
جاوید میانداد
سیاسی جماعتوں کے عہدے
نیا عہدہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف
1996–تاحال
موجودہ
سیاسی عہدے
ماقبل 
ناصر الملک
(نگران)
پاکستان کے وزرائے اعظم
2018—تا حال
موجودہ
تعلیمی عہدے
ماقبل 
بیرونس لاک ووڈ
چانسلر برائے بریڈفورڈ یونیورسٹی
2005–2014
مابعد 
کیٹ سوان