عمران خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عمران خان
Imran Khan WEF.jpg 

مناصب
چیئرپرسن   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
منصب سنبھالا
25 اپریل 1996 
در پاکستان تحریک انصاف 
چانسلر   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
مدتِ منصب
7 دسمبر 2005  – 2014 
در بریڈفورڈ یونیورسٹی 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png بیٹی لوک ووڈ 
کیٹ شوان  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
رکن قومی اسمبلی پاکستان   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
منصب سنبھالا
11 مئی 2013 
حلقہ حلقہ این اے۔56 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png حنیف عباسی 
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
رکن چودہویں قومی اسمبلی پاکستان   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
منصب سنبھالا
19 جون 2013 
حلقہ حلقہ این اے۔56 
پارلیمانی مدت چودہویں قومی اسمبلی 
معلومات شخصیت
پیدائش 5 اکتوبر 1952 (66 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
رہائش اسلام آباد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
جماعت پاکستان تحریک انصاف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ جمائما گولڈ سمتھ (1995–2004)
ریحام خان (2015–2015)
بشریٰ وٹو (18 فروری 2018–)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
ساتھی سیتا وائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ساتھی (P451) ویکی ڈیٹا پر
تعداد اولاد 2   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعداد اولاد (P1971) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی کیبل کالج
ایچی سن کالج
رائل گرائمر اسکول ووسٹر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان،کرکٹ کھلاڑی،اشرافیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
کھیل کرکٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کھیل (P641) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
وزڈن کرکٹر آف دی ایئر 
Pride of Performance (ribbon).gif تمغائے حسن کارکردگی 
Hilal-i-Imtiaz Pakistan.svg ہلال امتیاز   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی  بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر
عمران خان
Imran Khan WEF.jpg
کرکٹ کی معلومات
بلے بازی دائیں ہاتھ سے بلے بازی (RHB)
گیند بازی دائیں باوو سے تیز گیند بازی
حیثیت آل راؤنڈر
بین الاقوامی کرکٹ
قومی ٹیم
پہلا ٹیسٹ (کیپ 88) 3 جون 1971  بمقابلہ  انگلینڈ
آخری ٹیسٹ 2 جنوری 1992  بمقابلہ  سری لنکا
ایک روزہ پہلا (کیپ 175) 31 اگست 1974  بمقابلہ  انگلینڈ
آخری ایک روزہ 25 مارچ 1992  بمقابلہ  انگلینڈ
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ ایک روزہ ایف سی لسٹ اے
میچ 88 175 382 425
رنز بنائے 3807 3709 17771 10100
بیٹنگ اوسط 37.69 33.41 36.79 33.22
100s/50s 6/18 1/19 30/93 5/66
ٹاپ اسکور 136 102* 170 114*
گیندیں کرائیں 19458 7461 65224 19122
وکٹ 362 182 1287 507
بالنگ اوسط 22.81 26.61 22.32 22.31
اننگز میں 5 وکٹ 23 1 70 6
میچ میں 10 وکٹ 6 0 13 0
بہترین بولنگ 8/58 8/58 8/34 6/14
کیچ/سٹمپ 28/0 36/0 117/0 84/0
ماخذ: ای ایس پی این کرک انفو, 5 نومبر 2014

عمران خان (پیدائش نام: عمران خان نیازی) پاکستانی سیاست دان اور سابق کرکٹ کھلاڑی ہیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان، شوکت خانم میموریل ہسپتال کے بانی اور تحریک انصاف کے سربراہ، لاہور میں 25 نومبر، 1952ء میں اکرام اللہ خان کے گھر پیدا ہوئے۔ وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے 1971ء سے 1992ء تک کھیلتے رہے۔

ذاتی زندگی و تعلیم

عمران کی پیدائش 25 نومبر، 1952ء کو لاہور پاکستان میں ہوئی۔ وہ پشتونوں کے مشہور قبیلے نیازی سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن ان کی والدہ شوکت خانم صاحبہ زیادہ تر میانوالی میں سکونت پزیر رہیں۔ وہ اکرام اللہ خان نیازی کے اکلوتے بیٹے ہیں۔ عمران خان نے ابتدائی تعلیم لاہور میں کیتھیڈرل اسکول اور ایچیسن کالج، لاہور سے حاصل کی، اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے۔ وہاں رائل گرائمر اسکول میں تعلیم حاصل کی اور پھر اوکسفرڈ یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ وہ 1974ء میں اوکسفرڈ یونیورسٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی رہے۔

کرکٹ

عمران خان نے کرکٹ کے جہان میں بھی اپنا ایک اعلیٰ مقام بنایا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس وقت وہ سیاست کی بجائے کرکٹ کے حوالے سے زیادہ متعارف کرائے جاتے ہیں۔ انہیں کی قیادت میں پاکستان نے 1992ء میں عالمی کرکٹ کپ جیتا تھا۔ فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز 1969ء - 1970ء میں لاہور کی طرف سے سرگودھا کے خلاف کھیلتے ہوئے کیا۔ 1971ء میں انگلستان کے خلاف پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔

کرکٹ ریکارڈ

ٹیسٹ ریکارڈ

انہوں نے 88 ٹیسٹ میچ کھیل کر 362 وکٹیں 22.81 کی اوسط سے حاصل کیں۔ 1981ء-1982ء میں لاہور میں سری لنکا کے 8 کھلاڑی صرف 58 رنز دے کر آؤٹ کیے۔ اور 23 مرتبہ ایک اننگز میں 5 وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے 36.69 کی اوسط سے 3807 رنز بنائے جن میں سے 5 سنچریاں بھی شامل ہیں۔ ان کا زیادہ سے زیادہ سکور ایڈی لینڈ میں 1991ء میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلتے ہوئے 132 رنز رہا۔ ان کا شمار پاکستان کرکٹ کے کامیاب ترین کپتانوں میں ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے وہ پاکستان کے پہلے کپتان تھے جن کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے بھارت کو بھارت اور انگلستان کو انگریزی سرزمیں میں ہرایا۔ بطور کپتان انہوں نے 48 ٹیسٹ میچ کھیلے جن میں سے 14 جیتے اور 8 ہارے اور 26 برابر یا بغیر کسی نتیجے سے ختم ہوئے۔

ون ڈے ریکارڈ

پاکستانی کرکٹ ٹیم نے 1992ء میں ان کی قیادت میں کھیلتے ہوئے پانچواں کرکٹ عالمی کپ جیتا۔ یہ اعزاز ابھی تک پاکستان صرف ایک دفعہ ہی حاصل کر سکا ہے۔ انھوں نے 175 ایک روزہ میچوں میں حصہ لیا۔ اور 182 وکٹیں حاصل کیں۔ 3709 رنز 33.41 کی اوسط سے بنائے۔ ان کا زیادہ سے زیادہ سکور 102 ناٹ آؤٹ تھا جو انھوں نے سری لنکا کے خلاف 1983ء میں کھیلتے ہوئے بنائے۔ ان کی قیادت میں 139 ایک روزہ میچ کھیلے گئے جن میں سے 77 جیتے 57 ہارے، چار بے نتیجہ رہے جبکہ 1 میچ برابر رہا۔

  • انہوں نے مجموعی طور پر 5 عالمی کرکٹ کپ میں حصہ لیا جو 1975ء، 1979ء، 1983ء، 1987ء اور 1992ء میں منعقد ہوئے۔

ذاتی زندگی اور سماجی کام

شوکت خانم میموریل اسپتال

عالمی کرکٹ کپ منعقدہ 1992ء کے بعد بین الااقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی۔ اس کے بعد سماجی کاموں میں حصہ لینا شروع کیا۔ انہوں نے کینسر کے مریضوں کے لیے لاہور میں ایشیا کا سب سے بڑا اسپتال شوکت خانم میموریل اسپتال ایک ٹرسٹ کے ذریعے قائم کیا۔ عمران خان پاکستانی عوام کو اس اسپتال کا بانی قرار دیتے ہیں۔

قومی اور بین الااقوامی ایواڈز

انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے صدراتی ایوارڈ بھی ملا۔ علاوہ ازیں 1992ء میں انسانی حقوق کا ایشیا ایوارڈ اور ہلال امتیاز (1992ء) میں عطا ہوئے۔ آپ ابھی بریڈفورڈ یونیورسٹی، برطانیہ (University of Bradford) کے چانسلر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

جمائما خان سے شادی

جمائما خان عمران خان کے ساتھ ایک سیاسی جلسہ میں شریک ہیں

1995ء میں عمران خان نے مرحوم برطانوی ارب پتی تاجر سر جیمز گولڈ سمتھ کی بیٹی، جمائما گولڈ سمتھ سے شادی کی۔ جمائما گولڈ سمتھ نے شادی سے پہلے اسلام قبول کر لیا اور ان کا اسلامی نام جمائما خان ہے۔ اس شادی کا شہرہ پوری دنیا میں ہوا اور عالمی میڈیا نے اس کو خصوصی اہمیت دی۔ 22 جون، 2004ء کو انہوں نے طلاق کا اعلان کیا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی مصروف زندگی کی وجہ سے انہیں وقت نہیں دے پاتے تھے۔

ریحام خان سے شادی

8 جنوری، 2015ء کو عمران خان برطانوی و پاکستانی صحافی ریحام خان کے ساتھ رشتہِ ازدواج میں بندھ گئے۔ 30 اکتوبر، 2015ء کو دونوں نے طلاق کی کارروائی شروع کرنے کی تصدیق کر دی۔[2]

بشری وٹو سے شادی

2017ء کے اواخر اور 2018ء کے آغاز میں کئی خبریں آئیں کہ عمران خان نے اپنی روحانی پیشوا بشری وٹو سے شادی کر لی ہے۔ تاہم عمران خان [3][4] تحریک انصاف کے دیگر افراد [5][6][7] اور مانیکا خاندان نے اس افواہ کی نفی کی۔[8][9][10] 7 جنوری 2018ء کو پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹریٹ نے ایک بیان جاری کیا کہ عمران خان نے بشری وٹو کو شادی کے لیے پیغام دیا ہے تاہم ابھی اسے قبول نہیں کیا گیا۔[11] 18 فروری 2018ء کو، پی ٹی آئی نے تصدیق کی کہ عمران خان نے بشری وٹو سے شادی کر لی ہے۔[12][13]

سیاسی زندگی

25 اپریل، 1996ء کو تحریک انصاف قائم کرکے سیاسی میدان میں قدم رکھا۔ ابتدائی طور پر انہیں کامیابی نہ مل سکی۔ لیکن حالیہ دنوں میں وہ اپنی جدوجہد اور اصول پرستی کی بدولت پاکستانی عوام، خصوصاً نوجوانوں میں تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔ اس وقت ان کی سیاسی جماعت کو پاکستان پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں 32، ایوان بالا میں 7، صوبائی اسمبلی سندھ میں 4، صوبائی سمبلی پنجاب میں 30 اور صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا میں 59 نشستیں حاصل ہیں۔

3 نومبر، 2007ء کو فوجی آمر پرویز مشرف کے "ہنگامی حالت" کے اعلان کے بعد آپ کو نظربند کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم وہ پولیس کو جُل دے کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔[14] 14 نومبر کو پولیس نے انھیں گرفتار کر لیا۔ انتظامیہ کے مطابق ان پر "دہشت گردی" قانون کے تحت مقدمہ بنایا جائے گا۔ عمران نے کہا ہے کہ ان کی زندگی اور کراچی میں تحریک انصاف کے کارکنوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے کیونکہ برطانوی حکومت نے متحدہ قومی موومنٹ کے لندن میں مقیم سربراہ الطاف حسین کے خلاف کوئی قدم نہیں اُٹھایا جس سے یہ لوگ شیر ہو کر تشدد کی کارروائی کر سکتے ہیں۔ عمران خان متحدہ قومی موومنٹ اور اس کے قائد الطاف حسین کے خلاف الزامات تو لگاتے رہے اور یہ دعویٰ کرتے رہے کہ وہ الطاف حسین کے خلاف ثبوت لیکر لندن جائیں گے۔ وہ گئے بھی لیکن اپنے الزامات کو کسی عدالت میں کبھی ثابت نہ کرسکے ۔[15] دنیا بھر کی اخبارات نے عمران کی فوجی آمر پرویز مشرف کے خلاف جدوجہد کو سراہا ہے۔ لیکن یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ پرویز مشرف سے وزارت عظمی کا منصب طلب کر رہے تھے اور جب اُنہیں انکار کر دیا گیا تو وہ پرویز مشرف کے خلاف ہو گئے[16] 18 نومبر کو عمران خان نے ڈیرہ غازی خان جیل میں بھوک ہڑتال شروع کی۔[17] 22 نومبر کو اچانک رہا کر دیا گیا۔

فلم

عمران خان کی جدو جہد پر 2013ء میں ایک فلم کپتان ریلیز ہوئی، جس میں عمران خان کے 1992ء سے لے کر 2013ء تک کے عوامی تبدیلی تک کے ادوار کو دکھایا گیا۔ پاکستان تحریکِ انصاف کی طرف سے واضح کیا گیا کہ مذکورہ فلم کی سرمایہ کاری و پیش کاری کا عمران خان اور اس کی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں اور یہ ایک قطعی غیر وابستہ منصوبہ ہے جو فلم اور میڈيا سے تعلق رکھنے والوں کی طرف سے بنائی گئی ہے۔

انتخابی مہم میں زخمی

انتخابات سے صرف چار دن قبل 7 مئی،2013ء کو ایک فورک لفٹ سے گرنے کے بعد عمران خان کو لاہور میں شوکت خانم ہسپتال لے جایا گیا۔ طبی معائنے کے بعد بتایا گیا کہ عمران خان بخریت ہیں کوئی تشویش ناک بات نہیں۔ اس سانحے کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کے جلسے منسوخ کر دیے گئے۔[18]

خود نوشت

عمران خان نے اپنی زندگی پر دو کتابیں لکھیں:

  • Warrior Race: A Journey Through the Land of the Tribal Pathans[19]
  • پاکستان: آ پرسنل ہسٹری [20][21]

حوالہ جات

  1. اجازت نامہ: سی سی زیرو
  2. سچ ٹی وی، 30 اکتوبر 2015، "عمران خان اور ریحام میں طلاق ہو گئی، عمران خان نے تصدیق کر دی"
  3. "Putting to rest: Rumours of third marriage are baseless, says Imran Khan – The Express Tribune"۔ The Express Tribune (en-US زبان میں)۔ 2016-07-13۔ اخذ کردہ بتاریخ 2018-01-06۔ 
  4. "Will celebrate publicly when I get married: Imran Khan – The Express Tribune"۔ The Express Tribune (en-US زبان میں)۔ 2016-07-12۔ اخذ کردہ بتاریخ 2018-01-06۔ 
  5. "Imran Khan marries again?"۔ www.thenews.com.pk (en زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 جنوری 2018۔ 
  6. "Did Imran Khan secretly get married again? Aides deny media report"۔ hindustantimes.com/ (en زبان میں)۔ 6 جنوری 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 جنوری 2018۔ 
  7. "Imran Khan ties the knot again: report"۔ www.pakistantoday.com.pk۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 جنوری 2018۔ 
  8. Butt، Shafiq (3 اگست 2017)۔ "What brings PTI chief to a remote town?"۔ DAWN.COM۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 جنوری 2018۔ 
  9. "PTI denies Imran Khan marriage claims – The Express Tribune"۔ The Express Tribune (en-US زبان میں)۔ 2016-07-13۔ اخذ کردہ بتاریخ 2018-01-06۔ 
  10. "Manika family clears the air on Imran’s third marriage – The Express Tribune"۔ The Express Tribune (en-US زبان میں)۔ 2016-07-14۔ اخذ کردہ بتاریخ 2018-01-06۔ 
  11. "Imran Khan has proposed marriage to Bushra Maneka: PTI"۔ www.geo.tv۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 جنوری 2018۔ 
  12. "PTI confirms Imran Khan's marriage with Bushra Maneka"۔ www.geo.tv۔ 18 فروری 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 فروری 2018۔ 
  13. "PTI confirms Imran Khan's marriage to Bushra Manika"۔ DAWN.COM۔ 18 فروری 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 فروری 2018۔ 
  14. روزنامہ نیشن، 10 نومبر 2007ء، "Police ring Imran Khan's cancer hospital"
  15. انڈیپنڈنٹ، 15 نومبر 2007ء، "Imran Khan's message to UK: 'My life is in danger' "
  16. سڈنی مورننگ ہیرالڈ، 15 نومبر 2007ء، "Always more to Khan than playboy image revealed"
  17. AFP، "Pakistan's Imran Khan on hunger strike: spokesman"
  18. Mackey، Robert (7 مئی 2013)۔ "Video of Imran Khan' s Fall at Election Rally in Pakistan"۔ نیو یارک ٹائمز۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 مئی 2013۔ 
  19. Warrior Race: A Journey Through the Land of the Tribal Pathans۔ 1993۔ آئی ایس بی این 978-0-7011-3890-5۔ 
  20. Pakistan: A Personal History۔ 2011۔ آئی ایس بی این 978-0-593-06774-1۔ 
  21. "Pakistan: A Personal History by Imran Khan"۔ انڈپنڈنٹ۔ 23 ستمبر 2011۔ اخذ کردہ بتاریخ 19 نومبر 2011۔ 

مزید پڑھیے

بیرونی روابط

کھیلوں میں عہدے
ماقبل 
ظہیر عباس
کپتان پاکستان قومی کرکٹ ٹیم
1982–1983
مابعد 
سرفراز نواز
کپتان پاکستان قومی کرکٹ ٹیم
1985–1987
مابعد 
عبد القادر
ماقبل 
عبد القادر
کپتان پاکستان قومی کرکٹ ٹیم
1989–1992
مابعد 
جاوید میانداد
سیاسی جماعتوں کے عہدے
نیا عہدہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف
1996–تاحال
موجودہ
تعلیمی دفاتر
ماقبل 
بارونس لوک ووڈ
چانسلر برائے بریڈفورڈ یونیورسٹی
2005–present
موجودہ