عمران خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
عمران خان
ایم این اے
Imran Khan WEF.jpg
کرسی نشین پاکستان تحریک انصاف
دفتر سنبھالا
25 اپریل 1996
ڈپٹی شاہ محمود قریشی
پیشرو Position established
رکن قومی اسمبلی پاکستان
دفتر سنبھالا
11 مئی 2013
پیشرو حنیف عباسی
حلقہ حلقہ این اے۔56
عہدہ سنبھالا
10 اکتوبر 2002 – 3 نومبر 2007
پیشرو Constituency established
جانشین نوابزادہ ملک احمد خان
حلقہ حلقہ این اے۔71
چانسلر بریڈفورڈ یونیورسٹی
عہدہ سنبھالا
7 دسمبر 2005 – 2014
پیشرو The Baroness Lockwood
جانشین Kate Swann
ذاتی تفصیلات
پیدائش عمران خان نیازی
5 اکتوبر 1952 (1952-10-05) ‏(64)[1]
لاہور، پنجاب، پاکستان
قومیت پاکستان
سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف
شریک حیات ریحام خان (شادی. 2015–15)،
جمائما گولڈ سمتھ (شادی. 1995–2004)
اولاد 2
مادر علمی Keble College, Oxford
پیشہ
مذہب اسلام
عرفیت کیپٹن/کپتان، آئی کے
عمران خان
کرکٹ معلومات
بلے بازی انداز دائیں ہاتھ سے بلے باز (RHB)
گیند بازی انداز دائیں باوو سے تیز گیند بازی
کردار آل راؤنڈر
بین الاقوامی معلومات
قومی ٹیم
ٹیسٹ آغاز (کیپ 88) 3 جون 1971 بمقابلہ انگلینڈ
آخری ٹیسٹ 2 جنوری 1992 بمقابلہ سری لنکا
ایک روزہ بین الاقوامی آغاز (کیپ 175) 31 اگست 1974 بمقابلہ انگلینڈ
آخری ایک روزہ بین الاقوامی 25 مارچ 1992 بمقابلہ انگلینڈ
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ ایک روزہ ایف سی لسٹ اے
میچ 88 175 382 425
رنز بنائے 3807 3709 17771 10100
بیٹنگ اوسط 37.69 33.41 36.79 33.22
100s/50s 6/18 1/19 30/93 5/66
ٹاپ اسکور 136 102* 170 114*
گیندیں کرائیں 19458 7461 65224 19122
وکٹ 362 182 1287 507
بالنگ اوسط 22.81 26.61 22.32 22.31
اننگز میں 5 وکٹ 23 1 70 6
میچ میں 10 وکٹ 6 0 13 0
بہترین بولنگ 8/58 6/14 8/34 6/14
کیچ/سٹمپ 28/0 36/0 117/0 84/0
ماخذ: ای ایس پی این کرک انفو، 5 نومبر 2014

عمران خان (پیدائش بطور عمران خان نیازی) پاکستانی سیاست دان اور سابق کرکٹر ہیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان، شوکت خانم میموریل ہسپتال کے بانی اور تحریک انصاف کے سربراہ، لاہور میں 25 نومبر، 1952ء میں اکرام اللہ خان کے گھر پیدا ہوئے۔ وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے 1971ء سے 1992ء تک کھیلتے رہے۔

ذاتی زندگی

آپ کی پیدائش لاہور میں ہوئی۔ آپ پشتونوں کے مشہور قبیلے نیازی سے ہیں۔لیکن آپ کی والدہ شوکت خانم صاحبہ زیادہ تر میانوالی میں رہیں۔ آپ اکرام اللہ خان کے اکلوتے بیٹے ہیں۔ عمران خان نے ابتدائی تعلیم لاہور میں کیتھیڈرل اسکول اور ایچیسن کالج، لاہور سے حاصل کی اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے۔ وہاں رائل گرائمر اسکول میں پڑھا اور پھر اوکسفرڈ یونیورسٹی سے ایم اے سیاسیات کیا۔ آپ 1974ء میں اوکسفرڈ یونیورسٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی رہے۔

کرکٹ

عمران خان نے کرکٹ کے جہان میں بھی اپنا ایک اعلیٰ مقام بنایا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس وقت وہ سیاست کی بجائے کرکٹ کے حوالے سے زیادہ متعارف کرائے جاتے ہیں۔ آپ ہی کے قیادت میں پاکستان نے 1992ء میں عالمی کرکٹ کپ جیتا تھا۔ فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز 1969ء - 1970ء میں لاہور کی طرف سے سرگودھا کے خلاف کھیلتے ہوئے کیا۔ 1971ء میں انگلستان کے خلاف پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔

کرکٹ ریکارڈ

ٹیسٹ ریکارڈ

انہوں نے 88 ٹیسٹ میچ کھیل کر 362 وکٹیں 22.81 کی اوسط سےحاصل کیں۔ 1981ء-1982ء میں لاہور میں سری لنکا کے 8 کھلاڑی صرف 58 رنز دے کر آؤٹ کیے۔ اور 23 مرتبہ ایک اننگز میں 5 وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے 36.69 کی اوسط سے 3807 رنز بنائے جن میں سے 5 سنچریاں بھی شامل ہیں۔ ان کا زیادہ سے زیادہ سکور ایڈی لینڈ میں 1991ء میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلتے ہوئے 132 رنز رہا۔ ان کا شمار پاکستان کرکٹ کے کامیاب ترین کپتانوں میں ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے وہ پاکستان کے پہلے کپتان تھے جن کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے بھارت کو بھارت اور انگستان کو انگریزی سرزمیں میں ہرایا۔ بطور کپتان انھوں نے 48 ٹیسٹ میچ کھیلے جن میں سے 14 جیتے اور 8 ہارے اور 26 برابر یا بغیر کسی نتیجے سے ختم ہوئے۔

ون ڈے ریکارڈ

پاکستانی کرکٹ ٹیم نے 1992ء میں ان کی قیادت میں کھیلتے ہوئے پانچواں کرکٹ عالمی کپ جیتا۔ یہ اعزاز ابھی تک پاکستان صرف ایک دفعہ ہی حاصل کر سکا ہے۔ انھوں نے 175 ایک روزہ میچوں میں حصہ لیا۔ اور 182 وکٹیں حاصل کیں۔ 3709 رنز 33.41 کی اوسط سے بنائے۔ ان کا زیادہ سے زیادہ سکور 102 ناٹ آؤٹ تھا جو انھوں نے سری لنکا کے خلاف 1983ء میں کھیلتے ہوئے بنائے۔ ان کی قیادت میں 139 ایک روزہ میچ کھیلے گئے جن میں سے 77 جیتے 57 ہارے، چار بے نتیجہ رہے جبکہ 1 میچ برابر رہا۔

  • اُنھوں نے مجموعی طور پر 5 عالمی کرکٹ کپ میں حصہ لیا جو 1975ء، 1979ء، 1983ء، 1987ء اور 1992ء میں منعقد ہوئے۔

ذاتی زندگی اور سماجی کام

شوکت خانم میموریل اسپتال

عالمی کرکٹ کپ منعقدہ 1992ء کے بعد بین الااقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی۔ اس کے بعد سماجی کاموں میں حصہ لینا شروع کیا۔ آپ نے کینسر کے مریضوں کے لیے ایشیا کا سب سے بڑا اسپتال شوکت خانم میموریل اسپتال، لاہور ایک ٹرسٹ کے ذریعے قائم کیا۔ عمران خان پاکستانیوں کو اس اسپتال کا بانی قرار دیتے ہیں۔

قومی اور بین الااقوامی ایواڈز

انھیں حکومت پاکستان کی جانب سے صدراتی ایوارڈ بھی ملا۔ علاوہ ازیں 1992ء میں انسانی حقوق کا ایشیا ایوارڈ اور ہلال امتیاز (1992ء) میں عطا ہوئے۔ آپ ابھی بریڈفورڈ یونیورسٹی، برطانیہ (University of Bradford) کے چانسلر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

جمائما خان سے شادی

جمائما خان عمران خان کے ساتھ ایک سیاسی جلسہ میں شریک ہیں

1995ء میں عمران خان نے مرحوم برطانوی ارب پتی، سر جیمز گولڈ سمتھ کی بیٹی، جیمیما گولڈ سمتھ سے شادی کی۔ جیمیا گولڈ سمتھ نے شادی سے پہلے اسلام قبول کر لیا اور ان کا اسلامی نام جمائما خان ہے۔ اس شادی کا شہرہ پوری دنیا میں ہوا اور عالمی میڈیا نے اس کو خصوصی اہمیت دی۔ 22 جون، 2004ء کو انھوں نے طلاق کا اعلان کیا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی مصروف زندگی کی وجہ سے انھیں وقت نہیں دے پاتے تھے۔

ریحام خان سے شادی

8 جنوری، 2015ء کو عمران خان برطانوی و پاکستانی صحافی ریحام خان کے ساتھ رشتہِ ازدواج میں بندھ گئے۔ 30 اکتوبر، 2015ء کو دونوں نے طلاق کی کارروائی شروع کرنے کی تصدیق کر دی۔[2]

سیاسی زندگی

25 اپریل، 1996ء کو تحریک انصاف قائم کرکے سیاسی میدان میں قدم رکھا۔ ابتدائی طور پر انھیں کامیابی نہ مل سکی۔ لیکن حالیہ دنوں میں وہ اپنی جدوجہد اور اصول پرستی کی بدولت پاکستانی عوام، خصوصاً نوجوانوں میں تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔ اس وقت انہیں پاکستان کی قومی اسمبلی میں ایک سیٹ (0.8%) حاصل ہے جبکہ ان کی جماعت کو ایک سیٹ سرحد صوبائی اسمبلی میں بھی میسر ہے۔

3 نومبر، 2007ء کو فوجی آمر پرویز مشرف کے "ہنگامی حالت" کے اعلان کے بعد آپ کو نظربند کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم وہ پولیس کو جُل دے کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔[3] 14 نومبر کو پولیس نے انھیں گرفتار کر لیا۔ انتظامیہ کے مطابق ان پر "دہشت گردی" قانون کے تحت مقدمہ بنایا جائے گا۔ عمران نے کہا ہے کہ ان کی زندگی اور کراچی میں تحریک انصاف کے کارکنوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے کیونکہ برطانوی حکومت نے متحدہ قومی موومنٹ کے لندن میں مقیم سربراہ الطاف حسین کے خلاف کوئی قدم نہیں اُٹھایا جس سے یہ لوگ شیر ہو کر تشدد کی کارروائی کر سکتے ہیں۔عمران خان متحدہ قومی موومنٹ اور اسکے قائد الطاف حسین کے خلاف الزامات تو لگاتے رہے اور یہ دعویٰ کرتے رہے کہ وہ الطاف حسین کے خلاف ثبوت لیکر لندن جائیں گے۔ وہ گئے بھی لیکن اپنے الزامات کو کسی عدالت میں کبھی ثابت نہ کرسکے ۔[4] دنیا بھر کی اخبارات نے عمران کی فوجی آمر پرویز مشرف کے خلاف جدوجہد کو سراہا ہے۔لیکن یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ پرویز مشرف سے وزارت عظمی کا منصب طلب کررہے تھے اور جب اُنہیں انکار کردیا گیا تو وہ پرویز مشرف کے خلاف ہوگئے[5] 18 نومبر کو عمران خان نے ڈیرہ غازی خان جیل میں بھوک ہڑتال شروع کی۔[6] 22 نومبر کو اچانک رہا کر دیا گیا۔

فلم

عمران خان کی جدو جہد پر 2013ء میں ایک فلم کپتان ریلیز ہوئی، جس میں عمران خان کے 1992ء سے لے کر 2013ء تک کے عوامی تبدیلی تک کے ادوار کو دکھایا گیا۔ پاکستان تحریکِ انصاف کی طرف سے واضح کیا گیا کہ مذکورہ فلم کی سرمایہ کاری و پیش کاری کا عمران خان اور اس کی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں اور یہ ایک قطعی غیر وابستہ منصوبہ ہے جو فلم اور میڈيا سے تعلق رکھنے والوں کی طرف سے بنائی گئی ہے۔

انتخابی مہم میں زخمی

انتخابات سے صرف چار دن قبل 7 مئی،2013ء کو ایک فورک لفٹ سے گرنے کے بعد عمران خان کو لاہور میں شوکت خانم ہسپتال لے جایا گیا۔ طبی معائنے کے بعد بتایا گیا کہ عمران خان بخریت ہیں کوئی تشویش ناک بات نہیں۔ اس سانحے کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کے جلسے منسوخ کر دیے گئے۔ [7]

خود نوشت

عمران خان نے اپنی زندگی پر دو کتابیں لکھیں:

  • Warrior Race: A Journey Through the Land of the Tribal Pathans[8]
  • پاکستان: آ پرسنل ہسٹری [9][10]

حوالہ جات

  1. "#HappyBirthdayIK: PTI Chairman Imran Khan turns 62". DAWN.COM (Dawn). 5 اکتوبر 2014. http://www.dawn.com/news/1136414/happybirthdayik-pti-chairman-imran-khan-turns-62۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 اکتوبر 2016. 
  2. سچ ٹی وی، 30 اکتوبر 2015، "عمران خان اور ریحام میں طلاق ہوگئی، عمران خان نے تصدیق کر دی"
  3. روزنامہ نیشن، 10 نومبر 2007ء، "Police ring Imran Khan's cancer hospital"
  4. انڈیپنڈنٹ، 15 نومبر 2007ء، "Imran Khan's message to UK: 'My life is in danger' "
  5. سڈنی مورننگ ہیرالڈ، 15 نومبر 2007ء، "Always more to Khan than playboy image revealed"
  6. AFP، "Pakistan's Imran Khan on hunger strike: spokesman"
  7. Mackey، Robert (7 مئی 2013). "Video of Imran Khan' s Fall at Election Rally in Pakistan". نیو یارک ٹائمز. اخذ کردہ بتاریخ 4 مئی 2013. 
  8. Warrior Race: A Journey Through the Land of the Tribal Pathans. 1993. 
  9. Pakistan: A Personal History. 2011. 
  10. "Pakistan: A Personal History by Imran Khan". انڈپنڈنٹ. 23 ستمبر 2011. http://www.independent.co.uk/arts-entertainment/books/reviews/pakistan-a-personal-history-by-imran-khan-2359195.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 19 نومبر 2011. 

مزید مطالعہ

بیرونی روابط

کھیلوں میں عہدے
پیشرو 
ظہیر عباس
فہرست پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان
1982–1983
جانشین 
سرفراز نواز
فہرست پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان
1985–1987
جانشین 
Abdul Qadir
پیشرو 
Abdul Qadir
فہرست پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان
1989–1992
جانشین 
جاوید میانداد
سیاسی جماعتوں کے عہدے
نیا عہدہ Chairman of پاکستان تحریک انصاف
1996–تاحال
موجودہ
تعلیمی دفاتر
پیشرو 
The Baroness Lockwood
Chancellor of the بریڈفورڈ یونیورسٹی
2005–present
موجودہ

سانچہ:World Series Cricket World XI Squad سانچہ:NSW Squad 1984–85 Sheffield Shield Champions