عمران خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
عمران خان نیازی


پیدائش 25 نومبر 1952 (1952-11-25) ‏(62)
میانوالی
سیاسی جماعت تحریک انصاف
ازواج جمائما خان (1995 - 2004)
ریحام خان (2015 - تاحال)
بچے 2 (سلیمان اور قاسم خان)
سکونت لاہور
پیشہ سیاستدان، فلاحی، کرکٹر
مذہب اسلام
ویب سائٹ http://www.insaf.pk/
عمران خان
Imrankhanwithcup.jpg
پاکستان.svg.png پاکستان
ذاتی معلومات
اصل نام عمران خان
تاریخ پیدائش 25 اگست 1952 (1952-08-25) ‏(62)
لاہور, پاکستان
کردار آل راؤنڈر
طریقہ بلےبازی دائیں ہاتھ سے
طریقہ گیندبازی تیز رائٹ آرم
بین الاقوامی کرکٹ
پہلا ٹیسٹ (کیپ 65) 3 جون 1971: بمقابلہ برطانیہ
آخری ٹیسٹ 2 جنوری 1992: بمقابلہ سری لنکا
پہلا ایک روزہ (کیپ 12) 31 اگست 1974: بمقابلہ برطانیہ
آخری ایک روزہ 25 مارچ 1992:  v برطانیہ
کیریئر شماریات
فرسٹ کلاس ایک روزہ ٹیسٹ
کل میچ 382 175 88
کل دوڑیں 17771 3709 3807
اوسط بلے بازی 36.79 33.41 37.69
50/100 30 / 93 1 / 19 6 / 18
بہترین اسکور 170 *102 136
کل گیند کرائے 65224 7461 19458
وکٹ 1287 182 362
اوسط گیند بازی 22.32 26.61 22.81
5 وکٹ 70 1 23
10 وکٹ 13 -- 6
بہترین گیند بازی 8/34 6/14 8/58
کیچ/سٹمپ 117 / -- 36 / -- 28 / --

آخری ترمیم 3 جنوری, 2008
حوالہ: [1]

عمران خان (پیدائش بطور عمران خان نیازی) پاکستانی سیاست دان اور سابق کرکٹر ہیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان، شوکت خانم میموریل ہسپتال کے بانی اور تحریک انصاف کے سربراہ، لاہور میں 25 نومبر 1952میں اکرام اللہ خان کے گھر پیدا ہوئے۔ وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کیلیے 1971ء سے 1992ء تک کھیلتے رہے۔

ذاتی زندگی

آپ کی پیدائش لاہور کے شہر میں ہوئی۔ آپ پشتونوں کے مشہور قبیلے نیازی سے ہے،لیکن آپ کی والدہ شوکت خانم صاحبہ زیادہ تر میانوالی میں رہیں۔ آپ اکرام اللہ خان کے اکلوتے بیٹے ہیں۔ عمران خان نے ابتداائی تعلیم لاہور میں کیتھیڈرل سکول اور ایچیسن کالج، لاہور سے حاصل کی اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے۔ وہاں رائل گرائمر سکول میں پڑھا اور پھر اوکسفرڈ یونیورسٹی سے ایم اے سیاسیات کیا۔ آپ 1974ء میں اوکسفرڈ یونیورسٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی رہے۔

کرکٹ

عمران خان نے کرکٹ کے جہان میں بهی اپنا ایک اعلیٰ مقام بنایا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس وقت وہ سیاست کی بجائے کرکٹ کے حوالے سے زیادہ متعارف کرائے جاتے ہیں۔ آپ ہی کے قیادت میں پاکستان نے 1992ء میں عالمی کرکٹ کپ جیتا تھا۔ فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز 1969-1970 میں لاہور کی طرف سے سرگودھا کے خلاف کھیلتے ہوئے کیا۔ 1971ء میں انگلستان کے خلاف پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔

کرکٹ ریکارڈ

ٹیسٹ ریکارڈ

انہوں نے 88 ٹیسٹ میچ کھیل کر 362 وکٹیں 22.81 کی اوسط سےحاصل کیں۔ 1981ء-1982ء میں لاہور میں سری لنکا کے 8 کھلاڑی صرف 58 رنز دے کر آؤٹ کیے۔ اور 23 مرتبہ ایک اننگز میں 5 وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے 36.69 کی اوسط سے 3807 رنز بنائے جن میں سے 5 سنچریاں بھی شامل ہیں۔ ان کا زیادہ سے زیادہ سکور ایڈی لینڈ میں 1991ء میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلتے ہوئے 132 رنز رہا۔ ان کا شمار پاکستان کرکٹ کے کامیاب ترین کپتانوں میں ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے وہ پاکستان کے پہلے کپتان تھے جن کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے بھارت کو بھارت اور انگستان کو انگریزی سرزمیں میں ہرایا۔ بطور کپتان انھوں نے 48 ٹیسٹ میچ کھیلے جن میں سے 14 جیتے اور 8 ہارے اور 26 برابر یا بغیر کسی نتیجے سے ختم ہوئے۔

ون ڈے ریکارڈ

پاکستانی کرکٹ ٹیم نے 1992ء میں ان کی قیادت میں کھیلتے ہوئے پانچواں کرکٹ عالمی کپ جیتا۔ یہ اعزاز ابھی تک پاکستان صرف ایک دفعہ ہی حاصل کر سکا ہے۔ انھوں نے 175 ایک روزہ میچوں میں حصہ لیا۔ اور 182 وکٹیں حاصل کیں۔ 3709 رنز 33.41 کی اوسط سے بنائے۔ ان کا زیادہ سے زیادہ سکور 102 ناٹ آؤٹ تھا جو انھوں نے سری لنکا کے خلاف 1983ء میں کھیلتے ہوئے بنائے۔ ان کی قیادت میں 139 ایک روزہ میچ کھیلے گئے جن میں سے 77 جیتے 57 ہارے، چار بے نتیجہ رہے جبکہ 1 میچ برابر رہا۔

  • اُنھوں نے مجموعی طور پر 5 عالمی کرکٹ کپ میں حصہ لیا جو کہ 1975ء، 1979ء، 1983ء، 1987ء اور 1992ء میں منعقد ہوئے۔

ذاتی زندگی اور سماجی کام

شوکت خانم میموریل اسپتال

عالمی کرکٹ کپ معقدہ 1992ء کے بعد بین الااقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی۔ اس کے بعد سماجی کاموں میں حصہ لینا شروع کیا۔ آپ نے کینسر کے مریضوں کے لیے ایشیا کا سب سے بڑا اسپتال شوکت خانم میموریل اسپتال، لاہور ایک ٹرسٹ کے ذریعے قائم کیا۔ عمران خان پاکستانیوں کو اس اسپتال کا بانی قرار دیتے ہیں۔

قومی اور بین الااقوامی ایواڈز

انھیں حکومت پاکستان کی جانب سے صدراتی ایوارڈ بھی ملا۔ علاوہ ازیں 1992ء میں انسانی حقوق کا ایشیا ایوارڈ اور ہلال امتیاز (1992ء) میں عطا ہوئے۔ آپ ابھی بریڈفورڈ یونیورسٹی، برطانیہ (University of Bradford) کے چانسلر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

جمائما خان سے شادی

جمائما خان عمران خان کے ساتھ ایک سیاسی جلسہ میں شریک ہیں

1995ء میں عمران خان نے مرحوم برطانوی ارب پتی، سر جیمز گولڈ سمتھ کی بیٹی، جیمیما گولڈ سمتھ سے شادی کی۔ جیمیا گولڈ سمتھ نے شادی سے پہلے اسلام قبول کر لیا اور ان کا اسلامی نام جمائما خان ہے۔ اس شادی کا شہرہ پوری دنیا میں ہوا اور عالمی میڈیا نے اس کو خصوصی اہمیت دی۔ 22 جون، 2004ء کو انھوں نے طلاق کا اعلان کیا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی مصروف زندگی کی وجہ سے انھیں وقت نہیں دے پاتے تھے۔

ریحام خان سے شادی

8 جنوری 2015ء کو عمران خان نے برطانوی و پاکستانی صحافی ریحام خان کے ساتھ رشتہِ ازدواج میں بندھ گئے۔

سیاسی زندگی

25 اپریل، 1996ء کو تحریک انصاف قائم کرکے سیاسی میدان میں قدم رکھا۔ ابتدائی طور پر انھیں کامیابی نہ مل سکی۔ لیکن حالیہ دنوں میں وہ اپنی جدوجہد اور اصول پرستی کی بدولت پاکستانی عوام، خصوصا نوجوانوں میں تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔ اس وقت انہیں پاکستان کی قومی اسمبلی میں ایک سیٹ (0.8%) حاصل ہے جبکہ ان کی جماعت کو ایک سیٹ سرحد صوبائی اسمبلی میں بھی میسر ہے۔

اصل مضمون/مضامین کے لئے ملاحظہ کریں: پاکستانی فوجی تاخت (3 نومبر 2007) اور فوجی تاخت 2007ء

3 نومبر 2007ء کو فوجی آمر پرویز مشرف کے "ہنگامی حالت" کے اعلان کے بعد آپ کو نظربند کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم وہ پولیس کو جُل دے کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔[1] 14 نومبر کو پولیس نے انھیں گرفتار کر لیا۔ انتظامیہ کے مطابق ان پر "دہشت گردی" قانون کے تحت مقدمہ بنایا جائے گا۔ عمران نے کہا ہے کہ ان کی زندگی اور کراچی میں تحریک انصاف کے کارکنوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے کیونکہ برطانوی حکومت نے متحدہ قومی موومنٹ کے لندن میں مقیم سربراہ الطاف حسین کے خلاف کوئی قدم نہیں اُٹھایا جس سے یہ لوگ شیر ہو کر تشدد کی کاروائی کر سکتے ہیں۔عمران خان متحدہ قومی موومنٹ اور اسکے قائد الطاف حسین کے خلاف الزامات تو لگاتے رہے اور یہ دعوی کرتے رہے کہ وہ الطاف حسین کے خلاف ثبوت لیکر لندن جائیں گے۔ وہ گئے بھی لیکن اپنے الزامات کو کسی عدالت میں کبھی ثابت نہ کرسکے ۔[2] دنیا بھر کی اخبارات نے عمران کی فوجی آمر پرویز مشرف کے خلاف جدوجہد کو سراہا ہے۔لیکن یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ پرویز مشرف سے وزارت عظمی کا منصب طلب کررہے تھے اور جب اُنھیں انکار کردیا گیا تو وہ پرویز مشرف کے خلاف ہوگئے[3] 18 نومبر کو عمران خان نے ڈیرہ غازی خان جیل میں بھوک ہڑتال شروع کی۔[4] 22 نومبر کو اچانک رہا کر دیا گیا۔

فلم

عمران خان کی جدو جہد پر 2013 میں ایک فلم کپتان ریلیز ہوئی، جس میں عمران خان کے 1992ء سے لے کر 2013ء تک کے عوامی تبدیلی تک کے ادوار کو دکھایا جائے گا ۔ پاکستان تحریکِ انصاف کی طرف سے واضح کیا گیا کہ مذکورہ فلم کی سرمایہ کاری و پیش کاری کا عمران خان اور اس کی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں اور یہ ایک قطعی غیر وابستہ منصوبہ ہے جو کہ فلم اور میڈيا سے تعلق رکھنے والوں کی طرف سے بنائی گئی ہے۔

انتخابی مہم میں زخمی

انتخابات سے صرف چار دن قبل 7 مئی 2013ء کو ایک فورک لفٹ سے گرنے کے بعد عمران خان کو لاہور میں شوکت خانم ہسپتال لے جایا گیا۔ طبی معائنے کے بعد بتایا گیا کہ عمران خان بخریت ہیں کوئی تشویش ناک بات نہیں۔ اس سانحے کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کے جلسے منسوخ کر دیے گئے۔ [5]

خود نوشت

عمران خان نے اپنی زندگی پر دو کتابیں لکھیں:

  • Warrior Race: A Journey Through the Land of the Tribal Pathans[6]
  • پاکستان: آ پرسنل ہسٹری [7][8]

حوالہ جات

  1. ^ روزنامہ نیشن، 10 نومبر 2007ء، "Police ring Imran Khan's cancer hospital"
  2. ^ انڈیپنڈنٹ، 15 نومبر 2007ء، "Imran Khan's message to UK: 'My life is in danger' "
  3. ^ سڈنی مورننگ ہیرالڈ، 15 نومبر 2007ء، "Always more to Khan than playboy image revealed"
  4. ^ AFP, "Pakistan's Imran Khan on hunger strike: spokesman"
  5. ^ Mackey, Robert (7 May 2013). "Video of Imran Khan' s Fall at Election Rally in Pakistan". The New York Times. http://thelede.blogs.nytimes.com/2013/05/07/video-of-imran-khans-fall-at-election-rally-in-pakistan/۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 May 2013.
  6. ^ Warrior Race: A Journey Through the Land of the Tribal Pathans. 1993. ISBN 978-0701138905.
  7. ^ Pakistan: A Personal History. 2011. ISBN 978-0593067741.
  8. ^ "Pakistan: A Personal History by Imran Khan". انڈپنڈنٹ. 23 ستمبر 2011. http://www.independent.co.uk/arts-entertainment/books/reviews/pakistan-a-personal-history-by-imran-khan-2359195.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 19 November 2011.

بیرونی روابط

کھیلوں کے عہدے
پیشرو
ظہیر عباس
ظہیر عباس
عبدالقادر
پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان
1982–1983
1985–1987
1989–1992
جانشین
سرفراز نواز
عبدالقادر
جاوید میانداد
سیاسی جماعتوں کے عہدے
پیشرو
بانی
پاکستان تحریک انصاف کے صدر
1996–تا حال
جانشین
تا حال
تعلیمی دفاتر
پیشرو
بیٹی لاک وڈ
جامعہ بریڈ فورڈ کے چانسلر (ناظم)
2005–تا حال
جانشین
تا حال