وسیم راجہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
وسیم راجہ
Wasim Raja
ذاتی معلومات
مکمل نام وسیم حسن راجہ
پیدائش 3 جولائی 1952(1952-07-03)

ملتان، پنجاب، ڈومنین پاکستان
وفات 23 اگست 2006(2006-80-23) (عمر  54 سال)

مارلو، بکنگھم شائر، انگلستان
بلے بازی بایاں ہاتھ
گیند بازی لیگ اسپن
تعلقات رمیز راجہ (بھائی)
بین الاقوامی کرکٹ
قومی ٹیم
پہلا ٹیسٹ (کیپ 67) 2 فروری 1973  بمقابلہ  انگلستان
آخری ٹیسٹ 25 جنوری 1985  بمقابلہ  نیوزی لینڈ
ایک روزہ پہلا (کیپ 11) 11 فروری 1973  بمقابلہ  نیوزی لینڈ
آخری ایک روزہ 10 مارچ 1985  بمقابلہ  بھارت
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ ایک روزہ
میچ 57 54
رنز بنائے 2821 782
بیٹنگ اوسط 36.16 22.34
100s/50s 4/18 -/2
ٹاپ اسکور 125 60
گیندیں کرائیں 4082 1036
وکٹ 51 21
بولنگ اوسط 35.80 32.71
اننگز میں 5 وکٹ
میچ میں 10 وکٹ n/a
بہترین بولنگ 4/50 4/50
کیچ/سٹمپ 20/- 24/-
ماخذ: ESPNCricinfo, 4 فروری 2017
وسیم حسن راجہ

پاکستان کے کرکٹ کے سابق کھلاڑی۔ مشہور کھلاڑی رمیز راجہ کے بھائی۔ وسیم راجا دائیں ہاتھ سے گیند کرنے والے لیگ سپن بالر تھے جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں اکاون کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ وہ گگلی بھی پھینکتے تھے اور بائیں ہاتھ سے جارحانہ بیٹنگ کرنے والے مڈل آڈر بلے باز تھے۔ انہوں نے کئی موقعوں پر پاکستان کی طرف سے اننگز کا آغاز یا اوپننگ بھی کی۔

کیریر[ترمیم]

ٹیسٹ کرکٹ میں ستاون ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے دو ہزار دوسو اکاسی رن بنائے اور ان کی اوسط چھتیس عشاریہ ایک چھ رہی۔ اس میں چار سنچریاں اور اٹھارہ نصف سنچریاں بھی شامل تھیں۔

ون ڈیز[ترمیم]

انہوں نے چون (54) ایک روزہ میچ بھی کھیلے۔ ان کا آخری ٹیسٹ بھی نیوزی لینڈ کے خلاف انیس سو پچاسی میں آکلینڈ میں ہوا۔ وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ بھی رہے اور انہوں نے آئی سی سی کے ریفری کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔

کارنامے[ترمیم]

انہوں نے کرکٹ کی دنیا میں سب سے بڑا کارنامہ انیس سوچھہتر ستتر میں ویسٹ انڈیز کے دورے پر انجام دیا۔ انہوں نے اس سیریز میں کرکٹ کی تاریخ کے تباہ کن فاسٹ بالنگ اٹیک کے خلاف پانچ سو سترہ رن ستاون عشاریہ چار کی اوسط سے بنائے۔ اس سیریز میں پاکستان کی ٹیم کو ویسٹ انڈیز کے بہترین تیز رفتار بالر گارنر، رابرٹس اور کروفٹ کا سامنا کرنا پڑا۔

سنیل گواسکر کے علاوہ ویسٹ انڈیز کے دورے پر کسی بھی بلے باز نے ویسٹ انڈیز کے بالروں کے اتنی پٹائی نہیں کی تھی جتنی اس دورے پر وسیم حسن راجا نے کی۔ انیس سو تراسی چوراسی آسٹریلیا کے دورے پر جب عمران خان پاکستان ٹیم کی کپتانی کر رہے تھے تو وسیم راجا بھی اس ٹیم میں شامل تھے۔

انتقال[ترمیم]

23 اگست 2006ء میں ایک کاونٹی میچ کے دوران میں سلپ میں کھڑے ساتھی فیلڈروں کو بتایا کہ ان کو چکر آ رہے ہیں اور میدان سے باہر جانا چاہتے ہیں۔ انہیں جب میدان سے باہر لے جایا جا رہا تھا تو وہ باونڈری لائن پر انتقال کر گئے۔

حوالہ جات[ترمیم]