بلخ شیر مزاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بلخ شیر مزاری
بلخ شیر مزاری مزاری قبیلہ کے سردار اور پاکستان کے نگران وزیراعظم
بلخ شیر مزاری مزاری قبیلہ کے سردار اور پاکستان کے نگران وزیراعظم

معلومات شخصیت
پیدائشی نام
پیدائش
وفات
وجۂ وفات
مدفن
قاتل
تاريخ غائب
مقام نظر بندی
رہائش
شہریت
نسل
آبائی علاقہ
بالوں کا رنگ
قد
وزن
گھیرا جسم
استعمال ہاتھ
مذہب
جماعت
رکن
طبی کیفیت
شریک حیات
ساتھی
اولاد
تعداد اولاد
والد
والدہ
بہن/بھائی
بھائی
بہن
خاندان
مناصب
عملی زندگی
مادر علمی
تخصص تعلیم
تعلیمی اسناد
ڈاکٹری مشیر
استاد
ڈاکٹری شاگرد
نمایاں شاگرد
پیشہ
مادری زبان
پیشہ ورانہ زبان
شعبۂ عمل
آجر
کارہائے نمایاں
مؤثر
کل دولت
تحریک
کھیل
کھیل کا ملک
الزام
الزامات
اعزازات
دستخط
ویب سائٹ
ویب سائٹ
IMDb logo.svg
[[file:|16x16px|link=|alt=]]

بلخ شیر مزاری (انگریزی: Balakh Sher Mazari)، (پیدائش: 8 جولائی 1928ء) پاکستان کے مشہور سیاست دان اور سابق نگراں وزیر اعظم ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

بلخ شیر مزاری 8 جولائی 1928ء کو راجن پور، ضلع ڈیرہ غازی خان، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ بلخ شیر مزاری بے 1950ء کی دہائی میں سیاست میں حصہ لیا۔ 1951ء کو ڈسٹرکٹ بورڈ ڈیرہ غازی خان کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ مسلم لیگ پارلیمانی بورڈ کے ر کن بنے۔ 1955ء میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے پاکستان دستور ساز اسمبلی جبکہ 1956ء میں مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1973ء میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے پنجاب صوبائی اسمبلی جبکہ 1977ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تاہم پارٹی سے اختلافات کے بعد انہوں نے استعفا دیدیا۔ 1982ء میں صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے مجلس شوریٰ کا رکن نامزد کیا۔ 1985ء میں غیر جماعتی انتخابات می قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ انہوں نے پارلیمانی ایسوسی ایشن، دولت مشترکہ، انٹر پارلیمانی یونین اور اقوام متحدہ میں متعدد بار پاکستان کی نمائندگی کی۔

نگراں وزیر اعظم[ترمیم]

24 اکتوبر 1990ء کو آئی جے آئی کے ٹکٹ پر راجن پور حلقہ این اے -134(موجودہ حلقہ 175)سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 18 اپریل 1993ء کو صدر پاکستان غلام اسحاق خان نے قومی اسمبلی توڑ دی۔ اس کے ساتھ ہی نواز شریف حکومت اختتام پزیر ہوئی اور میر بلخ شیر مزاری کو نگراں وزیر اعظم نامزد کر دیا۔ 26 مئی 1993ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے صدر غلام اسحاق خان کے اس اقدام کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے نواز شریف کی حکومت کو غیر مشروط طور پر بحال کر دیا۔ اسمبلی کی اس بحالی کے ساتھ ہی نگراں وزیر اعظم میر بلخ شیر مزاری 26 مئی 1993ء ہی کو 39 دن حکومت کرنے کے بعد رخصت ہو گئے اور اقتدار نواز شریف کو منتقل کر دیا گیا۔

24 اکتوبر 1993ء کے عام انتخابات میں میر بلخ شیر مزاری ایک بار پھر اپنے آبائی حلقہ این اے -134 سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔


سیاسی عہدے
ماقبل 
نواز شریف
وزیراعظم پاکستان
1993ء
مابعد 
نواز شریف
Midori Extension.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔