پاناما دستاویزات (پاکستان)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عمران خان نیازی بنام میاں محمد نواز شریف
Emblem of the Supreme Court of Pakistan.svg
عدالت عدالت عظمیٰ پاکستان
مقدمے کا مکمل نام عمران خان نیازی بنام میاں محمد نواز شریف
حوالہ جات Civil Petition No. 29 of 2016
عدالتی اراکین
سماعت کرنے والے جج جسٹس
آصف سعید خان کھوسہ
اعجاز افضل خان
گلزار احمد
عظمت سعید
اعجاز الاحسن

پاناما دستاویزات مقدمہ پاناما کیس (باضابطہ نام عمران خان نیازی بنام میاں محمد نواز شریف) یا پناما گیٹ سکینڈل پاکستان کی سپریم کورٹ میں جاری ایک مقدمہ ہے جس کی سماعت یکم نومبر 2016ء سے 23 جنوری 2017ء تک جاری رہی۔ یہ مقدمہ عدالت میں پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما عمران خان لے کر آئے تھے جنہوں نے نواز شریف پر منی لانڈرنگ، رشوت ستانی اور متضاد بیانات کی بنیاد پر یہ مقدمہ دائر کیا۔ یہ الزامات اس وقت عائد کیے گئے جب پاناما دستاویزات میں شریف خاندان اور آٹھ غیر ملکی کمپنیوں کے مابین تعلق کا انکشاف ہوا تھا۔[1][2][3]

عدالت نے اس کے متعلق 23 فروری 2017ء کو اپنا فیصلہ محفوظ کیا۔[4] یہ مقدمہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ مشہور ہوا، اسے پاکستانی تاریخ کا رخ بدل دینے والا واقعہ بھی کہا جاتا ہے۔[5][6]

عدالت نے 20 اپریل 2017ء کو فیصلہ سنایا کہ ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے جو پناما لیکس کی روشنی میں شریف خاندان پر عائد رشوت ستانی کے الزامات کی تحقیق کرے۔[7] 28 جولائی 2017ء کو عدالت عظمیٰ پاکستان نے نواز شریف کو وزیر اعظم کے عہدے سے برطرف قرار دے دیا اور ان کے حلاف مقدمہ شروع کرنے کا حکم دیا۔[8][9]

پس منظر[ترمیم]

پناما دستاویزات کا انکشاف[ترمیم]

تحقیقاتی صحافیوں کے بین الاقوامی کنسورشیم نے ایک کروڑ پندرہ لاکھ خفیہ دستاویزات 3 اپریل 2016ء کو عام کیں جنہیں بعد میں پناما دستاویزات کا نام دیا گیا۔[10] یہ کاغذات پناما کی ایک قانونی فرم موساک فونسیکا سے حاصل کیے گئے تھے اور ان میں نواز شریف کے خاندان کی آٹھ غیر ملکی کمپنیوں کی تفصیل بھی موجود تھی۔ نواز شریف اُس وقت پاکستان کے موجودہ وزیرِ اعظم ہیں۔ دستاویزات میں ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف کا بھی نام ہے جو صوبہ پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ ہیں۔[11] آئی سی آئی جے کے مطابق وزیرِ اعظم کی بیٹی مریم نواز اور بیٹے حسن اور حسین نواز کئی کمپنیوں کے مالک یا ان کے لین دین کے اختیارات رکھتے تھے۔[12] موساک فونسیکا کی دستاویزات کے مطابق نواز شریف کی اولاد چار غیر ملکی کمپنیوں نیسکول لمیٹڈ، نیئلسن ہولڈنگز لمیٹڈ، کُومبر گروپ انکارپوریٹڈ اور ہینگون پراپرٹی ہولڈنگز سے متعلق ہیں۔[13] ان کمپنیوں نے 2006ء-2007ء میں لندن میں پُر تعیش جائدادیں خریدی تھیں۔ پناما کاغذات کی رو سے ان کمپنیوں نے مذکورہ جائداد کو ایک کروڑ اڑتیس لاکھ ڈالر کے قرض کے لیے بطور ضمانت پیش کیا تھا۔[14]

جوڈیشل کمیشن بنانے میں ناکامی[ترمیم]

وزیر اعظم محمد نواز شریف

بڑھتی ہوئی تنقید کے پیشِ نظر نواز شریف نے 5 اپریل 2016ء کو عوام سے خطاب کے دوران میں سپریم کورٹ کے ایک سابق جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان کیا۔ تاہم سابق جج تصدق حیسن جیلانی، ناصر الملک، امیر الملک مینگل، ساحر علی اور تنویر احمد خان کے انکار کے بعد کمیشن کا قیام کھٹائی میں پڑ گیا۔[15] اس کے باوجود حکومت نے کمیشن کے قیام کی کوشش جاری رکھی اور قواعد و ضوابط کی تشکیل پر حزبِ اختلاف سے گفت و شنید بھی جاری رہی جس میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف شامل تھیں۔ 22 اپریل 2016ء کو قوم سے دوسرے خطاب میں نواز شریف نے اعلان کیا کہ اگر وہ مجرم ثابت ہوئے تو مستعفی ہو جائیں گے۔[16] تاہم اس مرتبہ کمیشن کے قیام کی کوشش اس لیے ناکام ہوئی کہ پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ کے سربراہ انور ظہیر جمالی نے مبہم قواعد و ضوابط کی وجہ سے ‘بے ضرر‘ کمیشن بنانے سے انکار کر دیا۔[17]

وزیرِ اعظم کی تقریر[ترمیم]

ٹیلی ویژن پر دکھائے گئے 16 مئی 2016ء کو وزیرِ اعظم کے قومی اسمبلی کے خطاب میں نواز شریف نے ایک مشترکہ کمیٹی بنانے کی تجویز پیش کی تاکہ جوڈیشل کمیشن کا طریقہ کار وضع کیا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ احتساب سے نہیں ڈرتے اور اپنے مخالفین پر تنقید بھی کی: آج بنگلوں میں بیٹھے لوگ جو ہیلی کاپٹر میں سفر کرتے ہیں، مجھ پر الزام تراشی کر رہے ہیں۔ کیا وہ قوم کے سامنے اپنی آمدنی اور ٹیکس کے گوشوارے ظاہر کریں گے؟۔[18] اپنی تقریر کے دوران میں نواز شریف نے یہ بھی کہا کہ وہ لندن کے فلیٹوں کے بارے میں وضاحت پیش کریں گے مگر اس کے متعلق زیادہ بات نہیں کی۔[18] اس کی بجائے انہوں نے یہی کہا کہ یہ فلیٹ جس پیسے سے خریدے گئے تھے، وہ پیسے جدہ سٹیل مل کی فروخت سے آئے تھے اور یہ مل ان کے والد کی ملکیت تھی۔ بعد میں 16 مئی کی تقریر میں قطری شخصیات سے کاروباری تعلقات کے بارے کچھ نہ کہنے کی وجہ سے ان پر متضاد بیانات کا الزام بھی عائد کیا گیا۔[19]

حزبِ اختلاف کا جواب[ترمیم]

نواز شریف کی تقریر کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے نعیم بخاری کے ذریعے 29 اگست 2016ء کو سپریم کورٹ میں بطور رکن قومی اسمبلی مقدمہ دائر کیا کہ وزیر اعظم کو نا اہل قرار دیا جائے۔ مقدمے میں نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر اور موجودہ وزیرِ خانہ اسحاق ڈار کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ پی ٹی آئی کے کارکنان نے 30 ستمبر 2016ء کو رائے ونڈ میں نواز شریف کی ذاتی رہائش گاہ کے باہر دھرنا بھی دیا۔ عمران خان نے اپنے حامیوں سے کہا کہ جب تک نواز شریف مستعفی ہو کر احتساب کو پیش نہ ہوں، اسلام آباد کو بند رکھا جائے۔[20] عوامی احتجاج کے باوجود سپریم کورٹ نے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کو حکم دیا کہ وہ اپنے اپنے مطالبات پیش کرے تاکہ عدالت ان کی روشنی میں تحقیقاتی کمیشن کے لیے قواعد بنا سکے۔

پاکستانی عدالتِ عظمیٰ کے سامنے[ترمیم]

ابتدائی سماعتیں[ترمیم]

عدالت کے پانچ رکنی بنچ نے کیس کی سماعت شروع کی جس کی سربراہی چیف جسٹس جمالی کر رہے تھے اور دیگر اراکین میں جسٹس آصف سعید خان کھوسہ، عامر ہانی مسلم، شیخ عظمت سعید اور اعجاز الاحسن شامل تھے۔ یکم نومبر 2016ء سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت شروع ہوئی۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی نمائندگی نعیم بخاری اور حامد خان نے کی جبکہ شریف خاندان کی قانونی مدد کے لیے معروف وکلا سلمان اسلم بٹ اور اکرم شیخ موجود تھے۔ عدالت نے حزبِ اختلاف کی دیگر شخصیات بشمول جماعتِ اسلامی کے رہنما سراج الحق اور شیخ رشید احمد کی اضافی پٹیشنیں بھی ساتھ شامل کر لیں۔ اپنے جواب میں سلمان بٹ اور شعیب راشد نے بتایا کہ ان کے مؤکل کے پاس بیرونِ ملک جائداد ہے اور حسن اور حسین نواز کئی دہائیوں سے بیرونِ ملک جائز کاروبار کر رہے ہیں اور یہ بھی کہ مریم نواز اپنے والد کی زیرِ کفالت نہیں اور نہ ہی وہ نیئلسن اورنیسکول کمپنیوں سے فائدہ اٹھانے کی حقدار ہیں بلکہ وہ صرف نگران ہیں۔ تاہم جسٹس کھوسہ نے نکتہ اٹھایا کہ مؤکل یہ ثابت کریں کہ اس کاروبار کے لیے پیسہ ایمانداری سے کمایا گیا ہے اور قانونی ذرائع سے بیرونِ ملک منتقل کیا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے پیش کردہ شواہد قابلِ بھروسا نہیں اور جسٹس سعید نے تبصرہ کیا کہ اخباری تراشے اگلے روز پکوڑے بیچنے کے کام آتے ہیں۔

قطری خط[ترمیم]

14 نومبر 2016ء کوشریف خاندان کے وکیل اکرم شیخ نے ڈرامائی انداز میں قطری سابق وزیرِ اعظم حامد بن جاسم بن جابر الثانی کا خط پیش کیا جس پر ذاتی اور خفیہ کی مہر لگی تھی۔ خط میں درج تھا:

(میرے والد جاسم) کے (نواز شریف کے والد) میاں محمد شریف طویل عرصے سے کاروباری تعلقات تھے جو میرے سب سے بڑے بھائی کے ذریعے چل رہے تھے۔ میاں شریف نے قطر میں الثانی خاندان کے جائداد کے کاروبار میں مخصوص سرمایہ لگانے کی خواہش ظاہر کی۔ میرے خیال میں اُس وقت کل ایک کروڑ بیس لاکھ درہم کی رقم میاں شریف نے دی جو انہیں دبئی کے کاروبار کی فروخت سے ملے تھے (16، 16 اے، 17 اور 17 اے ایون فیلڈ ہاؤس، پارک لین، لندن، ان کی ملکیت دو بیرونِ ملک کمپنیوں کے پاس تھی اور ان کمپنیوں کے بیئریر شیئر سرٹیفیکیٹ قطر میں رکھے گئے تھے، کی خاطر ادائیگی کی گئی)۔ یہ جائداد کے کاروبار کی آمدنی سے خریدے گئے تھے۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، اپنی زندگی میں میاں شریف نے خواہش ظاہر کی تھی کہ ان کے جائداد کے کاروبار اور ان کی آمدنی ان کی وفات کے بعد ان کے پوتے حسین نواز شریف کو ملیں۔

جسٹس کھوسہ نے خیال ظاہر کیا کہ ‘اس خط نے وزیرِ اعظم کے عوامی موقف کو یکسر بدل دیا ہے‘۔ جب پوچھا گیا کہ 16 مئی کی تقریر میں قطری خط کا تذکرہ کیوں نہیں کیا گیا تو اکرم شیخ نے جواب دیا: ‘یہ قانونی شہادت نہیں بلکہ محض سیاسی بیان تھا‘۔ اکرم شیخ نے بتایا کہ وہ چالیس سال پرانے لین دین کی دستاویزات دینے سے قاصر ہیں کہ اُس دور میں کاروبار کے لیے پیسے پرچی کی مدد سے منتقل ہوتے تھے۔ الثانی کے دوسرے خط کو 26 جنوری 2016ء میں پیش کیا گیا جس کے مطابق ‘اُس دور میں خلیج کے علاقے کے مروج طریقے سے پیسے منتقل کیے گئے تھے‘۔

مزید سماعتیں[ترمیم]

دسمبر میں چیف جسٹس جمالی کے ریٹائر ہونے کے بعد نئے بنچ کی سربراہی جسٹس کھوسہ کو دی گئی تاکہ نئے سرے سے سماعت شروع ہو سکے۔ بنچ میں جسٹس شیخ عظمت سعید اور اعجاز الاحسن پہلے بھی شامل تھے جبکہ جسٹس اعجاز افضل خان اور گلزار احمد کو مزید شامل کیا گیا۔ شریف خاندان نے بھی اپنی قانونی ٹیم میں ردوبدل کی اور اکرم شیخ اور سلمان بٹ کی جگہ مخدوم علی خان، شاہد حامد اور سلمان اکرم راجا کو شامل کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قطری خط کی شمولیت اور مقدمے کی تیاری سے شریف خاندان مطمئن نہیں تھا۔ دوسری جانب حامد خان نے بھی مقدمے کی پیروی سے معذرت ظاہر کر لی اور کہا کہ ‘میں عدالت میں مقدمہ لڑ سکتا ہوں مگر میڈیا کی جنگ میں شامل نہیں ہو سکتا۔‘ نئے سرے سے سماعت 4 جنوری 2017ء سے شروع ہوئی۔

پٹیشنر کا مقدمہ[ترمیم]

پی ٹی آئی کے موقف کو نعیم بخاری کے علاوہ ملیکہ بخاری اور اکبر حسین نے بھی پیش کیا۔ نعیم بخاری نے شریف خاندان کے مختلف اراکین کے انٹرویو کے بارے میں نکتے اٹھائے کہ انہوں نے کیسے متضاد بیانات دیے اور لندن کی جائداد کے متعلق غلط بیانیاں کیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شریف خاندان ان لین دین کی رسید دکھانے میں ناکام رہا اور قطری بھی اس کے متعلق معاہدہ پیش نہ کر سکا یا اس کے بارے میں پہلے کوئی بات کی گئی تھی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ گوشواروں کے مطابق مریم نواز کی قابلِ ٹیکس آمدنی صفر روپیہ ہے اور وہ اپنے والد کی زیرِ کفالت ہیں۔ اس کے علاوہ حسین نواز نے اپنے والد کو اکیاسی کروڑ روپے تحفہ دیے اور اس پر کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا گیا۔

بخاری نے نیب کی طرف سے حدیبیہ پیپر مل کے 2000 والے مقدمے کی پیروی میں ناکامی کا معاملہ بھی اٹھایا جس میں اسحاق ڈار اور شریف خاندان منی لانڈرنگ میں ملوث تھے۔

دفاعی نکات[ترمیم]

شریف خاندان کے وکیل مخدوم علی خان دفاعی ٹیم کے سربراہ جبکہ سعد ہاشمی اور سرمد ہانی ان کے مددگار بنے۔ مخدوم علی خان نے عدالت کے اپنے فیصلہ برائے آئینی شق 62 کی شق 1 ایف کا حوالہ دیا جس کے تحت مدعا علیہ نے وزیرِ اعظم کی نا اہلی کا مطالبہ کیا تھا اور بتایا کہ یہ ‘ترجمے اور ابہام کا شاہکار نمونہ تھا‘۔ مخدوم علی خان نے توجہ دلائی کہ وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہینِ عدالت کے مقدمے میں نا اہل قرار دیا گیا تھا۔ مخدوم علی گیلانی نے بتایا کہ عدالت کو اُس فیصلے کے پسِ منظر کو بھی دیکھنا ہوگا۔ مریم نواز کی کفالت کے معاملے پر انہوں نے موقف اختیار کیا کہ چونکہ ٹیکس کے گوشواروں میں الگ سے خانہ موجود نہیں تھا، سو مریم نواز کو زیرِ کفالت دکھایا گیا۔

ایک کروڑ بیس لاکھ درہم نقد کا حجم بتانے کے خاطر حسن اور حسین نواز کے وکیل سلمان اکرم راجا نے ‘وار اینڈ پیس‘ اور ‘دی برادرز کرامزوف‘ کو اوپر نیچے رکھ کر بتایا یہ دونوں کتابیں لگ بھگ 3٫000 صفحات موٹی ہیں اور یہ بیس لاکھ درہم کے برابر موٹی ہیں۔

ایف بی آر اور نیب[ترمیم]

سماعت کے دوران میں عدالت نے پناما پیپرز کے حوالے سے ملکی اداروں کے ناکارہ ہونے پر کئی بار سوال اٹھائے۔ محمد ارشد، چیئرمین ایف بی آر نے عدالت کو جواب دیا کہ پناما پیپرز کے حوالے سے 343 افراد کو نوٹس جاری کیے گئے اور حسن، حسین اور مریم نواز نے جواب بھی جمع کرا دیے تھے۔ ایف بی آر کے وکیل محمد وقار رانا نے تسلیم کیا کہ پناما سکینڈل پر فوری اقدامات نہیں کیے گئے اور بتایا کہ منی لانڈرنگ کے لیے مختلف ادارے اور الگ قوانین موجود ہیں۔ اس پر جسٹس گلزار نے آبزرویشن دی: ‘یعنی آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ایف بی آر نے منی لانڈرنگ پر کوئی اقدامات نہیں کیے؟‘ اس پر ایف بی آر عدالت کو مطمئن نہ کر سکی۔ جسٹس کھوسہ نے ایف بی آر سے کہا: ‘عدالت سے تعاون نہ کرنے کا بہت شکریہ‘۔

نیب کی نمائندگی کے لیے چیئرمین قمر زمان چوہدری اور پراسیکیوٹر جنرل وقاص قدیر ڈار آئے۔ اپنا موقف جمع کراتے ہوئے مقدمے کا رخ حدیبیہ پیپر مل کیس کو ہو گیا جس کے بارے میں نیب نے پہلے ریفرنس دائر کیا تھا۔ یہ ریفرنس 2000 میں اسحاق ڈار کے اعترافی بیان پر دائر کیا گیا تھا جس میں انہوں نے شریف خاندان کے لیے ایک کروڑ اڑتالیس لاکھ ساٹھ ہزار ڈالر کی منی لانڈرنگ کرنے کا انکشاف کیا تھا۔ مشرف دور میں اسحاق ڈار کو ان کے گھر نظر بند کر دیا گیا تھا اور اسحاق ڈار کا موقف تھا کہ ان سے یہ بیان دباؤ کے تحت لیا گیا۔ 2014ء میں جب اسحاق ڈار وزیرِ خزانہ بنے تو لاہور ہائی کورٹ نے یہ کیس دبا دیا۔ اس پر بنچ نے تبصرہ کیا: ‘نیب کی طرف سے اپیل نہ کرنے پر عدالت کو تحفظات ہیں۔ جب چوری کے مقدمے میں ملزم کی ضمانت ہوتی ہے تو نیب اپیل کر دیتی ہے۔ یہاں کروڑوں کا گھپلا ہوا اور نیب نے ا پیل کرنے زحمت تک نہیں کی‘۔ اس پر نیب چیئرمین نے اپیل نہ کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا جس پر جسٹس سعید نے نیب کی ٹیم کو ‘سخت نتائج کے لیے تیار ہونے‘ کا مشورہ دیا۔

اٹارنی جنرل کا موقف[ترمیم]

پاکستان کے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی 22 فروری 2017ء کو عدالت کی معاونت کے لیے پیش ہوئے۔ اوصاف اور اسد رحیم خان اور سالار شاہزیب خان کی معاونت کے لیے بتایا کہ کوئی بھی، بشمول نیب لاہور ہائی کورٹ کے حدیبیہ ریفرنس کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق رکھتا تھا۔ جسٹس سعید نے اس پر تبصرہ کیا: ‘کل ہمارے سامنے نیب مر گئی ہے‘۔ اشرف اوصاف نے بتایا کہ آئین کے تحت مجرمانہ تفتیش کے حوالے سے وزیرِ اعظم کو کوئی استثنا نہیں۔ اوصاف کو تنبیہ کی گئی کہ ‘وہ مقدمے میں کسی جانب سے شریک نہیں ہوسکتے‘ اور ان کا کام عدالت کی معاونت ہے۔

اختتامی موقف[ترمیم]

نعیم بخاری کی طرف سے مقدمے کی مزید پیروی سے انکار کے بعد 23 فروری 2017ء کو مدعیان یعنی عمران خان، سراج الحق اور شیخ رشید احمد عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور عدالت نے اسی روز فیصلہ محفوظ کر لیا۔

فیصلہ[ترمیم]

20 اپریل 2017ء کو دن 2 بجے عدالت نے فیصلہ سنایا۔ سپریم کورٹ نے تین کے مقابلے میں دو سے فیصلہ سنایا کہ نواز شریف کو عہدے سے برطرف کرنے کے لیے ناکافی شواہد ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ مزید تحقیق کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنائی جائے جو وزیرِ اعظم پر رشوت ستانی کے الزامات کی تحقیق کرے۔ دو اختلافی ججوں جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے یہ رائے دی کہ وزیرِ اعظم قوم سے ایماندار نہیں رہے اور انہیں نا اہل قرار دیا جائے۔

پناما مقدمے کے فیصلے کا آغاز کچھ ایسے ہوا جس میں فرانسیسی ناول نگار کا اقتباس لکھا گیا تھا:

ہر بڑی نامعلوم کامیابی کے پیچھے ایک ایسا جرم ہوتا ہے جو کبھی ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ اسے پوری توجہ سے انجام دیا جاتا ہے۔

متذکرہ بالا مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو تمام متعلقہ افراد اور جماعتوں بشمول وزیرِ اعظم، سے تفتیش کرنے کا پورا اختیار دیا گیا۔ اس ٹیم کو یہ سب کارروائی ساٹھ روز میں مکمل کرنے اور ہر پندرہ روز بعد عدالت کو پیش رفت سے آگاہ کرتے رہنے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔

540 صفحات طویل فیصلے کو اسی روز جاری کر دیا گیا تھا۔ اس کو جسٹس اعجاز افضل نے لکھا اور اس میں تفتیشی اداروں نیب اور ایف آئی اے پر کڑی تنقید کی گئی اور حکومت کی طرف سے اس معاملے کو مناسب طرح سے توجہ نہ دینے پر بھی تنقید کی گئی۔ اس کے علاوہ ملزمان پر عدالت سے مکمل ایماندار نہ ہونے پر بھی تنقید کی گئی۔

مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی[ترمیم]

اراکین[ترمیم]

مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کو 6 مئی 2017ء کو سپریم کورٹ نے تشکیل دیا۔ اس کے چھ اراکین ہیں اور سربراہی ایف آئی اے کے رکن کے پاس ہے۔[21][22]

نام ادارہ عہدہ!
واجد ضیا وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف آئی اے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل
عامر عزیز سٹیٹ بینک آف پاکستان مینیجنگ ڈائریکٹر
بلال رسول سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ایگزیکٹو ڈائریکٹر
عرفان نعیم منگی قومی احتساب بیورو ڈائریکٹر جنرل (نیب بلوچستان)
برگیڈیئر نعمان سعید آئی ایس آئی ڈائریکٹر (داخلہ سکیورٹی)
برگیڈیئر کامران خورشید ملٹری انٹیلی جینس

اختیارات اور کام[ترمیم]

اس کمیٹی کو شریف خاندان کے غیر ملکی اثاثوں کی تفتیش کی خاطر ملکی اور غیر ملکی ماہرین کی خدمات کے لیے مکمل اختیارات دیے گئے۔ ٹیم کو تفتیش کی خاطر تمام تر متعلقہ قوانین کی روشنی میں تمام ضروری اختیارات دے دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس کمیٹی کو تفتیش کے لیے تمام تر پاکستانی اداروں کا پورا تعاون ملنا چاہیے کہ یہ سپریم کورٹ کے حکم پر کام کر رہی ہے۔

جے آئی ٹی کے کام کرنے کے لیے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کی عمارت کا ایک حصہ دے دیا گیا ہے اور اس کے کام کے لیے دو کروڑ روپے بھی مختص کیے گئے ہیں۔ ہر دو ہفتے بعد یہ کمیٹی پیش رفت سے سپریم کورٹ کو آگاہ کرنے کی پابند ہے۔ تمام تر تفتیش ہر حال میں ساٹھ روز میں مکمل ہونی ہے۔

عدالت کا فیصلہ[ترمیم]

28 جولائی 2017ء کو عدالت عظمیٰ پاکستان نے نواز شریف کو وزیر اعظم کے عہدے سے برطرف قرار دے دیا اور ان کے حلاف مقدمہ شروع کرنے کا حکم دیا۔[8][9]

شریف کا استعفا

عدالت کے فیصلے کے بعد نواز شریف نے وزیر اعظم کے عہدے سے استعفا دے دیا۔[23]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Pakistan: Supreme Court hears Panama leaks case"۔ الجزیرہ۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-01-24۔
  2. "Maryam Safdar named in Panama Papers as beneficiary"۔ الجزیرہ۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-01-24۔
  3. "PTI lawyer presents arguments in Panama Papers case"۔ Dunyanews.tv۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-01-24۔
  4. Hasnaat Malik۔ "SC reserves judgment in Panamagate case"۔ دی ایکسپریس ٹریبیون۔ Express Group۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 اپریل 2017۔
  5. Geo News۔ "Want to become PM: Imran Khan"۔ Geo۔ Jang Group۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 اپریل 2017۔
  6. Samaa TV۔ "2016 – The year when Pakistan said 'hola' to Panama Papers"۔ Samaa۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 اپریل 2017۔
  7. Panamagate case: SC orders JIT to investigate Sharif's family involvement in corruption in: DAWN NEWS; Retrieved on 20th اپریل 2017
  8. ^ ا ب "Panama Case verdict: Pakistan Supreme Court disqualifies PM Nawaz Sharif"۔ روزنامہ پاکستان۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 جولائی 2017۔
  9. ^ ا ب A. B. P. News۔ "Pakistan Supreme Court disqualifies Nawaz Sharif as Prime Minister, orders filing of case against him."۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  10. Natalya Vasilyeva؛ Mae Anderson۔ "News Group Claims Huge Trove of Data on Offshore Accounts"۔ نیو یارک ٹائمز۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ اپریل 4, 2016۔
  11. Umer Cheema۔ "House of Sharifs Named In Panama Papers"۔ Centre for Investigative Reporting in Pakistan۔ CIRP۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 اپریل 2017۔
  12. "Giant leak of offshore financial records exposes global array of crime and corruption"۔ OCCRP۔ The International Consortium of Investigative Journalists۔ مورخہ اپریل 4, 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  13. "The Panama Papers: Pages from Pakistan"۔ Center for Investigative Reporting in Pakistan (CIRP)۔ مورخہ اپریل 6, 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ اپریل 5, 2016۔ |archiveurl= اور |archive-url= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت); |archivedate= اور |archive-date= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت)
  14. Saeed Shah۔ "Pakistan Prime Minister Upgrades Probe Into Panama Papers Affair: Premier calls for a commission of inquiry made up of sitting judges, instead of retired"۔ Wall Street Journal۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 اپریل 2016۔
  15. Staff Report۔ "Five ex-SC judges refused to lead Panama leaks inquiry: Nisar"۔ Dawn۔ Dawn Group۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 اپریل 2017۔
  16. Mateen Haider۔ "I will resign if proven guilty, vows PM"۔ Dawn۔ Dawn Group۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 اپریل 2017۔
  17. Raza Khan۔ "CJP refuses to form "toothless" commission"۔ Dawn۔ Dawn Group۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 اپریل 2017۔
  18. ^ ا ب Report۔ "Nawaz suggests forming joint committee to probe Panama leaks"۔ Dawn۔ Dawn Group۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 اپریل 2017۔
  19. "Panama Papers case: PM gave contradictory statements, says SC"۔ Dunyanews.tv۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-01-24۔
  20. Khawar Ghumman۔ "Imran plans siege of Islamabad on Oct 30"۔ Dawn۔ Dawn Group۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 اپریل 2017۔
  21. Haseeb Bhatti۔ "Supreme Court finalises members of Panama case JIT, issues operational directives"۔ Dawn.com۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  22. Kalbe Ali۔ "Profiles of JIT members"۔ Dawn.com۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  23. "Pakistan PM Nawaz Sharif resigns over Panama Papers verdict"۔ BBCNews۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 جولائی 2017۔