پاکستان کے عام انتخابات، 2018ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پاکستان کے عام انتخابات، 2018ء

→ 2013ء 25 جولائی 2018ء 2023ء ←

قومی اسمبلی پاکستان کی کُل 342 نشستیں
اکثریت کے لیے 172 نشستیں درکار
استصواب رائے
ٹرن آؤٹ 51.6%[1] (کم 3.4pp)

  پہلی بڑی جماعت دوسری بڑی جماعت تیسری بڑی جماعت
  Imran Khan 2012.jpg Mian Shehbaz Sharif.JPG Bilawal Bhutto Zardari - 2012 (7268800476) (cropped).jpg
جماعت پی ٹی آئی ن لیگ پاکستان پیپلز پارٹی
رہنما از سال 25 اپریل 1996ء 6 مارچ 2018ء 30 دسمبر 2007ء
رہنما کی نشست میانوالی-1 لاہور-10 لاڑکانہ-1
آخری انتخابات 35 نشستیں، 16.92% 185 نشستیں، 32.77% 42 نشستیں، 15.23%
نشستیں جیتیں 158 82 53
نشست تبدیل Increase2.svg 123 کم 103 Increase2.svg 11
عوامی ووٹ 16,884,266 12,930,117 6,913,466
فیصد 31.87% 24.40% 13.05%

2018 General Elections in Pakistan-ur.svg

وزیر اعظم قبل انتخاب

شاہد خاقان عباسی
ن لیگ

اگلا وزیر اعظم

'

پندرہویں قومی اسمبلی اور چار صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کا انتخاب کرنے کے لیے پاکستان میں عام انتخابات یا الیکشن 25 جولائی، 2018ء کو منعقد ہوئے۔[2][3] جس میں قومی اسمبلی کی کل 272 نشستوں میں سے 270 نشستوں پر عام انتخابات ہوئے زیادہ تر کا خیال تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) دوسرے نمبر پر ہو گی جبکہ پاکستان تحریک انصاف واضح برتری حاصل کرے گی۔ پاکستان تحریک انصاف نے قومی اسمبلی کی 116 سیٹیں لے کر پاکستان مسلم لیگ ن کو 64 نشستوں پر محدود کیا اور پاکستان تحریک انصاف وفاق خیبر اور پنجاب میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی۔ عدلیہ، فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی نگرانی میں ہونے والے انتخابات ہو جانے کے بعد حسب روایت ہارنے والی جماعتیں اسے مشکوک بتا رہی ہیں اور الزام ہے کہ قبل از انتخابات دھاندلی کی گئی تاکہ انتخابات کے نتائج پاکستان تحریک انصاف کے حق میں اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مخالفت میں آئے۔ جس کو الیکشن کمیشن نے مسترد کیا ہے کہ عام انتخابات میں کوئی دھاندلی نہیں ہوئی[4][5][6][7][8][9][10][11]

غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی کی واضح برتری دکھائی دی، جبکہ مخالف جماعتوں کا خیال ہے کہ بڑی سطح پر دھاندلی ہوئی۔[12][13][14] تاہم، الیکشن کمیشن پاکستان نے تمام سیاسی جماعتوں کے الزامات مسترد کر دیے۔[15][16][17]

پس منظر[ترمیم]

2013ء انتخابات[ترمیم]

2013ء کے انتخابات میں دو مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم رہ چکے نواز شریف کی قیادت والی پاکستان مسلم لیگ 342 نششتوں میں سے 166 نشستیں حاصل کر کے سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری۔ حالانکہ اکثریت ثابت کرنے کے لیے یہ تعداد کافی نہیں تھی تاہم متعدد آزاد امیدواروں نے نواز شریف کو حمایت دے کر پاکستان کی قیادت سونپ دی۔[18]

انتخابات سے قبل انتخابی مہم کے دوران میں کرکٹر سے سیاستدان بنے عمران خان کی قیادت والی پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی کی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔ مگر پارٹی ان قیاس آرائیوں پر کھری نہیں اتر سکی، محض 35 نشستوں پر اکتفا کرنا پڑا اور اس طرح قومی اسمبلی میں یہ تیسرے نمبر پر بڑی پارٹی بنی۔ اس نے خیبر پختونخوا میں اتحادی حکومت بھی بنائی۔[19]

آزادی مارچ 2014ء[ترمیم]

مزید معلومات: آزادی مارچ

پی ٹی ائی نے پچھلے انتخابات میں پی ایم ایل (ن) سے شکست کھائی۔ البتہ انہوں نے کئی حلقوں میں پھر سے ووٹوں کی گنتی کروانے کی مانگ کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حلقوں میں مبینہ طور پر دھاندلی ہوئی ہے۔[20][21] حالانکہ پارٹی نے 2100 صفحات کا قرطاس ابیض (وائٹ پیپر) پیش کیا جو واضح طور پر یہ ثابت کر رہا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حق میں ووٹوں کی دھاندلی ہوئی ہے جیسا کہ پی ٹی آئی دعوی کر رہی تھی۔ مگر حکومت اور عدالت عظمیٰ پاکستان نے اس درخواست پر کوئی توجہ نہیں دی۔[22] اس پر پاکستان تحریک انصاف کے لیڈر عمران خان نے 14 اگست 2014ء کو آزادی مارچ کا آغاز کیا جن میں انہوں نے حکومت سے پھر سے انتخابات کروانے کی مانگ کی۔ یہ مارچ 126 دنوں تک جاری رہا، پھر اچانک 2014ء کے پشاور اسکول حملے کا واقعہ پیش آیا جس کے بعد خان پر اپنے مارچ کو قومی اتحاد کی خاطر ختم کرنے کا دباؤ آیا۔[23] ایک عدالتی کمیشن تشکیل دی گئی تاکہ انتخابات میں ہوئی دھاندلی کی تفتیش کی جائے اور انتخابات صاف و شفاف ماحول میں کرائے جائیں۔[24]

پاناما دستاویزات اسکینڈل[ترمیم]

3 اپریل 2016ء کو بین الاقوامی تحقیقاتی صحافی تنظیم (آئی سی آئی جے) نے 11.5 ملین خفیہ دستاویزات، جنہیں پاناما دستاویزات کے نام سے جانا گیا، کو عوام میں عام کردیا۔[25] ان دستاویزوں میں دوسرے ملکوں کی نامی شخصیات کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی سامنے آئی کہ 8 باہری کمپیوں میں نواز شریف کے خاندان کا کچھ نہ کچھ حصہ ہے۔ یہی نہیں بلکہ آنجہانی وزیر اعظم پاکستان، ان کے بھائی اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے بھی نام سامنے آئے۔[26] آئی سی آئی جے کے مطابق نواز شریف کی بیٹی مریم نواز ، ان کا بیٹا حسن نواز اور حسین نواز کئی کمپینوں کے یا تو ملک ہیں یا پھر ان کی کچھ نہ کچھ حصہ داری ہے۔[27] نواز شریف نے استعفی دینے سے صاف انکار کردیا اور اور انہوں نے ایک عدالتی کمیٹی تشکیل دینے کی کوشش کی۔ اس سے حزب مخالف کے رہنما عمران خان کو عدالت عظمیٰ پاکستان میں ان کے خلاف پٹیشن دائر کرنے کا موقع مل گیا اور انہوں نے اسی بہانے عدالت سے درخواست کی کہ نواز شریف کو بحیثیت ممبر قومی اسمبلی پاکستان نا اہل قرار دے۔ شیخ رشید احمد اور سراج الحق جیسے دوسرے سیاستدانوں نے بھی عمرا ن خان کا ساتھ دیا اور پٹیشن دائر کی۔ عمران خان نے شریف کے استعفی کی پر زور مانگ کی اور اپنے حامیوں کو نواز شریف کے استعفی نہیں دینے تک اسلام آباد بند کرنے کی درخواست کی۔ حالانکہ یہ بند شروع ہونے سے قبل ہی منسوخ ہو گیا۔[28] 20 اپریل 2017ء کو عدالت عظمی نے 3-2 کے فیصلے سے شریف کی نا اہلی پر روک لگا دی اور معاملے کی مزید تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کا حکم دیا۔[29]

10 جولائی 2017ء کو جے آئی ٹی نے 275 صفحہ کی اپنی رپورٹ اپیکس کورٹ میں پیش کی۔[30][31] رپورٹ نے این اے بی کو نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور ان کے دونوں بیٹوں کے خلاف قومی احتساب آرڈیننس کے دفعہ 9 کے تحت ثبوت فراہم کرنے کا حکم دیا۔ مزید یہ کہ رپورٹ نے یہ صاف کر دیا کہ مریم نے دستاویز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی ہے کیونکہ انہوں نے 2006ء میں ایک دستاویز پیش کیا جس میں کیلیبری رسم الخط کا استعمال ہوا ہے جبکہ یہ رسم الخط عوام کے لئے 2007ء میں مہیا ہوا ہے۔[32]

نواز شریف نا اہل قرار دیے گئے[ترمیم]

28 جولائی 2017ء کو جے آئی ٹی کی رپورٹ جمع ہونے کے بعد عدالت عظمی نے فیصلہ دیا کہ نواز شریف نے بے ایمانی کی ہے لہذا وہ آئین پاکستان کے دفعہ 62 اور 63 کے معیار پر پورا نہیں اتررہے ہیں۔ ان دفعات کے مطابق اس عہدہ پر فائز ہونے کے لیے صادق اور امین ہونا لازم ہے۔ بالآخر بحیثیت قومی اسمبلی کے رکن اور وزیراعظم پاکستان وہ نا اہل قرار دیے گیے۔[33][34] کو عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ قومی احتساب بیورو شریف، ان کے خاندان اور سابق وزیر مالیات اسحاق ڈار کے خلاف ثبورت فراہم کرے۔[35]

انتخابی نظام[ترمیم]

قومی اسمبلی پاکستان کے 342 ارکان تین زمروں میں دو طریقوں سے منتخب ہوتے ہیں؛ 272 ارکان واحد رکنی حلقوں سے منتخب ہو کر آتے ہیں۔[36] 60 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں اور 10 نشستیں نسلی اور مذہبی اقلیتوں کے لیے مخصوص ہیں۔ ایک جماعت کو اکثریت ثابت کرنے کے لئے 137 نششتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔[37] تاہم، یہ تناسب نمبر ووٹ کاسٹ کے بجائے جیتنے والی نشستوں کی تعداد پر مبنی ہے۔[38] ایک جماعت کو جیتنے کے لیے 137 نشستیں درکار ہیں۔[39]

2018ء عام انتخابات ان نششتوں پر ہوئے جنہیں خانہ و مردم شماری پاکستان 2017ء میں متعارف کر وایا گیا۔[40] 5 مارچ 2018ء کو جاری ایک نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تین نششتیں ہونگی، پنجاب میں 141، سندھ میں 61، خیبر پختونخوا میں 39، بلوچستان میں 16 اور وفاقی انتظامی قبائلی علاقوں میں 12 نششتیں نشان زد کی گئی ہیں۔[41][42][43] قومی اسمبلی پاکستان کی تشکیل کے لیے 10.6 کڑوڑ لوگ اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔[44]

انتخابی اصلاحات[ترمیم]

جون 2017ء میں اقتصادی تعاونی تنطیم نے 864 روپیوں کی قیمت سے نئی طباعتی مشینیں خریدنے کی منظوری دی۔[45] حکومت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور نادرا کے لیے نئے سافٹ ویئر بھی تیار کیے ہیں تا کہ آزاد، شفاف، غیر جانب دار اور پرامن عام انتخابات کروائے جا سکیں۔[46]

مد مقابل جماعتیں[ترمیم]

جماعت سیاسی حالت لیڈر پچھلی بار نشستیں جیتیں (FPTP)
پاکستان مسلم لیگ (ن) وسط-دائیں شہباز شریف 126
پاکستان پیپلز پارٹی وسط-بائیں بلاول بھٹو زرداری 33
پاکستان تحریک انصاف وسط سے وسط-دائیں عمران خان 26
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان بایاں بازو خالد مقبول صدیقی 19
متحدہ مجلس عمل انتہائی بائیں فضل الرحمٰن 14
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی بایاں بازو محمود خان اچکزئی 3
عوامی نیشنل پارٹی بایاں بازو اسفند یار ولی خان 2
پاک سرزمین پارٹی بایاں بازو سید مصطفیٰ کمال 0
تحریک لبیک پاکستان انتہائی دائیں خادم حسین رضوی 0
بلوچستان عوامی پارٹی وسط جام کمال خان 0
گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس بڑا خیمہ (Big tent) پیر پگاڑا 0
بلوچستان نیشنل پارٹی بایاں بازو اختر مینگل 0

انتخابی مہم[ترمیم]

بڑے ضمنی انتخابات (2017ء تا 2018ء)[ترمیم]

نواز شریف کو نا اہل قرار دیے جانے کے بعد پاکستان میں متعدد ضمنی انتخابات ہوئے۔

لاہور ضمنی انتخابات، ستمبر 2017ء[ترمیم]

سب سے پہلا ضمنی انتخابات شریف کے سابق انتخابی حلقہ این اے۔120 میں ہوا جو صوبہ پنجاب کے دار الحکومت کے قلب میں واقع ہے جہاں پاکستان مسلم لیگ حکمراں جماعت تھی۔ اس مرتبہ بھی اسی نے یہ نششت جیتی مگر کچھ اسلام پسند جماعتوں کی وجہ سے ووٹ میں کمی واقع ہوئی۔[47]

پشاور ضمنی انتخابات، اکتوبر 2017ء[ترمیم]

دوسرا انتخابات صوبہ خیبر پختونخوا کی راجدھانی پشاور میں ہوا جہاں پاکستان تحریک انصاف جماعت نششت پر قابض تھی اور اس مرتبہ بھی وہی کامیاب ہوئی مگر ووٹ میں کمی دیکھنے کو ملی۔[48]

لودھراں ضمنی انتخابات[ترمیم]

15 دسمبر 2017ء کو پی ٹی آئی کے جنرل سکریٹری جہانگیر خان ترین کو نا اہل قرار دیا گیا۔[49] ان کے حلقہ این اے۔154 میں پی ایم ایل نے اقبال شاہ نے 25000 ووٹ سے یہ نشست جیت لی۔ اور جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین کو ہزیمت کا منہ دیکھنا پڑا۔[50]

پاکستان مسلم لیگ (ن)[ترمیم]

پاکستان مسلم لیگ نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز 25 جون 2018ء کو کراچی سے کیا۔[51] 5 جولائی 2018ء کو اس جماعت نے اپنا انتخابی مینی فیسٹو جاری کیا۔[52]

پاکستان تحریک انصاف[ترمیم]

پاکستان تحریک انصاف نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز 24 جون 2018ء کو میانوالی سے کیا۔ 9 جولائی 2018ء کو عمران خان نے جماعت کا مینی فیسٹو جاری کیا۔[53] 23 جولائی 2018ء کو جماعت نے لاہور میں ریلیاں نکالیں۔ [54]

پاکستان پیپلز پارٹی[ترمیم]

28 جون 2018ء کو پی پی پی اپنا مینی فیسٹو جاری کرنے والی پہلی جماعت بنی۔[55] اس جماعت نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز 30 جون کو کیا اور ساتھ ہی بلاول بھٹو نے لیاری، کراچی میں اپنا تیسرا دفتر کھولا۔[56]

مہم[ترمیم]

قومی اسمبلی پاکستان اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی، سندھ صوبائی اسمبلی، 28 مئی 2018ء کو تحلیل کر دی گئیں وہیں 31 مئی کو پنجاب صوبائی اسمبلی اور بلوچستان صوبائی اسمبلی بھی تحلیل کر دی گئیں۔[57] اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کا یہ عمل رمضان کے مبارک ماہ میں ہوا۔ ایک ایسا مہینہ جس میں مسلمان عبادت کرتے ہیں ۔ روزہ رکھتے ہیں اور دن بھر کچھ نہیں کھاتے ہیں۔ لہذا زیادہ تر جماعتوں نے اتنخابی مہم کا آغاز نہیں کیا۔ جون کے آخر میں ہی مہموں کا آغاز ہو سکا۔ [58]

پرچہ نامزدگی[ترمیم]

4 جون کو جماعتوں اور امیدواروں نے انتخابات کے لیے پرچہ نامزدگی داخل کرنا شروع کیا۔ یہ عمل 8 جون تک جاری رہا۔[59] اس کے بعد تمام حلقوں کے ناظم انتخابات نے جانچ پڑتال شروع کی جس کی بنا پر یہ طے کیا جاتا ہے کہ آیا نامزدگی کو قبول کرنا ہے یا مسترد کرنا ہے۔ جانچ پڑتال کا نتیجہ بڑا دھماکا خیز تھا اور کئی نامور سیاستدانوں کی نامزدگی خارج کر دی گئی۔ ان میں عمران خان، فاروق ستار اور پرویز مشرف جیسی شخصیات شامل ہیں۔ بعد میں عمران خان کی نامزدگی قبول کرلی گئی۔[60][61][62] اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے سکریٹری برائے معلومات فواد چودھری اور سابق وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی پرچہ نامزدگی میں اپنے اثاثہ کی معلومات فراہم نہ کر نے کے سبب نا اہل قرار دیے گئے۔ یہ ایک متنازع فیصلہ تھا کیونکہ الیکشن ٹریبیونل کو کسی بھی امیدوار کو نا اہل قرار دینے کا حق نہیں ہے۔ وہ صرف امیدواری کو قبول یا مسترد کر سکتا ہے۔ بعد میں عدالت عالیہ لاہور نے اس فیصلہ کو منسوخ کر کے ان دونوں کو انتخابات میں حصہ لینے کا اہل قرار دے دیا۔[63][64]

استصواب رائے[ترمیم]

مختلف رنگین سطور سے سیاسی جماعتوں کو دکھایا گیا ہے اور کس جماعت کی قوم اسمبلی کے لیے قومی سطح پر کتنی ووٹنگ مقبولیت ہے، ان کو تین نکتوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ جماعتیں جن کے حق میں 10% سے کم رائے ملی ان کو نہیں دکھایا گیا ہے۔
تاریخ رائے شماری کنندہ ناشر سیمپل پی ایم ایل-این پی ٹی آئی پی پی پی ایم کیو ایم ایم ایم اے* اے این پی دیگر برتری
12 جولائی 2018 ایس ڈی پی آئی[65] ہیرلڈ 6,004 25% 29% 20% دستیاب نہیں 3% 1% 20% 4%
4 جولائی 2018 آئی پی او آر[66] جی ایس پی 3,735 32% 29% 13% 2% 3% 1% 20% 3%
6 جون 2018 گیلپ پاکستان[67] اخبارات کا جنگ گروہ 3,000 26% 25% 16% دستیاب نہیں 2% 1% 30% 1%
28 مئی 2018 پلس کنسلٹنٹ[67] 3,163 27% 30% 17% 1% 4% 1% 20% 3%
مئی 2018 گیلپ پاکستان[68] گیلپ پاکستان 3,000 38% 25% 15% 22% 13%
مارچ 2018 گیلپ پاکستان[69] وال اسٹریٹ جرنل 2,000 36% 24% 17% 23% 12%
1 نومبر 2017 گیلپ پاکستان[70] جیو/جنگ 3,000 34% 26% 15% 2% 2% 2% 19% 8%
25 اکتوبر 2017 پلس کنسلٹنٹ[70] 3,243 36% 23% 15% 2% 1% 1% 22% 13%
24 اکتوبر 2017 آئی پی او آر[71][72] جی ایس پی 4,540 38% 27% 17% 3% 1% 1% 14% 11%
11 مئی 2013 2013ء کے عام انتخابات[73] الیکشن کمیشن آف پاکستان 45,388,404 32.77% 16.92% 15.23% 5.41% 3.22% 1.00% 25.57% 15.85%

*متحدہ مجلس عمل سیاسی جماعتوں کی ایک اتحادی جماعت ہے جو 2002ء میں بنی اور 2008ء کے انتخابات کے بعد یہ ختم ہو گئی۔ یہ اتحادی جماعت دسمبر 2017ء میں دوبارہ بحال ہو گئی۔ مندرجہ بالا رائے شماری اتحادی جماعت کی بحالی سے پہلے کی ہے، اور اس میں زیادہ تر تائید جمعیت علمائے اسلام (ف) کو حاصل ہے۔

تجزیہ[ترمیم]

ایک تجزیہ کے مطابق کل 272 نششتوں میں سے 30 فیصد نششتوں میں بھاری جیت ہو گی اور ان میں 56 فیصد نششتیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کو ملیں گی، 18 فیصد پاکستان پپلز پارٹی کو اور 16 فیصد متحدہ قومی موومنٹ کو اور 9 فیصد پاکستان تحریک انصاف کو ملیں گی۔ الیکشن ہیٹریک کے تجزیہ میں 22 فیصد ہیٹرک نششتیں تھیں جس میں 47 فیصد پی ایم ایل-این کو، 24 فیصد پی پی پی کو اور 15 فیصد ایم کیو ایم کو ملیں گی۔ پی ٹی آئی کو تجزیہ میں شامل نہیں کیا گیا کیونکہ اس نے 2008ء کے انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا۔

انتخابات[ترمیم]

قبل از انتخابات تشدد[ترمیم]

7 جولائی کو بنوں میں متحدہ مجلس عمل کے امیدوار شین ملک کے انتخابی مہم کے دوران میں ایک بم پھٹنے سے قبل ہی حاصل کر لیا گیا۔[75]

الیکشن کے دن تشدد[ترمیم]

  • 25 جولائی 2018ء کو کوئٹہ میں انتخابات کے دوران میں ایک دھماکا ہوا جس میں 31 مارے گئے اور 35 زخمی ہوئے۔[84]
  • خیبر کے شمالی شہر صوابی میں پی ٹی ائی اور عوامی نیشنل پارٹی کے درمیان میں گولی باری ہوئی جس میں ایک موت اور تین زخمی ہوئے۔[85]
  • سندھ کے جنوب میں لاڑکانہ میں پولنگ اسٹیشن کے باہر ایک دستی بم حملہ ہوا جس میں 3 افراد زخمی ہوئے۔[86]
  • خانیوال میں ایک سیاسی جھڑپ میں ایک موت ہوئی اور ایک زخمی ہوا۔[87]

7 مزید واقعات میں کئی افراد زخمی ہوئے۔

نتائج[ترمیم]

قومی اسمبلی[ترمیم]

Pakistan National Assembly 2018 with reserved.svg
جماعت ووٹ % نشستیں
عام مخصوص[88] کل +/–
خواتین اقلیتیں
پاکستان تحریک انصاف 16,884,266 31.87 125 28 5 158[89] +123
پاکستان مسلم لیگ (ن) 12,930,117 24.40 64 16 2 82 -103
پاکستان پیپلز پارٹی 6,913,466 13.05 43 9 2 54 +12
متحدہ مجلس عمل 2,568,421 4.85 12 2 1 15 -4[90]
متحدہ قومی موومنٹ 731,335 1.38 6 1 0 7 -17
پاکستان مسلم لیگ (ق) 517,354 0.98 4 1 0 5 +3
بلوچستان عوامی پارٹی 318,834 0.60 4 1 0 5 new
بلوچستان نیشنل پارٹی 238,696 0.45 3 1 0 4 +3
گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس 1,193,087 2.25 2 1 0 3 -4[91]
عوامی نیشنل پارٹی 815,843 1.54 1 0 0 1 -2
عوامی مسلم لیگ 119,362 0.23 1 0 0 1 -
جمہوری وطن پارٹی 23,397 0.04 1 0 0 1 +1
تحریک لبیک پاکستان 2,234,138 4.22 0 0 0 0 new
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی 134,713 0.25 0 0 0 0 -4
دیگر جماعتیں 0 0 0 0 -5
آزاد 6,060,122 11.44 13 0 0 13[89] -14
ملتوی 2 2
غلط/خالی ووٹ
کُل 52,982,119 100 272 60 10 342 0
رجسٹرڈ ووٹر/ٹرن آؤٹ 51.7
ذریعہ: الیکشن کمیشن پاکستان

وزیراعظم اور اسپیکر قومی اسمبلی کے لیے انتخابات[ترمیم]

امیدوار حمایتی جماعتیں برائے عہدہ حاصل شدہ ووٹ
اکثریت درکار ← 342 میں سے 172
عمران احمد خان نیازی[92] پی ٹی آئی
ایم کیو ایم پاکستان
پی ایم ایل (ق)
بی اے پی
بی این پی-م
جی ڈی اے
اے ایم ایل
جے ڈبلیو پی
وزیر اعظم
اسد قیصر خان[93] اسپیکر 176
قاسم خان سوری ڈپٹی اسپیکر 183
میاں محمد شہباز شریف[94] پی ایم ایل-ن
پی پی پی
ایم ایم اے
اے این پی
وزیر اعظم
سید خورشید احمد شاہ اسپیکر 146
اسد محمود ڈپٹی اسپیکر 144

رد عمل[ترمیم]

اندرون ملکی[ترمیم]

نتائج موصول ہونے کے بعد اپوزیشن نے انتخابات کو ”غیر صاف و شفاف“ قرار دیا۔[95]

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تمام الزامات مسترد کر دیے اور اعلان کیا کہ اگر الزامات ثابت ہوئے تو تحقیق کی جائے گی۔[96]

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے قوم سے پہلے خطاب میں الزامات کا ذکر کیا اور کہا کہ جو کہتے ہیں کہ الیکشن کے نتائج صحیح نہیں ہیں میں ان سے کہتا ہوں، آپ جہاں چاہتے ہیں وہاں انکوائری کروائی جائے گی، اس معاملے میں ہم اپوزیشن کا مکمل ساتھ دیں گے۔[97] ان کا مزید کہا کہ ”یہ پاکستان کی تاریخ کے شفاف ترین الیکشن تھے۔“[98]

پاکستان تحریک انصاف کی متوقع کامیابی پر ملک بھر میں جشن منایا گیا۔[99] عمران خان کے احباب کرکٹروں و مشہور شخصیات نے ان کو جیتنے اور حکومت بنانے کے لیے ٹویٹر کے ذریعے پیشگی مبارک باد دی۔[100]

اقتصادی[ترمیم]

پاکستان تحریک انصاف کی واضح برتری کا اثر پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر بھی دیکھا گیا، الیکشن 2018 کے بعد ہی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی آ گئی۔ مارکیٹ کھلتے ہی خوب شیئرز خریدے گئے جس سے پہلے ہی گھنٹے میں ہنڈریڈ انڈیکس 700 سو پوائنٹس بڑھ گیا، سرمایہ کار کہتے ہیں الیکشن کامیابی سے ہوگئے، اب مارکیٹ میں جم کر کاروبار ہوگا۔ الیکشن کے بعد پہلے کاروباری سیشن کے اختتام پر ہنڈریڈ انڈیکس 749 پوائنٹس اضافے سے 42 ہزار 89 پوائنٹس پر بند ہوا۔[101]

بین الاقوامی[ترمیم]

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان کا کہنا ہے کہ اسے پاکستان میں ووٹنگ سے قبل کے انتخابی عمل میں خامیوں پر تحفظات ہیں، انتخابی مہم کے دوران میں آزادی اظہار رائے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں اور انتخابی مہم میں یکساں مواقع نہیں دیے گئے، لیکن وہ نئی پاکستانی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ رکاوٹیں صاف اور شفاف انتخابات کے لیے حکام کے بیان کردہ مقاصد کے برعکس تھیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے مزید کہا کہ امریکا یورپی مبصرین کے تحفظات سے اتفاق کرتا ہے کہ پاکستان میں انتخابات کے لیگل فریم ورک میں مثبت تبدیلیاں کرنی چاہئیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز یورپی یونین کے مبصرین نے ایک پریس کانفرنس کے دوران میں کہا تھا کہ پاکستان میں عام انتخابات کے موقع پر آزادی اظہار پر پابندیوں اور انتخابی مہم میں عدم مساوات نے انتخابی لیگل فریم ورک کو متاثر کیا۔ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے کالعدم تنظمیوں سے وابستہ امیدواروں کی انتخابات میں شرکت پر بھی تشویش کا اظہار کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو اس بات پر خوشی ہے کہ پاکستانی عوام نے انھیں مسترد کردیا۔ ترجمان نے انتخابات میں پاکستانی عوام کی شرکت کو بھی سراہا، ان کا کہنا تھا، ”امریکا پاکستانی ووٹرز خصوصاً خواتین کی ہمت کو سراہتا ہے، جنہوں نے گھر سے نکل کر ووٹ دیئے اور ملک کے مستقبل کے فیصلے میں اپنا حصہ ڈالا۔“ انتخابی مہم کے دوران میں جلسوں اور ریلیوں پر ہونے والے حملوں میں 3 امیدواروں سمیت 150 سے زائد افراد کی شہادت اور 25 جولائی کو پولنگ کے دوران میں کوئٹہ میں ہونے والے خودکش دھماکے پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے ان واقعات کی شدید مذمت کرتے ہیں۔[102]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Assembly Wise Voters Turnout"۔ www.ecp.gov.pk۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 اگست 2018۔ 
  2. "General polls 2018 would be held on جولائی 25: sources"۔ Dunya News۔ 22 مئی 2018۔ 
  3. Samaa Web Desk۔ "Govt to complete its term; elections to be held in جولائی 2018: PM"۔ 
  4. "Nawaz Sharif verdict: Ahead of general elections, Pakistan Army exhibits super show of 'soft coup' to prop up extremist parties – Firstpost"۔ www.firstpost.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 جولائی 2018۔ 
  5. Kanwar، Kamlendra (7 جولائی 2018)۔ "Nawaz Sharif sentencing: More to the judgment than meets the eye"۔ newsnation.in۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 جولائی 2018۔ 
  6. "The End of Democracy or a New Resurgence in Pakistan?". Economic and Political Weekly 53 (24). 5 جون 2015. https://www.epw.in/journal/2018/24/commentary/end-democracy-or-new-resurgence-pakistan.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 جولائی 2018. 
  7. "A manipulated outcome"۔ telegraphindia.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 جولائی 2018۔ 
  8. "Pak Army wants to install a puppet government: Nadeem Nusrat"۔ www.aninews.in۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 جولائی 2018۔ 
  9. "The assault on Pakistan media ahead of vote"۔ 4 جولائی 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 جولائی 2018 – بذریعہ www.bbc.com۔ (ضرورت رکنیت)۔ 
  10. "Pakistanis tiring of elections manipulated by establishment – Asia Times"۔ www.atimes.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 جولائی 2018۔ 
  11. "Patronage and power plays in Pakistan’s electoral politics"۔ eastasiaforum.org۔ 19 جون 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 جولائی 2018۔ 
  12. "Ex-cricketer Khan leads Pakistan elections in early counting"۔ BBC News۔ 26 جولائی 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 جولائی 2018۔ 
  13. Gannon، Kathy (26 جولائی 2018)۔ "Unofficial Results in Pakistan's Election Show Lead For Imran Khan, But Opponents Allege Fraud"۔ TIME Magazine۔ اخذ کردہ بتاریخ 26 جولائی 2018۔ 
  14. Shah، Saeed (25 جولائی 2018)۔ "Ex-Cricket Star Imran Khan Headed for Pakistan Election Victory"۔ Wall Street Journal۔ اخذ کردہ بتاریخ 26 جولائی 2018۔ 
  15. "ECP rejects ‘Form 45’ accusation"۔ Business Recorder۔ 26 جولائی 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 26 جولائی 2018۔ 
  16. "'PML-N rejects poll results,' declares Shahbaz Sharif"۔ Dawn (en-US زبان میں)۔ 2018-07-25۔ اخذ کردہ بتاریخ 2018-07-26۔ 
  17. "ECP rejects political parties' claim of 'rigging' on election day"۔ The Express Tribune (امریکی انگریزی زبان میں)۔ 2018-07-26۔ اخذ کردہ بتاریخ 2018-07-26۔ 
  18. "Nawaz Sharif's PML-N emerges as single largest party in Pak polls"۔ Zeenews۔ 14 مئی 2013۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 جولائی 2013۔ 
  19. "Imran Khan: 'Pakistan will never be the same again'"۔ BBC News۔ 12 مئی 2013۔ اخذ کردہ بتاریخ 26 جولائی 2018۔ 
  20. "PTI concedes defeat in Pakistan elections"۔ The Express Tribune۔ AFP۔ 23 فروری 2011۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 مئی 2013۔ 
  21. "Imran demands recount with fingerprint verification on 4 constituencies"۔ اخذ کردہ بتاریخ 16 ستمبر 2015۔ 
  22. "Nawaz Sharif Has Lost All Moral Authority, Imran Khan Tells NDTV: Highlights"۔ NDTV.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 14 دسمبر 2014۔ 
  23. "Imran Khan Announce to Ends Islamabad Sit-in over Peshawar Attack"۔ The Pak Media۔ 17 دسمبر 2014۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 دسمبر 2014۔ 
  24. "JC finds 2013 elections fair and in accordance with law"۔ 23 جولائی 2015۔ 
  25. Vasilyeva، Natalya؛ Anderson، Mae (3 اپریل 2016)۔ "News Group Claims Huge Trove of Data on Offshore Accounts"۔ نیو یارک ٹائمز۔ Associated Press۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 اپریل 2016۔ 
  26. Cheema، Umer۔ "House of Sharifs Named In Panama Papers"۔ Centre for Investigative Reporting in Pakistan۔ CIRP۔ اخذ کردہ بتاریخ 11 اپریل 2017۔ 
  27. "Giant leak of offshore financial records exposes global array of crime and corruption"۔ OCCRP۔ The International Consortium of Investigative Journalists۔ 3 اپریل 2016۔ اصل سے جمع شدہ 4 اپریل 2016 کو۔ 
  28. Ghumman، Khawar (7 اکتوبر 2016)۔ "Imran plans siege of Islamabad on Oct 30"۔ Dawn (Dawn Group)۔ اخذ کردہ بتاریخ 11 اپریل 2017۔ 
  29. "Meet the SC judges behind the Panama Papers ruling"۔ Dawn.com۔ 
  30. "JIT report"۔ supremecourt.gov.pk۔ 
  31. "Complete Report of Joint Investigation Team (JIT) in Panama Case"۔ SUCH TV۔ SUCH TV NEWS۔ 2017۔ 
  32. "JIT report raises doubts about use of 'Calibri' font in papers submitted by Maryam"۔ Dawn.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 11 جولائی 2017۔ 
  33. "Sadiq and Ameen"۔ www.thenation.com.pk۔ 28 جولائی 2017۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 جون 2018۔ 
  34. Bhatti، Haseeb (28 جولائی 2017)۔ "Nawaz Sharif steps down as PM after SC's disqualification verdict"۔ Dawn۔ 
  35. "Panama Case verdict: Pakistan Supreme Court disqualifies PM Nawaz Sharif"۔ Daily Pakistan۔ 28 جولائی 2017۔ اخذ کردہ بتاریخ 28 جولائی 2017۔ 
  36. "Pakistan polls: Jailed Sharif’s PML-N takes guard against Imran’s PTI"۔ 
  37. "The Pathan Suits: Can Imran Khan Lay A New Path For Pakistan’s Fractured Polity?"۔ 
  38. "Election for Pakistani National Assembly"۔ IEFS۔ 11 مئی 2013۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 مئی 2017۔ 
  39. Chalmers، John۔ "Pakistan marks democratic milestone in close-fought election"۔ U.S. (en-US زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 29 جون 2018۔ 
  40. "Elections 101: What is delimitation and why does it matter?"۔ 
  41. "Complete list of National Assembly constituencies for General Elections 2018 – Dispatch News Desk"۔ dnd.com.pk۔ 7 مارچ 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 26 مئی 2018۔ 
  42. "Download Polling Scheme of Sindh for National Assembly General Elections 2018 – Dispatch News Desk"۔ dnd.com.pk۔ 26 مئی 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 26 مئی 2018۔ 
  43. "Download Polling Scheme for Balochistan Provincial Assembly General Elections 2018 – Dispatch News Desk"۔ dnd.com.pk۔ 26 مئی 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 26 مئی 2018۔ 
  44. "Voting ends in Pakistan; 35 killed in suicide blast, poll-related violence"۔ 
  45. "General elections 2018: ECC approves Rs864m for procuring new printing machines"۔ The News International۔ 8 جون 2017۔ اخذ کردہ بتاریخ 11 جون 2017۔ 
  46. "Next general election to be held on time: Zahid Hamid"۔ The Nation۔ 11 جون 2017۔ اخذ کردہ بتاریخ 11 جون 2017۔ 
  47. "Official result of NA-120 announced, Kulsoom polls 61,745 votes"۔ dunya.tv۔ 20 ستمبر 2017۔ 
  48. "PTI's Arbab Amir wins NA-4 by-election with reasonable margin: unofficial results"۔ dunya.tv۔ 26 اکتوبر 2017۔ 
  49. "Imran Khan gets clean chit, Jahangir Khan Tareen disqualified"۔ www.thenews.com.pk (en زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 15 دسمبر 2017۔ 
  50. "PML-N candidate poised to win by-polls in NA-154 Lodhran"۔ dawn.com۔ 13 فروری 2018۔ 
  51. "Shahbaz launches PML-N election campaign from Karachi"۔ Dawn۔ 26 جون 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 جولائی 2018۔ 
  52. "PML-N unveils party manifesto for elections 2018"۔ The News International۔ 5 جولائی 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 جولائی 2018۔ 
  53. "PTI to kick-start election campaign from Mianwali"۔ Express Tribune۔ 23 جون 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 جولائی 2018۔ 
  54. "Election campaign ends amid PTI, PML-N power shows"۔ Samaa TV۔ 24 جولائی 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 جولائی 2018۔ 
  55. "PPP unveils election manifesto promising to ‘save and develop Pakistan’"۔ Express Tribune۔ 28 جون 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 جولائی 2018۔ 
  56. "Bilawal kicks off election campaign from Karachi"۔ Express Tribune۔ 1 جولائی 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 جولائی 2018۔ 
  57. "National Assembly stands dissolved as second successive democratic government completes five-year term"۔ 1 جون 2018۔ 
  58. "Imran to kick-start PTI's election campaign from Mianwali today"۔ Geo News۔ 24 جون 2018۔ 
  59. "ECP: Change in date of filing nomination papers"۔ 6 جون 2018۔ 
  60. "Nomination papers of Sattar, Musharraf rejected"۔ www.geo.tv۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 جولائی 2018۔ 
  61. Agencies۔ "Imran Khan's nomination papers rejected"۔ gulfnews.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 جولائی 2018۔ 
  62. "PTI chief Imran Khan allowed to contest polls from NA-53, NA-35"۔ geo.tv۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 جولائی 2018۔ 
  63. Bilal، Rana (28 جون 2018)۔ "LHC suspends appellate tribunal's disqualification verdict against PTI's Fawad Chaudhry"۔ dawn.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 جولائی 2018۔ 
  64. Bilal، Rana (29 جون 2018)۔ "LHC suspends tribunal decision on Abbasi's disqualification for life"۔ dawn.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 جولائی 2018۔ 
  65. "Survey shows elections too close to call"۔ 
  66. "National Survey of Current Political Survey in Pakistan"۔ 
  67. ^ ا ب "Elections Exclusive: 3 poll results in! Who will you vote for Pakistan?"۔ geo.tv۔ 
  68. "Dr. Ijaz Shafi Gilani, Chairman Gallup Pakistan talks about the changing trends in public opinion and motivations of the voters with respect to the upcoming Election on Jirga with SaleemKhanSafi on Geo News"۔ Gallup Pakistan۔ 21 مئی 2018۔ 
  69. Shah، Saeed (25 اپریل 2018)۔ "Trial of Ex-Leader Rattles Pakistan’s Democracy"۔ [www.wsj.com]۔ 
  70. ^ ا ب Elahi، Manzar؛ Haider، Sajjad (24 نومبر 2017)۔ "PML-N remains most popular party, Nawaz most favourite leader: survey"۔ جیو ٹی وی۔ 
  71. "Shehbaz favoured by Pakistan's majority to become premier: GSP survey"۔ دنیا نیوز۔ 28 اکتوبر 2017۔ 
  72. "National Public Opinion Survey"۔ Global Strategic Partners۔ 24 اکتوبر 2017۔ 
  73. "Party wise total vote bank"۔ Government of Pakistan۔ 27 مئی 2013۔ اصل سے جمع شدہ 8 اکتوبر 2017 کو۔ 
  74. Ali، Akbar (3 جولائی 2018)۔ "10 injured in blast at PTI candidate's election office in North Waziristan"۔ Dawn۔ اخذ کردہ بتاریخ 14 جولائی 2018۔ 
  75. "7 including MMA candidate injured in Bannu blast"۔ Dawn۔ 7 جولائی 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 14 جولائی 2018۔ 
  76. "ANP's Haroon Bilour among 20 martyred in Peshawar suicide attack"۔ The News International۔ 11 جولائی 2018۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ10 جولائی 2018 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 11 جولائی 2018۔ 
  77. "Political worker shot dead in Peshawar"۔ www.tribune.com.pk۔ اخذ کردہ بتاریخ 12 جولائی 2018۔ 
  78. Syed، Ali Shah (12 جولائی 2018)۔ "2 injured in blast near political party's office in Khuzdar"۔ Dawn۔ اخذ کردہ بتاریخ 14 جولائی 2018۔ 
  79. "Four killed as blast targets JUI-F leader Akram Khan Durrani's convoy in Bannu"۔ www.geo.tv۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 جولائی 2018۔ 
  80. "Death toll in Mastung blast escalates to 131"۔ Dunya News (امریکی انگریزی زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 15 جولائی 2018۔ 
  81. "PTI's Ikramullah Khan Gandapur martyred in DI Khan suicide blast"۔ Express Tribune (امریکی انگریزی زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 جولائی 2018۔ 
  82. "JUI-F leader Akram Durrani safe as shots fired at vehicle in Bannu"۔ Geo News۔ 22 جولائی 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 جولائی 2018۔ 
  83. "Three security personnel among four martyred in Balochistan gun attack: ISPR"۔ The News (انگریزی زبان میں)۔ جولائی 25, 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 2018-07-26۔ 
  84. "Six policemen among 29 martyred in suicide attack outside Quetta polling station" (en-US زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 جولائی 2018۔ 
  85. "PTI worker shot dead in clash with ANP supporters in Swabi" (en-US زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 جولائی 2018۔ 
  86. "At least three injured in explosion outside polling station in Larkana" (en-US زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 جولائی 2018۔ 
  87. "Clashes, violence mar polling in various constituencies; at least 2 killed"۔ DAWN.COM (en-US زبان میں)۔ 25 جولائی 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 جولائی 2018۔ 
  88. PTI's NA total rises to 158 after addition of 33 reserved seats | Pakistan - Geo.tv
  89. ^ ا ب انتخابات کے بعد، 9 آزاد کارکنوں نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔
  90. جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام ف از 2013ء
  91. پاکستان مسلم لیگ ف اور نیشنل پیپلز پارٹی از 2013ء
  92. "PTI formally nominates Imran Khan as prime minister candidate"۔ Geo.tv۔ 2018-08-06۔ اخذ کردہ بتاریخ 2018-08-12۔ 
  93. "PTI nominates Asad Qaiser as NA speaker, Ch Sarwar as Punjab governor | Pakistan"۔ Geo.tv۔ اخذ کردہ بتاریخ 2018-08-12۔ 
  94. "PML-N nominates Shehbaz as PM candidate"۔ Geo.tv۔ 2018-08-06۔ اخذ کردہ بتاریخ 2018-08-12۔ 
  95. Article in Firstpost
  96. Article in "The News International"
  97. Article in "The News International"
  98. "Will aid in probing opposition's rigging allegations: Imran Khan"۔ geo.tv۔ اخذ کردہ بتاریخ 28 جولائی 2018۔ 
  99. Report، Asma Ali Zain/ Web۔ "ECP officially declares Imran Khan's PTI as winner"۔ m.khaleejtimes.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 28 جولائی 2018۔ 
  100. First Post staff (26 July 2018)۔ "Pakistan General Elections 2018: Twitter reacts to Imran Khan's win; '...my sons’ father is Pakistan’s next PM', tweets Jemima"۔ First Post۔ اخذ کردہ بتاریخ 28 جولائی 2018۔ 
  101. "Pakistan stock exchange remains bullish, gains 749 points in post election rally"۔ arabnews.com۔ 26 July 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 28 جولائی 2018۔ 
  102. امریکا کی پاکستانی ووٹرزکی تعریف،الیکشن سےقبل انتخابی عمل میں 'خامیوں' پر تحفظات | دنیا - Geo.tv