مندرجات کا رخ کریں

خانیوال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

خانیوال
 

انتظامی تقسیم
ملک پاکستان   ویکی ڈیٹا پر  (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[1]
دار الحکومت برائے
تقسیم اعلیٰ خانیوال   ویکی ڈیٹا پر  (P131) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 30°18′00″N 71°56′00″E / 30.3°N 71.933333333333°E / 30.3; 71.933333333333   ویکی ڈیٹا پر  (P625) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بلندی 128 میٹر   ویکی ڈیٹا پر  (P2044) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آبادی
کل آبادی 165038 (2017)  ویکی ڈیٹا پر  (P1082) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مزید معلومات
اوقات متناسق عالمی وقت+05:00   ویکی ڈیٹا پر  (P421) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قابل ذکر
جیو رمز 1174220  ویکی ڈیٹا پر  (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نقشہ

خانیوال صوبہ پنجاب، پاکستان کا ایک شہر ہے اور ضلع خانیوال کا صدر مقام ہے۔ 1998ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی 3,141,053 ہے۔ خانیوال شہر آبادی کے لحاظ سے ملک کا 36 واں بڑا شہر ہے۔

تقسیم

[ترمیم]

خانیوال 1903 میں آباد ہوا اور 1985 میں ضلع کی حیثیت حاصل کی ضلع ملتان کی دو تحصیلوں کبیر والہ اور مياں چنوں کو ملا کر بنایا گیا۔ اب خانیوال کی چار تحصلیں ہیں خانیوال، کبیر والا، مياں چنوں اور جہانیاں اس کے قریبی اضلاع میں ملتان، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ اور ساہیوال شامل ہیں۔ خانیوال کا قصّہ

تاریخ

[ترمیم]

خانیوال کا نام یہاں کے قدیم ترین آباد کاروں کے نام پر رکھا گیا ہے جو 'ڈاہا' ذات (پنوار راجپوت کی ذیلی شاخ) سے تعلق رکھتے تھے اور اپنے ناموں میں 'خان' استعمال کرتے تھے۔ اس طرح یہ شہر 'خانیوال' کے نام سے مشہور ہوا۔ اس علاقے کو آباد کرنے والا پہلا شخص سنگر خان تھا۔ سنگر خان تقی خان کی 34ویں اولاد تھے، جو ڈہا خاندان کے پہلے مسلمان تھے۔ سنگر خان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پاکپتن سے خانیوال چلے گئے تھے۔ اس نے اس علاقے میں ایک قلعہ بنایا تھا۔ یہ خاندان یہاں ایک طویل عرصے تک مقیم رہا اور تقی خان کے 37ویں اولاد حسن خان کا شمار اس علاقے کے نامور تاجروں میں ہوتا ہے۔ تاریخ کے معتبر ذرائع کے مطابق خانیوال پہلی بار 1050 عیسوی میں آباد ہوا۔ تقسیم سے پہلے پورے شہر میں سولہ بلاک تھے۔ ہر چار بلاک کے بیچ میں ایک چوک ہوا کرتا تھا، جہاں کنویں اور عبادت گاہیں ہوتی تھیں۔ شہر میں گوردواروں، مسجدوں اور مندروں کے ساتھ ساتھ ولیم رابرٹس کا بنایا ہوا گرجا گھر بھی تھا۔ تقسیم سے پہلے مسلمانوں کی اکثریت کہنہ خانیوال میں رہا کرتی تھی مگر نئے شہر میں بھی ان کے گنے چنے گھر موجود تھے۔ شہر سے باہر ایک میلہ بھی سجا کرتا جسے چکروں والا میلہ کہا جاتا تھا۔

پاکستان بننے کے بعد گورودوارہ بازار کا نام اکبر بازار رکھ دیا گیا اور نانک بازار کو لیاقت بازار کہا جانے لگا۔ آہستہ آہستہ کنوؤں کی جگہ نل لگ گئے اور نلوں کی جگہ مسجدیں بن گئیں۔

زبان

[ترمیم]

خانیوال میں 81 فیصد پنجابی 11 فیصد سرائیکی اور 7 فیصد لوگ اردو بولنے والے آباد ہیں

معلومات

[ترمیم]

خانیوال میں 17 پولیس اسٹیشن، 20 نیشنل بنک برانچز، 7 کپڑے کی فیکڑی، 1 چینی بنانے کی فیکڑی، 71 کاٹن فیکڑیاں اور 26 ٹیلی فون ایکسچینزز ہیں

پاکستان کے اضلاع

  1. ویکی ڈیٹا پر ترمیم کریں"صفحہ خانیوال في GeoNames ID"۔ GeoNames ID۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 جون 2026ء {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |accessdate= (معاونت) و|accessdate= میں 13 کی جگہ line feed character (معاونت)