جیو نیوز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
جیو نیوز
Geo News
ملکپاکستان
نیٹ ورکجیو ٹی وی
ملکیت
مالکجیو ٹی وی

جیو نیوز پاکستان کا خبروں کا چینل ہے جو 2005 کو شروع ہوا۔ جیو جنگ گروہ کی ملکیت ہے جس کا سربراہ میر شکیل الرحمن ہے۔ جیو کے صدر عمران اسلم تھے،

اہم پروگرام[ترمیم]

  • آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ (میزبان: شاہزیب خانزادہ)
  • کیپیٹل ٹاک (میزبان: منیب فاروق)
  • جوابدہ (میزبان: افتخاراحمد)
  • جیومینٹری ( ڈاکیومینٹری پروگرام)

اس نیٹ ورک کے زیرنگرانی دوسرے ٹی وی چینل مندرجہ ذیل ہیں۔

جیو نیوز چینل کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس چینل کی بنیادی پالیسی ہر خبر کو سب سے پہلے نشر کرناہے۔ اس مقصد کے لیے جیو کا فرض شناس عملہ ہر جگہ نظر آتا ہے۔ ہر واقعے کی سی سی فوٹیج خفیہ ہاتوں سے سب سے پہلے جیو کو ہی موصول ہوتی ہیں۔ تاہم جیو کی سب سے بڑی کمزوری مذھب ہے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں اکثر کوئی نہ کوئی متنازعہ بات ہوتی رہتی ہے جن میں سر فہرست بے حیائی مارچ کی حمایت، اور پردے کو ضروری قرار دینے والے اقدامات پر شدید تنقید شامل ہے پروگرام رپورٹ کارڈ میں بھی یہی کچھ ہوتا ہے

غیر ملکی پیسہ[ترمیم]

  • اوبامہ نے پاکستان ذرائع ابلاغ پر امریکیوں کو اچھی روشنی میں دکھانے کے لیے پچاس ملین ڈالر کی رقم ادا کی۔[1][2]
  • برطانوی حکومت نے پاکستان میں تدریس کی "اصلاح" کے لیے نجی پاکستانی ابلاغ کو 20 ملین پاؤنڈ فراہم کیے۔

حامد میر تنازع[ترمیم]

19 اپریل 2014 کو حامد میر پر حملے کے بعد جیو نیوز نے آئی ایس آئی کے سربراہ پر حملے کا الزام لگایا[3] اور مسلسل آٹھ گھنٹے تک اسے نشر کیا۔ جس کے بعد مختلف شہروں میں ہنگامے شہروع ہو گئے۔ پمرا کی ہدایات پر جیو نیوز کو کئی شہروں میں بند کر دیا گیا اور کئی میں اس کا نمبر پیچھے کر دیا گیا۔ 21 مئی میں پیمرا کے اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ جیو کا لائسنس معطل کر دیا جائے۔ جس کے بعد جیو نیوز، جیو تیز اور جیو اینٹرٹینمنٹ کے نشریات روک دی گئیں۔[4]

مزید[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

مزید مطالعہ[ترمیم]

روزنامہ جنگ

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Latest US Pledge To Pakistan: A $50 Million PR Move?". 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  2. American Media Invades Pakistan یوٹیوب پر
  3. http://www.arynews.tv/geo-tv-indian-media-accuse-isi-attack-hamid-mir/
  4. http://www.growpk.com/geo-tv-banned-in-pakistan-till-28-may-2014/