سمیع الحق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(سمیع الحق (سیاست دان) سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
مولانا  ویکی ڈیٹا پر سابقہ شرف دہندہ (P511) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سمیع الحق
چیئرمین دفاع پاکستان کونسل
مدت منصب
اکتوبر 2011 – نومبر 2018
دار العلوم حقانیہ کے دوسرے چانسلر
مدت منصب
7 ستمبر 1988 – 2 نومبر 2018
Fleche-defaut-droite-gris-32.png عبد الحق
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
رکن ایوان بالا برائے صوبہ سرحد
مدت منصب
مارچ 2003 – مارچ 2009
فروری 1985 – مارچ 1997
رکن مجلس شوریٰ پاکستان
مدت منصب
1983 – 1985
معلومات شخصیت
پیدائش 18 دسمبر 1937  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اکوڑہ خٹک  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 2 نومبر 2018 (81 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
راولپنڈی  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات تیز دھار ہتھیار کا وار  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات قتل  ویکی ڈیٹا پر طرزِ موت (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند (1937–1947)
Flag of Pakistan.svg پاکستان (1947–2018)  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت جمیعت علمائے اسلام
اسلامی جمہوری اتحاد
متحدہ مجلس عمل  ویکی ڈیٹا پر سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد حامد الحق  ویکی ڈیٹا پر اولاد (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد عبد الحق  ویکی ڈیٹا پر والد (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی دار العلوم حقانیہ  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان، عالم  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو، پشتو، عربی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

مولانا سمیع الحق (پیدائش: 18 دسمبر 1937ء— وفات: 2 نومبر 2018ء) ایک پاکستانی مذہبی اسکالر، عالم اور سیاست دان تھے۔ ان کا طالبان کے رہنما ملا ملا عمر کے ساتھ قریبی تعلق تھا۔ مولانا سمیع الحق صاحب اس وقت دار العلوم حقانیہ کے مہتمم اور سربراہ تھے۔ دار العلوم دحقانیہ ایک دینی درس گاہ ہے جو دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھتی ہے۔ مولانا دفاع پاکستان کونسل کے چئیرمین تھے اور جمیعت علما اسلام کے سمیع الحق گروپ کے امیر تھے۔

وہ متحدہ مجلس عمل کے بانی رکن اور حرکت المجاہدین کے بانی بھی تھے جو ایک مذہبی تنظیم ہے۔وہ پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ) کے رکن بھی رہے اور متحدہ دینی محاذ کے بھی بانی تھے جو پاکستان کے چھوٹے مذہبی جماعتوں کا اتحاد ہے جو انہوں نے سال 2013 کے انتخابات میں شرکت کرنے کے لیے بنائی تھی۔

حالات زندگی[ترمیم]

مولانا سمیع الحق صاحب 18 دسمبر 1937ء میں اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محترم کا نام مولانا عبد الحق تھا۔ انہوں نے 1366 ھ بمطابق سال 1946 ء میں دار العلوم حقانیہ میں تعلیم شروع کی جس کی بنیاد ان کے والد محترم نے رکھی تھی۔ وہاں انہوں نے فقہ، اصول فقہ، عربی ادب، منطق (logic)، عربی صرف و نحو (گرائمر)، تفسیر اور حدیث کا علم سیکھا۔ ان کو عربی زبان پر عبور حاصل تھا لیکن ساتھ ساتھ پاکستان کی قومی زبان اردو اور علاقائی زبان پشتو میں بھی کلام کرتے تھے۔مولاناسمیع الحق صاحب کے بیان کے مطابق پاکستان کے امریکی سفیر ان سے جولائی 2013 میں ملاقات کے لیے آئے تھے تاکہ علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کر سکے۔ وہ افغانستان میں طالبان کے دوبارہ بر سر اقتدار آنے کی کھلے طور پر حمایت کرتے تھے۔ انہوں نے ایک موقع پر کہا ’انکو صرف ایک سال دیجئے اور وہ سارے افغانستان کو خوشحال بنا دیں گے سارا افغانستان ان کے ساتھ ہو گا، ایک بار امریکی چلے جائیں تو یہ ایک سال کے اندراندر ہو گا، جب تک وہ وہاں ہیں، افغانوں کو اپنی آزادی کے لیے لڑنا ہو گا‘، انہوں نے کہا، ’یہ آزادی کے لیے ایک جنگ ہے اور یہ تب تک ختم نہیں ہو گی جب تک بیرونی لوگ چلے نہ جائیں۔‘

پولیو کے بارے میں مشہور فتوی[ترمیم]

تحریک طالبان پاکستان کے پولیو کے حفاظتی قطرے پلانے کو غیر اسلامی قرار دینے پر اور لوگوں کو اسے اپنے بچوں کو پلانے سے روکنے پر مولانا سمیع الحق صاحب نے 9 دسمبر، 2013ء کو پولیو کے حفاظتی قطروں کی حمایت میں ایک فتوہ جاری کیا۔ اس فتوے کے مطابق ’مہلک بیماریوں کے خلاف حفاظتی قطرے ان کی خلاف بچاؤ میں مددگار ہوتے ہیں اور یہ بات تحقیق سے ثابت ہو چکی ہے جس کو نامی گرامی طبی ماہرین نے منعقد کیا ہے۔ اور اس (تحقیق) میں کہا گیا ہے کہ ان بیماریوں سے بچاؤکے قطرے کسی بھی طرح سے مضر نہیں ہیں۔

وفات[ترمیم]

2 نومبر 2018 کو راولپنڈی میں ایک قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہو گئے۔ وہ نمازِ عصر کے بعد 2 نومبر 2018 کو اپنے گھر راولپنڈی بحریہ ٹاؤن میں آرام کر رہے تھے، اُن کا محافظ اور ڈرائیور گھر سے باہر تھے جب ایک آدمی دیوار پھلانگ کر آیا اور پہلے چھریوں سے زخمی کیا پھر گولی مار دی۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]