سمیع الحق (سیاست دان)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سمیع الحق (سیاست دان)
چیئرمین دفاع پاکستان کونسل
آغاز منصب
اکتوبر 2011
دوسرے چانسلر دارالعلوم حقانیہ
آغاز منصب
7 ستمبر 1988
Fleche-defaut-droite-gris-32.png عبد الحق
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
ایوان بالا پاکستان برائے خیبر پختونخوا
مدت منصب
مارچ 2003 – مارچ 2009
فروری 1985 – مارچ 1997
رکن مجلس شوری پاکستان
مدت منصب
1983 – 1985
معلومات شخصیت
پیدائش 18 دسمبر 1937 (81 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
اکوڑہ خٹک  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اہل سنت (دیو بندی)
جماعت جمیعت علمائے اسلام  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

مولانا سمیع الحق (تاریخ پیدائش 18دسمبر،1937ء) ایک پاکستانی مذہبی اسکالر، عالم اور سیاست دان ہیں۔ ان کا طالبان کے رہنما ملا محمد عمر کے ساتھ قریبی تعلق تھا۔ مولانا سمیع الحق صاحب اس وقت دار العلوم حقانیہ کے مہتمم اور سربراہ ہیں۔ دار العلوم دحقانیہ ایک دینی درس گاہ ہے جو دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھتی ہے۔ مولانا صاحب دفاع پاکستان کونسل کے چئیرمین ہیں اور جمیعت علما اسلام کے سمیع الحق گروپ کے امیر ہیں۔ وہ متحدہ مجلس عمل کے بانی رکن اور حرکت المجاہدین کے بانی بھی ہیں جو ایک مذہبی تنظیم ہے۔ وہ پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ) کے رکن بھی رہے ہیں اور متحدہ دینی محاذ کے بھی بانی ہیں جو پاکستان کے چھوٹے مذہبی جماعتوں کا اتحاد ہے جو انہوں نے سال 2013 کے انتخابات میں شرکت کرنے کے لیے بنائی تھی۔

حالات زندگی[ترمیم]

مولانا سمیع الحق صاحب 18 دسمبر ،سنہ 1937ء میں اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محترم کا نام مولانا عبد الحق تھا۔ انہوں نے 1366 ھ بمطابق سال 1946 ء میں دار العلوم حقانیہ میں تعلیم شروع کی جس کی بنیاد ان کے والد محترم نے رکھی تھی۔ وہاں انہوں نے فقہ، اصول فقہ، عربی ادب، منطق (logic)، عربی صرف و نحو (گرائمر)، تفسیر اور حدیث کا علم سیکھا۔ ان کو عربی زبان پر عبور حاصل ہے لیکن ساتھ ساتھ پاکستان کی قومی زبان اردو اور علاقائی زبان پشتو میں بھی کلام کرتے ہیں۔ سمیع الحق صاحب کے بیان کے مطابق پاکستان کے امریکی سفیر ان سے جولائی 2013 میں ملاقات کے لیے آئے تھے تاکہ علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کر سکے۔ وہ افغانستان میں طالبان کے دوبارہ بر سر اقتدار آنے کی کھلے طور پر حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک موقع پر کہا ’انکو صرف ایک سال دیجئے اور وہ سارے افغانستان کو خوشحال بنا دینگے سارا افغانستان ان کے ساتھ ہو گا، ایک بار امریکی چلے جائیں تو یہ ایک سال کے اندراندر ہو گا، جب تک وہ وہاں ہیں، افغانوں کو اپنی آزادی کے لیے لڑنا ہو گا‘، انہوں نے کہا، ’یہ آزادی کے لیے ایک جنگ ہے اور یہ تب تک ختم نہیں ہو گی جب تک بیرونی لوگ چلے نہ جائیں۔‘

پولیو کے بارے میں مشہور فتوہ[ترمیم]

تحریک طالبان پاکستان کے پولیو کے حفاظتی قطرے پلانے کو غیر اسلامی قرار دینے پر اور لوگوں کو اسے اپنے بچوں کو پلانے سے روکنے پر مولانا سمیع الحق صاحب نے 9 دسمبر، 2013ء کو پولیو کے حفاظتی قطروں کی حمایت میں ایک فتوہ جاری کیا۔ اس فتوے کے مطابق ’مہلک بیماریوں کے خلاف حفاظتی قطرے ان کی خلاف بچاؤ میں مددگار ہوتے ہیں اور یہ بات تحقیق سے ثابت ہو چکی ہے جس کو نامی گرامی طبی ماہرین نے منعقد کیا ہے۔ اور اس (تحقیق) میں کہا گیا ہے کہ ان بیماریوں سے بچاؤکے قطرے کسی بھی طرح سے مضر نہیں ہیں۔‘

حوالہ جات[ترمیم]