قاضی حسین احمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
قاضی حسین احمد
تفصیل=

چوتھاامیر جماعت اسلامی
مدت منصب
7 اکتوبر 1987 – 29 مارچ 2009[1]
Fleche-defaut-droite-gris-32.png میاں طفیل محمد
سید منور حسن Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
صدر متحدہ مجلس عمل
مدت منصب
10 اکتوبر 2002 – 18 فروری 2008
Fleche-defaut-droite-gris-32.png شاہ احمد نورانی
اتحاد ختم ہوا Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 12 جنوری 1938  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
نوشہرہ، خیبر پختونخوا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 6 جنوری 2013 (75 سال)[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
اسلام آباد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
جماعت جماعت اسلامی پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعۂ پشاور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

قاضی حسین احمد صاحب (پدائش:12 جنوری 1938ء، وفات:6 جنوری 2013ء) ممتاز عالم اور سیاست دان تھے جنہوں نے جماعت اسلامی کے امیر کے طور پر شہرت پائی۔ آپ کے دور میں جماعت سیاسی طور پر زیادہ عوامی مقبولیت کی طرف مائل ہوئی۔

آپ کی زیر صدارت 19xx کے انتخابات میں جماعت کا یہ نعرہ ظالمو ڈرو، قاضی آ رہا ہے مقبول ہوا۔[حوالہ درکار]

تعارف[ترمیم]

جماعت اسلامی کے سابق امیر۔ مذہبی جماعتوں کے مرحوم اتحادمتحدہ مجلس عمل کے آخری سربراہ۔ سید ابوالاعلٰی مودودی اورمیاں طفیل محمد کے بعد قاضی حسین احمد جماعت اسلامی کے تیسرے منتخب امیر بنے۔ اور مارچ 2009ء میں امارت کی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوئے۔ ان کی جگہ سید منورحسن جماعت اسلامی کے چوتھے امیر منتخب ہوئے۔

پیدائش[ترمیم]

قاضی حسین احمد 1938 ء میں ضلع نوشہرہ (صوبہ خیبر پختونخوا) کے گاؤں زیارت کاکا صاحب میں پیدا ہوئے۔ والد مولانا قاضی محمد عبد الرب صاحب ایک ممتازعالم دین تھے اوراپنے علمی رسوخ اور سیا سی بصیرت کے باعث جمعیت علمائے ہند صوبہ سرحد کے صدرچُنے گئے تھے۔ قاضی صاحب اپنے دس بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہیں۔ ان کے بڑے بھائی ڈاکٹر عتیق الرحمٰن اور مرحوم قاضی عطاء الرحمٰن اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل تھے۔ قاضی حسین احمد بھی ان کے ہمراہ جمعیت کی سرگرمیوں میں شریک ہونے لگے۔ لٹریچر کا مطالعہ کیا اور یوں جمعیت طلبہ سے وابستہ ہوئے۔

ابتدائی تعلیم اور عملی زندگی[ترمیم]

قاضی صاحب نے ابتدائی تعلیم گھر پر اپنے والد سے حاصل کی۔ پھر اسلامیہ کالج پشاور سے گریجویشن کے بعد پشاور یونیورسٹی سے جغرافیہ میں ایم ایس سی کی۔ بعد ازتعلیم جہانزیب کالج سیدو شریف میں بحیثیت لیکچرارتعیناتی ہوئی اور وہاں تین برس تک پڑھاتے رہے۔ جماعتی سرگرمیوں اور اپنے فطری رحجان کے باعث ملازمت جاری نہ رکھ سکے اور پشاور میں اپنا کاروبار شروع کر دیا۔ جہاں سرحد چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر منتخب ہوئے۔

سیاسی سفر[ترمیم]

دوران تعلیم اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان میں شامل رہنے کے بعد آپ 1970ء میں جماعت اسلامی کے رکن بنے،پھرجماعت اسلامی پشاورشہر اور ضلع پشاورکے علاوہ صوبہ سرحد کی امارت کی ذمہ داری بھی ادا کی گئی۔ 1978ء میں جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل بنے اور 1987ء میں جماعت اسلامی پاکستان امیر منتخب کر لیے گئے۔ تب سے وہ چارمرتبہ (1999ء،1994ء، 1992ء، 2004ء) امیرمنتخب ہو ئے۔

قاضی حسین احمد 1985ء میں چھ سال کے لیے سینیٹ آف پاکستان کے ارکان منتخب ہوئے۔ 1992ء میں وہ دوبارہ سینیٹرمنتخب ہوئے،تاہم انہوں نے حکومتی پالیسیوں پر احتجاج کرتے ہوئے بعد ازاں سینٹ سے استعفا دے دیا۔ 2002 ء کے عام انتخابات میں قاضی صاحب دو حلقوں سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ نورانی صاحب کی وفات کے بعد تمام مذہبی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے یعنی متحدہ مجلس عمل کے صدر منتخب ہوئے۔ ایم ایم اے میں فضل رحمان کے برعکس قاضی صاحب کا نقطۂ نظر ہمیشہ سے سخت گیر رہا ہے۔ حقوق نسواں بل کی منظوری کے بعد استعفا کی بات بھی ان کی طرف سے ہوئی تھی۔ اور قاضی صاحب نے پارٹی قیادت پر کافی دباؤ بھی ڈالا لیکن جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ فضل الرحمان کے سامنے ان کی ایک نہ چل سکی۔ جولائی 2007ء میں لال مسجد واقعے کے بعد اسمبلی سے استعفا دینے کا اعلان کر دیا۔[3]

تفصیلی مضمون فوجی تاخت 2007ء

3 نومبر کے تاخت کے بعد آپ کو اپنے گھر میں نظربند کر دیا گیا۔ 14 نومبر کو عمران خان کو پولیس کے حوالے کرنے کا واقعہ ہوا۔[4] دو ہی روز بعد حکومت نے قاضی صاحب اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں کی نظربندی ختم کر دی۔[5]

عائلی زندگی[ترمیم]

قاضی حسین احمد کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ جو والدہ سمیت جماعت اسلامی سے وابستہ ہیں۔ قاضی صاحب منصورہ میں دو کمروں کے ایک فلیٹ میں رہتے تھے۔ قاضی صاحب کو اپنی مادری زبان پشتو کے علاوہ اردو،انگریزی،عربی اور فارسی پر عبور حاصل تھا۔ وہ شاعرِ اسلام علامہ محمد اقبال کے بہت بڑے خوشہ چین تھے، انہیں فارسی و اردو میں ان کااکثر کلام زبانی یاد تھا اور وہ اپنی تقاریر و گفتگو میں اس سے استفادہ کرتے تھے۔

وفات[ترمیم]

6 جنوری 2013ء کو دل کے عارضہ سے اسلام آباد میں انتقال ہوا، اُن کو ان کے آبائی علاقے نوشہرہ میں دفن کیا گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Munawar elected as new JI chief"۔ Daily Pakistan۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 دسمبر 2012۔
  2. Transitions: Former JI chief Qazi Hussain Ahmed passes away — اخذ شدہ بتاریخ: 6 جنوری 2013
  3. روزنامہ نیشن، 24 جولائی 2007ء، "Qazi submits resignation to National Assembly Sectt "
  4. روزنامہ نیشن، 16 نومبر 2007ء، "How and who bowled Imran Khan out"
  5. بی بی سی اردو، 18 نومبر 2007ء، "مشرف کسی صورت قبول نہیں: بینظیر"

مدونات[ترمیم]

سیاسی جماعتوں کے عہدے
ماقبل 
میاں طفیل محمد
امیر جماعت اسلامی
1987-2009
مابعد 
سید منور حسن

سانچہ:اسلامی اوکیہ جوت