پاکستان میں مردم شماری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مردم شماری پاکستان
Pakistan Census
State emblem of Pakistan.svg
ادارہ شماریات پاکستان ملک میں مردم شماری کا انعقاد کرتا ہے
مقاماسلام آباد، جی-9/1
ملکFlag of Pakistan.svg پاکستان
افتتاح شدہ1951 (عمر 68–69 سال)
گزشتہ14 مارچ 2017 (2017-03-14)
آگے2027ء (2027ء)
لوگآصف باجوہ[1]
(Chief Statistician/Chief Census Commissioner)
ویب سائٹ
www.pbs.gov.pk/content/population-census

پاکستان میں مردم شماری ہر 10 سال بعد ہوتی ہے۔سب سے پہلی مردم شماری آزادی کے چار سال بعد 1951ء میں ہوئی تھی۔ پھر 1961،1972،1981 اور 1998 میں ہوئی۔1972 والی مردم شماری اصل میں 1971 کو ہونی والی تھی، مگر بھارت سے جنگ کی وجہ سے ایک سال تاخیر ہوئی اور پھر 1991 کی مردم شماری سیاسی گہما گہمی کے باعث موخر ہوئی۔ پاکستان میں آخری بار مردم شماری 2017ء میں کرائی گئی۔


پاکستان میں پہلی مردم شماری قیام پاکستان کے 4 سال بعد 1951 میں کرائی گئی تھی اور اسکے مطابق پاکستان کی مجموعی آبادی ساڑھے 7 کروڑ سے زائد تھی جس میں مغربی پاکستان کی آبادی 3 کروڑ 37 لاکھ جبکہ مشرقی پاکستان کی آبادی 4 کروڑ 20 لاکھ تھی۔

دوسری مردم شماری 1961 میں ہوئی جس میں پاکستان کی مجموعی آبادی 9 کروڑ 30 لاکھ ریکارڈ کی گئی۔ اس مردم شماری میں مغربی پاکستان کی آبادی 4 کروڑ 28 لاکھ جبکہ مشرقی پاکستان کی آبادی 5 کروڑ تھی۔

سقوط ڈھاکہ کے باعث تیسری مردم شماری ایک سال کی تاخیر کے ساتھ 1972 میں ہوئی۔ جس کے مطابق پاکستان کی آبادی 6 کروڑ 53 لاکھ تھی۔ 1981 میں ہونے والی چوتھی مردم شماری میں پاکستان کی آبادی 8 کروڑ 37 لاکھ ہوگئی۔

سترہ سال کے طویل عرصے بعد 1998 میں ہونے والی پانچویں مردم شماری میں پاکستان کی آبادی 13 کروڑ 8 لاکھ 57 ہزار ریکارڈ کی گئی۔ جس کے بعد متعدد مرتبہ مردم شماری کی تاریخیں دی گئیں مگر اب 19 سال بعد ہونے والی چھٹی مردم شماری کا آغاز پندرہ مارچ سے ہوا جوکہ پہلی مرتبہ 2 مرحلوں میں کروائی گئی،

باقی ماندہ علاقوں میں یہ عمل دوسرے مرحلے میں شروع ہوا،

مردم شماری کے لیے گھروں میں آنے والے اہلکار گھر کے سربراہ کے نام اور پھر یہاں رہنے والوں کا اندراج کرتے۔ اس کے لیے گھر کے سربراہ کا شناختی کارڈ ہونا ضروری ہوتا اور اگر وہ دستیاب نہ ہو تو انھیں کوئی بھی ایسی دستاویز فراہم کرنا ہوتی جس سے ان کی شناخت کی تصدیق ہو سکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی طرح معلومات کو چھپانے یا غط بیانی کرنے والے کو پچاس ہزار روپے جرمانہ اور چھ ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

پہلی بار ملک میں خواجہ سرا برادری کو بھی مردم شماری میں شمار کیا گیا۔

سپریم کورٹ کی طرف سے اس بارے میں از خود نوٹس کے بعد گزشتہ سال ہی ملک میں مردم شماری کا فیصلہ کیا گیا،

ملک میں سماجی و معاشی منصوبہ بندی کے لیے مردم شماری بہت اہم ہے کیونکہ اس سے ملک کی آبادی اور اس کے تناسب کو مد نظر رکھ کر ہی حکومت منصوبہ بندی کرتی ہے۔

مردم شماری کیلئے سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کی گئے ہیں، جب کہ آرمی کو خصوصی اختیارات بھی دے دیئے گئے ۔ مسلح افواج کے دو لاکھ سے زائد جوان تعینات کیے گئے، آرمی کی جانب سے ائیرڈیفنس کمانڈ سینٹر میں کنٹرول روم قائم کردیا گیا۔ کراچی میں دو رکنی ڈیٹا ٹیم کے ساتھ فوج اور پولیس کے دو دو جوان موجود ہوتے خانہ و مردم شماری کے پہلے مرحلے کیلئے پاک آرمی کو خصوصی عدالتی اختیارات دیدیئے گئے، پاکستان میں 70 سالہ تاریخ کی چھٹی مردم شماری کے موقع پر وزارت داخلہ نے خانہ و مردم شماری کے موقع پر پاک آرمی کو ان افراد کیخلاف جو کہ معلومات دینے میں تعاون نہ کریں یا غلط معلومات فراہم کرے تو ان کیخلاف موقع پر ہی کارروائی کرتے ہوئے خصوصی عدالتی اختیارات استعمال کیے جائیں

مردم شماری کے فارم کے ایک خانے میں شہریوں سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ ان کے گھر میں موجود ٹوائلٹس کی تعداد کتنی ہے۔ اس سوال کی ضرورت اس لیے بھی محسوس ہوتی ہے کیونکہ اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان کی 40 فیصد آبادی کو ضروری حاجات کے لیے ٹوائلٹ میسر نہیں۔ قومیت کے خانے میں شہریوں کے لیے دو آپشنز پاکستانی یا غیر ملکی موجود تھے،

مزید دیکھیے[ترمیم]

خانہ و مردم شماری پاکستان 2017ء

حوالہ جات[ترمیم]

  1. et,al، Govt.Pakistan. "Chief Statistician/Chief Census Commissioner, PBS | Pakistan Bureau of Statistics". www.pbs.gov.pk (بزبان انگریزی). Chief Statistician, Govt. of Pakistan. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 16 مارچ 2017.