اسلامی نظریاتی کونسل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اسلامی نظریاتی کونسل، پاکستان کا آئینی ادارہ ہے۔ 1973ء کے آئین میں جب شق نمبر 227 شامل کی گئی جس کے مطابق پاکستان میں کوئی بھی قانون قرآن وسنت کے مخالف نہیں بنایا جائے گا تو عملاً اس کا باقاعدہ نظام وضع کرنے کی غرض سے اسی آئین میں دفعہ نمبر 228، 229 اور 230 میں اسلامی نظریاتی کونسل کے نام سے 20 اراکین پر مشتمل ایک آئینی ادارہ بھی تشکیل دیا گیا جس کا مقصد صدر، گورنر یا اسمبلی کی اکثریت کی طرف سے بھیجے جانے والے معاملے کی اسلامی حیثیت کا جائزہ لے کر 15 دنوں کے اندر اندر انہیں اپنی رپورٹ پیش کرنا تھا۔ شق نمبر 228 میں یہ قرار دیا گیا کہ اس کے اراکین میں جہاں تمام فقہی مکاتب ِفکر کی مساوی نمائندگی ضروری ہوگی وہاں اس کے کم از کم چار ارکان ایسے ہوں گے جنہوں نے اسلامی تعلیم وتحقیق میں کم وبیش 15 برس لگائے ہو اور انہیں جمہورِ پاکستان کا اعتماد حاصل ہو۔

کام[ترمیم]

  • ایسے قوانین کی توثیق کرنا جو قرآن و سنت کے روشنی میں ہو۔
  • وفاق اور صوبائی اسمبلیوں کو اسلام کے مطابق سفارشات کرنا

اول اراکین[ترمیم]

اسلامی نظریاتی کونسل جب بنا اس وقت درج ذیل اراکین تھے :[1]

  • جسٹس ابوصالح محمد اکرم، جج وفاقی ہائی کورٹ
  • جسٹس محمد شریف، سابقہ جج وفاقی ہائی کورٹ
  • مولانا اکرم خان
  • مولانا عبد الحامد
  • مولانا حافظ کفایت حسین،
  • ڈاکٹر آئی ایچ قریشی
  • مولانا عبد الہاشم
  • سید نجم الحسن

موجودہ اراکین[ترمیم]

ڈاکٹر قبلہ آیاز موجودہ چیئرمین ہیں

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. History Council of Islamic Ideology. Retrieved 14 February 2011