آئین پاکستان میں آٹھویں ترمیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

آئین پاکستان میں آٹھویں ترمیم جس کو سرکاری طور پر آئین (آٹھویں ترمیم) ایکٹ، 1985ء کے نام سے جانا جاتا ہے اور اسے 9 نومبر 1985ء کو نافذ العمل کیا گیا۔ اس ترمیم کی رو سے حکومت پاکستان پارلیمانی طرز حکومت سے جزوی صدارتی طرز حکومت میں تبدیل ہو گئی اور صدر پاکستان کو کئی اضافی اختیارات اور آئینی طاقت میسر آ گئی۔ یہ اختیارات جو آئین پاکستان کے ذیلی حصہ 2 (ب) کے آرٹیکل 58 میں شامل ہوئے جس کے تحت صدر پاکستان کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ پاکستان کی قومی اسمبلی کو تحلیل کر سکتے تھے، جبکہ سینٹ کو تحلیل کرنے کا کوئی اختیار نہ تھا۔ اس ترمیم کے تحت اگر صدر پاکستان کی رائے میں ملک میں ایسی صورت حال جنم لیتی ہے جس کے تحت حکومت اور ریاست کے انتظامات آئین پاکستان کے تحت نہ چلائے جا سکتے ہوں اور نئے انتخابات کا انعقاد ناگزیر ہو تو وہ پاکستان کی قومی اسمبلی کو تحلیل کر سکتے ہیں۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 58 میں کی جانے والی اس ترمیم کی رو سے صدر پاکستان وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کو بھی فارغ کر سکتے تھے۔

آرٹیکل 58- 2(ب)[ترمیم]

آٹھویں ترمیم، جس کے تحت آئین میں دوسری کئی ترامیم بھی کی گئیں چیدہ بات یہ تھی کہ آئین کے آرٹیکل 58 میں مندرجہ زیل نکات کا بھی اضافہ ہوا،
آئین کے آرٹیکل 49 میں جز 2 میں بیان کردہ حالات سے علاحدہ کچھ ایسے مواقع آ جائیں تو صدر پاکستان، پاکستان کی قومی اسمبلی کو تحلیل کر سکتے ہیں، جیسے کہ،
الف۔ وزیر اعظم کے خلاف ایوان میں عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو جائے اور ایوان کا کوئی بھی دوسرا رکن اس حیثیت میں نہ ہو کہ وہ آئین پاکستان کے تحت ایوان کا اعتماد لے سکے یا
ب۔ ملک میں کچھ ایسے حالات جنم لے لیں جب آئین پاکستان کے تحت حکومت اور ریاست کے انتظامات و معاملات چلانا ممکن نہ رہے اور اس کا حل پاکستان کے منتخب شدہ الیکٹورل کالج کے پاس بھی نہ ہو تو صدر پاکستان اپنی رائے میں اسمبلی تحلیل کر سکتے ہیں۔
آئین پاکستان کے آرٹیکل اٹھاون 2 بی جس کے تحت صدر پاکستان کو اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار حاصل تھا، اس کا استعمال 1990ء کی دہائی میں تین بار کیا گیا۔ یہ اختیارات استعمال ہونے والا پہلا موقع وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف صدر غلام اسحق خان نے 6 اگست 1990ء، دوسرے موقع پر وزیر اعظم میاں نواز شریف کی حکومت کے خلاف صدر غلام اسحق خان نے 1993ء جبکہ تیسری بار بے وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف صدر فاروق احمد لغاری نے نومبر 1996ء کو معطل ہوئی۔ ان اختیارات کے استعمال ہونے کی دوسری بار نواز شریف کو پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے بحال کر دیا تھا لیکن اس وقت اداروں کے مابین شروع ہونے والے قضیے کے نتیجے میں صدر غلام اسحق خان اور وزیر اعظم نواز شریف کو مستعفی ہونا پڑا تھا۔ اس آرٹیکل کا جہاں بھی استعمال ہوا صدر پاکستان کی جانب سے اس کے استعمال کی وجوہات کو واضع انداز میں بیان کیا گیا اور زیادہ تر حکومتی انتظامیہ کی کرپشن کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اس الزام کے بعد حکومتی ادارے عوام میں اپنا وقار اور مقبولیت کھو بیٹھے۔ یہی وجہ تھی کہ ہر بار حکمران جماعت کو انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور پارلیمان میں عددی برتری کسی بھی جماعت کے حصے میں نہیں آئی۔
1997ء میں آئین پاکستان میں تیرہویں ترمیم کی گئی جس کی رو سے صدر پاکستان سے وہ اختیارات واپس لے لیے گئے جس کے تحت وہ اسمبلی کو تحلیل کر سکتے تھے اس طرح صدارتی کیمپ بظاہر ربر سٹمپ بن کر رہ گیا۔
پاکستان میں نافذ جمہوریت میں کوئی بھی ایسا ذریعہ نہیں ہے کہ منتخب ہو جانے کے بعد عوام کے ذریعے اراکین پارلیمان کا احتساب کیا جا سکے۔ ادارہ جاتی احتساب پہلے ہی نہ ہونے کے برابر تھا کہ آئین میں کی جانے والی تیرہویں اور چودہویں ترمیم کے ذریعے حکومتی احتساب کی ساری راہیں بھی مسدود کر دی گئیں۔ وزیر اعظم پاکستان کو اتنا مضبوط کر دیا گیا کہ کسی صورت بھی وزیر اعظم یا ان کی انتظامیہ و کابینہ کا احتساب دوران حکومت ممکن نہ رہا۔
صدر پاکستان کے اختیارات کو سترہویں ترمیم کے ذریعے جزوی طور پر بحال کیا گیا۔ گو صدر پاکستان کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار مل گیا مگر صدر کے اس اقدام کو پاکستان کی عدالت عظمیٰ کی توثیق سے مشروط کر دیا گیا۔

آٹھویں ترمیم: ایک مفاہمت[ترمیم]

عام طور آٹھویں ترمیم کو اس کے آرٹیکل اٹھاون دو ب کے تحت ہی یاد کیا جاتا ہے جس کی رو سے صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیارات حاصل ہوئے۔ لیکن، آٹھویں ترمیم دراصل غیر جماعتی بنیادوں پر منتخب شدہ پارلیمان اور اس وقت کے صدر جنرل ضیاء الحق کے مابین ایک مفاہمت یا سودا تھا۔ 1985ء کے ان انتخابات سے پہلے تقریباً چھ سال تک جنرل ضیاء آئین پاکستان میں کئی ترامیم کر چکے تھے جو آئینی ترمیمی احکامات کے ذریعے کیے گئے تھے، ان میں سب سے مشہور آئین پاکستان 1973ء (صدارتی حکم نمبر 14، سال 1985ء) تھا۔ اس صدارتی حکم کے تحت ہی دراصل صدر کو اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اختیار حاصل ہوا۔
اس بارے جو ابہام پایا جاتا ہے کہ منتخب شدہ اسمبلی نے ایسی متنازع ترمیم کو منظور کیسے کیاِ؟ اس بارے یہ جاننا ضروری ہے کہ دراصل اس وقت صدر ضیاء نے چھ سالوں میں صدراتی دفتر کو جتنے بھی اختیارات صدارتی حکم ناموں کے ذریعے منتقل کیے تھے ان میں سے بیشتر کے عوض ہی ایوان سے یہ ترمیم منظور کروائی تھی۔ اس ضمن میں آئینی ماہرین دراصل آٹھویں ترمیم کو ایک مفاہمتی سودے کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]