آئین پاکستان میں پچیسویں ترمیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
آئین میں 25ویں ترمیم،2018
State emblem of Pakistan.svg
مجلس شوریٰ پاکستان
ایک مسودہ جو آئین میں مزید ترمیم کے لیے تیار کیا گیا۔
تاریخ منظوری In قومی اسمبلی پاکستان: مئی24, 2018
در ایوان بالا پاکستان: مئی 25, 2018
در صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا: مئی 27, 2018
تاریخ رضامندی مئی 31، 2018
قانون سازی کی تاریخ
Bill آئین میں 25ویں ترمیم، 2018
Bill citation 31ویں آئین ترمیمی مسودہ
متعارف کردہ بدست چوہدری بشیر محمود (سابقہ وزیر قانون)
صورت حال: نامعلوم

آئین پاکستان میں 25ویں آئینی ترمیم 2018ء میں منظور ہوئی جس کی وجہ سے آئینی طور پاکستان کے سابقہ قبائلی علاقہ جات صوبہ خیبر پختونخوا میں شامل ہوئے۔ آئینی ترمیم ایک طویل المدت مطالبے، تحریکوں اور قبائلی علاقوں کی پسماندگی کو سامنے رکھ کر کی گئی۔ ترمیم کے بعد اب قبائلی علاقہ جات باضابطہ طور پر پختونخوا کا حصہ ہیں۔ 25ویں آئینی ترمیم نے ایف سی آر قانون جسے اکثریتی مقامی آبادی سابقہ انگریز حکمرانوں کا کالا قانون سمجھتی تھی، کو یکسر ختم کیا اور عدالت عظمی پاکستان اور پشاور عدالت عالیہ کا دائرہ اختیار سابقہ قبائلی علاقوں تک وسیع کیا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]