آپریشن سائیکلون

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

آپریشن سائیکلون ریاستہائے متحدہ امریکا کی سنٹرل انٹلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ایک پروگرام کا نام تھا جس کا مقصد افغانستان میں بر سر پیکار مجاہدین کو 1979ء سے 1989ء کے درمیان ہتھیار فراہم کر کے انہیں مسلح کرنا تھا۔ یہ وقت دو ادوار پر محیط ہے: سوویت یونین کی فوجی مداخلت سے پہلے اور اس کے بعد اس کے گاہک کے لیے جو جمہوری جمہوریہ افغانستان تھا۔ یہ پروگرام کافی سے زیادہ ان عسکریت پسند گروہوں کی طرف جھکا ہوا تھا جو محمد ضیاء الحق کی حکومت طرف نرم گوشہ تھے جو اس وقت پاکستان میں زیر اقتدار تھے۔ یہ گروہ ان دیگر نظریاتی افغان گروہوں سے مختلف تھے جو مطمح نظر کے اعتبار سے ہم مرکز تھے اور عوامی جمہوریہ افغانستان سے سوویت مداخلت سے پہلے ہی سے اسی طرح نبرد آزما تھے۔ [1] آپریشن سائیکلون سب سے زیادہ طویل المدت اور سب سے زیادہ خرچ والا خفیہ سی آئی اے آپریشن تھا جو کسی بھی وقت کیا گیا تھا؛[2] اس کے مالیے کا آغاز 1979ء میں محض $500,000 سے کچھ زیادہ سے شروع ہوا، مگر سال 1980ء تک یہ مالیہ ہر سال کے لیے $20–$30 ملین تک بڑھ گیا اور 1987ء تک یہ $630 ملین ہو چکا تھا۔ مالیہ فراہمی 1989ء کے بعد بھی جاری رہی جب مجاہدین محمد نجیب اللہ کی پی ڈی پی اے سے متحارب رہے جو افغانستان میں خانہ جنگی (1989–1992) کے دوران جاری رہی۔ [3]

آغاز[ترمیم]

آپریشن سائیکلون کا آغاز 3 جولائی 1979ء کو ہوا تھا جبکہ سوویت فوجیں 24 دسمبر 1979ء کو افغانستان میں داخل ہوئی تھیں۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Bergen, Peter, Holy War Inc., Free Press, (2001), p.68
  2. Donald L. Barlett؛ James B. Steele (13 مئی 2003)۔ "The Oily Americans"۔ ٹائم۔ اخذ کردہ بتاریخ 2008-07-08۔ 
  3. Crile, p 519 اور دیگر مآخذ میں بھی یہی موجود ہے۔
  4. https://www.marxist.com/june-2013-obama-taliban-ur.htm