اشفاق پرویز کیانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
اشفاق پرویز کیانی
Ashfaq Parvez Kayani-2009.jpg 

مناصب
Flag of the Pakistani Army.svg سربراہ پاک فوج   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
مدتِ منصب
29 نومبر 2007  – 29 نومبر 2013 
معلومات شخصیت
پیدائش 20 اپریل 1952 (66 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
جہلم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی پاکستان ملٹری اکیڈمی
ریاستہائے متحدہ آرمی کمانڈ اینڈ جنرل اسٹاف کالج
نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی، پاکستان
ملٹری کالج جہلم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
تعلیمی اسناد ماسٹرز ڈگری  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
شاخ پاک فوج  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں عسکری شاخ (P241) ویکی ڈیٹا پر
عہدہ منصب جامع  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں عسکری رتبہ (P410) ویکی ڈیٹا پر
لڑائیاں اور جنگیں پاک بھارت جنگ 1971ء،شمال مغرب پاکستان میں جنگ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
Legion of Merit ribbon.svg لیگون آف میرٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر

اشفاق پرویز کیانی پاکستانی فوج کے ایک ریٹائر چار ستارہ افسر رہ چکے ہیں - اشفاق پرویز کیانی پاکستانی فوج کے سربراہ(29 نومبر 2007–29 نومبر 2013) رہے - انہیں 29 نومبر 2007 کو جنرل(ر) پرویز مشرف کی جگہ آرمی چیف لگایا گیا[1] - جنرل کو 8 اکتوبر 2013 سے 29 نومبر 2013 تک پاکستانی فوج کے قائم مقام 'چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی' بھی رہنے کا اعزاز حاصل ہے - اس کے علاوہ وہ آئی ایس آئی کے سربراہ(اکتوبر 2004-نومبر 2007) بھی رہے - 24 جولائی 2010 کو وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ان کی ملازمت میں تین سال کی توسیع کی[2]- 2011 کو فوربس نے انہیں دنیا کا 34 واں طاقتور ترین شخص قرار دیا-[3] 2012 کو فوربس ہی نے جنرل کو دنیا کا 28 واں طاقتور ترین شخص قرار دیا-

ابتدائی زندگی

اشفاق پرویز کیانی 20 اپریل 1952 کو، گوجر خان، صوبہ پنجاب میں واقع ایک گاؤں منگھوٹ میں پیدا ہوئے - منگھوٹ سطح مُرتفع پوٹھوہار پر واقع ہے - اشفاق کے والد پاک فوج میں ایک نان کمیشنڈ افسر(Non-Commissioned Officer) تھے - ایک مقامی ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد اشفاق پرویز کیانی نے کامیابی کے ساتھ ملٹری کالج جہلم میں داخلہ لیا- بعد ازاں کاکول میں پاکستان ملٹری اکیڈمی سے انہوں نے 45th پی ایم اے لانگ کورس(PMA Long Course)کی 1971 میں بیچلر کی ڈگری کے ساتھ گریجویشن کی-

کیریئر

1971 کی جنگ

کیانی نے 29 اگست 1971 کو بلوچ رجمںٹ کی پانچویں بٹالین میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کے طور پر کمیشن حاصل کیا- بھارت کے ساتھ 1971 کی جنگ میں انھوں نے فوج میں شمولیت اختیار کی اور جنگ میں حصہ لیا-

تعلیم

جنگ کے بعد، کیانی نے اپنی تعلیم دوبارہ شروع کی اور کوئٹہ میں موجود کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج(Command and Staff College) سے تعلیم حاصل کی- اس کے بعد، کیانی امریکا روانہ ہو گئے اور بالترتیب فورٹ لیونورتھ(Fort Leavenworth) اور فورٹ بیننگ(Fort Benning) میں موجود امریکا کے 'آرمی کمانڈ اینڈ جنرل سٹاف کالج(Army Command and General Staff College)' اور 'عسکری انفینٹریاسکول(Army Infantry School)' میں تعلیم حاصل کی- امریکا میں فوجی اداروں سے گریجویشن کرنے کے بعد، اشفاق پاکستان واپس آئے اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی، اسلام آباد سے جنگی معاملات میں ماسٹر آف سائنس کیا-[4]

سٹاف اینڈ کمانڈ کی تقرریاں

لیفٹیننٹ کرنل کے طور پر، کیانی نے ایک انفنٹری بٹالین اور بریگیڈیئر کے طور پر ایک انفنٹری بریگیڈ کی کمانڈ کی- بعد ازاں انھوں نے سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت کے دوران میں اس کے ڈپٹی ملٹری سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دیں - دو ستارہ افسر بننے کے بعد، میجر جنرل کیانی نے مری میں بارہویں انفنٹری ڈویژن(12th Infantry Division) کی کمانڈ کی جو تمام لائن آف کنٹرول کے علاقے اور ایکس کور(X-Corps) کے تحت آتا ہے - 2000 میں، کیانی کو ملٹری آپریشنز(Military Operations) کا ڈائریکٹر جنرل(DGMO) لگایا گیا- 2001 میں جب پاکستان اور بھارت کے درمیان میں شدید فوجی کشیدگی ہوئی تو ڈی جی ایم او کے طور پر انہوں نے تندہی سے سرحد پر مشترکہ مسلح افواج کی نگرانی کی- بتایا جاتا ہے کے کیانی اس کشیدگی کے دوران میں صرف ایک رات چند گھنٹے سوے -
ستمبر 2003 میں کیانی کی تین ستارہ افسر کی تقرری صدر پرویز مشرف کی طرف سے منظور کی گئی- اسی سال انہیں راولپنڈی میں ایکس کور(X-Corps) کا فیلڈ آپریشنل کمانڈر(Field Operational Commander) مقرر کیا گیا- ایکس کور(X-Corps) کے فیلڈ آپریشنل کمانڈر کی تقرری سے سابق چیف آف آرمی سٹاف پرویز مشرف کا کیانی پر اعتماد کا اشارہ ہو سکتا ہے کیونکہ ایک فوجی بغاوت دسویں کور(X-Corps) کے فیلڈ آپریشنل کمانڈر کے بغیر ممکن نہیں - کیانی نیں اکتوبر 2004 تک ایکس کور(X-Corps) کی قیادت کی- اس کے بعد انہیں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لگایا گیا-[5]

انٹیلی جنس سروس

اکتوبر 2004 میں، لیفٹیننٹ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو جنرل احسان الحق الحق جنہیں بعد ازاں 'چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی' لگایا گیا، کی جگہ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی کے عہدے پے ترقی دے دی گئی- آئی ایس آئی میں اپنے آخری دنوں میں انھوں نے بے نظیر بھٹو سے ملاقات کی- تین سال کے بعد لیفٹننٹ جنرل ندیم تاج کو جنرل کیانی کی جگہ ڈی جی آئی ایس آئی لگا دیا گیا-[6]

چیف آف آرمی سٹاف

اکتوبر 2007 میں، کیانی کے چار ستارہ کے عہدے پر تقرری کے کاغذات صدر پرویز مشرف کی طرف سے منظورکیے گئے اور کیانی کو وائس چیف آف آرمی سٹاف سٹاف مقرر کیا گیا- کیانی کو ایک سینئر افسر لیفٹیننٹ جنرل خالد پر فوقیت دی گئی- 28 نومبر 2007 کو پرویز مشرف کے جانشین کے طور پر انہیں جنرل ہیڈ کوارٹرز، راولپنڈی کے قریب ایک اسٹیڈیم میں منعقد ہونے والے تقریب میں چیف آف آرمی سٹاف لگایا گیا- جنرل کیانی آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز رہے اور اس کے بعد چیف آف آرمی سٹاف بن گئے - یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلے چار ستارہ افسر ہیں جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوا- اس سے پہلے 1999 میں ایسا ہوا تھا جب جنرل ضیاء الدین بٹ جو کے اس سے پہلے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی تھے - ضیاء الدین بٹ کو وزیر اعظم نواز شریف نے چیف آف آرمی سٹاف مقرر کیا، لیکن ایک فوجی بغاوت کے ذریے ممکنہ سبکدوش کیے جانے والے جنرل پرویز مشرف کو دوبارہ بحال کر دیا گیا-

سول اور حکومتی محکموں میں سے فوج کی واپسی

جنوری 2008 میں جنرل کیانی نے فوجی افسران کو حکم دیا کے وہ سیاست دانوں کے ساتھ رابطے نہ رکھیں - 13 فروری 2008 ء کو جنرل کیانی نے پاکستان کے تمام حکومتی اور سول محکموں میں سے فوجی افسران کی واپسی کا حکم دیا[7]- صدر مشرف کے ناقدین نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا جن کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ سیاست میں فوج کی دخل اندازی نہ ہو- میڈیا کے مطابق 23 ایسے محکمے جن میں این ایچ اے (National Highway Authority)، قومی احتساب بیورو(National Accountability Bureau)، وزارت تعلیم، وزارت بجلی و پانی وغیرہ شامل تھے، میں سے فوج کے افسران اور ملازمین کو واپس بلا لیا گیا-

2008 کے انتخابات

7 مارچ 2008 ء کو جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان کی مسلح افواج سیاست سے لاتعلق رہیں گی اور نئی حکومت کی حمایت کریں گی- انھوں نے راولپنڈی شہر میں فوجی کمانڈروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہے کہا کہ "آرمی مکمل طور پر جمہوری عمل کی حمایت کرتی ہے "- کیانی نے یہ تاثرات 2008 کے انتخابات کے بعد کے تھے جب پیپلز پارٹی الیکشن جیت چکی تھی اور ایک مخلوط حکومت قائم کرنے جا رہی تھی-

کیانی کے بارے میں ایک چیف آف آرمی کے طور پر تصورات

جب جنرل کیانی کو چیف آف آرمی سٹاف لگایا گیا تو امریکا(United States) کے کئی بڑے افسران نے کیانی سے ملاقات کی- ان میں اس وقت کے سی آئی اے چیف مائیکل ہیڈن، نیشنل انٹیلی جنس ڈائریکٹر مائک مککونیل(Mike McConnell) اور سا بق کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) ایڈمرل(ر) ولیم فولن شامل تھے -[8]
آرمی چیف کے طور پر کیانی کا سب سے پہلا قدم قبائلی علاقوں(FATA) کا دورہ تھا- عید الفطر کا دن کیانی نے اپنے خاندان کے بجاے پاکستانی فوجیوں کے ساتھ گزارا- اس قدم پر امریکی عسکری قیادت نے انہیں "Soldier's soldier" کا خطاب دیا-

اعزازات اور تمغے

ملٹری سروس
10-year Service Medal.svg دس سالہ سروس میڈل
20-year Service Medal.svg بیس سالہ سروس میڈل
30-year Service Medal Pakistan.svg تیس سالہ سروس میڈل
40-year Service Medal.svg چالیس سالہ سروس میڈل
Tamgha-e-Diffa Pakistan.svg تمغا دفاع(جنرل سروس میڈل)
Non-operational Military Awards
Order of Excellence Nishan-e-Imtiaz.png نشان امتیاز(ملٹری)
Nishan-e-Imtiaz(Civilian) 1957-86 Pakistan.svg نشان امتیاز(سویلین)
Crescent of Excellence Hilal-e-Imtiaz.png ہلال امتیاز
یادگاری تمغات
Qarardad-e-Pakistan Tamgha Pakistan.svg تمغا قرارداد پاکستان
Tamgha-e-Sad Saala Jashan-e-Wiladat-e-Quaid-e-Azam.svg تمغا صد سالہ جشن ولادت قائد اعظم
Tamgha-e-Istaqlal Pakistan.svg تمغا استقلال
Hijri Tamgha, Pakistan.svg ہجری تمغا
Jamhuriat Tamgha Pakistan.svg تمغا جمہوریت
Independence Day Golden Jubilee Medal, 2006.svg تمغا جشن آزادی گولڈن جبلی
Tamgha-e-Baqa Pakistan.svg تمغا دفاع
جنگی تمغات
Sitara-e-Harb 1971 War Pakistan.svg ستارہ حرب(1971 کی جنگ)
Tamgha-e-Jang 1971 War Pakistan.svg تمغا جنگ(1971 کی جنگ)
غیر ملکی تمغات
US Legion of Merit Chief Commander ribbon.png لیجن آف میرٹ(امریکا)
ESP Gran Cruz Merito Militar (Distintivo Blanco) pasador.svg آرڈر آف ملٹری میرٹ(اسپین)
Spange des König-Abdulaziz-Ordens.png آرڈر آف عبدالعزیز السعود(سعودی عربیہ)

حوالہ جات

  1. theajmals.com، "سچ "
  2. Khan, Iftikhar A.، "Kayani to stay on as COAS till 2013: The night of the quiet general"، Dawn، 23 جولائی 2010
  3. http://www.forbes.com/profile/ashfaq-parvez-kayani
  4. ISI۔ "Ashfaq Parvez Kayani (ISI)"۔ Government of Pakistan۔ ISI Publications۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 فروری 2014۔ 
  5. Ron Moreau and Zahid Hussain. "The Next Musharraf" Newsweek، 8 اکتوبر 2007
  6. ایاز امیر۔ "Is change in the air?" Dawn، 1 دسمبر 2006
  7. "Pakistan military withdraws officers from civilian duties" Monsters and Critics، 12 فروری 2008
  8. Chauhan, Swaraaj, "General Kayani: USA’s New ‘Poster Boy’ In Pakistan?"، The Moderate Voice، 13 فروری 2008.

نوٹس

{{end}
فوجی دفاتر
پیشرو 
احسان الحق
ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹلیجنس
2004–2007
جانشین 
ندیم تاج
پیشرو 
احسن سلیم حیات
وائس چیف آف آرمی سٹاف
2007
عہدہ ختم
پیشرو 
پرویز مشرف
چیف آف آرمی سٹاف
2007 – 2013
جانشین 
راحیل شریف
پیشرو 
خالد شمیم وائیں
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی (قائم مقام)
2013
جانشین 
راشد محمود