مندرجات کا رخ کریں

جماعت اسلامی بنگلہ دیش

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

بنگلہ دیش جماعت اسلامی، جسے پہلے جماعت اسلامی بنگلہ دیش کہا جاتا تھا، بنگلہ دیش کی ایک بڑی اسلامی سیاسی جماعت ہے۔[1]

جماعت اسلامی بنگلہ دیش
بانیعباس علی خان
صدر دفترموگ بازار،ڈھاکہ، بنگلہ دیش
نظریاتاسلام
قومی اشتراکہم خیال 11 جماعتی اتحاد
قومی اسمبلی بنگلہ دیش میں نشستیں
0 / 300
ویب سائٹ
jamaat-e-islami.org

1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد، نئی حکومت نے جماعت اسلامی پر سیاسی شمولیت پر پابندی لگا دی کیونکہ حکومت سیکولر تھی ۔ اس دور میں جماعت کے کچھ رہنما پاکستان میں جلاوطنی اختیار کر گئے تھے۔ پہلے صدر کے قتل اور 1975 میں فوجی بغاوت کے بعد جماعت پر سے پابندی ہٹا دی گئی اور نئی جماعت جماعت اسلامی بنگلہ دیش بنائی گئی۔ جلاوطن رہنماؤں کو واپس جانے کی اجازت دی گئی۔ عباس علی خان جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے قائم مقام امیر تھے۔

1980 کی دہائی میں جماعت نے جمہوریت کی بحالی کے لیے کثیر الجماعتی اتحاد میں شمولیت اختیار کی۔ بعد میں اس نے ضیاء الرحمن کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا اور جماعت کے رہنما وزیر اعظم بیگم خالدہ ضیاء کی بی این پی کی زیرقیادت دو حکومتوں (1991 سے 1996 اور 2001 سے 2006 تک) میں وزیر بن گئے۔ عوامی لیگ بھی 1996 میں اقتدار میں آنے کے لیے جماعت کے ساتھ شامل ہوئی۔ 2008 میں اس نے پارلیمنٹ کی 300 میں سے دو منتخب نشستیں جیتیں۔ 2010 میں عوامی لیگ کی قیادت میں حکومت نے 1971 کی جنگ کے دوران نام نہاد جنگی جرائم پر بین الاقوامی جرائم کے ٹریبونل کے تحت مقدمہ چلانا شروع کیا۔ 2012 تک، بی این پی کے دو رہنماؤں، جماعت کے آٹھ رہنماؤں پر جنگی جرائم کے خود ساختہ الزامات عائد کیے گئے تھے اور مارچ 2013 تک، جماعت کے تین رہنماؤں کو نام نہاد جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا ۔ اگست 2013 کو، بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے جماعت اسلامی کی رجسٹریشن منسوخ کر دی اور یہ حکم دیا کہ جماعت قومی انتخابات لڑنے کے لیے نااہل ہے۔  یکم اگست 2024 کو حکومت نے اس پر مکمل پابندی لگا دی تھی۔حسینہ کے فرار اور طلبہ انقلاب کے بعد جماعت اسلامی سے تمام پابندیاں ختم ہوگئیں اور جماعت اسلامی سیاسی افق پر بھرپور انداز میں نظر آنے لگی۔

تاریخ

[ترمیم]

برطانوی ہندوستان (1941–1947)

[ترمیم]

جماعت اسلامی کی بنیاد تقسیم سے قبل برٹش انڈیا میں سید ابوالاعلیٰ مودودی نے 26 اگست 1941 کو اسلامیہ پارک، لاہور میں احیائے اسلام کی تحریک کے طور پر رکھی۔

پاکستان (1947-1971)

[ترمیم]

قیام پاکستان کے بعد جماعت اسلامی ہندوستان اور پاکستان کی الگ الگ تنظیموں میں بٹ گئی۔ جماعت اسلامی پاکستان کا مشرقی پاکستان ونگ بعد میں بنگلہ دیش جماعت اسلامی بن گیا۔

جماعت اسلامی نے جنرل ایوب خان کے مارشل لا دور میں پاکستان میں جمہوری تحریک میں حصہ لیا۔ ایک آل پارٹی ڈیموکریٹک الائنس (DAC) 1965 میں تشکیل دیا گیا۔ مشرقی پاکستان میں جماعت کے سربراہ، غلام اعظم اس اتحاد کے رکن تھے، جس میں مولانا عبد الحمید خان بھاشانی اور شیخ مجیب الرحمن بھی شامل تھے۔

بنگلہ دیش (1971 تا حال)

[ترمیم]

صدر شیخ مجیب الرحمان کو اگست 1975 میں بنگلہ دیش کے فوجی افسران کے ایک گروپ نے قتل کر دیا تھا۔ مجیب الرحمٰن کے بعد کی ان حکومتوں کو سعودی عرب اور پاکستان دونوں نے فوری طور پر تسلیم کر لیا اور جماعت اسلامی نے ایک بار پھر بنگلہ دیش میں سیاسی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں۔

بنگلہ دیش کوٹہ احتجاج میں جماعت اسلامی کی شمولیت کے نتیجے میں، حسینہ انتظامیہ کے تحت بنگلہ دیش کی حکومت نے یکم اگست 2024 کو جماعت پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن حسینہ کے فرار اور طلبہ انقلاب کی کامیابی کے بعد جماعت اسلامی سے تمام پابندیاں ختم ہوگئیں اور جماعت بھرپور انداز میں بنگلہ دیش میں نمودار ہوئی۔

امرا

[ترمیم]

بنگلہ دیش اسلامی چھاترو شبیر

[ترمیم]

جماعت کا طلبہ ونگ بنگلہ دیش اسلامی چھاترو شبیر ہے جو بہت سے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ایک بڑی طلبہ تنظیم ہے جس میں چٹاگانگ کالج، یونیورسٹی آف چٹاگانگ، ڈھاکہ یونیورسٹی، راجشاہی یونیورسٹی، اسلامی یونیورسٹی، بیگم رقیہ یونیورسٹی، کارمائیکل کالج وغیرہ شامل ہیں۔ مدرسوں میں بھی بااثر ہے۔ یہ انٹرنیشنل اسلامک فیڈریشن آف اسٹوڈنٹ آرگنائزیشنز اور ورلڈ اسمبلی آف مسلم یوتھ کی رکن ہے۔

مزید دیکھیے

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. "Jamat Islami"۔ wikipedia {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |تاریخ= (معاونت) والوسيط |پہلا= يفتقد |آخر= (معاونت)