محمد حفیظ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد حفیظ
Muhammad Hafeez2.jpg
ذاتی معلومات
مکمل نام محمد حفیظ
پیدائش 17 اکتوبر 1980 ء (عمر 37 سال)
سرگودہ٫ پاکستان
عرف پروفیسر
بلے بازی دائيں ہاتھ سے
گیند بازی دائیں ہاتھ سے آف بریک
حیثیت افتتاحی بلے باز
بین الاقوامی کرکٹ
قومی ٹیم
پہلا ٹیسٹ (کیپ 173) 20 اگست 2003ء  بمقابلہ  بنگلادیش
آخری ٹیسٹ 11_15 اگست 2016ء  بمقابلہ  انگلینڈ
ایک روزہ پہلا (کیپ 144) 3 اپریل 2003ء  بمقابلہ  زمبابوے
آخری ایک روزہ 24 اگست 2016ء  بمقابلہ  انگلینڈ
ایک روزہ شرٹ نمبر. 08
پہلا ٹی20 (کیپ 05) 28 اگست 2006  بمقابلہ  انگلینڈ
آخری ٹی20 30 نومبر 2015ء ا بمقابلہ  انگلینڈ
قومی کرکٹ
سالٹیم
2016–present پشاور زلمی
2012ء-2015ء لاہور لائنز
2005ء- 2012ء فیصل آباد ولفز
2008ء کالکتہ نائٹ رائیڈرز
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ ون ڈے ٹی20 ایف سی
میچ 50 170 65 235
رنز بنائے 3,452 4,096 1,270 7,702
بیٹنگ اوسط 33.96 31.06 25.76 34.82
100s/50s 12/9 34/11 9/0 14/44
ٹاپ اسکور 224 140* 86 140*
گیندیں کرائیں 2,831 5,928 914 10,532
وکٹ 35 113 44 207
بالنگ اوسط 34.00 35.50 22.90 34.42
اننگز میں 5 وکٹ 0 0 0 n/a
میچ میں 10 وکٹ 0 0 0 n/a
بہترین بولنگ 4/16 4/16 4/10 4/23
کیچ/سٹمپ 26/- 14/– 7/– 54/–
ماخذ: ئایسپیین, 05 January 2014

محمد حفیظ کرکٹ کے پاکستانی کھلاڑی ہیں۔ وہ 17 اکتوبر کو پاکستان کے ایک شہر سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ وہ پاکستانی کرکٹ کے ٹی ٹوئنٹی کے کپتان بھی رہے ہیں۔ وہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی طرف اوپنر آتے ہیں۔ وہ سیدھے ہاتھ سے بلے بازی کرتے ہیں۔ اور سیدھے ہاتھ سے آف بریک گیند بازی بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے ناصر جمشید کے ساتھ 2012ء میں ایشیا کپ میں 224 رنز کی پاٹنرشپ کا ریکارڈ بھی بنایا تھا۔

ابتدائی کیرئیر 2003-2006[ترمیم]

محمد حفیظ کو پروفیسر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ وہ دنیا کے نمبر 1 آل راؤنڈر بھی رہے ہیں۔ ان کا شمار ان پاکستانی آل رؤنڈرز میں ہوتا ہے، جو ٹیم میں نکالے جانے کے بعد دوبارہ واپس اپنی جگہ کرکٹ ٹیم میں بنائی۔ عالمی کرکٹ کپ 2003 میں ناقص کارکردگی کے سبب انہیں ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا تھا۔ اس میں انہوں نے بلے بازی اور گیند بازی بھی ناقص کی۔ پھر انہوں نے علاقائی کرکٹ میں بہت اچھی کارکردگی دکھائی۔ اور پھر ٹیم میں واپس آئے اور آسٹریلیا میں ہونے والی سیریز میں انہوں نے اپنی پہلی سنچری بنائی۔ انگلینڈ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز اپنی دوسری سنچری بنائی۔ مگر اگلے پانچ سال تک وہ ٹیسٹ ٹیم اور ایک روزہ بین الاقوامی میں اپنی جگہ نہ بنا پائے۔

2010ء میں واپسی[ترمیم]

2010ء میں ٹی ٹوئنٹی ولڈ کپ کے لیے حفیظ کو واپس بلایا گیا۔ مگر انہوں نے ناقص کارکردگی دیکھائی۔ 6 میچوں میں 39 رنز اور 2 وکٹس لیں۔ انہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف کامران اکمل کے ساتھ ایک مضبوط پاٹنرشپ بنائی۔ 2012 اپشیا کپ میں 105 رنز 113 گیندوں پر بنائی۔ جس میں انکی 224 رنز کی پاٹنر شپ بھی شامل ہیں۔ دسمبر 2013ء میں انہوں نے زہیر عباس کی سیریز میں تین سنچروں کا ریکارڈ برابر کر دیا۔ انہوں نے سری لنکا کے خلاف تیں سنچریاں لگائی جن میں 122 ,140*,113* شامل ہیں،مگر وہ عالمی کپ 2015 میں زخمی ہونی کی وجہ سے باہر ہو گے۔

ریکارڈز[ترمیم]

نمبر ریکارڈ
1 پاکستانی کپتان کی حثییت سے سب سے زیادہ میچ جیتے۔
2 پہلا پاکستانی کھلاڑی جس نے T20 میں 1000 سے زیادہ رنز اور 40 سے زیادہ وکٹیں لیں۔
3 پہلا پاکستانی کپتان جس نے تین T20 میں لگاتار 3 نصف سنچریاں بنائی۔
4 پاکستانی تاریخ کا تیسرا باؤلر عمران خان اور وسیم اکرم کے بعد ایک ایک روزہ بین الاقومی میں 100 سے زیادہ وکٹیں لیں۔
5 ٹی ٹوئنٹی میں پاکستانی بلے باز کی حثییت سب سے زیادہ نصف سنچریاں بنائی۔
6 توفیق عمر اور محمد حفیظ کا patnership بہت مشہور تھا۔
7 پی سی بی کی طرف "پلیر آف دی ائیر" کا ایوارڈ دیا گیا۔
8 ٹی ٹوئنٹی میں 15 دفعہ مین آف دی میچ کا ایوارڈ

سنچریاں[ترمیم]

ٹیسٹ سنچریاں[ترمیم]

# سکور میچ مخالف شہر/ملک گرؤنڈ سال میچ کا نتیجہ
1 102 2 بنگلادیش پشاور/پاکستان ارب نیاز سٹیڈیم 2003 جیتے
2 104 7 ویسٹ انڈیز کراچی/پاکستان نیشنل سٹیڈیم 2006 جیتے
3 119 18 زمبابوے بولاوو/پاکستان کوین سپورٹ کلب 2011 جیتے
4 143 22 بنگلادیش چیٹاگنگ/بنگلادیش زہور احمد چودھری سٹیڈیم 2011 جیتے
5 196 27 سری لنکا کولمبو/سری لنکا سپورٹ کلب گرؤنڈ 2012 ڈرا
6 101 39 نیوزی لینڈ ابو دیبی/متحد عرب امارات شیخ زاید سٹیڈیم 2014 جیتے
7 197 40 نیوزی لینڈ شارجہ/متحد عرب امارات شارجہ کرکٹ ایسوسیائشن سڈیڈیم 2014 ہارے
8 224 41 بنگلادیش کلنہ/بنگلادیش شیخ ابو ناصر سٹیڈیم 2015 ڈرا
8 151 47 انگلینڈ شارجہ/متحد عرب امارات ابو دیبی ایسوسیایشن سٹیڈیم 2015 جیتے

ایک روزہ بین الاقوامی سنچریاں[ترمیم]

# رنز مخالف گراؤنڈ سال میچ کا نتیجہ
1 115 نیوزی لیند کرسچرچ 2011 جیت

حوالہ جات[ترمیم]