نصرت فتح علی خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نصرت فتح علی خان
Nusrat Fateh Ali Khan 03 1987 Royal Albert Hall.jpg

معلومات شخصیت
پیدائش 13 اکتوبر 1948[1][2][3][4]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فیصل آباد  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 16 اگست 1997 (49 سال)[1][2][3][4]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لندن  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات بندش قلب  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد فتح علی خان  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
فنکارانہ زندگی
نوع قوالی،  غزل  ویکی ڈیٹا پر (P136) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آلہ موسیقی ہارمونیم،  صوت  ویکی ڈیٹا پر (P1303) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پروڈکشن کمپنی رئیل والڈ ریکارڈ،  اورینٹل سٹار ایجنسی،  رحمت گراموفون ہاؤس  ویکی ڈیٹا پر (P264) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ گلو کار،  موسیقار[5]،  نغمہ ساز،  استاد موسیقی،  قوال،  ریکارڈنگ آرٹسٹ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو[6]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
فوکوکا ایشیائی ثقافت انعام  (1996)
نگار اعزاز 
Pride of Performance (ribbon).gif تمغائے حسن کارکردگی   ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ویب سائٹ
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ[7]  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

استاد نصرت فتح علی خان (پیدائش: 13 اکتوبر 1948ء | وفات: 16 اگست 1997ء) عظیم پاکستانی قوال، موسیقار اور موسیقی ڈائریکٹر بنیادی طور پر قوالی کے گلوکار تھے۔ نصرت فتح علی خان کو بڑے پیمانے پر اردو زبان میں صوفی گلوکار اور جنوبی ایشیاء کے سب سے بڑے قوالی گلوکار کے طور پر سمجھا جاتا ہے، [8] انہیں اکثر "شہنشاہ قوالی" کہا جاتا ہے۔[9][10][11] نصرت فتح علی خان کو 2016ء میں ایل اے ہفت روزہ نے اب تک کا چوتھا عظیم گلوکار بتایا تھا۔[12] ان کے پاس صوتی صلاحیتوں کی ایک غیر معمولی حد تھی اور وہ کئی گھنٹوں تک اعلیٰ درجے کی شدت میں قوالی پیش کر سکتے تھے۔[13][14][15][16] نصرت فتح علی خان فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد فتح علی خان اور تایا مبارک علی خان اپنے وقت کے مشہور قوال تھے ان کے خاندان نے قیام پاکستان کے وقت مشرقی پنجاب کے ضلع جالندھر سے ہجرت کرکے فیصل آباد میں سکونت اختیار کی تھی۔ استاد نصرت فتح علی خان نے اپنی تمام عمر قوالی کے فن کو سیکھنے اور اسے مشرق و مغرب میں مقبول عام بنانے میں صرف کر دی۔ انہوں نے صوفیائے کرام کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا اور ان کے فیض سے خود انہیں بے پناہ شہرت نصیب ہوئی۔آپ کے دادا افغانستان کے درالحکومت کابل کے رہنے والے پٹھانوں کی شاخ نورزئی سے تعلق رکھتے تھے جو بعد میں بھارت مشترکہ ہندوستان کے صوبے مشرقی پنجاب کی شہر جلندھر میں آبسے۔

ابتدائی زندگی اور کیریئر[ترمیم]

نصرت فتح علی خان کے خاندان کا تعلق موجودہ بھارت میں پنجاب کے شہر جالندھر کے بستی شیخ درویش سے تھا۔ ان کے خاندان تقسیم کے بعد پاکستان چلا گیا۔ نصرت فتح علی خان کے آباو اجداد نے وہاں موسیقی اور گانا سیکھا اور اسے بطور پیشہ اپنایا۔نصرت فتح علی خان، فتح علی خان کے پانچ بچوں میں پہلے بیٹے تھے۔ نصرت فتح علی خان کے خاندان میں، جن میں چار بڑی بہنیں اور ایک چھوٹے بھائی فرخ فتح علی خان شامل ہیں، نصرت فتح علی خان وسطی فیصل آباد میں پلے بڑے ہوئے۔ تھے۔[17][18] خان کے خاندان میں قوالی کی روایت تقریباً 600 سالوں سے ایک کے بعد ایک آنے والی نسلوں آگے چل رہی ہے ۔[19] ابتدا میں، ان کے والد نہیں چاہتے تھے کہ نصرت فتح علی خان اس خاندانی پیشے پر عمل کرے۔ فتح علی خان اپنے بیٹے کو ڈاکٹر یا انجینئر بنانا چاہتے تھے کیونکہ نصرت فتح علی کو لگا کہ قوالی گانے والے فنکاروں کی معاشرتی حیثیت کم ہے۔ تاہم، نصرت فتح علی نے قوالی میں اس قدر دلچسپی ظاہر کی کہ آخر کار ان کے والد انکار نہ کر پائے۔[20] پاکستان میں نصرت فتح علی خان کا پہلا تعارف اپنے خاندان کی روایتی رنگ میں گائی ہوئی ان کی ابتدائی قوالیوں سے ہوا۔ ان کی مشہور قوالی ’علی مولا علی‘ انہی دنوں کی یادگار ہے۔ بعد میں انہوں نے لوک شاعری اور اپنے ہم عصر شعرا کا کلام اپنے مخصوص انداز میں گا کر ملک کے اندر کامیابی کے جھنڈے گاڑے اور اس دور میں ’سن چرخے مٹھی مٹھی مٹھی کوک ماہی مینوں یاد آوندا‘ اور ’سانسوں کی مالا پہ سمروں میں پی کا نام‘ نے عام طور پر قوالی سے لگاؤ نہ رکھنے والے طبقے کو بھی اپنی طرف راغب کیا اور یوں نصرت فتح علی خان کا حلقہ اثر وسیع تر ہو گیا۔

بعد میں کیریئر[ترمیم]

1985ء کے موسم گرما میں، نصرت فتح علی خان نے لندن میں میوزک، آرٹس اینڈ ڈانس (WOMAD) فیسٹیول میں پیشکش کی۔[21]

کم عمر نوجوان دنیائے موسیقی میں شہنشاہِ قوالی کیسے بنا؟[ترمیم]

سنہ 1960ء کی دہائی میں فیصل آباد کے صوفی بزرگ سائیں محمد بخش عرف لسوڑی شاہ کے دربار پر ایک کم عمر نوجوان نعتیہ اور عارفانہ کلام پڑھ رہا ہے۔ یہ بظاہر کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ لیکن کسی کو کیا معلوم تھا کہ پنجاب کا یہ لڑکا دنیائے موسیقی میں ’شہنشاہِ قوالی‘ بن جائے گا۔ اس کا تعلق تو قوال گھرانے سے ہی تھا۔ اس جیسے کئی نوجوانوں کو بچپن سے ہی سُر، تال اور لے کا نصاب پڑھایا جاتا تھا، وہ چاہیں نہ چاہیں۔ لیکن یہ کم عمر لڑکا اپنے سُروں کی پختگی اور لے کی اٹھان میں اتنی مہارت رکھتا تھا کہ اسے سننے والے اس کے سحر میں کھو جاتے تھے۔ قیام پاکستان سے قبل انڈیا کے شہر جالندھر سے ہجرت کر کے آئے پٹیالہ گھرانے کے اس سپوت کا نام تھا نصرت فتح علی خان جس نے آنے والے عشروں میں اپنے فن میں وہ عروج حاصل کیا جس کی صرف تمنا ہی کی جا سکتی تھی لیکن یہ وہ وقت تھا جب نصرت کو کوئی نہیں جانتا تھا۔ ہاں سب کو یہ ضرور علم تھا کہ وہ اس دور کے معروف قوال استاد فتح علی خان کا بیٹا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ نصرت نے بچپن ہی سے موسیقی کو اپنا جنون بنا لیا تھا اور صرف 10 برس کی عمر میں ہی وہ طبلہ بجانے پر کمال مہارت حاصل کر چکے تھے۔ سنہ 1960ء کی دہائی کے شروع میں ہی اپنے والد استاد فتح علی خان کی وفات کے بعد انہوں نے قوالی کی باقاعدہ تربیت اپنے چچا استاد مبارک علی خان اور استاد سلامت علی خان سے لینا شروع کی اور ستر کی دہائی میں استاد مبارک علی خان کے انتقال کے بعد اپنے قوال گھرانے کی سربراہی کے اہل ہو گئے۔ فیصل آباد کے مشہور جھنگ بازار کے ایک دربار سے اپنے فنی سفر کا آغاز کرنے والے اس ہیرے پر میاں رحمت نامی جوہری کی نظر پڑی جو قیام پاکستان کے وقت سے ہی فیصل آباد میں گراموفون ریکارڈز کی دکان کے مالک تھے۔ان کے نصرت کے والد استاد فتح علی خان کے ساتھ پہلے سے مراسم تھے[22]

گانے والا تھک گیا، نصرت کا طبلہ نہیں رُکا[ترمیم]

میاں اسد جو رحمت گراموفون ریکارڈنگ سٹوڈیو کے مالک میاں رحمت کے صاحبزادے ہیں، نصرت سے متعلق بتاتے ہیں کہ ان کی بے شمار ایسی یادیں ہیں جو آج بھی ان کے ذہن کے دریچوں میں تازہ ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کے والد میاں رحمت نصرت کے گھرانے کو 1960ء کی دہائی سے جانتے تھے۔ 'سب سے پہلے میرے والد کی ملاقات نصرت کے والد فتح علی خان سے ہوئی تھی جو اس وقت فیصل آباد کے مشہور قوال تھے۔' وہ بتاتے ہیں کہ 'نصرت سے میرے والد کی شناسائی تو ان کے پجپن سے ہی تھی مگر ستر کی دہائی میں جب انھوں نے باضابطہ طور پر اپنے چچا استاد مبارک کے انتقال کے بعد اپنے قوال گھرانے کی سربراہی سنبھالی تو میرے والد نے نصرت کو بطور فنکار نوٹس کرنا شروع کیا۔‘ میاں اسد کا کہنا ہے کہ 'آغاز میں نصرت فیصل آباد کے ایک صوفی بزرگ سائیں محمد بخش المعروف بابا لسوڑی شاہ کے دربار پر نعتیہ کلام پڑھتے اور قوالی گایا کرتے تھے۔ ان کی رہائش گاہ بھی اس دربار کے سامنے ہی تھی۔' میاں اسد کے مطابق استاد نصرت نے قوالی سے قبل طبلہ بجانے کی تربیت حاصل کی تھی اور وہ بہت مہارت کے ساتھ طبلہ بجاتے تھے۔ ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے جو انھوں نے اپنے والد سے سن رکھا ہے میاں اسد بتاتے ہیں کہ

نصرت جب دس گیارہ برس کے تھے تو ایک قوالی کی محفل میں کوئی طبلہ نواز نہیں مل رہا تھا جس پر نصرت کو طبلہ بجانے کے لیے کہا گيا۔ وہاں انھوں نے ایسی پرفارمنس دی کہ گانے والا تھک گیا لیکن نصرت نہیں تھکے اور سننے والوں پر انھوں نے ایک سحر طاری کر دیا۔

کلام منتخب کرنا، پڑھنا نصرت نے سکھایا[ترمیم]

میاں اسد کا کہنا ہے کہ زمانہ طالبعلمی سے ہی نصرت فتح علی خاں کے ساتھ رحمت گراموفون ریکارڈنگ سٹوڈیو یا گھر پر ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ تاہم ’نصرت کے ساتھ باضابطہ طور پر میرا پیشہ وارانہ تعلق سنہ 1992ء میں قائم ہوا جب وہ اپنے والد کے کاروبار میں ان کا ہاتھ بٹانے لگے۔‘ وہ کہتے ہیں' ابا جی سے ان کے قصے اور باتیں سنتے رہتے تھے، ان سے غیر رسمی ملاقاتیں بھی ہوتی رہتی کبھی دکان پر تو کبھی ہمارے گھر پر۔'

میاں اسد بتاتے ہیں کہ رحمت گراموفون میں ریکارڈ کی گئیں نصرت فتح علی خان کی چند ابتدائی قوالیوں میں سے ایک 'یاداں وچھڑے سجن دیاں' اور دوسری 'علی مولا، علی مولا' تھیں جو دنیا بھر میں بہت مقبول ہوئی میاں اسد کے مطابق ان کے والد میاں رحمت ستر کی دہائی کے آخر اور اسی کی دہائی کے اوائل میں نصرت کو اپنے ریکارڈنگ سٹوڈیو لے آئے جہاں سے انہوں نے اپنی قوالیوں اور غزلوں کی ریکارڈنگ کا آغاز کیا اور پھر ترقی اور شہرت کی منزلوں کو چھوتے گئے۔

میاں اسد بتاتے ہیں کہ رحمت گراموفون میں ریکارڈ کی گئیں نصرت کی چند ابتدائی قوالیوں میں سے ایک 'یاداں وچھڑے سجن دیاں' اور دوسری 'علی مولا علی مولا' تھیں جو دنیا بھر میں بہت مقبول ہوئی۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس کے علاوہ اور بھی سینکڑوں قوالیاں ریکارڈ کی گئی تھیں۔ 'ان کی بے شمار ریکارڈنگز کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہو گیا اور وہ ہمارے سٹوڈیو ریکارڈنگز کے لیے آتے رہے۔'

میاں اسد کے مطابق رحمت گراموفون ہاؤس ریکارڈنگ کمپنی نے نصرت کے ایک سو سے زائد میوزک البمز ریکارڈ کرکے مارکیٹ میں ریلیز کیے۔ جن میں صوفی بزرگ بابا بلھے شاہ کا کلام 'کی جاناں میں کون' سمیت متعدد دوسرے کلام شامل ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ 'اگر نصرت اور رحمت گراموفون کے تعلق اور سفر کو یاد کرنے بیٹھے تو ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو چلتا رہے گا۔'ا یسے ہی ایک اور شخص الیاس حسین ہیں جو نصرت کی جوانی سے ان کے شاگرد اور ان کی قوال پارٹی میں بطور پرومپٹ خدمات انجام دیتے آئے ہیں۔ واضح رہے کہ پرومپٹ وہ شخص ہوتا ہے جو کسی شو یا ریکارڈنگ کے دوران مرکزی قوال کے پیچھے بیٹھے کلام یا غزلوں کی کتاب تھامے قوال کو اگلے مصرعے یاد کرواتا یا بتاتا ہے۔

58 سالہ الیاس حسین ان کی یادوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں 'ہمارا خاندان فتح علی خان کے گھرانے میں کئی پشتوں سے خدمات کرتا آیا ہے۔ میں سنہ 1975ء سے نصر ت فتح علی خان کو جانتا ہوں، تب میں سکول جاتا بچہ تھا اور والد کے ساتھ ان کے گھر کام کاج کرنے جاتا تھا۔ میں ان کا شاگرد تھا، سنہ 1983ء سے 1997ء میں ان کی وفات تک ان کی قوال پارٹی میں شامل رہا۔' ان کا کہنا ہے کہ 'میرے دادا اور والد بھی ان کے گھرانے کے شاگرد تھے، ہمیں اس گھرانے سے عشق تھا۔'

وہ بتاتے ہیں کہ دس برس کی عمر سے جب میں نے وہاں جانا شروع کیا تو کچھ عرصے بعد ہی مجھے استاد فرخ فتح علی خان جو راحت فتح علی خان کے والد ہیں نے کہا کہ میں پرومپٹ کا کام کرنا سیکھوں۔ آہستہ آہستہ مجھے استاد نصرت اور فرخ فتح علی خان نے یہ سکھانا شروع کر دیا۔' وہ بتاتے ہیں بعد میں ’کلام کو منتخب کرنا اور پڑھنا لکھنا مجھے استاد نصرت فتح علی خان نے سکھایا۔' الیاس حسین یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ رحمت گراموفون میں ریکارڈ کروائی جانے والی مشہور قوالی میں سے 'لجپال نبی میرے درداں دی دوا' اور غزلوں میں سے 'یاداں وچھڑے سجن دیاں آیاں انکھیاں چو میہنہ وسدا' بھی دیگر سینکڑوں کے ساتھ شامل ہیں۔

وفات[ترمیم]

نصرت فتح علی خان کا وزن 135 کلوگرام سے زیادہ تھا۔ امریکی ریکارڈنگ کے ترجمان کے مطابق، استاد نصرت کئی مہینوں سے شدید بیمار تھے۔[23] جگر اور گردے کی تکلیف کے علاج کے لیے اپنے آبائی وطن پاکستان سے لندن جانے کے بعد، انہیں ہوائی اڈے سے لندن کے کروم ویل اسپتال پہنچایا گیا۔ استاد نصرت کا انتقال 16 اگست 1997ء کو 48 سال کی عمر میں، کرول ویل ہسپتال میں اچانک دورہ قلب سے ہوا۔[24] ان کی میت کو فیصل آباد واپس بھیج دیا گیا اور وہیں دفن کیے گئے۔ نصرت فتح علی خان کی اہلیہ، ناہید نصرت کا انتقال 13 ستمبر 2013ء کو کینیڈا کے شہر انٹاریو کے مسسی ساگا کے کریڈٹ ویلی اسپتال میں ہوا۔ اپنے شوہر کی وفات کے بعد ناہید کینیڈا چلی گئی تھیں۔ ان کی بیٹی ندا خان ہے۔[25][26]

ایوارڈ اور لقب[ترمیم]

نصرت فتح علی خان کو وسیع پیمانے پر تاریخ کا سب سے اہم قوال مانا جاتا ہے۔[27][28]

خراج تحسین اور میراث[ترمیم]

نصرت فتح علی خان کو اکثر "موسیقی دنیا" کا ایک پیش کنندہ قرار دیا جاتا ہے۔[29]

بین الاقوامی کامیابی[ترمیم]

فائل:Pak nusrat150.jpg
نصرت فتح علی خان

آپ صحیح معنوں میں شہرت کی بلندیوں پر اس وقت پہنچے جب پیٹر جبریل کی موسیقی میں گائی گئی ان کی قوالی ’دم مست قلندر مست مست‘ ریلیز ہوئی۔ اس مشہور قوالی کے منظر عام میں آنے سے پہلے وہ امریکا میں بروکلن اکیڈمی آف میوزک کے نیکسٹ ویوو فیسٹول میں اپنے فن کے جوہر دکھا چکے تھے، لیکن ’دم مست قلندر مست مست‘ کی ریلیز کے بعد انہیں یونیورسٹی آف واشنگٹن میں موسیقی کی تدریس کی دعوت دی گئی۔بین الاقومی سطح پر صحیح معنوں میں ان کا تخلیق کیا ہوا پہلا شاہکار 1995ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’ڈیڈ مین واکنگ‘ کا ساؤنڈ ٹریک تھا۔ بعد میں انہوں نے ہالی وڈ کی فلم ’دی لاسٹ ٹیمپٹیشن آف کرائسٹ‘ اور بالی وڈ میں پھولن دیوی کی زندگی پر بننے والی متنازع فلم ’بینڈٹ کوئین‘ کے لیے بھی موسیقی ترتیب دی۔ نصرت فتح علی خان نے جدید مغربی موسیقی اور مشرقی کلاسیکی موسیقی کے ملاپ سے ایک نیا رنگ پیدا کیا۔ اور نئی نسل کے سننے والوں میں کافی مقبولیت حاصل کی۔

مشہور قوالیاں[ترمیم]

  • شکوہ / جواب شکوہ
  • میرا پیا گھر آیا
  • دم مست قلندر مست مست
  • یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے
  • زِحالِ مسکیں مکن تغافل (فارسی)
  • رنگ
  • حق علی علی مولا علی علی
  • نی میں جانا جوگی دے نال
  • چل میرے دل کھلا ہے مے خانا
  • یاداں وچھڑے سجن دیاں آیاں
  • علی د ملنگ میں علی دا

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی: https://wikidata-externalid-url.toolforge.org/?p=345&url_prefix=https://www.imdb.com/&id=nm0002163 — اخذ شدہ بتاریخ: 14 اگست 2015
  2. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb138938164 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. ^ ا ب دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Nusrat-Fateh-Ali-Khan — بنام: Nusrat Fateh Ali Khan — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  4. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w69w3s24 — بنام: Nusrat Fateh Ali Khan — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. این این ڈی بی شخصی آئی ڈی: https://www.nndb.com/people/449/000065254/
  6. کونر آئی ڈی: https://plus.cobiss.net/cobiss/si/sl/conor/134929507
  7. میوزک برینز آرٹسٹ آئی ڈی: https://musicbrainz.org/artist/5968383c-11c1-4c5b-ada0-504a38cec8e7 — اخذ شدہ بتاریخ: 20 اگست 2021
  8. "Nusrat Fateh Ali Khan, Pakistani Sufi Singer, 48". The New York Times. 1997-08-17. اخذ شدہ بتاریخ 20 دسمبر 2020. 
  9. "Google Acclaims Renowned Singer Nusrat Fateh Ali Khan on His 67th Birthday". NDTV.com. 2020-12-09. اخذ شدہ بتاریخ 20 دسمبر 2020. 
  10. "BBC Asian Network – Nusrat: 20 Years On, Nusrat Through the Night! – Jeff Buckley, The Grammys & UNESCO! 11 little known facts about Nusrat Fateh Ali Khan". BBC (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 14 جولا‎ئی 2020. 
  11. Islam، Shamsul (2012-08-16). "Shahenshah-e-Qawwali: Remembering Nusrat Fateh Ali Khan". The Express Tribune (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 14 جولا‎ئی 2020. 
  12. https://www.laweekly.com/the-20-best-singers-of-all-time-video/
  13. "Nusrat Fateh Ali Khan: National Geographic World Music". Worldmusic.nationalgeographic.com. 17 اکتوبر 2002. 20 مارچ 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 7 نومبر 2012. 
  14. Ghulam Haider Khan (6 جنوری 2006). "A Tribute By Ustad Ghulam Haider Khan, Friday Times". Thefridaytimes.com. 16 ستمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 15 مارچ 2012. 
  15. "BBC Radio 6 Music – Guru of Peace: An Introduction to Nusrat Fateh Ali Khan". BBC. اخذ شدہ بتاریخ 10 دسمبر 2019. 
  16. "World Music Legends Nusrat Fateh Ali Khan". Globalrhythm.net. 22 فروری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 16 دسمبر 2011. 
  17. Arbor, Ann, University Musical society, Nusrat Fateh Ali khan, Michigan, 1993
  18. Karla, S Virinder, University of Manchester, Punjabiyat and the music of Nusrat Fateh Ali Khan, Manchester, UK, 2014
  19. "The Herald". 2007. Born into a family that has been associated with qawwali for the last 600 years.۔. 
  20. "Ustad Nusrat Fateh Ali Khan: A tribute, Hindustan Times". 6 جنوری 2012 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  21. "Nusrat Fateh Ali Khan – The 7th Fukuoka Asian Culture Prizes 1996__Arts and Culture Prize". Asianmonth.com. 07 مئی 2012 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 24 فروری 2021. 
  22. https://www.bbc.com/urdu/entertainment-54219155
  23. Rose، Cynthia (18 اگست 1997). "Nusrat Fateh Ali Khan Dead at 48". Rolling Stone. اخذ شدہ بتاریخ 11 جنوری 2017. 
  24. Rose، Cynthia (19 August 1997). "Nusrat's Passing Leaves Void in the Music World". Seattle Times. اخذ شدہ بتاریخ 16 دسمبر 2011. 
  25. "Naheed Nusrat, wife of Ustad Nusrat Fateh Ali Khan passes away". Dawn.com. 16 September 2013. اخذ شدہ بتاریخ 10 دسمبر 2019. 
  26. Rahat grieved over death of Naheed Nusrat آرکائیو شدہ 2 اپریل 2015 بذریعہ وے بیک مشین
  27. Ken Hunt. Nusrat Fateh Ali Khan –Biography at AllMusic
  28. Virginia Gorlinski. Nusrat Fateh Ali Khan۔ دائرۃ المعارف بریٹانیکا۔
  29. Michel-Andre Bossy؛ Thomas Brothers؛ John C. McEnroe (2001). Artists, Writers, and Musicians. Greenwood Publishing Group. صفحہ 105.