نصرت فتح علی خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نصرت فتح علی خان
Nusrat Fateh Ali Khan 03 1987 Royal Albert Hall.jpg

معلومات شخصیت
پیدائش 13 اکتوبر 1948[1][2][3][4]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فیصل آباد  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 16 اگست 1997 (49 سال)[1][2][3][4]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لندن  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات بندش قلب  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد فتح علی خان  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
فنی زندگی
صنف قوالی،  غزل  ویکی ڈیٹا پر (P136) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آلات موسیقی ہارمونیم،  صوت  ویکی ڈیٹا پر (P1303) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پروڈکشن کمپنی رئیل والڈ ریکارڈ،  اورینٹل سٹار ایجنسی  ویکی ڈیٹا پر (P264) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ گلو کار،  موسیقار[5]،  نغمہ ساز،  استاد موسیقی،  قوال،  ریکارڈنگ آرٹسٹ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو[6]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
فوکوکا ایشیائی ثقافت انعام  (1996)
نگار اعزاز 
Pride of Performance (ribbon).gif تمغائے حسن کارکردگی   ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات[7]  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

استاد نصرت فتح علی خان (ولادت: پرویز فتح علی خان؛ 13 اکتوبر 1948ء - وفات: 16 اگست 1997ء) عظیم پاکستانی قوال، موسیقار اور موسیقی ڈائریکٹر بنیادی طور پر قوالی کے گلوکار تھے۔ نصرت فتح علی خان کو بڑے پیمانے پر اردو زبان میں صوفی گلوکار اور جنوبی ایشیاء کے سب سے بڑے قوالی گلوکار کے طور پر سمجھا جاتا ہے، [8] انہیں اکثر "شہنشاہ قوالی" کہا جاتا ہے۔[9][10][11] نصرت فتح علی خان کو 2016ء میں ایل اے ہفت روزہ نے اب تک کا چوتھا عظیم گلوکار بتایا گیا تھا۔[12] ان کے پاس صوتی صلاحیتوں کی ایک غیر معمولی حد تھی اور وہ کئی گھنٹوں تک اعلیٰ درجے کی شدت میں قوالی پیش کر سکتے تھے۔[13][14][15][16]

گلوکار فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد فتح علی خان اور تایا مبارک علی خان اپنے وقت کے مشہور قوال تھے۔ ان کے خاندان نے قیام پاکستان کے وقت مشرقی پنجاب کے ضلع جالندھر سے ہجرت کرکے فیصل آباد میں سکونت اختیار کی تھی۔ استاد نصرت فتح علی خان نے اپنی تمام عمر قوالی کے فن کو سیکھنے اور اسے مشرق و مغرب میں مقبول عام بنانے میں صرف کر دی۔ انہوں نے صوفیائے کرام کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا اور ان کے فیض سے خود انہیں بے پناہ شہرت نصیب ہوئی۔آپ کی دادا افغانستان کے درالحکومت کابل کے رھنے والے پٹھان کے شاخ نورزئی سے تعلق رکھتے تھے جو بعد میں بھارت مشترکہ ھندوستان کے صوبے مشرقی پنجاب کی شہر جلندھر میں آبسے۔

حالات زندگی[ترمیم]

ابتدائی زندگی اور کیریئر[ترمیم]

نصرت فتح علی خان 1948ء میں پاکستان کے پنجاب کے فیصل آباد میں ایک افغان مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔[17][18] خان کے خاندان کا تعلق موجودہ بھارت میں پنجاب کے شہر جالندھر کے بستی شیخ درویش سے تھا۔ ان کے خاندان تقسیم کے بعد پاکستان چلا گیا۔ نصرت فتح علی خان کے آبا و اجداد نے وہاں موسیقی اور گانا سیکھا اور اسے بطور پیشہ اپنایا۔نصرت فتح علی خان، فتح علی خان کے پانچ بچوں میں پہلے بیٹے تھے۔ خان کے خاندان میں، جن میں چار بڑی بہنیں اور ایک چھوٹے بھائی فرخ فتح علی خان شامل ہیں، نصرت فتح علی خان وسطی فیصل آباد میں پلے بڑے ہوئے۔ خاندان میں قوالی کی روایت تقریباً 600 سالوں سے ایک کے بعد ایک آنے والی نسلوں چلتی رہی۔[19] ابتدا میں، ان کے والد نہیں چاہتے تھے کہ خان اس خاندانی پیشے پر عمل کرے۔ فتح علی خان اپنے بیٹے کو ڈاکٹر یا انجینئر بنانا چاہتے تھے کیونکہ نصرت فتح علی کو لگا کہ قوالی فنکاروں کی معاشرتی حیثیت کم ہے۔ تاہم، نصرت فتح علی نے قوالی میں اس قدر دلچسپی اور دلچسپی ظاہر کی کہ آخر کار ان کے والد انکار نہ کر پائے۔[20]

پاکستان میں نصرت فتح علی خان کا پہلا تعارف اپنے خاندان کی روایتی رنگ میں گائی ہوئی ان کی ابتدائی قوالیوں سے ہوا۔ ان کی مشہور قوالی ’علی مولا علی‘ انہی دنوں کی یادگار ہے۔ بعد میں انہوں نے لوک شاعری اور اپنے ہم عصر شعرا کا کلام اپنے مخصوص انداز میں گا کر ملک کے اندر کامیابی کے جھنڈے گاڑے اور اس دور میں ’سن چرخے مٹھی مٹھی مٹھی کوک ماہی مینوں یاد آوندا‘ اور ’سانسوں کی مالا پہ سمروں میں پی کا نام‘ نے عام طور پر قوالی سے لگاؤ نہ رکھنے والے طبقے کو بھی اپنی طرف راغب کیا اور یوں نصرت فتح علی خان کا حلقہ اثر وسیع تر ہو گیا۔

بعد میں کیریئر[ترمیم]

1985ء کے موسم گرما میں، نصرت فتح علی خان نے لندن میں میوزک، آرٹس اینڈ ڈانس (WOMAD) فیسٹیول میں پیشکش کی۔[21]

وفات[ترمیم]

مختلف اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ نصرت فتح علی خان کا وزن 135 کلوگرام سے زیادہ تھا۔ امریکی ریکارڈنگ کے ترجمان کے مطابق، استاد نصرت کئی مہینوں سے شدید بیمار تھے۔[22] جگر اور گردے کی تکلیف کے علاج کے لیے اپنے آبائی وطن پاکستان سے لندن جانے کے بعد، انہیں ہوائی اڈے سے لندن کے کروم ویل اسپتال پہنچایا گیا۔

استاد نصرت کا انتقال 16 اگست 1997ء کو 48 سال کی عمر میں، کرول ویل ہسپتال میں اچانک دورہ قلب سے ہوا۔[23] ان کی میت کو فیصل آباد واپس بھیج دیا گیا اور وہیں دفن کیے گئے۔

نصرت فتح علی خان کی اہلیہ، ناہید نصرت کا انتقال 13 ستمبر 2013ء کو کینیڈا کے شہر انٹاریو کے مسسی ساگا کے کریڈٹ ویلی اسپتال میں ہوا۔ اپنے شوہر کی وفات کے بعد ناہید کینیڈا چلی گیی تھیں۔ ان کی بیٹی ندا خان ہے۔[24][25]

ایوارڈ اور لقب[ترمیم]

نصرت فتح علی خان کو وسیع پیمانے پر تاریخ کا سب سے اہم قوال مانا جاتا ہے۔[26][27]

خراج تحسین اور میراث[ترمیم]

نصرت فتح علی خان کو اکثر "موسیقی دنیا" کا ایک پیش کنندہ قرار دیا جاتا ہے۔[28]

بین الاقوامی کامیابی[ترمیم]

فائل:Pak nusrat150.jpg
نصرت فتح علی خان

آپ صحیح معنوں میں شہرت کی بلندیوں پر اس وقت پہنچے جب پیٹر جبریل کی موسیقی میں گائی گئی ان کی قوالی ’دم مست قلندر مست مست‘ ریلیز ہوئی۔ اس مشہور قوالی کے منظر عام میں آنے سے پہلے وہ امریکا میں بروکلن اکیڈمی آف میوزک کے نیکسٹ ویوو فیسٹول میں اپنے فن کے جوہر دکھا چکے تھے، لیکن ’دم مست قلندر مست مست‘ کی ریلیز کے بعد انہیں یونیورسٹی آف واشنگٹن میں موسیقی کی تدریس کی دعوت دی گئی۔

بین الاقومی سطح پر صحیح معنوں میں ان کا تخلیق کیا ہوا پہلا شاہکار 1995ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’ڈیڈ مین واکنگ‘ کا ساؤنڈ ٹریک تھا۔ بعد میں انہوں نے ہالی وڈ کی فلم ’دی لاسٹ ٹیمپٹیشن آف کرائسٹ‘ اور بالی وڈ میں پھولن دیوی کی زندگی پر بننے والی متنازع فلم ’بینڈٹ کوئین‘ کے لیے بھی موسیقی ترتیب دی۔ نصرت فتح علی خان نے جدید مغربی موسیقی اور مشرقی کلاسیکی موسیقی کے ملاپ سے ایک نیا رنگ پیدا کیا۔ اور نئی نسل کے سننے والوں میں کافی مقبولیت حاصل کی۔

مشہور قوالیاں[ترمیم]

  • شکوہ / جواب شکوہ
  • میرا پیا گھر آیا
  • دم مست قلندر مست مست
  • یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے
  • زِحالِ مسکیں مکن تغافل (فارسی)
  • رنگ
  • حق علی علی مولا علی علی
  • نی میں جانا جوگی دے نال
  • چل میرے دل کھلا ہے مے خانا
  • یاداں وچھڑے سجن دیاں آیاں
  • علی د ملنگ میں علی دا

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی: https://wikidata-externalid-url.toolforge.org/?p=345&url_prefix=https://www.imdb.com/&id=nm0002163 — اخذ شدہ بتاریخ: 14 اگست 2015
  2. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb138938164 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. ^ ا ب دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Nusrat-Fateh-Ali-Khan — بنام: Nusrat Fateh Ali Khan — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  4. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w69w3s24 — بنام: Nusrat Fateh Ali Khan — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. http://www.nndb.com/people/449/000065254/
  6. https://plus.si.cobiss.net/opac7/conor/134929507
  7. میوزک برینز آرٹسٹ آئی ڈی: https://musicbrainz.org/artist/5968383c-11c1-4c5b-ada0-504a38cec8e7 — اخذ شدہ بتاریخ: 20 اگست 2021
  8. "Nusrat Fateh Ali Khan, Pakistani Sufi Singer, 48". The New York Times. 1997-08-17. اخذ شدہ بتاریخ 20 دسمبر 2020. 
  9. "Google Acclaims Renowned Singer Nusrat Fateh Ali Khan on His 67th Birthday". NDTV.com. 2020-12-09. اخذ شدہ بتاریخ 20 دسمبر 2020. 
  10. "BBC Asian Network – Nusrat: 20 Years On, Nusrat Through the Night! – Jeff Buckley, The Grammys & UNESCO! 11 little known facts about Nusrat Fateh Ali Khan". BBC (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 14 جولا‎ئی 2020. 
  11. Islam، Shamsul (2012-08-16). "Shahenshah-e-Qawwali: Remembering Nusrat Fateh Ali Khan". The Express Tribune (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 14 جولا‎ئی 2020. 
  12. https://www.laweekly.com/the-20-best-singers-of-all-time-video/
  13. "Nusrat Fateh Ali Khan: National Geographic World Music". Worldmusic.nationalgeographic.com. 17 اکتوبر 2002. 20 مارچ 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 7 نومبر 2012. 
  14. Ghulam Haider Khan (6 جنوری 2006). "A Tribute By Ustad Ghulam Haider Khan, Friday Times". Thefridaytimes.com. 16 ستمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 15 مارچ 2012. 
  15. "BBC Radio 6 Music – Guru of Peace: An Introduction to Nusrat Fateh Ali Khan". BBC. اخذ شدہ بتاریخ 10 دسمبر 2019. 
  16. "World Music Legends Nusrat Fateh Ali Khan". Globalrhythm.net. 22 فروری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 16 دسمبر 2011. 
  17. Arbor, Ann, University Musical society, Nusrat Fateh Ali khan, Michigan, 1993
  18. Karla, S Virinder, University of Manchester, Punjabiyat and the music of Nusrat Fateh Ali Khan, Manchester, UK, 2014
  19. "The Herald". 2007. Born into a family that has been associated with qawwali for the last 600 years.۔. 
  20. "Ustad Nusrat Fateh Ali Khan: A tribute, Hindustan Times". 6 جنوری 2012 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  21. "Nusrat Fateh Ali Khan – The 7th Fukuoka Asian Culture Prizes 1996__Arts and Culture Prize". Asianmonth.com. 
  22. Rose، Cynthia (18 اگست 1997). "Nusrat Fateh Ali Khan Dead at 48". Rolling Stone. اخذ شدہ بتاریخ 11 جنوری 2017. 
  23. Rose، Cynthia (19 August 1997). "Nusrat's Passing Leaves Void in the Music World". Seattle Times. اخذ شدہ بتاریخ 16 دسمبر 2011. 
  24. "Naheed Nusrat, wife of Ustad Nusrat Fateh Ali Khan passes away". Dawn.com. 16 September 2013. اخذ شدہ بتاریخ 10 دسمبر 2019. 
  25. Rahat grieved over death of Naheed Nusrat آرکائیو شدہ 2 اپریل 2015 بذریعہ وے بیک مشین
  26. Ken Hunt. Nusrat Fateh Ali Khan –Biography at AllMusic
  27. Virginia Gorlinski. Nusrat Fateh Ali Khan۔ دائرۃ المعارف بریٹانیکا۔
  28. Michel-Andre Bossy؛ Thomas Brothers؛ John C. McEnroe (2001). Artists, Writers, and Musicians. Greenwood Publishing Group. صفحہ 105.