اے آر رحمان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اے آر رحمان
AR Rahman.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 6 جنوری 1966 (52 سال)[1][2][3][4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
چنائے  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
رہائش چنائے  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
فنی زندگی
صنف بھارتی کلاسیکی موسیقی،پاپ موسیقی[5]،پاپ راک،برقیاتی موسیقی،مغربی موسیقی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرز (P136) ویکی ڈیٹا پر
آلات موسیقی بانسری،سکسوفون،گٹار،وایولا،ستار،پیانو،ترم،بربط  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آلۂ موسیقی (P1303) ویکی ڈیٹا پر
پروڈکشن کمپنی کولمبیا ریکارڈز  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ریکارڈ لیبل (P264) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ نغمہ ساز،اداکار،گلو کار،موسیقار،کارجو[6]،میوزک پروڈیوسر[7][8][9]،نغمہ نگار[10][11]،فلم اسکور کمپوزر،فلم اداکار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان تیلگو،ہندی،تمل[12]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
ایفا اعزاز برائے بہترین موسیقی ہدایت کار (برائے:Rockstar) (2012)
زی سنیما اعزاز برائے بہترین موسیقی ہدایت کار (برائے:Rockstar) (2012)
فلم فئیر اعزاز برائے بہترین موسیقی ہدایت کار (برائے:Rockstar) (2012)
IND Padma Bhushan BAR.png پدم بھوشن  (2010)[13]
فلم فئیر اعزاز برائے بہترین موسیقی ہدایت کار (2010)
ایفا اعزاز برائے بہترین موسیقی ہدایت کار (برائے:Jodhaa Akbar) (2009)
فلم فئیر اعزاز برائے بہترین موسیقی ہدایت کار (برائے:Jaane Tu... Ya Jaane Na) (2009)
زی سنیما اعزاز برائے بہترین موسیقی ہدایت کار (برائے:گرو) (2008)
فلم فئیر اعزاز برائے بہترین موسیقی ہدایت کار (برائے:گرو) (2008)
ایفا اعزاز برائے بہترین موسیقی ہدایت کار (برائے:گرو) (2008)
اکیڈمی ایوارڈ برائے عمدہ اصل موسیقی اسکور (برائے:Slumdog Millionaire) (2008)
ایفا اعزاز برائے بہترین موسیقی ہدایت کار (برائے:رنگ دے بسنتی) (2007)
فلم فئیر اعزاز برائے بہترین موسیقی ہدایت کار (برائے:رنگ دے بسنتی) (2007)
زی سنیما اعزاز برائے بہترین موسیقی ہدایت کار (برائے:رنگ دے بسنتی) (2007)
فلم فئیر اعزاز برائے بہترین موسیقی ہدایت کار (برائے:ستیہ) (2003)
ایفا اعزاز برائے بہترین موسیقی ہدایت کار (برائے:ستیہ) (2003)
زی سنیما اعزاز برائے بہترین موسیقی ہدایت کار (برائے:ستیہ) (2003)
ایفا اعزاز برائے بہترین موسیقی ہدایت کار (برائے:لگان) (2002)
زی سنیما اعزاز برائے بہترین موسیقی ہدایت کار (برائے:لگان) (2002)
فلم فئیر اعزاز برائے بہترین موسیقی ہدایت کار (برائے:لگان) (2002)
زی سنیما اعزاز برائے بہترین موسیقی ہدایت کار (برائے:Taal) (2000)
ایفا اعزاز برائے بہترین موسیقی ہدایت کار (برائے:Taal) (2000)
فلم فئیر اعزاز برائے بہترین موسیقی ہدایت کار (برائے:Taal) (2000)
فلم فئیر اعزاز برائے بہترین موسیقی ہدایت کار (برائے:Dil Se..) (1999)
فلم فئیر اعزاز برائے بہترین موسیقی ہدایت کار (برائے:Rangeela) (1996)
IND Padma Shri BAR.png فنون میں پدم شری 
اعزازی سند[14][15]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی  بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

اللہ رکھا رحمان جنہیں عام طور پر اے آر رحمان کے طور پر جانا جاتا ہے ہندوستان کے ایک معروف موسیقار و گلوکار ہیں۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

جنوبی ہندستان کے شہر چینئی میں چھ جنوری کو ایک متوسط ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے اے ایس دلیپ کمار کی ماں کو یہ پتہ نہیں تھا کہ ان کا بیٹا بڑا ہو کر اس طرح ان کا اور ان کے وطن کا نام روشن کرے گا۔ رحمان کے والد آر کے شنکر کیرلہ فلم انڈسٹری میں تمل اور دیگر زبان کی فلموں میں موسیقار تھے۔ دلیپ اس وقت نو سال کے تھے جب ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ ان کی والدہ نے اپنے شوہر کے موسیقی کے آّلات کو کرایہ پر دے کر گزر بسر شروع کی۔ باپ کے انتقال کے بعد سے ہی منتوں مرادوں والے بیٹے دلیپ کمار کی طبیعت جب خراب رہنے لگی تو ماں نے لوگوں کے کہنے پر ایک پیر کی مزار پر حاضری دی اور منت مانگی جس کے بعد دلیپ کی طبیعت ٹھیک اور ماں کا عقیدہ پختہ ہو گیا اور وہ اپنے پورے گھر کے ساتھ مشرف بہ اسلام ہوگئیں اور دلیپ کا نام اللہ رکھا رحمان رکھا گیا۔

مشکلات[ترمیم]

گھر کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے رحمان نے کم عمری میں ہی کام کرنا شروع کر دیا۔ وہ کی بورڈ پلیئر بنے لیکن انہیں پتہ تھا ان کی منزل یہ نہیں ہے اس لیے انہوں نے پہلے پیانو اور پھرگٹار بجانا سیکھا۔ اس دوران چنئی کے چند نوجوانوں کے ساتھ مل کر انہوں نے اپنا ایک مقامی بینڈ ’نمیسیس ایونیو‘ بنایا۔ رحمان کی زندگی کا سفر آسان نہیں تھا گھر کی ذمہ داری اور ساتھ میں موسیقی سیکھنے کا جنون۔ انہیں تیلگو میوزک ڈائریکٹر کے ساتھ ورلڈ ٹور پر جانے کا موقع ملا۔ یہاں ان کا فن دنیا کے سامنے آیا اور پھر انہیں آکسفورڈ کی ٹرینیٹی کالج کی سکالر شپ ملی جس نے رحمان کی موسیقی کی تشنگی کو پورا کرنے کا بھر پور موقع فراہم کیا اور انہوں نے موسیقی میں گریجویشن کیا۔

روجا[ترمیم]

رحمان نے بھی ہزا رہا موسیقاروں کی طرح اشتہارات کے لیے موسیقی سے شروعات کی۔ یہ دور ان کے لیے جدوجہد کا دور تھا۔ جنوبی ہند سے تعلق رکھنے والے فلمساز منی رتنم نے ان کے ہنر کو پہچانا اور اپنی فلم ’روجا‘ میں رحمان کو موسیقی دینے کا موقع دیا۔ رحمان کی موسیقی نے پہلی ہی فلم میں وہ جادو دکھایا کہ انہیں اپنی اس فلم کے لیے نیشنل ایوارڈ ملا۔

شہرت[ترمیم]

اس کے بعد رحمان نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ بالی وڈ فلموں کی لائن لگ گئی لیکن رحمان نے ہر فلم میں کام کرنا منظور نہیں کیا۔ ان کی فلم ’دل سے ‘ کے گیتوں نے ہنگامہ مچا دیا اور گلزار کے ساتھ ان کی جوڑی جم گئی۔ رنگیلا، تال، سودیس، رنگ دے بسنتی، گرو اور جودھا اکبر وہ چند فلمیں ہیں جن کی موسیقی نے رحمان کو بالی وڈ میں بلندیوں پر پہنچا دیا۔ رحمان نے صرف بالی وڈ میں موسیقی دینے پر اکتفا نہیں کیا۔ انہوں نے ہالی وڈ فلم ’لارڈز آف دی رنگز‘ اور پھر براڈ وے سٹیج ڈراما ’بامبے ڈریمز‘ کا میوزک دیا۔ رحمان نے سنہ دو ہزار پانچ میں اپنا جدید آلات سے لیس سٹوڈیو بنایا جو اس وقت ایشیا کا سب سے بڑا سٹوڈیو مانا جاتا ہے۔ رحمان کی موسیقی میں کبھی مغربی دھن سنائی دیتی ہے تو کبھی آپ کو بہتے جھرنے کی صدا اور کلاسیکی میوزک۔ کبھی صوفی سنگیت تو کبھی جاز۔

صوفی ازم[ترمیم]

رحمن صوفی ازم پر یقین رکھتے ہیں اور اسی لیے پیروں اور ولیوں کے مزاروں پر حاضری دینا نہیں بھولتے۔ ایک مرتبہ انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ ان کی موسیقی میں روحانیت ولیوں کی دین ہے۔ وہ پاکستانی موسیقار اور قوال نصرت فتح علی خان کے مرید ہیں۔ رحمان کا ایک البم ’وندے ماترم‘ بہت مقبول ہوا تھا۔ آزادی کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر رحمان نے یہ البم بنایا تھا جسے بہت مقبولیت حاصل ہوئی تھی۔ رحمان نے ابھی حال ہی میں اپنا ایک البم ’ کنکشنز‘ بارہ دسمبر کو جاری کیا ۔

اعزازات[ترمیم]

رحمان کی موسیقی کسی ایوارڈ کی محتاج نہیں لیکن انہیں جتنے ایوارڈز ملے ہیں وہ شاید کسی بھی ہندستانی موسیقار کو آج تک نہیں مل سکے۔ اے آر رحمان کو بافٹا،گولڈن گلوب، سیٹیلائٹ اور کرٹکس چوائس ایوارڈز مل چکے ہیں جبکہ ملکی سطح پر انہیں چار نیشنل ایوارڈز اور سات فلم فیئر ایوارڈز ملے ہیں۔ تامل فلموں میں بھی رحمان کی موسیقی بہت مقبول ہے اور اس انڈسٹری نے انہیں ایک دو نہیں بارہ ایوارڈز سے نوازا ہے۔ 2009 میں ان کو سلم ڈاگ فلم کے لیے بہترین موسیقی دینے پر اکیڈیمی ایوارڈز یا آسکر سے نوازا گیا۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی موسیقار تھے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اجازت نامہ: CC0
  2. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/A-R-Rahman — بنام: A.R. Rahman — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  3. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w6058j3j — بنام: A. R. Rahman — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. انٹرنیٹ بروڈوے ڈیٹا بیس پرسن آئی ڈی: https://www.ibdb.com/person.php?id=112086 — بنام: A.R. Rahman — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. I, A. R. Rahman — اخذ شدہ بتاریخ: 7 فروری 2018
  6. http://yourstory.com/2010/03/singer-chinmayi-i-am-living-my-dream/
  7. https://myspace.com/laxman.natarajan
  8. http://www.discogs.com/A-R-Rahman-Slumdog-Millionaire-Music-From-The-Motion-Picture/release/1605084
  9. http://timesofindia.indiatimes.com/entertainment/tamil/music/articlelist/msid-27288885,curpg-8.cms
  10. http://ibnlive.in.com/news/ar-rahman-excited-to-be-a-part-of-coke-studiomtv-season-3/411320-45-75.html
  11. http://www.allmusic.com/song/tere-bina-mt0035689336/lyrics
  12. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb14007114c — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  13. http://www.dnaindia.com/entertainment/report-ar-rahman-feels-happy-and-honoured-with-padma-bhushan-win-1365878 — اخذ شدہ بتاریخ: 28 فروری 2018
  14. http://www.thehindu.com/todays-paper/tp-features/tp-metroplus/More-laurels-for-Rahman/article15927903.ece — اخذ شدہ بتاریخ: 28 فروری 2018
  15. https://web.archive.org/web/20110604162150/http://www.hindu.com/thehindu/holnus/009200905261962.htm — اخذ شدہ بتاریخ: 28 فروری 2018