محمد منشا یاد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد منشا یاد
پیدائشمحمد منشا یاد
5 ستمبر 1937ء
ٹھٹہ نشتراں گاؤں، برطانوی ہندوستان،
(موجودہ فاروق آباد، ضلع شیخوپورہ، پنجاب، پاکستان)
وفات15 اکتوبر 2011ء (74 سال)
اسلام آباد، پنجاب، پاکستان
قلمی نامیاد
پیشہافسانہ نگار، ادیب
قومیتپاکستانی
اصناففکشن
موضوعاردو ادب
شریک حیاتفرحت نسیم اختر
ویب سائٹ
www.manshayaad.com

محمد منشا یاد (پیدائش: 5 ستمبر 1937ء - وفات: 15 اکتوبر 2011ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز افسانہ نگار تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

قومی نشریاتی ٹی وی چینل پر مقبولیت حاصل کرنے والے منشا یاد 5 ستمبر، 1937ء کو مغل شہنشاہ جانگیر عرف شیخو کہ محبتوں بھرے شہر اے- ایک قصبہ  جنڈیالہ شیر خاں،  پاکستان میں پیدا ہوئے۔ ویسے تو آپ نے اپنے کیریئر کے اعتبار سے  سول انجینئر تھے۔ آپ کا اصل نام محمد منشاء تھا، ادبی دنیا میں منشا یاد کے قلمی نام سے اپنے ادبی سفر کا آغاز کیا۔ پہلا افسانہ 1955ء میں منظر عام پرآیا۔ یہ سلسلہ جاری رکھتے ہوئے  انہوں نے افسانے کی دنیا میں اپنے فن کاثبوت دیا ۔ منشا یاد نے اپنے افسانوں میں جن علامتوں کوجس طرح  استعمال کیا ہے انہیں سمجھنے کے لئے پڑھنے والے  کو کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔  ان کے تمام افسانے ان کے اسی اسلوب نگارش کے غماز ہیں آسانی سے قاری کی سمجھ میں آتا ہے ۔ ان کے افسانوں میں خواب سراب، دُور کی آواز، درخت آدمی، وقت سمندر، ماس اور مٹی،بند مٹھی میں جگنو، خلا اندر خلا، کچی پکی قبریں، مارشل لا سے مارشل لا تک، اورتماشا اعلیٰ ترین افسانےشمار کیے جاتے ہیں   آپ نے  کئی ناول اور یاد گار ڈرامے بھی تحریر کئے، جن میں بندھن، جنون آواز، پورے چاند کی رات اور راہیں جسے ملک گیر شہرت حاصل ہوئی ۔ منشا یاد پنجابی میں بھی اُسی روانی لکھا اور اپنی تحریروں کا توازن برقرار رکھا ۔جیسے اردو میں، چنانچہ اُن کے پنجابی ناول ٹاواں ٹاواں تارا کو انتہائی کامیابی کے ساتھ ایک ڈراما سیریل میں ڈھالا گیا جو راہیں کے نام سے قومی ٹی وی چینل پر شائع ہوا

اعزازات[ترمیم]

فن افسانہ نگاری میں ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے 2004ء میں انھیں تمغۂ حسنِ کارکردگی سے نوازا تھا۔ 2006ء میں انھیں پنجابی میں بہترین ناول نگاری کا بابا فرید ادبی ایوارڈ بھی دیا گیا جبکہ 2010ء میں انھیں عالمی فروغ ادب ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا گیا۔ اس کے علاوہ بھی انہوں نے کئی ایوارڈز حاصل کیے۔

تصانیف[ترمیم]

افسانوی مجموعے[ترمیم]

  • بند مٹھی میں جگنو۔...(1975ء)
  • ماس اور مٹی۔...(1980ء)
  • خلا اندر خلا۔...(1983ء)
  • وقت سمندر۔...(1986ء)
  • وگدا پانی۔...(1987ء)
  • درخت آدمی۔...(1990ء)
  • دور کی آواز۔...(1994ء)
  • تماشا۔...(1998ء)
  • خواب سرائے۔...(2005ء)

ناول[ترمیم]

متفرقات[ترمیم]

  • محمد منشا یاد کے تیس منتخب افسانے۔ مرتبہ خاور نقوی۔...(1992ء)
  • محمد منشا یاد کے بہترین افسانے۔ مرتبہ امجد اسلام امجد۔...(1993ء)
  • منتخب کہانیاں۔ مرتبہ جمیل آزر۔...(1994ء)
  • منشا یاد کہانی نمبر۔ لہراں لاہور۔...(1986ء)
  • منشا یاد کے منتخب افسانے۔ مرتبہ طاہر اسلم گور اور امجد طفیل۔...(1997ء)
  • شہر افسانہ۔ منتخب افسانے۔ مرتبہ منشا یاد۔...(2004ء)
  • منشا یاد کے منتخب افسانے۔ مرتبہ ڈاکٹر اقبال آفاقی ....(2007ء)

وفات[ترمیم]

منشا یاد نے 15 اکتوبر 2011ء کو اسلام آباد، پاکستان میں وفات پائی اور وہیں آسودہ خاک ہوئے۔