بانو قدسیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بانو قدسیہ
Bano Qudsia, the Writer.jpg
پیدائش قدسیہ چٹھہ
28 نومبر 1928ء
فیروزپور، صوبہ پنجاب، برطانوی ہندوستان
وفات ہفتہ 4 فروری 2017ء
(عمر: 88 سال 2 ماہ 7 دن شمسی)
لاہور، پاکستان
قلمی نام بانو قدسیہ
پیشہ مصنف، ڈراما نویس، دانشور، روحانی شخصیت
زبان اردو، پنجابی
قومیت پاکستان کا پرچمپاکستانی
نسل مہاجر
تعلیم ایم اے (اردو)
صنف افسانہ نگاری، فلسفہ، تصوف
مضمون ادب، فلسفہ، نفسیات، اشتراکیت
ادبی تحریک صوفی ادب
شریک حیات اشفاق احمد
(16 دسمبر 1956ء7 ستمبر 2004ء)
اولاد انیس احمد، انیق احمد، اثیر احمد

بانو قدسیہ (پیدائش: 28 نومبر، 1928ء – وفات 4 فروری، 2017ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والی اردو اور پنجابی زبان کی مشہور ومعروف ناول نگار، افسانہ نگار اور ڈراما نویس جو اپنے ناول راجہ گدھ کی وجہ سے خاصی مشہور ہوئیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

بانو قدسیہ 28 نومبر، 1928ء کو فیروزپور، برطانوی ہندوستان میں زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد چوہدری بدرالزماں چٹھہ زراعت میں بیچلر کی ڈگری رکھتے تھے۔ اُن کا انتقال بانو قدسیہ کی چھوٹی عمر میں ہی ہو گیا تھا جبکہ ابھی بانو قدسیہ محض ساڑھے تین برس کی تھیں۔تقسیم ہند کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ لاہور آ گئیں۔لاہور آنے سے پہلے وہ وہ مشرقی بھارت کے صوبہ ہماچل پردیش دھرم شالا میں زیر تعلیم رہیں۔ اُن کی والدہ مسز چٹھہ (Chattha) بھی تعلیم یافتہ خاتون تھیں۔ بانو قدوسیہ نے مشہور ناول و افسانہ نگار اور ڈراما نویس اشفاق احمد سے شادی کی۔

تعلیم[ترمیم]

وہ اپنے کالج کے میگزین اور دوسرے رسائل کے لیے بھی لکھتی رہی ہیں۔ انہوں نے کنیئرڈ کالج برائے خواتین لاہور سے ریاضیات اور اقتصادیات میں گریجویشن کیا۔ بعد ازاں انہوں نے 1951ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی۔

ادبی خدمات[ترمیم]

بانو قدسیہ نے اردو اور پنجابی زبانوں میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لیے بہت سے ڈرامے بھی لکھے۔ اُن کا سب سے مشہور ناول راجہ گدھ ہے۔ اُن کے ایک ڈرامے آدھی بات کو کلاسک کا درجہ حاصل ہے[1]۔

اعزازات[ترمیم]

1983ء میں حکومت پاکستان کی جانب سے بانو قدسیہ کو ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا۔ 2010ء میں دوبارہ حکومت پاکستان کی جانب سے ہلال امتیاز سے نوازا گیا جبکہ 2012ء میں کمالِ فن ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 2016ء میں اُنہیں اعزازِ حیات (Lifetime Achievement Award) سے نوازا گیا۔

وفات[ترمیم]

بانو قدسیہ 26 جنوری 2017ء کو بعارضہ ضیق النفس لاہور کے اتفاق ہسپتال میں داخل کروایا گیا جہاں وہ دس روز زیر علاج رہیں۔ [2] بروز ہفتہ 4 فروری 2017ء کو شام 5 بجکر 15 منٹ پر بانو قدسیہ انتقال کرگئیں۔ اُن کی عمر 88 سال 2 ماہ 7 دن شمسی تھی۔

تصانیف[ترمیم]

  • آتش زیر پا
  • آدھی بات
  • ایک دن
  • امر بیل
  • آسے پاسے
  • بازگشت
  • چہار چمن
  • چھوٹا شہر، بڑے لوگ
  • دست بستہ
  • دوسرا دروازہ
  • دوسرا قدم
  • فٹ پاتھ کی گھاس
  • حاصل گھاٹ
  • ہوا کے نام
  • ہجرتوں کے درمیاں
  • کچھ اور نہیں
  • لگن اپنی اپنی
  • مرد ابریشم
  • موم کی گلیاں
  • نا قابل ذکر
  • پیا نام کا دیا
  • پروا
  • پروا اور ایک دن
  • راجہ گدھ
  • سامان وجود
  • شہر بے مثال
  • شہر لازوال آباد ویرانے
  • سدھران
  • سورج مکھی
  • تماثیل
  • توجہ کی طالب

مزید دیکھیے[ترمیم]


بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]