محمد حسن عسکری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
محمد حسن عسکری
پیدائش اظہار الحق5 نومبر 1918 (1918-11-05)ءمیرٹھ، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان
وفات 18 جنوری 1978 (1978-01-18)ءکراچی، پاکستان
قلمی نام محمد حسن عسکری
پیشہ مصنف
زبان اردو
قومیت پاکستان کا پرچمپاکستانی
نسل مہاجر
تعلیم ایم اے (انگریزی ادب)
مادر علمی الہ آباد یونیورسٹی
صنف افسانہ، ناول، تنقید، ترجمہ
ادبی تحریک حلقہ ارباب ذوق
نمایاں کام قیامت، ہم رکاب آئے نہ آئی
انسان اور آدمی
ستارہ اور بادبان
وقت کی راگنی

محمد حسن عسکری (پیدائش: 5 نومبر 1919ء- وفات: 18 جنوری 1978ء) پاکستان کے نامور اردو نقاد ، مترجم، معلم و افسانہ نگار ہیں جنھوں نے اپنے تنقیدی مضامین اور افسانوں میں جدید مغربی رجحانات کو اردو دان طبقے میں متعارف کرایا۔

حالات زندگی[ترمیم]

محمد حسن عسکری 5 نومبر 1919ء کو سراوہ، میرٹھ، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے[1]۔ اصل نام اظہار الحق تھا۔ محمد حسن عسکری کے والد کا نام محمد معین الحق تھا۔ وہ بلند شہر میں کورٹ آف وارڈز میں ملازم تھے۔ وہاں سے وہ والی شکار پور رگھوراج کے یہاں بطور اکاؤنٹنٹ چلے گئے جہاں انھوں نے 1945ء تک ملازمت کی۔ انھوں نے 1936ء میں مسلم ہائی اسکول بلند شہر سے میٹرک اور 1938ء میں میرٹھ کالج سے انٹر پاس کیا۔ الہ آباد یونیورسٹی سے بی اے اور پھر 1942ء میں انگریزی ادب میں ایم اے کیا۔ اس یونیورسٹی میں انھوں نے فراق گورکھپوری اور پروفیسر کرار حسین جیسے اساتذہ سے استفادہ کیا۔[2]

محمد حسن عسکری نے پہلی ملازمت آل انڈیا ریڈیو، دہلی میں بطور اسکرپٹ رائٹر اختیار کی۔ اسی زمانے میں شاہد احمد دہلوی اور رسالہ ساقی سے ان کا تعلق قائم ہوا۔ 1941ء اور 1942ء میں بالترتیب کرشن چندر اور عظیم بیگ چغتائی پر ان کے دو طویل مضامین شائع ہوئے۔ 1943ء میں فراق گورکھپوری نے ساقی میں باتیں کے عنوان سے مستقل کالم لکھنا شروع کیا۔ جب فراق صاحب اس کالم سے دست کش ہوگئے تو دسمبر 1943ء سے یہ کالم عسکری صاحب لکھنے لگے، جنوری 1944ء میں اس کالم کا عنوان جھلکیاں رکھ دیا گیا۔ یہ کالم 1947ء کے فسادات کے تعطل کے علاوہ کم و بیش پابندی سے نومبر 1957ء تک چھپتا رہا۔ وہ کچھ دنوں تک اینگلو عربک کالج دہلی میں انگریزی کے استاد رہے۔ اس کے بعد میرٹھ چلے گئے جہاں وہ میرٹھ کالج میں انگریزی پڑھاتے رہے۔ 1947ء میں وہ قیام پاکستان کے بعد لاہور منتقل ہو گئے۔ وہاں انھوں نے سعادت حسن منٹو کے ساتھ مل کر مکتبہ جدید لاہور سے اردو ادب جاری کیا۔ صرف دو شمارے شائع ہو سکے۔ 1950ء میں وہ کراچی چلے گئے۔ وہاں ابتدا میں وہ فری لانس ادیب کے طور پر ترجمے اور طبع زاد تحریریں لکھتے رہے۔ جنوری سے جون 1950ء تک ماہ نو کراچی کے مدیر بھی رہے۔ پھر انھوں نے کراچی یونیورسٹی سے ملحق کالج میں انگریزی کے استاد کے فرائض انجام دیے۔[2]

ادبی خدمات[ترمیم]

عسکری صاحب اردو کے ایک اہم افسانہ نگار تھے۔ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ جزیرے 1943ء میں شائع ہوا تھا۔ 1946ء میں دوسرا مجموعہ قیامت ہم رکاب آئے نہ آئے شائع ہوا۔ ان کے تنقیدی مضامین کے مجموعہ انسان اور آدمی اور ستارہ اور بادبان ان کی زندگی میں اور جھلکیاں، وقت کی راگنی اور جدیدیت اور مغربی گمراہیوں کی تاریخ کا خاکہ ان کی وفات کے بعد شائع ہوئے۔ اردو ادب کے علاوہ عالمی افسانوی ادب پر ان کی گہری نظر تھی۔ وہ فرانسیسی ادب سے بھی بہت اچھی طرح واقف تھے جس کا ثبوت ان تراجم سے ملتا ہے جو انہوں نے گستاف فلابیر(Gustave Flaubert) کا ناول مادام بواری اور ستاں دال (Stendhal) کا ناول سرخ و سیاہ کے نام سے کئے ہیں۔ آخری دنوں میں عسکری صاحب مفتی محمد شفیع کی قرآن مجید کی تفسیر کا انگریزی میں ترجمہ کررہے تھے جن میں سے ایک جلد ہی مکمل ہوسکی۔[2]

تصانیف[ترمیم]

افسانوی مجموعے[ترمیم]

  • قیامت، ہم رکاب آئے نہ آئی
  • جزیرے

تنقید[ترمیم]

  • انسان اور آدمی
  • ستارہ اور بادبان
  • جھلکیاں
  • وقت کی راگنی
  • جدیدیت اور مغربی گمراہیوں کی تاریخ کا خاکہ

تالیفات[ترمیم]

  • میرا بہترین افسانہ
  • میری بہتری نظم

تراجم[ترمیم]

  • سرخ و سیاہ (ستاں دال ) (Stendhal کے فرانسیسی ناول Le Rouge et le Noir کا براہِ راست ترجمہ
  • موبی ڈک (ہرمن میلول Hermann Melville) کے مشہور ناول Moby Dick کا ترجمہ
  • مادام بواری (گستاف فلابیر) (Gustav Flaubert) کے فرانسیسی ناول کا براہ راست ترجمہ
  • آخری سلام (کرسٹوفر شروڈ کے ناول Good by the Berlin کا ترجمہ)

ناقدین کی آراء[ترمیم]

معروف نقاد ممتاز شیریں محمد حسن عسکری کے بارے میں کہتی ہیں کہ:

ہم عصر ادب پر اثر انداز ہونا اور اپنی تنقیدی فکر سے اپنے دور کے لکھنے والوں کو متاثر کرنا بڑی بات ہے۔ ہمارے ناقدوں میں سوائے عسکری صاحب کے شاید ہی کسی کے بارے میں یہ بات کہی جا سکتی ہے[3]۔

وفات[ترمیم]

محمد حسن عسکری 18 جنوری 1978ء کو کراچی میں وفات پا گئے اور کراچی کے دارالعلوم کورنگی میں آسودۂ خاک ہیں۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. محمد حسن عسکری اور جدید ادبی شعور (پی ایچ ڈی مقالہ)، انعم طاہر، نگران ڈاکٹر محمد خان اشرف،شعبۂ اردو، جی سی یونیورسٹی، لاہور، ص 1
  2. ^ 2.0 2.1 2.2 2.3 محمد حسن عسکری ، پاکستانی کنیکشنز، برمنگھم برطانیہ
  3. محمد حسن عسکری اور جدید ادبی شعور (پی ایچ ڈی مقالہ)، انعم طاہر، نگران ڈاکٹر محمد خان اشرف،شعبۂ اردو ، جی سی یونیورسٹی، لاہور، ص 498