جیلانی بانو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جیلانی بانو
Jeelani Bano
معلومات شخصیت
پیدائش 14 جولائی 1936ء
بدایوں  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ مصنفہ
وجہ شہرت ناول، افسانہ
اعزازات
پدم شری
آندھرا پردیش ساہتیہ اکادمی ایوارڈ
سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ
قومی حالی ایوارڈ

جیلانی بانو اردو زبان کی معروف مصنفہ ہیں- حیدر آباد دکن (انڈیا) سے تعلق کی بنا پر ان کی اکثر کہانیوں میں حیدرآبادی تہذیب وثقافت کی جھلک واضح نظر آتی ہے- جیلانی بانو 14 جولائی 1936ء کو بدایوں (اتر پردیش) میں پیدا ہوئیں- اردو ادب سے لگاؤ انہیں اپنے والد صاحب حیرت بدا یونی سے ورثے میں ملا جو اپنے وقت کے معروف شاعر تھے- ان کی پرورش خالص ادبی ماحول میں ہو ئی- اپنے وقت کے بڑے مصنفین مثلاً سجاد ظہیر، مخدوم محی الدین، جگر مراد آبادی، کرشن چندر اور مجروح سلطان پوری وغیرہ کا ان کے گھر آنا جانا لگا رہتا تھا- اس ادبی ماحول نے ان کی تربیت اور شخصیت کی نشو و نما میں اہم کردار ادا کیا- ابتدائی عمر سے ہی انہوں نے سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، میر تقی میر، غالب، اقبال، گورکی، چیخوف، موپساں، بیدی، فیض احمد فیض، مجاز، قرۃالعین حیدر اور احمد ندیم قاسمی سمیت تمام بڑے بڑے ادبا کا کام پڑھ ڈالا- ان عظیم مصنفین کی تخلیقات کے مطالعے نے ان کی ادبی صلاحیتوں کو خوب جلا بخشی- بہرحال انہوں نے اپنا ایک مخصوص طرز تحریر اپنایااور کسی بڑے مصنف کی نقل نہیں کی- انہوں نے اپنی پہلی کہانی‘ ایک نظر ادھر بھی‘ 1952ء میں تحریر کی- ان کی شہرہ آفاق تحریر ‘موم کی مریم‘ نے ماہنامہ ‘سویرا‘ میں شائع ہوتے ہی انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا- ان کی کہانیوں کا پہلا مجموعہ ‘روشنی کا منار‘ اور پہلا ناول ‘ایوان غزل‘ تھا- ان کی کہانیاں ہمارے معاشرتی رویوں کی عکاسی کرتی ہیں-انہوں نے اپنی زیادہ تر کہانیوں میں معاشرے کے پسے ہوئے غریب طبقے کو موضوع بنایا ہے-

ایوارڈ[ترمیم]

انہیں مندرجہ ذیل ایوارڈملے - غالب ایوارڈ، دوشیزہ ایوارڈ (پاکستان)، سویت لینڈ نہرو ایوارڈ (ماسکو)، مہاراشٹر اردو اکیڈمی ایوارڈ، نقوش ایوارڈ (پاکستان)، پدماشری ایوارڈ (بھارت)

چند معروف تحریریں[ترمیم]

ان کی معروف تحریریں یہ ہیں: روشنی کے منار(1958ء)، نروان(1963ء)، جگنو اور ستارے(1965ء)، نغمے کا سفر (1977ء)، ایوان غزل (1977ء)، بارشِ سنگ (1985ء) اس کے علاوہ انہوں نےحیدرآباد شہر پر بننے والی ڈاکومنٹری حیدرآباد ایک شہر ایک تہذیب کا سکرپٹ بھی تحریر کیا-

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

https://en.wikipedia.org/wiki/Jeelani_Bano#Biography