ممتاز مفتی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ممتاز مفتی
پیدائش 11 ستمبر 1905ء
بٹالہ، پنجاب، برطانوی راج
وفات 27 اکتوبر 1995ء (عمر 91)
اسلام آباد، پاکستان
پیشہ مصنف
قومیت پاکستانی
صنف قصص، تصوف
مضمون ادب، فلسفہ، نفسیات، اشتراکیت
نمایاں کام علی پور کا ایلی، الکھ نگری، لبیک، ان کہی، تلاش
اہم اعزازات ستارہ امتیاز، 1986ء
منشی پریم چند اعزاز، 1989ء

ممتاز مفتی (پیدائش: 1905ء | وفات: اکتوبر 1995ء) اردو ادب میں ایک ممتاز نام۔ ممتاز مفتی اپنی اوائل دور میں ایک لبرل اور مذہب سے بیگانے دانشور کی حیثیت سے مشہور تھے۔ ممتاز شیریں کی طرح وہ بھی فروڈ کے کام سے متاثر تھے۔ اشفاق احمد جو ممتاز مفتی کے قریبی دوست تھے کے مطابق ممتاز مفتی تقسیم ہند سے پہلے غیر معروف ادب کے انتہائی دلدادہ تھے، یہاں تک کہ وہ اکثر سویڈن کے کئی غیر معروف ادیبوں کے ناول پڑھتے نظر آتے۔ ممتاز مفتی ابتداء میں تقسیم ہند کے انتہائی مخالف تھے لیکن بعد میں انتہائی محب وطن پاکستانی اور اسلام پسند کے طور پر جانے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی ذات میں یہ تبدیلی قدرت اللہ شہاب سے تعلق قائم ہونے کے بعد پیش آئی۔ گو کہ ان کی شخصیت پر قدرت اللہ شہاب کی عادات، اطوار اور نظریات اثر انداز ہوئے لیکن پھر بھی وہ بحیثیت ادیب اپنی یگانیت اور اچھوتے پن کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔ ممتاز مفتی کی تحریریں زیادہ تر معاشرے میں موجود کئی پہلوؤں اور برائیوں کو اجاگر کرتی نظر آتی ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

ممتاز مفتی کا اصل نام مفتی ممتاز حسین تھا۔ ممتاز مفتی 11 ستمبر1905ء بمقام بٹالہ (ضلع گورداسپور) بھارتی پنجاب میں مفتی محمد حسین کے ہاں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم امرتسر ، میانوالی ، ملتان اور ڈیرہ غازی خان میں پائی۔ میٹر ک ڈیرہ غازی خان سے اور ایف اے امرتسر سے اور بی ۔اے اسلامیہ کالج لاہور سے کیا۔ان کا پہلا افسانہ ‘‘جھکی جھکی آنکھیں’’ ادبی دنیا لاہور میں شائع ہوا اور اس طرح وہ مفتی ممتاز حسین سے ممتاز مفتی بن گئے۔ ان کے کئی افسانوی مجموعے شائع ہوئے جن میں “ان کہی“، “گہماگہمی“، “چپ“، “روغنی پتلے“، اور “سمے کا بندھن“ شامل ہیں۔ “علی پور کا ایلی“ اور “الکھ نگری“ سوانحی ناول میں شمار ہو تے ہیں۔ جبکہ “ہند یاترا“، “لبیک“ جیسے سفر نامے بھی تحریر کیے اور خاکہ نگاری میں “اوکھے لوگ“، “پیاز کے چھلکے“ اور “تلاش“ جیسی کتابوں کے خالق ہیں۔ آپ 27 اکتوبر 1995ء کو 91 برس کی عمر میں اسلام آباد میں وفات پا گئے۔

کتابیات[ترمیم]

ممتاز نے افسانے، مضامین، سفرنامے، ڈرامے، ناول، اور خودنوشت لکھی۔ ان کی قابل ذکر تصانیف میں:[1]

  • علی پور کا ایلی (1961ء، خودنوشت/ناول)
  • الکھ نگری (خودنوشت کا دوسرا حصہ)
  • ان کہی (پہلا افسانوی مجموعہ)
  • پیاز کے چھلکے (1968ء)
  • گہما گہمی (1944ء)
  • چپ (1947ء، افسانے)
  • اسمارائیں (1952ء، افسانے)
  • گڑیا گھر (1965ء، افسانے)
  • روغنی پتلے (1984ء، افسانے)
  • سمے کا بندھن (1986ء، افسانے)
  • کہی نہ جائے (1992ء، افسانے)
  • غبارے (1954ء، مضامین)
  • ہند یاترا (1982ء)
  • رام دین (1986ء، سولہ مضامین اور ایک رپوتاژ)
  • اور اوکھے لوگ
  • اوکھے اولڑے (1995ء)
  • لبیک (1975ء)
  • نظام سقہ (1952ء، ڈراما)
  • روغنی پتلے
  • سمے کا بندھن
  • تلاش (1996ء)

پی ایچ ڈی کے مقالات

  • ممتاز مفتی کا فکری ارتقاء (ڈاکٹر، نجیبہ عارف)
  • ممتاز مفتی – احوال و آثار (ڈاکٹر، روبینہ رفیق)
  • ممتاز مفتی کے افسانوی ادب میں نفسیات نگاری (ڈاکٹر، عبدالکریم خالد)

ممتاز مفتی پر لکھی گئی کتب[2]

  • مہا اوکھا مفتی (عکسی مفتی)
  • ممتاز مفتی، حیات اور ادبی خدمات ( ڈاکٹر ریحان حسن)
  • علی پور کا مفتی (پروفیسراحمد عقیل روبی)

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ http://mumtazmuftee.com/category/books/ ممتاز مفتی کی فہرست کتب
  2. ^ http://mumtazmuftee.com/ممتاز-مفتی-پر-لکھی-گئی-کتب/ ممتاز مفتی پر لکھی گئی کتب


بیرونی روابط[ترمیم]