سعادت حسن منٹو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سعادت حسن منٹو
معلومات شخصیت
پیدائش 11 مئی , 1912
سامرالا  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات جنوری 18، 1955(1955-10-18) (عمر  42 سال)
لاہور  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات تشمع  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر طرزِ موت (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش لاہور
لدھیانہ  ویکی ڈیٹا پر رہائش (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت (15 اگست 1947–1948)
Flag of Pakistan.svg پاکستان (1948–18 جنوری 1955)[1]
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند (11 فروری 1912–15 اگست 1947)  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ علی گڑھ  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ کہانی نویس
پیشہ ورانہ زبان اردو[2]  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دور فعالیت 1934-1955
کارہائے نمایاں Toba Tek Singh  ویکی ڈیٹا پر کارہائے نمایاں (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
Nishan-i-Imtiaz Pakistan.svg نشان امتیاز  (2013)  ویکی ڈیٹا پر وصول کردہ اعزازات (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

اردو ادب کے عظیم افسانہ نگار، خاکہ نگار

خاندانی پس منظر[ترمیم]

سعادت حسن منٹو کے والد غلام حسن منٹو قوم اور ذات کے کشمیری امرتسر کے ایک محلے کوچہ وکیلاں میں ایک بڑے خاندان کے ساتھ رہتے تھے۔

پیدائش[ترمیم]

منٹو 11 مئی 1912کو موضع سمبرالہ، ضلع لدھیانہ میں پیدا ہو ئے۔ ان کے والد لدھیانہ کی کسی تحصیل میں تعینات تھے- دوست انہیں ٹامی کے نام سے پکارتے تھے۔ منٹو اپنے گھر میں ایک سہما ہوا بچہ تھا۔ جو سوتیلے بہن بھائیوں کی موجودگی اور والد کی سختی کی وجہ سے اپنا آپ ظاہر نہ کر سکتا تھا۔ ان کی والدہ ان کی طرف دار تھیں۔ وہ ابتدا ہی سے اسکول کی تعلیم کی طرف مائل نہیں تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم گھر میں ہوئی۔ 1921ء میں اسے ایم اے او مڈل اسکول میں چوتھی جماعت میں داخل کرایا گيا۔ ان کا تعلیمی کریئر حوصلہ افزا نہیں تھا۔ میٹرک کے امتحان میں تین مرتبہ فیل ہونے کے بعد انہوں نے 1931میں یہ امتحان پاس کیا تھا۔ جس کے بعد انہوں نے ہندو سبھا کالج میں ایف اے میں داخلہ لیا لیکن اسے چھوڑ کر، ایم او کالج میں سال دوم میں داخلہ لے لیا- انہوں نے انسانی نفسیات کو اپنا موضوع بنایا۔ پاکستان بننے کے بعد انہوں نے بہترین افسانے تخلیق کیے۔ جن میں ٹوبہ ٹیک سنگھ، کھول دو، ٹھنڈا گوشت، دھواں، بو شامل ہیں۔ ان کے کئی افسانوی مجموعے اور خاکے اور ڈرامے شائع ہو چکے ہیں۔ کثرتِ شراب نوشی کی وجہ سے 18 جنوری 1955ء ان کا انتقال ہوا۔

فن[ترمیم]

سعادت حسن منٹو اردو کا واحد کبیر افسانہ نگار ہے جس کی تحریریں آج بھی ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ وہ ایک صاحب اسلوب نثر نگار تھے جس کے افسانہ مضامین اور خاکے اردو ادب میں بے مثال حیثیت کے مالک ہیں۔ منٹو ایک معمار افسانہ نویس تھے جنہوں نے اردو افسانہ کو ایک نئی راہ دکھائی-افسانہ مجھے لکھتا ہے منٹو نے یہ بہت بڑی بات کہی تھی۔ منٹو کی زندگی بذات خود ناداری انسانی جدوجہد بیماری اور ناقدری کی ایک المیہ کہانی تھی جسے اردو افسانے نے لکھا۔ منٹو نے دیکھی پہچانی دنیا میں سے ایک ایسی دنیا دریافت کی جسے لوگ قابل اعتنا نہیں سمجھتے تھے یہ دنیا گمراہ لوگوں کی تھی۔ جو مروجہ اخلاقی نظام سے اپنی بنائی ہوئی دنیا کے اصولوں پر چلتے تھے ان میں اچھے لوگ بھی تھے اور برے بھی۔ یہ لوگ منٹو کا موضوع تھے اردو افسانے میں یہ ایک بہت بڑی موضوعاتی تبدیلی تھی جو معمار افسانہ نویس کی پہلی اینٹ تھی۔ اس کے افسانے محض واقعاتی نہیں ہیں ان کے بطن میں تیسری دنیا کے پس ماندہ معاشرے کے تضادات کی داستان موجود ہے۔

منٹو کی انانیت[ترمیم]

سعادت حسن منٹو ایک حساس شخصیت کا مالک تھا۔ وہ کسی وجہ سے کسی کو نا پسندکرتا تو پھر خاطر میں نہیں لاتا تھا۔ اس کی انا اگر مجروح ہوتی تو آگے والے کی شامت ہی آ جاتی۔

منٹو کی سوانح حیات پر مبنی فلمیں[ترمیم]

افسانوی مجموعے[ترمیم]

  1. دھواں
  2. منٹو کے افسانے
  3. نمرود کی خدائی
  4. برقعے
  5. پھندے
  6. شکاری عورتیں
  7. سرکنڈوں کے پیچھے
  8. گنجے فرشتے
  9. بادشاہت کا خاتمہ
  10. شیطان
  11. اوپر نیچے درمیان میں
  12. نیلی رگیں
  13. کالی شلوار
  14. بغیر اجازت
  15. رتی ماشہ تولہ
  16. یزید
  17. ٹھنڈا گوشت
  18. بڈھاکھوسٹ
  19. آتش پارے
  20. خالی بوتلیں خالی ڈبے
  21. سیاہ حاشیے
  22. گلاب کا پھول
  23. چغد
  24. لذت سنگ
  25. تلخ ترش شیرریں
  26. جنازے
  27. بغیر اجازت یہ نام پہلے سے ہیں

رسائل کے خاص نمبر[ترمیم]

  1. ماہنامہ ’’ نقوش ‘‘ لاہور مدیر: محمد طفیل ( شمارہ 49۔50) 1955ء
  2. ماہنامہ ’’ افکار ‘‘ کراچی مدیر: صہبا لکھنوی مارچ اپریل 1955ء
  3. ماہنامہ ’’ شاعر ‘‘ بمبئی مدیر :اعجاز صدیقی مارچ اپریل 1955ء
  4. گل خنداں لاہور مدیر :عبد الرؤف شمارہ 6۔ جلد 6، 1955ء
  5. ماہنامہ پگڈنڈی۔ امرتسر مدیران :باوا مہندر / امریک آنند اپریل مئی 1955ء
  6. ’’ نقش‘‘ کراچی مدیر : شاہد احمد دہلوی 1955ء
  7. ماہنامہ ’’ ادبی ‘‘ دہلی مدیر: رحمن نیئر 1977ء
  8. قافلہ۔ لاہور مدیر: سید قاسم محمود جنور ی ٗفروری 1980ء
  9. شعور۔ 4 دہلی مدیر: بلراج منیرا۔ مارچ 1980ء
  10. حرفِ جعفر۔ فیصل آباد مدیر : ڈاکٹر جعفر حسن مبارک جِلد نمبر10 شمارہ 4-5

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://libris.kb.se/katalogisering/tr58c5nc4k8562j — اخذ شدہ بتاریخ: 24 اگست 2018 — شائع شدہ از: 7 نومبر 2012
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb125199125 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ

بیرونی روابط[ترمیم]