شائستہ اکرام اللہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بیگم ڈاکٹر شائستہ اکرام اللہ
Begum Shaista Suhrawardy.jpg
پیدائش شائستہ اختر سہروردی
22 جولائی 1915(1915-07-22)ء

کلکتہ، برطانوی ہندوستان
وفات 10 دسمبر 2000(2000-12-10)ء

متحدہ عرب امارات
آخری آرام گاہ کراچی، پاکستان
قلمی نام شائستہ سہروردی
پیشہ ادیبہ، سیاستدان، سفارت کار
زبان اردو، انگریزی
نسل مہاجر قوم
شہریت Flag of پاکستانپاکستانی
تعلیم پی ایچ ڈی
مادر علمی لندن یونیورسٹی
نمایاں کام کوششِ نا تمام
پردے سے پارلیمنٹ تک
دلی کی خواتین کی کہاوتیں اور محاورے
اہم اعزازات نشان امتیاز

بیگم ڈاکٹر شائستہ سہروردی اکرام اللہ (انگریزی: Shaista Suhrawardy Ikramullah) (پیدائش: 22 جولائی، 1915ء - وفات: 10 دسمبر، 2000ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کی نامور مصنفہ، تحریک پاکستان کی مشہور خاتون رہنما، پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی کی رکن اور سفارت کار تھیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

شائستہ اکرام اللہ 22 جولائی، 1915ء کو کلکتہ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئیں۔[1][2]۔ ان کے والد حسان سہروری برطانوی وزیر ہند کے مشیر تھے۔1932ء میں ان کی شادی مشہور سفارت کار محمد اکرام اللہ سے ہوئی جو قیام پاکستان کے بعد پاکستان کے سیکریٹری خارجہ کے عہدے پر فائز ہوئے۔ بیگم شائستہ اکرام اللہ شادی سے پہلے ہی شائستہ اختر سہروردی کے نام سے افسانہ لکھا کرتی تھیں اور ان کے افسانے اس زمانے کے اہم ادبی جرائد ہمایون، ادبی دنیا، تہذیب نسواں اور عالمگیر وغیرہ میں شائع ہوتے تھے۔ 1940ء میں انہوں نے لندن یونیورسٹی سے ناول نگاری کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی، وہ اس یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے والی پہلی ہندوستانی خاتون تھیں۔ تحریک پاکستان کے دنوں میں انہوں نے جدوجہد آزادی میں بھی فعال حصہ لیا اور بنگال لیجسلیٹو اسمبلی کی رکن رہیں۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی کی رکن بھی رہیں۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کی اور مراکش میں سفارتی خدمات انجام دیں۔ ان کی تصانیف میں افسانوں کا مجموعہ کوشش ناتمام، دلی کی خواتین کی کہاوتیں اور محاورے، فرام پردہ ٹو پارلیمنٹ (پردے سے پارلیمنٹ تک)، لیٹرز ٹو نینا، بیہائینڈ دی ویل اور اے کریٹیکل سروے آف دی ڈیولپمنٹ آف دی اردو ناول اینڈ شارٹ اسٹوری شامل ہیں۔[1]

بیگم شائستہ اکرام اللہ کی ایک وجہ شہرت یہ بھی ہے کہ وہ اردن کے سابق ولی عہد شہزادہ حسن بن طلال اور بنگلہ دیش کے سابق وزیر خارجہ رحمن سبحان کی خوش دامن تھیں۔[1]

تصانیف[ترمیم]

  • کوشش ناتمام
  • دلی کی خواتین کی کہاوتیں اور محاورے
  • فرام پردہ ٹو پارلیمنٹ (اردو ترجمہ پردے سے پارلیمنٹ تک)
  • لیٹرز ٹو نینا
  • بیہائینڈ دی ویل
  • اے کریٹیکل سروے آف دی ڈیولپمنٹ آف دی اردو ناول اینڈ شارٹ اسٹوری

اعزازات[ترمیم]

حکومت پاکستان نے بیگم شائستہ اکرام اللہ کی خدمات کے اعتراف کے طور پر نشان امتیاز کا اعزاز عطا کیا تھا۔[1]

وفات[ترمیم]

بیگم شائستہ اکرام اللہ 10 دسمبر، 2000ء کو متحدہ عرب امارات میں وفات پا گئیں۔ وہ کراچی میں حضرت عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں سپرد خاک ہوئیں۔[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]