خدیجہ مستور
| خدیجہ مستور | |
|---|---|
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | 11 دسمبر 1927ء بلسہ، بریلی، برطانوی ہندوستان |
| وفات | 26 جولائی 1982ء (54 برس) لندن، مملکت متحدہ |
| مدفن | لاہور |
| شہریت | |
| عملی زندگی | |
| صنف | ناول |
| پیشہ | مصنف |
| پیشہ ورانہ زبان | انگریزی |
| کارہائے نمایاں | آنگن، زمین |
| IMDB پر صفحہ | |
| درستی - ترمیم | |
خدیجہ مستور (ولادت: 11 دسمبر، 1927ء - وفات: 26 جولائی، 1982ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والی اردو کی مشہور و معروف ناول نگار و افسانہ نگار تھیں جو اردو ادب کی بے حد مقبول شخصیات میں سے ایک تھیں۔[1] خدیجہ اپنے ناول آنگن کی وجہ سے دنیائے ادب میں شہرت رکھتی ہیں جس پر ہم ٹی وی کی طرف سے ڈراما بھی بنایا گیا۔[2][3] ان کی چھوٹی بہن ہاجرہ مسرور بھی ایک ناول نگار و افسانہ نگار تھیں جبکہ شاعر، ڈراما نگار اور کالم نگار خالد احمد (متوفی 2013ء) ان کے چھوٹے بھائی تھے۔[4][5][6][7]
خدیجہ کے والد سید طہور احمد خان برطانوی فوج میں طبیب تھے۔ ان کا انتقال دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے ہوا۔ خدیجہ 1947ء میں پاکستان کی آزادی کے بعد اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کی اور لاہور میں مقیم ہوئیں۔[8]
حالات زندگی
[ترمیم]خدیجہ مستور 11 دسمبر، 1927ء کو بلسہ، بریلی، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئیں۔ [9] ان کے والد کا نام ڈاکٹر طہور احمد خان تھا[10] وہ سرکاری ملازم تھے، ملازمت کی وجہ سے مختلف شہروں اور قصبوں میں اُن کا تبادلہ ہوتا رہا جس کی وجہ سے وہ صحیح معنوں میں بچوں کی تعلیم و تربیت پر توجہ نہ دے سکے۔ خدیجہ کی والدہ کا نام انور جہاں تھا، وہ ایک پڑھی لکھی خاتون تھیں، اکثر اُن کے مضامین خواتین کے مختلف رسالوں میں چھپتے تھے۔ اُن کی دیکھا دیکھی بچوں میں بھی ادبی رجحانات پیدا ہوئے۔ چھوٹی عمر میں ہی خدیجہ کے والد صاحب کا انتقال ہو گیا، جس کی وجہ سے اُن کے خاندان کو بے حد مشکلات پیش آئیں۔ کچھ عرصہ بمبئی میں قیام رہا۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان آگئیں اور لاہور میں مستقل قیام پزیر ہوئیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خدیجہ کا خاندان ہجرت کے وقت انتہائی بے سروسامانی کی حالت میں تھا ایسے کڑے وقت میں احمد ندیم قاسمی نے ان کی مدد کی۔1950ء میں خدیجہ کی شادی مشہور افسانہ نگار احمد ندیم قاسمی کے بھانجے ظہیر بابر سے ہوئی جو صحافت کے پیشے سے منسلک تھے۔ خدیجہ نے شادی کے بعد بڑی پُر سکون زندگی گزاری۔ دونوں میاں بیوی میں بے حد محبت تھی۔ دونوں ایک دوسرے کا بے حد خیال رکھتے تھے۔
تخلیقات
[ترمیم]خدیجہ کے افسانوں کے پانچ مجموعے سامنے آئے۔ جن میں بوچھاڑ اور چندر روز اور شامل ہیں۔ 1962ء میں اپنے شہرہ آفاق ناول آنگن پر آدم جی ادبی انعام ملا۔ جب کہ اُن کے افسانوں کے آخری مجموعے ٹھنڈا میٹھا پانی پر انھیں ہجرہ ایوارڈ سے نوازا گیا۔
خدیجہ کا پہلا افسانہ کب منظر عام پر آیا، اس کے بارے میں کہنا کچھ مشکل ہے تاہم اُن کے مطبوعہ افسانوں کا اولین سراغ دلّی کے رسالے ساقی سے ملتا ہے۔ اس رسالے نے اُردو افسانے کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے علاوہ اُن کے افسانے لاہور کے رسالے عالم گیر، ہفت روزہ خیام اور ادب لطیف میں بھی شائع ہوتے رہے ہیں۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ساقی کے اپریل 1944ء کے شمارے میں دونوں بہنوں ہاجرہ مسرور اور خدیجہ مستور کے افسانے بیک وقت شائع ہوئے۔ ساقی میں افسانوں کی اشاعت سے دونوں بہنوں کا نام ادبی حلقوں میں شہرت پانے لگا۔
ایک خاتون ہونے کے ناطے قدرتی طور پر خدیجہ کی ہمدردیاں عورت کے ساتھ ہیں۔ اُن کے افسانوں کے پہلے مجموعے کھیل کا پہلا افسانہ عورت کی وفا اور مردکی بے وفائی کے پس منظر میں ہے اور اتفاق دیکھیں کہ ان کا آخری افسانہ بھروسا بھی اسی موضوع پر ہے۔ خواتین کی حیثیت، نفسیات اور مسائل اُن کا پسندیدہ موضوع ہے۔
افسانوں کے پانچ مجموعے شائع ہوئے جن کی تفصیل کچھ یوں ہے۔(1) کھیل 1944ء (2) بوچھار 1946ء (3) چند روز اور 1951ء (4) تھکے ہارے 1962ء (5) ٹھنڈا میٹھا پانی 1981 خدیجہ مستور کے دو ناول بھی چھپ کر منظر عام پر آئے پہلا ناول ’’آنگن‘‘ تھا جو 1962ء میں چھپ کر سامنے آیا ،اس ناول پر انھیں آدم جی ادبی انعام سے نوازا گیا۔ جب کہ دوسرا ناول ’’زمین‘‘ ان کی وفات کے بعد 1983ء میں شائع ہوا۔
اعزازات
[ترمیم]خدیجہ مستور کو ان کے ناول آنگن پر 1962ء میں آدم جی ادبی انعام دیا گیا۔[11]
وفات
[ترمیم]خدیجہ مستور 26 جولائی 1982ء کو لندن میں وفات پاگئیں۔ وہ لاہور میں گلبرگ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئیں۔[9]
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ "Khadija Masroor's anniversary observed"۔ Pakistan Observer (newspaper)۔ 27 جولائی 2012۔ 2012-08-07 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-06-23
- ↑ Pakistan Academy of Letters (PAL) publishes two books آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ interface.edu.pk (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل) interface.edu.pk website. Retrieved 23 June 2019
- ↑ NewsBytes (29 مارچ 2017)۔ "Period drama Aangan to make way to small screen soon"۔ The News International (newspaper)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-06-23
- ↑ Poet Khalid Ahmad laid to rest Dawn (newspaper), Published 20 March 2013. Retrieved 23 June 2019
- ↑ "Khadija Mastoor's death anniversary"۔ The Frontier Post (newspaper)۔ 26 جولائی 2012۔ 2013-02-03 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-06-23
- ↑ "Khadija Mastoor's writings praised"۔ Dawn۔ Pakistan۔ 3 ستمبر 2005۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-06-23
- ↑ "Great story writer Khadija Mastoor's anniversary today"۔ Samaa TV News۔ 26 جولائی 2012۔ 2014-01-06 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-06-23
- ↑ "Khadija Masroor's anniversary observed"۔ Pakistan Observer (newspaper)۔ 27 جولائی 2012۔ 2012-08-07 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-06-23
- 1 2 خدیجہ مستور، سوانح و تصانیف ویب، پاکستان
- ↑ وفیات پاکستانی اہل قلم خواتین از خالد مصطفی
- ↑ NewsBytes (29 مارچ 2017)۔ "Period drama Aangan to make way to small screen soon"۔ The News International (newspaper)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-06-23

