خدیجہ مستور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
خدیجہ مستور
خدیجہ مستور
خدیجہ مستور
ادیب
ولادت11 دسمبر 1927 ء، بلسہ، بریلی، برطانوی ہندوستان
وفات26 جولائی 1982 ءلندن، تدفین: لاہور
اصناف ادبناول
تعداد تصانیفافسانوں کے پانچ مجموعے شائع ہوئے جن کی تفصیل کچھ یوں ہے۔(1) کھیل 1944ء (2) بوچھار 1946ء (3) چند روز اور 1951ء (4) تھکے ہارے 1962ء (5) ٹھنڈا میٹھا پانی 1981 خدیجہ مستور کے دو ناول بھی چھپ کر منظر عام پر آئے پہلا ناول ’’آنگن‘‘ تھا جو 1962ءمیں چھپ کر سامنے آیا ،اس ناول پر انہیں آدم جی ادبی انعام سے نوازا گیا۔ جب کہ دوسرا ناول ’’زمین‘‘ ان کی وفات کے بعد 1984ءمیں شائع ہوا۔
معروف تصانیفآنگن


خدیجہ مستور (پیدائش: 11 دسمبر، 1927ء - وفات: 26 جولائی، 1982ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کی مشہور و معروف ناول نگار و افسانہ نگار تھیں جو اپنے ناول آنگن کی وجہ سے دنیائے ادب میں شہرت رکھتیں ہیں اور جلد ہی اس ناول پر ہم ٹی وی کی طرف سے ڈراما بھی بنایا جا رہا ہے .

حالات زندگی[ترمیم]

خدیجہ مستور 11 دسمبر، 1927ء کو بلسہ، بریلی، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئیں[1]۔ ان کے والد کا نام ڈاکٹر تہور احمد خاں تھا وہ سرکاری ملازم تھے ،ملازمت کی وجہ سے مختلف شہروں اور قصبوں میں اُن کا تبادلہ ہوتا رہا جس کی وجہ سے وہ صحیح معنوں میں بچوں کی تعلیم و تربیت پر توجہ نہ دے سکے۔ خدیجہ کی والدہ کا نام انور جہاں تھا، وہ ایک پڑھی لکھی خاتون تھیں،اُن کے اکثر مضامین مختلف زنانہ رسالوں میں چھپتے تھے۔ اُن کے دیکھا دیکھی بچوں میں بھی ادبی رجحانات پیدا ہوئے۔ چھوٹی عمر میں ہی خدیجہ کے والد صاحب کا انتقال ہو گیا ،جس کی وجہ سے اُن کے خاندان کو بے حد مشکلات پیش آئیں۔ کچھ عرصہ بمبئی میں قیام رہا۔تقسیم ہند کے بعد پاکستان آگئیں اور لاہور میں مستقل قیام پزیر ہوئیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خدیجہ کا خاندان ہجرت کے وقت انتہائی بے سروسامانی کی حالت میں تھا ایسے کڑے وقت میں احمد ندیم قاسمی نے ان کی مدد کی۔1950ء میں خدیجہ کی شادی مشہور افسانہ نگار احمد ندیم قاسمی کے بھانجے ظہیر بابر سے ہوئی جو صحافت کے پیشے سے منسلک تھے۔ خدیجہ نے شادی کے بعد بڑی پُر سکون زندگی گزاری۔ دونوں میاں بیوی میں بے حد محبت تھی۔ دونوں ایک دوسرے کا بے حد خیال رکھتے تھے۔

تخلیقات[ترمیم]

خدیجہ کے افسانوں کے پانچ مجموعے سامنے آئے۔ جن میں بوچھاڑ اور چندر روز اور شامل ہیں۔ 1962ء میں اپنے شہرہ آفاق ناول آنگن پر آدم جی ادبی انعام ملا۔ جب کہ اُن کے افسانوں کے آخری مجموعے ٹھنڈا میٹھا پانی پر انہیں ہجرہ ایوارڈ سے نوازا گیا۔

خدیجہ کا پہلا افسانہ کب منظر عام پر آیا ،اس کے بارے میں کہنا کچھ مشکل ہے تاہم اُن کے مطبوعہ افسانوں کا اولین سراغ دلّی کے رسالے ساقی سے ملتا ہے۔ اس رسالے نے اُردو افسانے کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے علاوہ اُن کے افسانے لاہور کے رسالے عالم گیر، ہفت روزہ خیام اور ادب لطیف میں بھی شائع ہوتے رہے ہیں۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ساقی کے اپریل 1944ء کے شمارے میں دونوں بہنوں ہاجرہ مسرور اور خدیجہ مستور کے افسانے بیک وقت شائع ہوئے۔ ساقی میں افسانوں کی اشاعت سے دونوں بہنوں کا نام ادبی حلقوں میں شہرت پانے لگا ۔

ایک خاتون ہونے کے ناطے قدرتی طور پر خدیجہ کی ہمدردیاں عورت کے ساتھ ہیں۔ اُن کے افسانوں کے پہلے مجموعے کھیل کا پہلا افسانہ عورت کی وفا اور مردکی بے وفائی کے پس منظر میں ہے اور اتفاق دیکھیں کہ ان کا آخری افسانہبھروسا بھی اسی موضوع پر ہے۔ خواتین کی حیثیت، نفسیات اور مسائل اُن کا پسندیدہ موضوع ہے۔

اعزازات[ترمیم]

خدیجہ مستور کو ان کے ناول آنگن پر 1962ء میں آدم جی ادبی انعام دیا گیا۔

وفات[ترمیم]

خدیجہ مستور 26 جولائی 1982ء کو لندن میں وفات پاگئیں۔ وہ لاہور میں گلبرگ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئیں۔[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

ہاجرہ مسرور

حوالہ جات[ترمیم]