نہرو رپورٹ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

1927ء میں حکومت برطانیہ نے شاہی فرمان کے تحت ہندوستان کے لیے سائمن کمیشن کا تقرر کیا گیا۔ جس کا مقصد آئینی اصلاحات کا جائزہ لینا تھا۔ ہندوستان بھر میں اس کمیشن کا بائیکاٹ کیا گیا اور جلسے جلوس ہوئے۔ اس کمیشن کی سفارشات کو بھی یکسر مسترد کر دیا گیا۔

نہرو رپورٹ[ترمیم]

سائمن کمیشن کے بائیکاٹ کے بعد 19 مئی 1928ء کو مقامی سیاسی پارٹیوں کی ایک کانفرنس منعقد کی گئی۔ اس آل پارٹیز کانفرنس میں موتی لعل نہرو کی سربراہی میں ایک نو رکنی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ دیگر اراکین میں سر علی امام، شعیب قریشی ، ایم۔ ایس۔ این ۔، ایم۔ آر۔ جے کار، جی۔ آر۔ پرتان، سردار مینگل سنگھ، سرتارج بہادر سپرو اور ایم جوشی کے نام شامل ہیں۔ کمیٹی کا مقصد ہندوستان کے لیے ہندوستانیوں کے ذریعے ایک ایسے آئینی ڈھانچے کو تشکیل دینا تھا جو ہندوستان میں آباد تمام قومیتوں کے لیے قابل قبول ہو یا جس کو کم از کم کانفرنس میں شریک تمام پارٹیوں کی حمایت حاصل ہو۔ اس کمیٹی نے جو آئینی رپورٹ تیار کی ہے۔ ہندوستان کی تاریخ میں اسے نہرو رپورٹ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ رپورٹ اگست 1928ء میں شائع ہوئی ۔

پاک-بھارت جنگ بندی معاہدہ (سی-ایف-اے) مشکلات میں ہے۔ 2003ء میں کیا گیا یہ معاہدہ جس نے 15 سال تک دونوں اطراف سرحدی کشیدگی کو قابومیں رکھا اب دونوں فوجوں کے بڑھتے تنازعات کی وجہ سے خطرات سے دوچار ہے۔ دونوں اطراف سے چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں کے استعمال کے ساتھ فائرنگ اب معمول کا حصہ لگتی ہے۔ حالیہ سالوں میں ایسی نوعیت کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ بھارتی سرکاری ذرائع کے مطابق ان واقعات کی تعداد 2015ء میں 152 تھی جو 2016ء میں 228، 2017ء میں 860 اور اس سال کے پہلے دو مہینوں میں 432 تک پہنچ چکی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ سی-ایف-اے میں حالیہ خلاف ورزی کے پیچھے کچھ محرکات ہیں ، جیسا کہ 2010ء میں کشمیر میں شورش کی واپسی، بھارت کی سرجیکل سٹرائیک اور پاک-بھارت بگڑتے ہوئے تعلقات ۔ تاہم اس سب کے پیچھے ایک اور واحد عنصر بھی کارفرما ہے اور وہ ہے حکومتی نظر اندازی۔ سی-ایف-اے کو شروع کرتے ہوئے اس کے دیرپا ہونے کا کوئی خیال نہ تھا تاہم معاہدے نے حیرت انگیز طور پر سرحدی خلاف ورزیوں کو کنٹرول کرنے میں اگلے کئی سال کامیابی سمیٹی ۔ بد قسمتی سے دونوں حکومتوں نے اس اہم وقت میں معاہدے کے سقم دور کرنے کی کوشش نہ کی۔

سی-ایف-اے کے ڈھانچے کو سمجھنے کےلئے اس کی شروعات کو دیکھنا ہو گا۔ پاکستان اور بھارت کی کشمیری سرحد 1948ء کی جنگ کے بعد سے گرم رہی ہے جبکہ سرحدی کشیدگی میں اضافہ 1989ء میں کشمیر میں شورش کے بعد میں ہوا۔ 1990ء کی دہائی میں دونوں افواج نہ صرف فائرنگ کا تبادلہ اور آرٹیلری شیلنگ کر رہی تھیں بلکہ ایک دوسرے کی فوجی چوکیوں پر بھی حملہ آور ہو رہی تھیں۔ اس کشیدگی کا نقطہِ عروج 1999ء کی کارگل جنگ تھی جب کشمیری مجاہدین کے روپ میں پاکستانی فوجیوں نے بھارتی علاقے پر قبضے کی کوشش کی۔ جنگ کا خاتمہ کشیدگی کی کمی کا باعث نہ بن سکا بلکہ اس میں شدت آ گئی۔ ایسے ہی کچھ حالت کے اندر سی-ایف-اے معاہدہ عمل پزیر ہوا۔

ماضی میں کئی بار ناکام ہونے کے بعد اسلام آباد اور نئی دہلی نے 2003ء میں امن کےلئے کچھ اقدامات اٹھائے۔ پاکستان نے ایک عوامی بیان میں لائن آف کنٹرول پر غیر مشروط اور یک طرفہ جنگ بندی کی پیشکش کی۔ جواب میں بھارت نے اعلان کیا کہ وہ نہ صرف اس پیشکش کے حوالے سے مثبت ہے بلکہ لائن آف کنٹرول کے علاوہ دونوں ملکوں کی باقی کی سرحد اور سیاچن پر بھی جنگ بندی کےلئے تیار ہے۔اور اس طرح سی-ایف-اے ڈائریکٹرز جنرل ملٹری آپریشنز کی ‘ہاٹ لائن’ کے تحت 25 نومبر 2003ء کو نافذ العمل ہو گیا۔ یہ ہاٹ لائن عشروں تک کم نوعیت کے سرحدی تنازعات، جیسے فضائی حدود کے خلاف ورزی، کے معاملات کو حل کرتی رہی۔ تاہم اب بھارت اور پاکستان کو ساری سرحد پر وسیع مذاکرت کرنے کا کہا گیا۔ معاہدہ فون پر طے پایا اور ڈی-جی-ایم-اوز نہ تو اس وقت ملے اور نہ ہی اگلے 10 سال تک ملاقات کی۔ نتیجتاً دونوں اطراف سے کسی شخص نے معاہدے پر دستخط نہ کیے اور معاہدہ محض زبانی بنیادوں پر قائم رہا۔

اپنی غیر مادی ساخت کی وجہ سے سی-ایف-اے قانونی اور فعالیت میں کم موثر ہے۔ اس میں ایک معاہدے کے بنیادی شرائط کم تر ہیں جو عموماً عالمی طور پر جنگ بندی کے معاہدوں میں موجود ہوتی ہیں۔ اس میں نقاط کو نافذ کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے ، غیر جانبدار مبصرین اور ثالثی کی بھی کوئی جگہ نہیں ہے۔ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے کیا، اس عنصر کی تشریح بھی موجود نہیں ۔ کیا سرحد پار فائرنگ خلاف ورزی ہے یا ٹینکوں کا سرحد پار کر جانا؟ کیا دونوں طرح کی خلاف ورزیوں کو ایک ہی طرح سے دیکھا جائے گا؟ آرٹیلری کےلئے سرحد پر نظر رکھنے کےلئےغیر مقبوضہ چوٹیوں پر آپریشنل چوکی بنانے کو کیا سمجھا جائے گا چونکہ یہ کوئی تباہ کن یا نقصان دہ عمل تو نہیں؟ ۔ اس لیے ان شرائط کے نہ ہونے سےحادثاتی طور پر سرحدی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔ اس ابہام کی وجہ سے پاکستان اور بھارت خلاف ورزیوں کے حوالے سے مختلف اعدادوشمار پیش کرتے ہیں ۔

2003ء میں سی-ایف-اے پر مبصرین کی طرف سے دستخط ہوتے وقت اس معاہدے کو تقویت نہ دی گئی چونکہ کارگل جنگ ، پاکستان کی کشمیریوں کی مدد اور جوہری تجربات کے تناظر میں وہ وقت دونوں ملکوں کے بیچ غیر یقینی سے دوچار تھا۔اس بات کا امکان تھا کہ جنگ بندی کا معاہدہ جلد ہی ناکام ہو جائے گاجیسے بہت سے دوسرے پاک-بھارت معاملات بھی ناکام ہو چکے تھے جس میں 2003ء میں شروع کیا گیا امن مذاکرات کا عمل بھی ہے جو 2007ء میں ناکام ہو گیا۔

لیکن اس کے باوجود سی-ایس-ایف دیرپا اور کامیاب ثابت ہوا۔ حقیقت میں پچھلی کئی دہائیوں میں پاک-بھارت تعاون کی یہ واحد کامیاب مثال ہے۔ سی-ایس-ایف معاہدے سے قبل سرحدی کشیدگی کے واقعات کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ 2002ء میں ان واقعات کی تعداد 5700 تھی جو جنگ بندی ہونے کے بعد 2000ء کی دہائی میں تقریباً صفر ہو گئی۔

بد قسمتی سے سی-ایس-ایف اپنی کامیابی میں نئی دہلی اور اسلام آباد کےلئے غیر مرئی ہو گیا ۔ معاہدے کو کامیابی کے سالوں میں نہ تو میڈیا میں اور نہ ہی حکومتی سطح پراسکو زیرِ بحث لایا گیا۔ اس نظر اندازی کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان اور بھارت 2000ء کی دہائی کے دوران سی-ایس-ایف کی تجدید یا اس کو دوبارہ قابلِ عمل بنانے کی طرف نہ لوٹے، اس کے باوجود کہ اسی عرصہ کے دوران دونوں ملک دیگر معاملات پر بات چیت کر رہے تھے۔

معاہدے میں 2010ء کے آس پاس جب دراڑیں نمودار ہوئیں تو پاکستان اور بھارت نے انکو سدھارنے کی کوئی کوشش نہ کی۔ 2013ء میں ڈی-جی-ایم-اوز کو دوبارہ مسئلے کا حل نکالنے کی ذمہ داری دی گئی لیکن اس میٹنگ کا خاطر خواہ فائدہ نہ ہوا۔ تب سے یہ مشورے متواتر آتے رہے ہیں کہ (سی-ایس-ایف) معاہدے کو باقاعدہ بنایا جائے اور ڈی- جی-ایم-اوز کی ایک اور میٹنگ رکھی جائے۔ لیکن اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی چونکہ دونوں اطراف مذاکرات کے دوران اپنی اپنی پوزیشن کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہیں۔

اگر دونوں حکومتیں اسے کشمیر معاملے سے الگ کر دیں اور اعلیٰ سطحیٰ پر سیاسی وسائل مہیا کر دیں تو آج بھی سی-ایس-ایف کو بچایا جا سکتا ہے ۔ لیکن اس میں ایک بڑا سبق ہے۔ پاک-بھارت تعاون چونکہ کھبی کبھار ہی ہو پاتا ہے اس لیے (سی-ایس-ایف) تعاون کی کسی ہلکی سی کوشش کو بھی پروان چڑھانے اور حفاظت کرنے کی ضرورت ہے۔ بصورتِ دیگر یہ معاملہ بھی پاکستان اور بھارت کے دیگرمسائل کی بھینٹ چڑھ جائے گا۔

نکات[ترمیم]

نہرو رپورٹ میں مسلمانوں کا کوئی لحاظ نہیں رکھا گیا۔ جن شقوں سے مسلمانوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ وہ مندرجہ ذیل ہیں

1۔ جداگانہ طریقہ انتخابات کو منسوخ کرنے کے لیے کہا گیا ۔

ہندوستان کے لیے وفاقی طرز حکومت کی بجائے وحدانی طرز حکومت کی سفارش کی گئی

3۔ مکمل آزادی کی بجائے نوآبادیاتی طرز آزادی کے لیے کہا گیا

4۔ ہندی کو ہندوستان کی سرکاری زبان بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔

ان سفارشات کو دیکھتے ہوئے کمیٹی کے جانبدارانہ رویے کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ کیونکہ معاہدہ لکھنؤ 1916ء میں کانگریس نے مسلم لیگ کے جن مطالبات کو منظور کیا تھا، نہرو رپورٹ میں ان ہی سے انحراف کیا گیا۔

دسمبر 1928ء میں نہرو رپورٹ کے باقاعدہ اور باضابطہ منظوری حاصل کرنے کے لیے ایک آل پارٹیز کنونشن دہلی میں طلب کیا گیا۔ مسلم لیگ نے 23 اراکین پر مشتمل ایک نمائندہ کمیٹی قائداعظم کی سربراہی میں اس مقصد کے لیے قائم کر دی۔ تاکہ مجوزہ کنونشن میں شامل سیاسی جماعتوں کو مسلم لیگ کے مؤقف سے آگاہ کیا جائے۔ قائد اعظم نے مذکورہ کنونشن میں نہرو رپورٹ کو مسلم لیگ کے لیے قابل قبول بنانے کے لیے ایک تین نکاتی فارمولہ پیش کیا۔ جسے کنونشن میں شامل تمام سیاسی پارٹیوں نے یکسر مسترد کیا۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئےقائداعظم نے فرمایا

“ This is nothing but parting of the ways”

بعد میں آل پارٹیز کانفرنس جو 31 دسمبر 1928ء کو سر آغا خان کی زیر صدارت دہلی میں شروع ہوئی۔ نے نہرو رپورٹ کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ۔

نتائج[ترمیم]

ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں نہرو رپورٹ کو خصوصی اہمیت اس لیے حاصل ہے کہ اس کے بہت بڑے اور تاریخی نتائج برآمد ہوئے۔ اس رپورٹ کے ذریعے ہندوؤں نے اپنے عزائم کا برملا اظہار کیا۔ ان کی ذہنیت کھل کر سامنے آئی اور اس کے ذریعے مسلمانوں کے سیاسی اور آئینی حقوق کو پامال کرنے کی حتی الامکان کوشش کی گئی۔ یہی وجہ تھی کہ اس رپورٹ نے مسلمانوں میں متعدد خدشات کو جنم دیا۔ کئی ایک سوال ان کے ذہنوں میں ابھرنے لگے۔ مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی نے سخت الفاظ میں نہرو رپورٹ کی مذمت کرتے ہوئے کانگریس سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنا رشتہ توڑ دیا۔

ڈاکٹر محمد علامہ اقبال نے ہندوؤں کی ذہنیت، سوچ اور سیاست کے جواب میں خطبہ الہ آباد صادر فرمایا اور مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے پہلی بار آپ نے ہندوستان کی تقسیم کی پیش گوئی کر دی۔ آپ نے فرمایا

’’ ہندوستان کے مسلمانوں کا آخری مقدر یہ ہوگا کہ وہ اپنے لیے ایک علاحدہ مملکت کا قیام عمل میں لائیں گے۔‘‘

قائد اعظم محمد علی جناح نے نہرو رپورٹ کے جواب میں مشہور زمانہ چودہ نکات پیش کیے، جن کے ذریعے مسلمانوں کے مطالبات کا احاطہ احسن طریقے سے کیا گیا۔ یہی وہ وقت تھا جب مسلم لیگ اور کانگریس کے درمیان ایک آئینی تعطل پیدا ہوا۔ یہ تعطل 1947ء تک برقرار رہا، جس کے نتیجے میں بالآخر ہندوستان تقسیم ہوا۔

حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کی سیاسی پیش رفت میں جوں جوں کانگریسی پنڈت اور ہندو مہا سبا کے انتہا پسند ہندو تنگ نظر ہوتے گئے، بالکل اسی مناسبت اور رفتار سے مسلم لیگی لیڈر شپ کی سیاسی بصرت میں وسعت پیدا ہوتی گئی۔ اور یوں کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان لڑا جانے والا سیاسی کھیل Actionاور Reactionکے مختلف مراحل سے گزرتا ہوا اپنے منطقی انجام Logical Consequenceکی طرف گامزن دکھائی دیتا ہے۔ اس رپورٹ نے ہندو مسلم اتحاد کے تابوت میں آخری کیل کا کردار ادا کیا۔

حوالہ جات[ترمیم]