محمد ظفر اللہ خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد ظفر اللہ خان
Muhammad Zafarullah Khan.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 6 فروری 1893[1][2][3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
سیالکوٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 1 ستمبر 1985 (92 سال)[1][2][3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت
Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
جماعت آل انڈیا مسلم لیگ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی گورنمنٹ کالج لاہور
کنگز کالج لندن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان،  سفارت کار،  منصف،  وکیل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

سر محمد ظفر اللہ خان تحریک پاکستان کے سرگرم رکن، پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ تھے۔

بچپن[ترمیم]

سر محمد ظفر اللہ خان کا آبائی گاوں ڈسکہ تھا۔ ان کے والد نصر اللہ خان ساہی جاٹ قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے اور پیشہ کے لحاظ سے وکیل تھے۔ ان کی والدہ باجوہ جاٹ خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ ظفر اللہ خان اپنی والدہ سے بہت متاثر تھے اور ان کے متعلق ایک کتاب "میری والدہ "کے نام سے لکھی۔ ان کی پیدائش 6 فروری 1893 کو ہوئی۔

تعلیم[ترمیم]

ابتدائی تعلیم کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور سے مزید تعلیم اور پھر کنگز کالج لندن سے وکالت کی ڈگری 1914 میں حاصل کی۔ لندن میں لنکن ان بار میں شمالیت اختیار کی۔ وطن واپسی پر سیالکوٹ میں وکالت کا پیشہ اختیار کیا اور پھر 1926 میں پنجاب لیجسلیٹو کونسل کے ارکان بن گئے۔

سیاست[ترمیم]

سر ظفر اللہ خان 1926 میں پنجاب لیجسلیٹو کونسل کے ارکان بنے۔ انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور اس کے ایک اہم اور فعال رکن رہے۔ مسلم لیگ کے 1931 کے اجلاس منعقدہ دہلی کی صدارت کے فرائض بھی سر انجام دئے۔ انہوں نے 1930 سے 1932 تک لندن میں گول میز کانفرنسوں میں شرکت کی۔ 1935 میں برطانوی ہندوستان کے وزیر ریلوے بنے۔ 1939 میں انہوں نے لیگ آف نیشنز میں برطانوی ہندوستان کی نمائندگی کی۔ 1942 میں چین میں برطانوی ہندوستان کے جنرل ایجنٹ رہے اور 1945 میں دولت مشترکہ کی کانفرنس میں برطانوی ہندوستان کی نمائندگی کی۔

مسلم لیگ میں اہم کردار[ترمیم]

1935 سے 1941 تک واسرائے ہند کی ایگزیکیوٹو کونسل کے ارکان رہے۔ اسی زمانہ میں لارڈ لنلیتھگو نے مسلم لیگ کے رہنماوں کو بتایا کہ برطانوی حکومت نے ہندوستان کو ہندو، مسلمان، آزاد نوابی ریاستوں کی صورت میں تین حصوں میں تقسیم کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ اس وقت مسلم لیگ کی طرف سے مختلف تجاویز پیش کی گئیں جو حکومت نے مسترد کر دیں۔ اس پر سر ظفر اللہ خان کو تقسیم ہندوستان پر نئی تجویز پیش کرنے کا کام دیا گیا۔ اس بارہ میں واسرائے نے حکومت برطانیہ کو لکھا[4]:

میری ہدایت پر ظفر اللہ نے ایک میمورنڈم دو ممالک کے متعلق لکھا ہے جو میں پہلے ہی آپ کو بھجوا چکا ہوں۔ میں نے انہیں مزید توضیح کے لیے بھی کہا ہے جو ان کے کہنے کے مطابق جلد ہی آ جائے گی۔البتہ ان کا اصرار ہے کہ کسی کو یہ معلوم نہ ہو کہ یہ منصوبہ انہوں نے تیار کیا ہے۔ انہوں نے مجھے یہ اختیار دیا ہے میں اس کے ساتھ جو چاہوں کروں، جس میں آپ کو ایک نقل بھیجنا بھی شامل ہے۔ اس کی نقول جناح کو اور میرے خیال میں سر اکبر حیدری کو دی جا چکی ہیں۔ یہ دستاویز مسلم لیگ کی طرف سے اپنائے جانے اور اس کی مکمل تشہیر کے لیے تیار کر لی گئی ہے جبکہ ظفر اللہ اس کے مصنف ہونے کا اقرار نہیں کر سکتے۔ لارڈ لیتھینگو 12 مارچ 1940

وائسرائے نے مزید بیان کیا کہ ظفر اللہ خان احمدیہ جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے اگر عام مسلمانوں کو اس بارہ میں پتہ چلا تو ان کی جانب سے تحفظات کا اندیشہ ہے۔ چنانچہ منصوبہ پیش کرنے کے بارہ دن بعد اسے آل انڈیا مسلم لیگ کی جانب سے لاہور کے اجلاس میں منظور کر لیا گیا اور یہ قرارداد پاکستان کے نام سے مشہور ہوا۔

محمد علی جناح کی درخواست پر ظفر اللہ خان نے مسلم لیگ کا مقدمہ ریڈکلف کے کمشن کے سامنے پیش کیا۔ اسی زمانہ میں جوناگڑھ کی ریاست کے والی کے مشیر کے طور پر خدمات سر انجام دیں اور ان کے مشورہ پر نواب جوناگڑھ نے اپنی ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا۔

متحدہ ہندوستان کی عدالت عظمیٰ[ترمیم]

ستمبر 1941 میں ظفر اللہ خان کو متحدہ ہندوستان کی عدالت عظمیٰ کا منصف مقرر کیا گیا۔ وہ آزادی ہند تک اس عہدہ پر فائز رہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ[ترمیم]

آزادی کے بعد 1947 میں ظفر اللہ خان نے اقوام متحدہ کے سامنے بطور سربارہ پاکستانی وفد پاکستان کا موقف پیش کیا۔ اسی طرح مسئلہ فلسطین پر عالم اسلام کے موقف کی تائید کی۔ اسی سال ان کو پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ مقرر کیا گیا۔ وہ 1954 تک سات سال اس عہدہ پر برقرار رہے۔

1953 کے فسادات[ترمیم]

ان کے بطور وزیر خارجہ کام کے دوران میں ہی لاہور میں 1953 میں فسادات برپا ہوئے جن میں مذہبی جماعتوں نے ان کے استعفا کا مطالبہ کیا۔ ان فسادات کے نتیجہ میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ لاہور میں فوجی قانون یعنی مارشل لا لگایا گیا۔ ان فسادات پر عدالتی کمیشن بنایا گیا جو منیر عدالتی کمیشن کے نام سے مشہور ہوا۔ اس کمیشن کی رپورٹ میں فسادات کی وجوہ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب[ترمیم]

ظفر اللہ خان 1947 میں ہی اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندہ کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ اسی دوران میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے ارکان بھی رہے۔ 1954 سے 1961 تک عرصہ عالمی عدالت انصاف میں بطور منصف فرائض سر انجام دینے کے بعد 1961 سے 1964 تک دوبارہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب مقرر ہوئے۔ وہ 1962 سے 1964 تک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر بھی رہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ میں کشمیر، فلسطین، لیبیا، شمالی ائیرلینڈ، ایریٹریا، صومالیہ، سوڈان، تیونس، مراکش اور انڈونیشیا کی آزادی کے لیے کام کیا۔

عالمی عدالت انصاف[ترمیم]

1954 میں ظفر اللہ خان عالمی عدالت انصاف کے منصف مقرر ہوئے اور 1961 تک اس عہدہ پر فائز رہے۔ 1958 تا 1961 وہ عدالت کے نائب صدر بھی رہے۔ دوبارہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی خدمات بجا لانے کے بعد 1964 سے 1973 تک دوبارہ عالمی عدالت انصاف میں منصف رہے۔

مذہب[ترمیم]

محمد ظفر اللہ خان مذہبی طور پر احمدیہ جماعت سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے خود مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور ان کے احمدی خلفاء کے معتمد رہے۔ وہ جماعت احمدیہ کے اہم عہدوں پر فائز رہے اور مذہبی امور پر متعدد کتب کے مصنف ہیں۔1953 میں ہونے والی احمدیہ مخالف تحریک کے اہم مطالبات میں سے ایک ظفر اللہ خان کے استعفا کا مطالبہ بھی تھا۔ اس تحریک کے نتیجہ میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ لاہور میں فوجی قانون لاگو ہوا۔ اس تحریک کے کئی سال بعد ظفر اللہ خان نے 1967 میں سعودی عرب جا کر حج کا فریضہ سر انجام دیا۔ اس سے پہلے وہ 1958 میں سعودی بادشاہ کے شاہی مہمان کے طور پر عمرہ ادا کر چکے تھے۔

وفات[ترمیم]

ایک لمبا عرصہ نیدرلینڈ اور برطانیہ میں رہائش کے بعد واپس پاکستان آئے اور لاہور میں رہائش اختیار کی۔ جہاں اور 1 ستمبر 1985 کو میں وفات پائی۔ ان کی تدفین احمدیہ جماعت کے مرکز ربوہ میں واقع بہشتی مقبرہ میں ہوئی۔

تصانیف[ترمیم]

کتب[ترمیم]

  1. تحدیث نعمت
  2. میری والدہ
  3. ایک عزیز کے نام خط
  4. The Excellent Exemplar Muhammad: The Messenger of Allah
  5. The Message of Islam
  6. Victory of Prayer Over Prejudice
  7. Hazrat Maulvi Nooruddeen Khalifatul Masih I
  8. Islam and Human Rights
  9. Wisdom of the Holy Prophet
  10. Islam – Its Meaning for Modern Man
  11. Punishment of Apostacy in Islam
  12. Women in Islam
  13. Muhammad: Seal of the Prophets
  14. Ahmadiyyat: The Renaissance of Islam
  15. Deliverance from the Cross
  16. Islam and Modern Family, Audio Book

تقاریر[ترمیم]

  1. The Contribution of Islam to the Solution of World Problems, 16th Congress of International Association for Religious Freedom, Chicago, USA, 10 ستمبر 1958

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب اجازت نامہ: CC0
  2. ^ ا ب دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Muhammad-Zafrulla-Khan — بنام: Sir Muhammad Zafrulla Khan — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  3. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w6cv5bmz — بنام: Muhammad Zafarullah Khan — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. Khan, Wali. Facts are Facts: The Untold Story of India's Partition،pp 40-42