مرزا غلام احمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مرزا غلام احمد قادیانی
مرزا غلام احمد

معلومات شخصیت
پیدائش 13 فروری 1835[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
قادیان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 26 مئی 1908 (73 سال)[2][1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن بہشتی مقبرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
قومیت ہندوستانی
اولاد مرزا بشیر الدین محمود  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد مرزا غلام مرتضیٰ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
مرزا غلام قادر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بہن/بھائی (P3373) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ مذہبی رہنماء
تحریک احمدیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تحریک (P135) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
Unterschrift von Mirza Ghulam Ahmad.jpg 

مرزا غلام احمد (13 فروری،1835ء تا 26 مئی 1908ء) ہندوستان سے تعلق رکھنے والے ایک احمدی رہنما اور احمدیہ کے بانی تھے۔ مرزا غلام احمد نے دعویٰ کیا کہ وہ ہی مسیح موعود اور مہدی آخر الزمان ہے اور نبی ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔[3][4][5] 1888ء میں، مرزا نے اعلان کیا کہ انہیں بیعت لے کر ایک جماعت بنانے کا حکم ملا ہے اور اس طرح 23 مارچ 1889ء کو لدھیانہ میں پہلی بیعت لے کر جماعت احمدیہ جسے قادیانیت اور مرزئیت بھی کہا جاتا ہے، کی بنیاد رکھی۔[6]

آبا و اجداد

مرزا غلام احمد کا تعلق ترک منگول قبیلہ مغل برلاس سے تھا۔ جد مرزا ہادی بیگ 1530ء میں اپنے خاندان سمیت سمرقند سے ہجرت کر کے ہندوستان آئے اور پنجاب کے علاقہ میں اس جگہ آباد ہوئے جو اب قادیان کہلاتا ہے۔ اس وقت ہندوستان پر مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر حکمران تھا۔ مرزا ہادی بیگ کو اس علاقہ میں کئی سو دیہات پر مشتمل جاگیر عطا کی گئی۔[7]

تعلیم

مرزا نے تعلیم اپنے آبائی گاوں قادیان ہی میں حاصل کی۔ اس میں قرآن کریم، عربی، فارسی اور طب کے ابتدائی سبق شامل تھے۔ جن کے لیے کچھ اساتذہ رکھے گئے۔ رائج الوقت طریق کے برخلاف مشہور علما سے مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے دوسرے ممالک و مدن کا سفر اختیار نہیں کیا۔

سیالکوٹ میں قیام

اپنے والد کی ہدایت پر کچھ عرصہ سیالکوٹ میں عدالت میں کام کیا۔ قیام سیالکوٹ ہی میں کچھ مسیحی مبلیغین سے مذہبی امور پر تبادلہ خیال کا موقع ملا۔

تصنیف براھین احمدیہ

مرزا غلام احمد نے 1880ء میں اپنی مشہور کتاب براھین احمدیہ کے پہلے دو حصے شائع کیے۔ تیسرا حصہ 1882ء میں جب کہ چوتھا 1884ء میں شائع ہوا۔ کتاب کا آخری اور پانچواں حصہ 1905ء میں منظر عام پر آیا۔ اس کتاب کا مقصد مصنف نے یہ بیان کیا کہ 300 دلائل سے مذہب اسلام کی سچائی اور تمام دوسرے ادیان پر برتری ثابت کی جائے۔ کتاب کے ساتھ ہی مرزا صاحب نے 10000 روپے انعام کا اشتہار بھی شائع کیا جو اس شخص کو دیا جانا تھا جو کتاب میں اسلام کی تائید میں دیے گئے دلائل میں سے پانچویں حصہ کو بھی غلط ثابت کر سکے۔ یہ رقم 1879 میں مرزا صاحب کی کل جائداد کی قیمت پر مشتمل تھی۔

احمدیہ کی بنیاد

مرزا غلام احمد نے 23 مارچ 1889 کو لدھیانہ میں حکیم احمد جان کے گھر پر بیعت لے کر احمدیہ کی بنیاد رکھی۔ پہلے دن چالیس افراد نے بیعت کی۔

دعوے

مامور من اللہ

1882 میں مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس دعویٰ کی بنیاد اپنا یہ عربی الہام بیان کیا ہے [8] :

یا احمد بارک اللہ فیک۔ ما رمیت اذ رمیت و لکن اللہ رمیٰ۔ الرحمن۔ علم القرآن۔ لتنذر قوما ما انذر اباوہم و لتستبین سبیل المجرمین۔ قل انی امرت و انا اول المسلمین۔قل جا الحق و زھق الباطل ان الباطل کان زھوقا۔ کل برکۃ من محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ فتبارک من علم و تعلم۔ قل ان افتریتہ فعلی اجرامی۔

ترجمہ: اے احمد اللہ نے تجھ میں برکت رکھی ہے۔ جو کچھ تو نے چلایا، تو نے نہیں چلایا بلکہ خدا نے چلایا۔ رحمان ہے جس نے تجھے قرآن سکھایا تاکہ تو اس قوم کو ڈرائے جن کے باپ دادا کو نہیں ڈرایا گیا اور تاکہ مجرموں کی راہ واضح ہو جائے۔ کہہ دے میں خدا کی طرف سے مامور ہوں اور میں سب سے پہلے سر تسلیم خم کرتا ہوں۔ کہہ حق آ گیا اور باطل بھاگ گیا اور باطل کو بھاگنا ہی تھا۔ تمام برکتیں محمد کی طرف سے ہیں، اللہ کی برکتیں اور سلامتی ان پر ہو۔ پس بڑا بابرکت ہے وہ جس نے تعلیم دی اور جس نے تعلیم پائی۔ کہہ اگر میں نے یہ جھوٹ بولا ہے تو اس جرم کا وبال مجھ پر ہے۔

مسیح موعود

1891 میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔[9]:

مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے اور اُس کے رنگ میں ہو کر وعدہ کے موافق تُو آیا ہے

دعویٰ مسیح موعود مسلمان علما کی جانب سے سخت مخالفت پر منتج ہوا۔

عقائد و تعلیمات

مرزا غلام احمد نے اپنے عقائد اور تعلیمات کو مختلف جگہوں پر بتصریح بیان کیا ہے۔ مرزا نے اپنی تحریروں میں دعوی کیا کہ وہ مسلمان، خدائے واحد کی پرتش کرنے والا، بانی اسلام محمد بن عبد اللہ کو خاتم النبیین، مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کو آخری کتاب سمجھتا ہے۔ مرزا کے عقائد اور مسلمانوں کے عقائد میں بنیادی طور پر مندرجہ ذیل امور میں فرق ہے، مرزا غلام احمد کا نظریہ تھا کہ:

  • خدا اب بھی جس سے چاہے کلام کرتا ہے چنانچہ سلسلہ الہام جاری ہے۔
  • قرآن آخری شرعی کتاب ہے۔ اس کا کوئی حکم اور کوئی آیت منسوخ نہیں۔
  • حضرت محمد ؐ آخری شرعی نبی اور خاتم النبیین ہیں۔ خاتم النبیین سے ان کی مراد آخری شریعت اور قرب خداوندی کے انتہائی مقام پر فائز ہونا ہے۔ اس قدر بلند مقام کہ محمدؐ کی پیروی کرنے سے انسان تابع نبی کا مقام حاصل کر سکتا ہے۔
  • بانی مسیحیت حضرت عیسیٰ ؑ تمام سابقہ انبیا کی طرح قدرتی طور پر فوت ہو چکے ہیں۔
  • جہاد بالسیف اس زمانہ میں جائز نہیں بلکہ اس زمانہ میں جہاد بالقلم کی ضرورت ہے کیونکہ اسلام پر حملے قلم سے ہو رہے ہیں۔

اسلامی عقیدے کے مطابق اب وحی الٰہی کا دروازہ بند ہے اور قرآن کی بعض آیات منسوخ ہیں۔ گو ان منسوخ شدہ آیات کی تعداد میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اسلام میں حضرت محمد کو ہر لحاظ سے آخری نبی مانا جاتا ہے اور ان کے تابع فرمان کوئی نیا نبی بھی نہیں آ سکتا۔ اسی طرح جمہور علما کا اجماع ہے کہ عیسیٰ ابن مریم جسمانی طور پر آسمان پر اٹھا لیے گئے ہیں اور زندہ ہیں اور آخری زمانہ میں دوبارہ تشریف لائیں گے۔ اسلام میں جہاد بالسیف کو کبھی بھی وقتی حکم نہیں قرار نہیں دیا گیا، بلکہ جب بھی ضرورت پیش ائے گی، مسلمانوں پر جہاد فرض ہو گا۔

عرب و ہندوستان کے علما نے ان عقائد میں اختلاف کی بنا پر مرزا غلام احمد اور ان کے پیروکاروں کے خلاف کفر کا فتویٰ جاری کیا اور ان کی سخت مخالفت کی گئی۔

مذہبی مباحثے اور دعوت مقابلہ

مرزا غلام احمد نے اپنے وقت کے متعدد مشہور مذہبی رہنماوں سے مباحثے کیے اور ان کو مقابلہ کی دعوت دی۔ ان میں سے چند کو بہت شہرت حاصل ہوئی۔

پنڈت لیکھرام

پنڈت لیکھرام ایک ہندو مذہبی رہنما تھا جس کا تعلق آریہ سماج کی تنظیم سے تھا۔ اس نے اسلام اور بانی اسلام کے خلاف تقاریر کیں اور کتب لکھیں تو مرزا غلام احمد نے اسے دعوت مقابلہ دی۔ بحث تک نوبت نہ آئی لیکن مرزا غلام احمد نے اس کے متعلق اپنے الہمات پر مشتمل یہ پیشگوئی شائع کی کہ پنڈت لیکھرام 6 سال کے عرصہ میں عید سے متصل دن کو فوت ہو جائے گا۔

پادری عبد اللہ آثم

پادری عبد اللہ آثم یا آتہم ایک مسلمان تھا جس نے عیسائی دین اختیار کر لیا تھا اور اسلام پر تنقید کرتا تھا۔ مرزا غلام احمد نے اسے دعوت مقابلہ دی۔ اس پر ایک تحریری مباحثہ منعقد ہوا جسء مرزا غلام احمد نے جنگ مقدس کے نام سے شائع کر دیا۔ اس مباحثہ کے آخر پر انہوں نے پادری عبد اللہ کو مباہلہ کی دعوت دی اور خبردار کیا کہ اگر اس نے حق کو جان لینے کے باوجود اس کی مخالفت کی توسزا کا حقدار ہو گا۔

پادری ڈوئی

پادری جان الیگذنڈر ڈوئی امریکا کا مشہور عیسائی پادری تھا جس نے اپنا ایک الگ فرقہ بنایا تھا اور اپنے پیروکاروں کے لیے صحیون کے نام سے الگ شہر بھی بسایا تھا۔ مرزا غلام احمد نے ڈوئی کو مقابلہ کی دعوت دی۔ مرزا غلام احمد نے اس کے بارہ میں پیشگوئی کی کہ جھوٹ پر مبنی دعویٰ کی وجہ سے ڈوئی ان کی زندگی میں فوت ہو جائے گا۔

وفات

مرزا غلام احمد نے لاہور میں 26 مئی 1908 کو وفات پائی۔ میت کو بذریعہ ریل ان کے آبائی گاوں قادیان لایا گیا اور بہشتی مقبرہ میں تدفین ہوئی۔

اثر

مرزا غلام احمد کی قائم کردہ احمدیہ اس وقت دنیا کے کئی ممالک میں پائی جاتی ہے۔ ان کی تبلیغی سر گرمیوں کی وجہ سے افریقا اور مغربی ممالک میں مشہور ہے۔ پاکستان میں ان کی جماعت سے تعلق رکھنے والے مشہور افراد میں پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ محمد ظفر اللہ خان، پہلے اور واحد سائنسی نوبل انعام یافتہ عبد السلام، سیکرٹری منصوبہ بندی میاں مظفر احمد شامل ہیں۔

مخالفت

مرزا غلام احمد کو ابتدا میں تو مسلمان مشاہیر کی جانب سے پزیرائی حاصل ہوئی جو ان کے دعویٰ مسیح موعود کے بعد سخت مخالفت میں تبدیل ہو گئی۔ مسلمان علما نے اس وقت ان پر کفر کا فتویٰ لگایا جن میں سر فہرست احمد رضا خان، مولوی محمد حسین بٹالوی، مولوی نذیر احمد، پیر مہر علی شاہ وغیرہ معروف علما شامل تھے۔

مولانا احمد رضا خان نے 1893ء میں پہلی بار ان کے دعوؤں پر گرفت کی۔ اور پھر انھوں نے حسام الحرمین کے نام سے علمائے مکہ و مدینہ سے مرزا غلام احمد پر فتویٰ کفر تصدیق کروا کر شائع کیا۔

مرزا غلام احمد کی وفات کے بعد بھی ان کی تحریرات مسلمانوں میں بالخصوص اور مذہبی دنیا میں بالعموم بہت سی کتب اور بحثوں کا موضوع رہیں۔ رابطہ عالم اسلامی نے ان کی تعلیمات کو اسلام کے خلاف قرار دیا۔ اسی طرح 1974 میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک قرارداد کے ذریعہ ان کے پیروکاروں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔ متعدد مسلمان ممالک میں ان کی کتب اور ان کے پیروکاروں کی سرگرمیوں پر پابندی کے لیے تحریکات موجود ہیں۔

اولاد

مرزا غلام احمد صاحب نے دو شادیاں کیں۔ دونوں سے اولاد ہوئی۔ پہلی بیوی حرمت بی بی اور دوسری بیوی نصرت جہاں بیگم تھیں۔

پہلی بیوی سے :

  • مرزا سلطان احمد (1853–1931)
  • مرزا فضل احمد (1855–1904)

دوسری بیوی سے :

  • مرزا بشیر الدین محمود احمد (1889–1965)
  • مرزا بشیر احمد (1893–1963)
  • مرزا شریف احمد(1895–1961)
  • نواب مبارکہ بیگم (1897–1977)
  • امتہ الحفیظ بیگم (1904–1987)

جبکہ یہ بچے جلد ہی فوت ہو گئے:

  • عصمت (1886–1891)
  • بشیر اول (1887–1888)
  • شوکت (1891–1892)
  • مرزا مبارک احمد (1899–1907)
  • امتہ النصیر (1903–1903)

تصانیف

  • مجموعہ تصنیفات روحانی خزائن
  • مجموعہ تقاریر ملفوظات
  • مجموعہ اشتہارات

بیرونی روابط

جماعت احمدیہ کی مرکزی ویب سائٹ

حوالہ جات

  1. ^ ا ب فائنڈ اے گریو میموریل شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/cgi-bin/fg.cgi?page=gr&GRid=149854335 — بنام: Mirza Ghulam Ahmad — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Mirza-Ghulam-Ahmad — بنام: Mirza Ghulam Ahmad — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  3. Adil Hussain Khan. "From Sufism to Ahmadiyya: A Muslim Minority Movement in South Asia" Indiana University Press, 6 apr. 2015 p 42
  4. "Chapter Two – Claims of Hadhrat Ahmad"۔ Alislam.org۔ 1904-06-24۔ اخذ کردہ بتاریخ 2013-05-20۔ 
  5. "The Fourteenth-Century's Reformer / Mujaddid"، from the "Call of Islam"، by [[محمد علی (احمدی)|]]
  6. http://www.alislam.org/apps/cob/webapp/ Ten Conditions of Bai’at
  7. Adil Hussain Khan. "From Sufism to Ahmadiyya: A Muslim Minority Movement in South Asia" Indiana University Press, 6 apr. 2015 ISBN 978-0-253-01529-7
  8. براھین احمدیہ، حصہ سوم۔ صفحہ 238۔ بمطابق روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 265۔
  9. ازالہ اوہام صفحہ 561۔562۔ روحانی خزائن جلد 3، صفحہ 402