مرزا غلام احمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مرزا غلام احمد
مرزا غلام احمد قادیانی
Hadhrat Mirza Ghulam Ahmad2.jpg
پیدائش

13 فروری 1835ء

؟قادیان، پنجاب، برطانوی راج
وفات 26 مئی 1908ءلاہور، پنجاب، برطانوی راج
قومیت ہندوستانی
پیشہ مذہبی رہنماء
وجۂ شہرت بانی احمدیہ (قادیانیت)

مرزا غلام احمد (13 فروری،1835ء تا 26 مئی 1908ء) ہندوستان سے تعلق رکھنے والے ایک مذہبی رہنما اور تحریک احمدیہ کے بانی تھے۔ مرزا غلام احمد نے دعویٰ کیا کہ وہ ہیمسیح موعود اور مہدی آخر الزمان ہیں، اور نبی ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔[1][2][3] 1888ء میں، انہوں نے اعلان کیا کہ انہیں بیعت لے کر ایک جماعت بنانے کا حکم ملا ہے، اور اس طرح 23 مارچ،1889ء کو لدھیانہ میں پہلی بیعت لے کر جماعت احمدیہ کی بنیاد رکھی۔ [4]

آبا و اجداد

مرزا غلام احمد صاحب کا تعلق ترک۔منگول قبیلہ مغل برلاس سے تھا۔ ان کے جد امجد مرزا ہادی بیگ 1530ء میں اپنے خاندان سمیت سمرقند سے ہجرت کر کے ہندوستان آئے اور پنجاب کے علاقہ میں اس جگہ آباد ہوئے جو اب قادیان کہلاتی ہے۔ اس وقت ہندوستان پر مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر حکمران تھا۔ مرزا ہادی بیگ کو اس علاقہ میں کئی سو دیہات پر مشتمل جاگیر عطا کی گئی۔[5]

تعلیم

انہوں نے تعلیم اپنے آبائی گاوں قادیان میں ہی حاصل کی۔ اس میں قرآن کریم، عربی، فارسی اور طب کے ابتدائی سبق شامل تھے۔ جن کے لئے کچھ اساتذہ رکھے گئے۔ رائج الوقت طریق کے برخلاف مشہور علماء سے مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے دوسرے ممالک و مدن کا سفر اختیار نہیں کیا۔

سیالکوٹ میں قیام

اپنے والد صاحب کی ہدایت پر کچھ عرصہ سیالکوٹ میں عدالت میں کام کیا۔ قیام سیالکوٹ ہی میں کچھ عیسائی مبلیغین سے مذہبی امور پر تبادلہ خیال کا موقع ملا۔

مذہبی مباحث اور مضامین

تصنیف براھین احمدیہ

مرزا غلام احمد صاحب نے 1880 میں اپنی شہرہ آفاق کتاب براھین احمدیہ کا پہلا اور دوسرا حصہ شائع کیا۔ تیسرا حصہ 1882میں جبکہ چوتھا 1884 میں شائع ہوا۔ کتاب کا آخری اور پانچواں حصہ 1905 میں منظر عام پر آیا۔ اس کتاب کا مقصد مصنف نے یہ بیان کیا کہ 300 دلائل سے مذہب اسلام کی سچائی اور تمام دوسرے ادیان پر برتری ثابت کی جائے۔ کتاب کے ساتھ ہی مرزا صاحب نے 10000 روپے انعام کا اشتہار بھی شائع کیا جو اس شخص کو دیا جانا تھا جو کتاب میں اسلام کی تائید میں دیے گئے دلائل میں سے پانچویں حصہ کو بھی غلط ثابت کرسکے۔ یہ رقم 1879 میں مرزا صاحب کی کل جائیداد کی قیمت پر مشتمل تھی۔

مرزا غلام احمد صاحب نے کتا ب میں مذہب اسلام اور بانی اسلام کو ایک زندہ مذہب اور زندہ رسول کے طور پر پیش کیا۔ مصنف کے نذدیک زندہ مذہب کا بنیادی نشان یہ ہے کہ اس کی پیروی کرنے والا خدا سے ایسا زندہ تعلق قائم کر سکے کہ خدا اس سے ہم کلام ہو اور اس کی دعاوں کو سن کر پیشگی ان کی قبولیت سے اس کو مطلع کرے اور اس پیروکار کی پر زور نشانوں سے تائید کرے۔ مصنف نے بیان کیا کہ آج صرف مذہب اسلام کی تعلیمات پر عمل کر کے ہی خدا سے ایسا زندہ تعلق قائم کیا جا سکتا ہے۔ اس بات کے عملی ثبوت کے طور پر مصنف نے اپنے بہت سے الہامات کتاب براھین احمدیہ میں درج کئے اور متعدد دعاوں کا ذکر کیا جن کی قبولیت سے مصنف کا پہلے سے مطلع کیا گیا تھا۔

اس کتاب کو مسلمانوں میں پذیرائی اور مقبولیت حاصل ہوئی اور متعدد مسلمان مشاہیر نے اس کی افادیت اور اہمیت کا اقرار کیا۔ اشاعۃ السنۃ نامی اہل حدیث اخبار نے، جس کے مدیر مشہور عالم مولوی محمد حسین بٹالوی تھے، کتاب پر ریویو لکھتے ہوئے اس کی تعریف کی اور اسے مسلمانوں کی 1300 سالہ تاریخ کی بے نظیر کتاب قرار دیا اور لکھا[6]

اب ہم اپنی رائے نہایت مختصر اور بے مبالغہ الفاظ میں ظاہر کرتے ہیں۔ ہماری رائے میں یہ کتاب اس زمانہ میں اور موجودہ حالت کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں شائع نہیں ہوئی اور آئندہ کی خبر نہیں لعل اللہ یحدث بعد ذالک امرا۔ اس اور کا مولف بھی اسلام کی مالی و جانی و قلمی و لسانی و حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے

جماعت احمدیہ کی بنیاد

مرزا غلام احمد نے 23 مارچ 1889 کو لدھیانہ میں حکیم احمد جان کے گھر پر بیعت لے کر جماعت احمدیہ کی بنیاد رکھی۔ پہلے دن چالیس افراد نے بیعت کی۔

دعاوی

مامور من اللہ

1882 میں مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس دعویٰ کی بنیاد اپنا یہ عربی الہام بیان کیا ہے [7] :

یا احمد بارک اللہ فیک۔ ما رمیت اذ رمیت و لکن اللہ رمیٰ۔ الرحمن۔ علم القرآن۔ لتنذر قوما ما انذر اباوھم و لتستبین سبیل المجرمین۔ قل انی امرت و انا اول المسلمین۔قل جا الحق و زھق الباطل ان الباطل کان زھوقا۔ کل برکۃ من محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ فتبارک من علم و تعلم۔ قل ان افتریتہ فعلی اجرامی۔

ترجمہ: اے احمد اللہ نے تجھ میں برکت رکھی ہے۔ جو کچھ تو نے چلایا، تو نے نہیں چلایا بلکہ خدا نے چلایا۔ رحمان ہے جس نے تجھے قرآن سکھایا تاکہ تو اس قوم کو ڈرائے جن کے باپ دادا کو نہیں ڈرایا گیا اور تاکہ مجرموں کی راہ واضح ہو جائے۔ کہہ دے میں خدا کی طرف سے مامور ہوں اور میں سب سے پہلے سر تسلیم خم کرتا ہوں۔ کہہ حق آ گیا اور باطل بھاگ گیا اور باطل کو بھاگنا ہی تھا۔ تمام برکتیں محمد کی طرف سے ہیں، اللہ کی برکتیں اور سلامتی ان پر ہو۔ پس بڑا بابرکت ہے وہ جس نے تعلیم دی اور جس نے تعلیم پائی۔ کہہ اگر میں نے یہ جھوٹ بولا ہے تو اس جرم کا وبال مجھ پر ہے۔

مسیح موعود

1891 میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ یہ دعویٰ ان کے اس الہام پر مبنی تھا[8]:

مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے اور اُس کے رنگ میں ہو کر وعدہ کے موافق تُو آیا ہے

موجودہ زمانہ کے اکثر مسلمان علماء کا خیال ہے کہ مسیحؑ ابن مریم درحقیقت فوت نہیں ہوئے بلکہ اپنے جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھا لئے گئے تھے اور آخری زمانہ میں دوبارہ تشریف لائیں گے۔ چنانچہ دعویٰ مسیح موعود مسلمان علماء کی جانب سے سخت مخالفت پر منتج ہوا۔

عقائد و تعلیمات

مرزا غلام احمد صاحب نے اپنے عقائد اور تعلیمات کو مختلف جگہوں پر بتصریح بیان کیا ہے۔ ان کی اپنی تحریرات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود کو مسلمان ، خدائے واحد کی پرتش کرنے والا، بانی اسلام حضرت محمد ؐ کو خاتم النبیین، مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کو آخری کتاب سمجھتے تھے۔ ان کے عقائد موجودہ زمانہ کے مسلمان علماء سے بنیادی طور پر مندرجہ ذیل امور میں مختلف تھے:

  • خدا اب بھی جس سے چاہے کلام کرتا ہے چنانچہ سلسلہ الہام جاری ہے۔
  • قرآن آخری شرعی کتاب ہے۔ اس کا کوئی حکم اور کوئی آیت منسوخ نہیں۔
  • حضرت محمد ؐ آخری شرعی نبی اور خاتم النبیین ہیں۔ خاتم النبیین سے ان کی مراد آخری شریعت اور قرب خداوندی کے انتہائی مقام پر فائز ہونا ہے۔ اس قدر بلند مقام کہ محمدؐ کی پیروی کرنے سے انسان تابع نبی کا مقام حاصل کر سکتا ہے۔
  • بانی عیسائیت حضرت عیسیٰ ؑ تمام سابقہ انبیاء کی طرح قدرتی طور پر فوت ہو چکے ہیں۔
  • جہاد بالسیف اس زمانہ میں جائز نہیں بلکہ اس زمانہ میں جہاد بالقلم کی ضرورت ہے کیونکہ اسلام پر حملے قلم سے ہو رہے ہیں۔

موجودہ زمانہ کے اکثر مسلمان علماء کے نزدیک اب کلام وحی الٰہی کا دروازہ بند ہے۔علماء کے نذدیک قرآن کی بعض آیات منسوخ ہیں۔ گو ان منسوخ شدہ آیات کی تعداد میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اکثر علماء کے نزدیک حضرت محمد ؐ ہر لحاظ سے آخری نبی ہیں اور ان کے تابع فرمان نبی بھی نہیں آ سکتا۔ اسی طرح علماء کے نذدیک عیسیٰ ؑ جسمانی طور پر آسمان پر اٹھا لئے گئے ہیں اور زندہ ہیں اور آخری زمانہ میں دوبارہ تشریف لائیں گے۔ علماء کے خیال میں جہاد بالسیف مرزا صاحب کے وقت بھی جاری تھا اور اب بھی جاری ہے۔

عرب و ہندوستان کے اکثر علماء نے ان عقائد میں اختلاف کی بنا پر مرزا غلام احمد صاحب اور ان کے پیروکاروں کے خلاف کفر کا فتویٰ جاری کیا اور ان کی سخت مخالفت کی گئی۔

مذہبی مباحثے اور دعوت مقابلہ

مرزا غلام احمد صاحب نے اپنے وقت کے متعدد مشہور مذہبی رہنماوں سے مباحثے کئے اور ان کو مقابلہ کی دعوت دی۔ ان میں سے چند کو بہت شہرت حاصل ہوئی۔

پنڈت لیکھرام

پنڈت لیکھرام ایک ہندو مذہبی رہنما تھا جس کا تعلق آریہ سماج کی تنظیم سے تھا۔ اس نے اسلام اور بانی اسلام کے خلاف تقاریر کیں اور کتب لکھیں تو مرزا غلام احمد نے اسے دعوت مقابلہ دی۔ بحث تک نوبت نہ آئی لیکن مرزا غلام احمد نے اس کے متعلق اپنے الہمات پر مشتمل یہ پیشگوئی شائع کی کہ پنڈت لیکھرام 6 سال کے عرصہ میں عید سے متصل دن کو فوت ہو جائے گا۔

پادری عبد اللہ آثم

پادری عبد اللہ آثم یا آتھم ایک مسلمان تھا جس نے عیسائی دین اختیار کر لیا تھا اور اسلام پر تنقید کرتا تھا۔ مرزا غلام احمد نے اسے دعوت مقابلہ دی۔ اس پر ایک تحریری مباحثہ منعقد ہوا جسء مرزا غلام احمد نے جنگ مقدس کے نام سے شائع کر دیا۔ اس مباحثہ کے آخر پر انہوں نے پادری عبد اللہ کو مباہلہ کی دعوت دی اور خبردار کیا کہ اگر اس نے حق کو جان لینے کے باوجود اس کی مخالفت کی توسزا کا حقدار ہو گا۔

پادری ڈوئی

پادری جان الیگذنڈر ڈوئی امریکہ کا مشہور عیسائی پادری تھا جس نے اپنا ایک الگ فرقہ بنایا تھا اور اپنے پیروکاروں کے لئے صحیون کے نام سے الگ شہر بھی بسایا تھا۔ مرزا غلام احمد نے ڈوئی کو مقابلہ کی دعوت دی۔ مرزا غلام احمد نے اس کے بارہ میں پیشگوئی کی کہ جھوٹ پر مبنی دعویٰ کی وجہ سے ڈوئی ان کی زندگی میں فوت ہو جائے گا۔

وفات

مرزا غلام احمد نے لاہور میں 26 مئی 1908 کو وفات پائی۔ میت کو بذریعہ ریل ان کے آبائی گاوں قادیان لایا گیا جہاں 27 مئی کو ان کے نو منتخب شدہ خلیفہ حکیم نورالدین نے نماز جنازہ پڑھائی اور قادیان ہی میں قبرستان بہشتی مقبرہ میں تدفین ہوئی۔

اثر

مرزا غلام احمد کی قائم کردہ جماعت احمدیہ اس وقت دنیا کے اکثر ممالک میں پائی جاتی ہے۔ ان کی تبلیغی سر گرمیوں کی وجہ سے افریقہ اور مغربی ممالک میں مشہور ہے۔ پاکستان میں ان کی جماعت سے تعلق رکھنے والے مشہور افراد میں پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ محمد ظفر اللہ خان، پہلے اور واحد سائنسی نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام، سیکرٹری منصوبہ بندی میاں مظفر احمد شامل ہیں۔

مخالفت

مرزا غلام احمد کو ابتدا میں ہی مسلمان مشاہیر کی جانب سے پذیرائی حاصل ہوئی جو کہ ان کے دعویٰ مسیح موعود کے بعد سخت مخالفت میں تبدیل ہو گئی۔ بہت سے مسلمان علماء نے اس وقت ان پر کفر کا فتویٰ لگایا جن میں سر فہرست احمد رضا خان، مولوی محمد حسین بٹالوی، مولوی نذیر احمد، پیر مہر علی شاہ وغیرہ معروف علماء شامل تھے۔

مولانا احمد رضا خان نے 1893ء میں پہلی بار ان کے دعوؤں پر گرفت کی۔ اور پھر انھوں نے حسام الحرمین کے نام سے علمائے مکہ و مدینہ سے مرزا غلام احمد پر فتویٰ کفر تصدیق کروا کر شائع کیا۔

مرزا غلام احمد کی وفات کے بعد بھی ان کی تحریرات مسلمانوں میں بالخصوص اور مذہبی دنیا میں بالعموم بہت سی کتب اور بحثوں کا موضوع رہیں۔ رابطہ عالم اسلامی نے ان کی تعلیمات کو اسلام کے خلاف قرار دیا ۔ اسی طرح 1974 میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک قرار داد کے ذریعہ ان کے پیروکاروں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔ متعدد مسلمان ممالک میں ان کی کتب اور ان کے پیروکاروں کی سرگرمیوں پر پابندی کے لئے تحریکات موجود ہیں۔

اولاد

مرزا غلام احمد صاحب نے دو شادیاں کیں۔ دونوں سے اولاد ہوئی۔ پہلی بیوی حرمت بی بی اور دوسری بیوی نصرت جہاں بیگم تھیں۔

پہلی بیوی سے:

  • مرزا سلطان احمد (1853–1931)
  • مرزا فضل احمد (1855–1904)

دوسری بیوی سے:

  • مرزا بشیر الدین محمود احمد (1889–1965)
  • مرزا بشیر احمد (1893–1963)
  • مرزا شریف احمد(1895–1961)
  • نواب مبارکہ بیگم (1897–1977)
  • امتہ الحفیظ بیگم (1904–1987)

جبکہ یہ بچے جلد ہی فوت ہو گئے:

  • عصمت (1886–1891)
  • بشیر اول (1887–1888)
  • شوکت (1891–1892)
  • مرزا مبارک احمد (1899–1907)
  • امتہ النصیر (1903–1903)

تصانیف

  1. مجموعہ تصنیفات روحانی خزائن
  2. مجموعہ تقاریر ملفوظات
  3. مجموعہ اشتہارات
  4. مرزا غلام احمد اپنی تحریروں کی رو سے

بیرونی روابط

جماعت احمدیہ کی مرکزی ویب سائٹ

حوالہ جات

  1. Adil Hussain Khan. "From Sufism to Ahmadiyya: A Muslim Minority Movement in South Asia" Indiana University Press, 6 apr. 2015 p 42
  2. "Chapter Two – Claims of Hadhrat Ahmad". Alislam.org. 1904-06-24. اخذ کردہ بتاریخ 2013-05-20. 
  3. "The Fourteenth-Century's Reformer / Mujaddid", from the "Call of Islam", by Maulana Muhammad Ali
  4. http://www.alislam.org/apps/cob/webapp/ Ten Conditions of Bai’at
  5. Adil Hussain Khan. "From Sufism to Ahmadiyya: A Muslim Minority Movement in South Asia" Indiana University Press, 6 apr. 2015 ISBN 978-0253015297
  6. اشاعۃ السنۃ، جلد 7، نمبر 6, صفحہ 169-170.
  7. براھین احمدیہ، حصہ سوئم۔ صفحہ ۲۳۸۔ بمطابق روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۲۶۵۔
  8. ازالہ اوہام صفحہ ۵۶۱۔۵۶۲۔ روحانی خزائن جلد ۳، صفحہ ۴۰۲