اسلامی اصول کی فلاسفی (کتاب)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اسلامی اصول کی فلاسفی مرزا غلام احمد کی ایک مشہور کتاب ہے جو انہوں نے 1896 میں لاہور میں منعقدہ بین المذاہب کانفرنس کے لیے لکھی تھی۔ اس میں مذکورہ کانفرنس میں پیش کردہ پانچ سوالوں کے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جواب دیے گئے ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

یہ کتاب اس جلسہ مذاہب میں پیش کردہ مضمون پر مشتمل ہے جس کا انعقاد سوامی سادھو شوگن نے لاہور میں کیا تھا۔ اس سلسلہ میں پہلا جلسہ اجمیر میں ہوا۔ دوسرا جلسہ 26 تا 29 دسمبر 1896کو لاہور میں منعقد ہوا۔ چنانچہ اس جلسہ میں سناتن دھرم، ہندومت، آریہ سماج، فری تھنکر، برہمو سماج، تھیوسافیکل سوسائٹی، ریلیجن آف ہارمنی، مسیحیت، اسلام اور سکھ مت سے تعلق رکھنے والوں نے ان سوالات کے جواب دئے۔

پانچ سوالات[ترمیم]

پہلا سوال[ترمیم]

انسان کی جسمانی، اخلاقی اور روحانی حالتیں کیا ہیں؟

اس کے جواب میں مرزا غلام احمد نے تحریر کیا کہ قرآن کریم کی رو سے ان حالتوں کے تین مبداء ہیں۔ اول نفس امارۃ (سورۃ یوسف 53۔ 54) جو انسان کو بدی کی طرف کھینچتا ہے۔ دوم نفس لوامہ (سورۃ القیامہ 2۔ 3) جو انسان کو گناہ پر متنبہ کرتا ہے۔ سوم نفس مطمئنہ (الفجر 27۔ 31) جس پر پہنچ کر انسان نیکی ہی میں راحت پاتا ہے۔ مزید یہ بیان کیا کہ انسان کا کھانا پینا تمام طبعی امور کا اس کے اخلاق اور روحانیت پر بھی اثر پڑتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے ان باتوں کے متعلق بھی ہدایات دی ہیں اور بعض چیزوں کے کھانے پینے سے منع کیا ہے اور عبادت کے لیے پہلے پاکیزگی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ طبعی حالتیں درستی اور تربیت سے اخلاقی حالتوں میں اور وہ مزیدتربیت سے اعلیٰ روحانی حالتوں میں بدل سکتی ہیں۔ اسی ضمن میں مصنف نے قرآن کریم کے حوالہ جات سے یہ بھی بیان کیا ہے کہ روح مخلوق ہے اور جنین کے اندر ہی پیدا ہوتی ہے کہیں باہر سے نہیں آتی۔ علم کی تین اقسام ہیں علم الیقین، عین الیقین اور حق الیقین۔ اسی طرح تین ہی عالم ہیں عالم کسب، عالم برزخ اور عالم بعث۔

دوسرا سوال[ترمیم]

انسان کی زندگی کی بعد کی حالت یعنی عقبیٰ

اس سوال کا تفصیلی جواب پہلے سوال کے آخر پر آ گیا ہے جہاں عالم کسب، عالم برزخ اور عالم بعث کی تشریح اور بحث کے دوران میں قرآن کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ دنیا یعنی عالم کسب کا آئندہ زندگی سے گہرا تعلق ہے اور درحقیقت وہ اس عالم کا ہی نتیجہ ہے۔ چنانچہ عالم بعث کی حالتیں اس دنیا کی حالتوں سے گہری ممثلت رکھتی ہیں۔

تیسرا سوال[ترمیم]

د نیامیں انسان کی ہستی کی اصل غرض کیا ہے؟ وہ غرض کس طرح پوری ہو سکتی ہے؟

اس سوال کا جواب قرآن نے یہ دیا ہے کہ انسان کو عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے (الذاریات 56۔ 57)۔ اس مقصد کو پورا کرنے کے مختلف ذرائع قرآن نے بیان کیے ہیں۔ ان میں سے کچھ یوں ہیں : 1۔ خدا پر ایمان۔ 2۔ خدا کے حسن کا علم۔ 3۔ خدا کے احسان کا علم۔ 4۔ دعا۔ 5۔ مجاہدہ۔ 6۔ استقامت۔ 7۔ صحبت صالحین۔ 8۔ رویا، کشف اور الہام۔

چوتھا سوال[ترمیم]

کرم یعنی اعمال کا اثر دنیا اور عاقبت میں کیا ہوتا ہے؟

اس سوال کا جواب بھی پہلے سوالات کی ذیل میں آ گیا ہے کہ کس طرح اس دنیا کے اعمال آخرت کے حالات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

پانچواں سوال[ترمیم]

علم یعنی گیان و معرفت کے ذرائع کیا کیا ہیں؟

اس سوال کے جواب میں مصنف تحریر کرتے ہیں کہ علم کی تین اقسام ہیں جیسا کہ پہلے سوال کے جواب میں بالتفصیل بیان ہوا ہے۔ علم الیقین کی بنیاد منقولات پر ہے۔ اسی طرح ایک ماخذ علم کا انسانی فطرت ہے۔ پھر ایک ماخذ، جو یقین تک پہنچاتا ہے، الہام ہے جو کامل علم عطا کرتا ہے۔

جلسہ کی کارروائی[ترمیم]

جلسہ کی کارروائی منتظمین کی طرف سے کتابی صورت میں شائع ہوئی اور انٹرنیٹ پر یہاں دستیاب ہے : کارروائی جلسہ اعظم لاہور 1896۔

اثر[ترمیم]

مضمون نہایت اثر انگیز ثابت ہوا چنانچہ منتظمین جلسہ نے اپنی رپورٹ میں لکھا[1]:

پنڈت گوردھن داس صاحب کی تقریر کے بعد نصف گھنٹہ کا وقفہ تھا لیکن چونکہ بعد از وقفہ ایک نامی وکیل اسلام کی طرف سے تقریر کا پیش ہونا تھا اس لیے اکثر شائقین نے اپنی اپنی جگہ کو نہ چھوڑا۔ ڈیڑھ بجنے میں ابھی بہت سا وقت رہتا تھا کہ اسلامیہ کالج کا وسیع مکان جلد جلد بھرنے لگا اور چند ہی منٹوں میں تمام مکان پُر ہو گیا۔ اُس وقت کوئی سات اور آٹھ ہزار کے درمیان مجمع تھا۔ مختلف مذہب و ملل اور مختلف سوسائیٹیوں کے مُعتد بِہ اور ذِی علم آدمی موجود تھے اگرچہ کرسیاں اور میزیں اور فرش نہایت وسعت کے ساتھ مہیّا کیا گیا لیکن صد ہا آدمیوں کو کھڑا ہونے کے سوا اور کچھ نہ بن پڑا۔ اور اُن کھڑے ہوئے شائقینوں میں بڑے بڑے رؤسا، عمائدِ پنجاب، علماء، فضلا، بیرسٹر، وکیل، پروفیسر، ایکسٹرا اسسٹنٹ، ڈاکٹر غرض کہ اعلیٰ طبقہ کے مختلف برانچوں کے ہر قسم کے آدمی موجود تھے۔ ان لوگوں کے اس طرح جمع ہو جانے اور نہایت صبر و تحمل کے ساتھ جوش سے برابر پانچ چار گھنٹہ اُس وقت ایک ٹانگ پرکھڑا رہنے سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ ان ذِی جاہ لوگوں کو کہاں تک اِس مقدّس تحریک سے ہمدردی تھی مصنف تقریر اِصَالتًا تو شریکِ جلسہ نہ تھے لیکن خود انہوں نے اسے ایک شاگردِ خاص جناب مولوی عبد الکریم صاحبسیالکوٹی مضمون پڑھنے کے لیے بھیجے ہوئے تھے۔ اس مضمون کے لیے اگرچہ کمیٹی کی طرف سے صرف دو گھنٹے ہی مقرر تھے لیکن حاضرینِ جلسہ کوعام طور پر اس سے کچھ ایسی دلچسپی پیدا ہو گئی کہ موڈریٹر صاحبان نے نہایت جوش اور خوشی کے ساتھ اجازت دی کہ جب تک یہ مضمون ختم نہ ہو تب تک کارروائی جلسہ کو ختم نہ کیا جاوے۔ ان کا ایسا فرمایا عین اہل جلسہ اور حاضرین کی منشاء کے مطابق تھا۔کیونکہ جب وقت مقرر گزرنے پر مولوی ابو یوسف مبارک علی صاحب ے اپنا وقت بھی اس مضمون کے ختم ہونے کے لیے دیدیا تو حاضرین اور موڈریٹر صاحبان نے ایک نعرہ خوشی سے مولوی صاحب کا شکریہ ادا کیا۔جلسہ کی کارروائی ساڑھے چار بجے ختم ہو جانی تھی لیکن عام خواہش کو دیکہکر کارروائی جلسہ ساڑھے پانچ بجے کے بعد تک جاری رکھنی پڑی۔ کیونکہ یہ مضمون قریباً چار گھنٹہ میں ختم ہوا۔ اورشروع سے اخیر تک یکساں دلچسپی و مقبولیت اپنے ساتھ رکھتا تھا۔

مشہور اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ نے لکھا [2]:

سب مضمونوں سے زیادہ توجہ اور دلچسپی سے مرزا غلام احمد قادیانی کا مضمون سنا گیا جو اسلام کے بڑے بھاری مؤیّد اور عالم ہیں۔ اس لیکچر کے سننے کے لیے دور و نزدیک سے ہر مذہب و ملّت کے لوگ بڑی کثرت سے جمع تھے۔ چونکہ مرزا صاحب خود شامل جلسہ نہیں ہو سکے اس لیے مضمون اُن کے ایک قابل اور فصیح شاگرد مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی نے پڑھا۔ 27 تاریخ والا مضمون قریبًا ساڑھے تین گھنٹے تک پڑھا گیا اور گویا ابھی پہلا سوال ہی ختم ہوا تھا۔ لوگوں نے اس مضمون کو ایک وجد اور محویّت کے عَالَم میں سنا اور پھر کمیٹی نے اس کے لیے جلسہ کی تاریخوں میں 29 دسمبر کی زیادتی کر دی۔

اخبار چوھدویں صدی نے لکھا [3]:

ان لیکچروں میں سب سے عمدہ لیکچر جو جلسہ کی روحِ رواں تھا مرزا غلام احمد قادیانی کا لیکچر تھا۔ جس کو مشہور فصیح البیان مولوی عبد الکریم سیالکوٹی نے نہایت خوبی اور خوش اسلوبی سے پڑھا۔ یہ لیکچر دو دن میں تمام ہوا۔ 27دسمبر کو تقریبًا چار گھنٹے اور 29دسمبر کو دو گھنٹے تک ہوتا رہا۔ کُل چھ گھنٹے میں یہ لیکچر تمام ہوا جو حجم میں سو صفحے کلاں تک ہو گا۔ غرض کہ مولوی عبد الکریم صاحب نے یہ لیکچر شروع کیا اور کیسا شروع کیا کہ سامعین لَٹّو ہو گئے۔ فقرہ فقرہ پر صدائے آفرین و تحسین بلند ہوتی تھی اور بسا اوقات ایک ایک فقرہ کو دوبارہ پڑھنے کے لیے حاضرین کی طرف سے فرمائش کی جاتی تھی۔ عمر بھر ہمارے کانوں نے ایسا خوش آنند لیکچر نہیں سنا۔ دیگر مذاہب میں سے جتنے لوگوں نے لیکچر دیئے سچ تو یہ ہے کہ وہ جلسہ کے مستفسرہ سوالوں کے جواب بھی نہ تھے۔ عمومًا سپیکر صرف چوتھے سوال پر ہی رہے اور باقی سوالوں کو انہوں نے بہت ہی کم پیش کیا اور زیادہ تر اصحاب تو ایسے ہی تھے جو بولتے تو بہت تھے لیکن اس میں جاندار بات کوئی بھی نہیں تھی۔ بجز مرزا صاحب کے لیکچر کے جو ان سوالات کا علاحدہ علاحدہ، مفصّل اور مکمل جواب تھا اور جس کو حاضرین نے نہایت ہی توجہ اور دلچسپی سے سنا اور بڑا بیش قیمت اور عالی قدر خیال کیا۔

ہم مرزا صاحب کے مرید نہیں ہیں اور نہ اُن سے ہم کو کوئی تعلق ہے لیکن انصاف کا خون ہم کبھی نہیں کر سکتے اور نہ کوئی سلیم الفطرت اور صحیح کانشنس اس کو روا رکھ سکتا ہے۔ مرزا صاحب نے کل سوالوں کے جواب (جیسا کہ مناسب تھا) قرآن شریف سے دیئے اور عام بڑے بڑے اصول و فروعاتِ اسلام کو دلائلِ عقلیہ سے اور براہین فلسفہ کے ساتھ مُبرہن و مزیّن کیا۔ پہلے عقلی دلائل سے الٰہیات کے فلسفہ کو ثابت کرنا اُس کے بعد کلامِ الٰہی کو بطور حوالہ پڑھنا ایک عجیب شان رکھتاتھا۔

مرزا صاحب نے نہ صرف مسائل قرآن کی فلاسفی بیان کی بلکہ الفاظِ قرآن کی فلالوجی اور فلاسفی بھی ساتھ ساتھ بیان کر دی۔ غرض کہ مرزا صاحب کا لیکچر بحیثیت مجموعی ایک مکمل اور حاوی لیکچر تھا جس میں بے شمار معارف و حقائق وحِکَم واَسرار کے موتی چمک رہے تھے اور فلسفۂ الٰہیہ کو ایسے ڈھنگ سے بیان کیا گیا تھا کہ تمام اہل مذاہب ششدر ہو گئے تھے۔ کسی شخص کے لیکچر کے وقت اتنے آدمی جمع نہیں تھے جتنے مرزا صاحب کے لیکچر کے وقت۔ تمام ہال اوپر نیچے سے بھر رہا تھا اور سامعین ہمہ تن گوش ہو رہے تھے۔ مرزا صاحب کے لیکچر کے وقت خَلقت اس طرح آ آ کر گری جس طرح شہدپر مکھیاں۔ مگر دوسرے لیکچروں کے وقت بوجہ بے لطفی بہت سے لوگ بیٹھے بیٹھے اٹھ جاتے تھے۔

مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا لیکچر بالکل معمولی تھا وہی ملّانی خیال تھے جن کو ہم ہر روز سنتے ہیں۔ اُس میں کوئی عجیب و غریب بات نہ تھی اور مولوی صاحب موصوف کے دوسرے لیکچر کے وقت کئی شخص اٹھ کر چلے گئے تھے۔ مولوی صاحب ممدوح کو اپنا لیکچر پورا کرنے کے لیے چند منٹ زائد کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔

مضمون بالا رہا[ترمیم]

اس جلسہ کے شروع ہونے سے پانچ دن قبل مرزا غلام احمد نے ایک اشتہار شائع کیا۔[4] اس میں لکھا کہ انہیں بذریعہ الہام خبر دی گئی ہے کہ ان کا مضمون باقی تمام پر حاوی رہے گا۔ انہوں نے لکھا کہ انہیں الہام ہوا ہے کہ یہ مضمون "سب پر غالب رہے گا"، نیز "اللہ اکبر خربت خیبر" یعنی اللہ سب سے بڑا ہے، خیبر تباہ کر دیا گیا پھر "ان اللہ معک۔ ان اللہ یقوم اینما قمت" یعنی اللہ تیرے ساتھ ہے۔ اللہ وہاں کھڑا ہوتا ہے جہاں تو کھڑا ہو جو حماعت کا استعارہ ہے۔ یہ اشتہار 21 دسمبر 1896کو شائع ہوا اور لاہور میں مختلف جگہوں پر آویزاں بھی کیا گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. رپورٹ جلسہ اعظم لاہور 1896، صفحہ 79۔80
  2. سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور۔ دسمبر 1896ء
  3. اخبار چودھویں صدی راولپنڈی مؤرخہ یکم فروری 1897ء
  4. مجموعہ اشتہارات جلد 2، صفحہ 293