تحریک خاکسار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
علامہ مشرقی، خاکسار کے روپ میں
خاکساری جھنڈا

تقسیم ہند سے پہلے کی ایک نیم فوجی جماعت، جس کے بانی علامہ مشرقی تھے۔یہ تنظیم بیلچہ پارٹی کے نام سے بھی مشہور تھی کیونکہ اس کے پیروکار کندھے پر بیلچہ رکھ کر چلتے تھے ان کا باقاعدہ خاکی یونیفارم تھا ۔ہر خاکسار کے لئے لازم تھا کہ وہ خاکی یونیفارم پہنے بلکہ نماز روزہ کی پابندی لازم تھی اس سلسلہ میں کوئی عذر قابل قبول نہ تھا غلطی کرنے والے خاکسار کو جسمانی سزا بھی دی جاتی تھی۔

مارچ 1940ء میں خاکساروں نے اندرون لاہور جلوس نکالاجوکہ فوجی پریڈ سے ملتا جلتاتھاجلوس بھاٹی دروازہ سے شروع ہوا حکومت نے اسے خلاف قانون قرار دے کر روکنے کی کوشش کی ۔ڈبی بازار کے پاس برطانوی پولیس آفیسر نے جلوس روکنے کا حکم جاری کیا جس سے خاکسار مشتعل ہوگئے انہوں نے پولیس پر حملہ کردیا جس کے نتیجہ میں پولیس آفیسر مارا گیا پولیس نے گولی چلادی جس کے نتیجہ میں بہت سے خاکسار شہید ہوئے ۔کافی خون خرابے کے بعد حکومت نے اس کو کالعدم قرار دے کر پابندی لگا دی تھی۔ پاکستان بننے کے بعد یہ جماعت دوبارہ بحال ہوئی۔ اس جماعت کے کارکن خاکسار کہلاتے ہیں اور وہ عمومی طور پر خاکی رنگ کا لباس پہنتے ہیں۔ تقسیم سے پہلے یہ جماعت تقسیم ہند کے خلاف تھی لیکن بعد میں حمایتی بن گئی۔